الف عین
محمد عبدالرؤوف
عظیم
سید عاطف علی
محمّد احسن سمیع :راحل:
-------------
لوگوں سے بات کر کے ہم کو سنا رہے ہیں
وہ بے وفا نہیں ہیں سب کو بتا رہے ہیں
----------
اب تک انا ہے باقی آئے نہ پاس میرے
آنے کا پاس میرے رستہ بنا رہے ہیں
------------
بیٹھے ہیں سر جھکائے آتی ہے یاد میری
لکھ لکھ کے نام میرا خود ہی مٹا رہے ہیں
-----------
کیا سوچتے ہیں دل آتا نہیں سمجھ میں
بیٹھے وہ دور مجھ سے کیوں مسکرا رہے ہیں
----------
جنّت میں میرا جانا ہو گا بہت ہی مشکل
کیوں مولوی وطن کے مجھ کو ڈرا رہے ہیں
---------
فتنہ فساد اتنا پھیلا ہے کیوں جہاں میں
دنیا کو مل کے ہم سب دوزخ بنا رہے ہیں
------------
کوئی تو کچھ بتائے منزل ہے دور کتنی
ہم سب بغیر رہبر چلتے ہی جا رہے ہیں
----------
کل تک جو کہہ رہے تھے بن کر رہیں گے تیرے
غیروں کے آج ان کو غم کیوں ستا رہے ہیں
-------
حاکم جو بن گئے ہیں مخلص نہیں وہ ہم سے
جینا تبھی تو مشکل سب کا بنا رہے ہیں
-----------
کل تک جو کہہ رہے تھے تم سے وفا کریں گے
کیوں آج ان کو غیروں کے غم ستا رہے ہیں
--------
مخلص نہیں وہ ہم سے حاکم جو بن گئے ہیں
جینا تبھی تو مشکل سب کا بنا رہے ہیں
-----------
وہ آج ہو گئے ہیں اپنے کئے پہ نادم
احساس ہو گیا تب آنسو بہا رہے ہیں
----------
ارشد حیات تیری ہونے کو اب ہے پوری
یہ موت کے ہیں سائے بڑھتے جو آ رہے ہیں
-----------یا
اپنوں نے کر دیا ہے ارشد کا حال پتلا
دشمن تبھی تو اس کے خوشیاں منا رہے ہیں
 
آخری تدوین:

الف عین

لائبریرین
الف عین
محمد عبدالرؤوف
عظیم
سید عاطف علی
محمّد احسن سمیع :راحل:
-------------
لوگوں سے بات کر کے ہم کو سنا رہے ہیں
وہ بے وفا نہیں ہیں سب کو بتا رہے ہیں
----------
کون؟
اب تک انا ہے باقی آئے نہ پاس میرے
آنے کا پاس میرے رستہ بنا رہے ہیں
------------
کون؟
بیٹھے ہیں سر جھکائے آتی ہے یاد میری
لکھ لکھ کے نام میرا خود ہی مٹا رہے ہیں
-----------
کون؟
کیا سوچتے ہیں دل آتا نہیں سمجھ میں
بیٹھے وہ دور مجھ سے کیوں مسکرا رہے ہیں
----------
اے دل؟ بھرتی کے ایسے الفاظ کے بدلے فاعل واضح کر کے کہیں
جنّت میں میرا جانا ہو گا بہت ہی مشکل
کیوں مولوی وطن کے مجھ کو ڈرا رہے ہیں
---------
پہلا مصرع مولویوں کا بیان ہے، یہ واضح نہیں کیا گیا
فتنہ فساد اتنا پھیلا ہے کیوں جہاں میں
دنیا کو مل کے ہم سب دوزخ بنا رہے ہیں
------------
درست
کوئی تو کچھ بتائے منزل ہے دور کتنی
ہم سب بغیر رہبر چلتے ہی جا رہے ہیں
----------
درست
کل تک جو کہہ رہے تھے بن کر رہیں گے تیرے
غیروں کے آج ان کو غم کیوں ستا رہے ہیں
-------
ٹھیک
حاکم جو بن گئے ہیں مخلص نہیں وہ ہم سے
جینا تبھی تو مشکل سب کا بنا رہے ہیں
-----------
ٹھیک
کل تک جو کہہ رہے تھے تم سے وفا کریں گے
کیوں آج ان کو غیروں کے غم ستا رہے ہیں
--------
مخلص نہیں وہ ہم سے حاکم جو بن گئے ہیں
جینا تبھی تو مشکل سب کا بنا رہے ہیں
-----------
غلطی سے شاید پرانا ورژن بھی ٹائپ ہو گیا
وہ آج ہو گئے ہیں اپنے کئے پہ نادم
احساس ہو گیا تب آنسو بہا رہے ہیں
---------
ٹھیک
-
ارشد حیات تیری ہونے کو اب ہے پوری
یہ موت کے ہیں سائے بڑھتے جو آ رہے ہیں
-----------یا
اپنوں نے کر دیا ہے ارشد کا حال پتلا
دشمن تبھی تو اس کے خوشیاں منا رہے ہیں
دوسرا متبادل مزاحیہ لگتا ہے، پہلا ٹھیک ہے
 
الف عین
(اصلاح )
---------
لوگوں سے بات میری وہ یوں سنا رہے ہیں
وہ بے وفا نہیں ہیں سب کو بتا رہے ہیں
----------
ان میں انا ہے باقی آئے نہ پاس میرے
آنے کا پاس میرے رستہ بنا رہے ہیں
------------
بیٹھے ہیں وہ اکیلے میرے بغیر دیکھو
لکھ لکھ کے نام میرا خود ہی مٹا رہے ہیں
-----------
کیا سوچتے ہیں دل میں آتا نہیں سمجھ میں
بیٹھے وہ دور مجھ سے کیوں مسکرا رہے ہیں
----------
کہتے ہیں مولوی میں جنّت نہ جا سکوں گا
کیا اختیار ہے جو مجھ کو ڈرا رہے ہیں
---------یا
اوقات ان کی کیا جو مجھ کو ڈرا رہے ہیں
--------------
 

الف عین

لائبریرین
الف عین
(اصلاح )
---------
لوگوں سے بات میری وہ یوں سنا رہے ہیں
وہ بے وفا نہیں ہیں سب کو بتا رہے ہیں
----------
لوگوں کو سنانا.. درست محاورہ ہے، لوگوں سے بات کی جاتی ہے
ان میں انا ہے باقی آئے نہ پاس میرے
آنے کا پاس میرے رستہ بنا رہے ہیں
------------
پاس میرے دونوں مصرعوں میں دہرایا جانا شعر کی روانی، اس شعر کو نکال ہی دیں کہ عجز بیان بھی ہے
بیٹھے ہیں وہ اکیلے میرے بغیر دیکھو
لکھ لکھ کے نام میرا خود ہی مٹا رہے ہیں
-----------
درست
کیا سوچتے ہیں دل میں آتا نہیں سمجھ میں
بیٹھے وہ دور مجھ سے کیوں مسکرا رہے ہیں
----------
درست
کہتے ہیں مولوی میں جنّت نہ جا سکوں گا
کیا اختیار ہے جو مجھ کو ڈرا رہے ہیں
---------یا
اوقات ان کی کیا جو مجھ کو ڈرا رہے ہیں
--------------
پہلا متبادل بہتر ہے، لیکن اتنا اچھا نہیں، کچھ دوسرا ہی کہا جائے تو بہتر ے
 
Top