لفظ "اعلی" اور "زکوۃ" میں کھڑا زبر کس حرف پر لگانا چاہیے؟

اردو کتابت میں تقریبََا اور یقینََا اور اسطرح کے اور الفاظ میں، دو زبر عموماََ الف پر لگادیئے جاتے ہیں ۔
جیسے اوپرعمومََا میں لگائے گئے ہیں ۔ ایسا صرف عربی الاصل الفاظ میں ہو تا ہے ۔ اور یہ عربی میں ( عربی قاعدے کے مطابق ) میں الف سے پہلے والے حروف پر لگائے جاتے ہیں ۔
اس کی اردو میں صحیح شکل کیا ہو گی ؟ اور اس بارے میں املا کمیٹی کی کیا رائے ہے ؟
 
عربی میں لفظ اعلیٰ کے آخر میں الف مقصورہ ہے جو ی کی صورت میں ہی لکھا جاتا ہے ۔۔۔ قرآنی متن اور جدید فصحیٰ کے مطابق لفظ اعلیٰ میں الف مقصورہ پر کوئی علامت نہیں لگتی۔ الف مقصورہ پر کھڑا زبر عموماً تب ہی لگتا ہے جب اس پر ختم ہونے والے لفظ کا اگلے لفظ سے اتصال نہ ہو رہا ہو ۔۔۔ بصورت دیگر اس پر سے کھڑا زبر (جسے عربی میں الف خنجریۃ کہتے ہیں) ہٹا دیا جاتا ہے۔

مثلاً سورۃ بقرۃ کی آیت
أُولَٰئِكَ عَلَىٰ هُدًى مِّن رَّبِّهِمْ ۔۔۔ الخ
اور سورۃ النساء کی آیت
إِنَّ الصَّلَاةَ كَانَتْ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ كِتَابًا مَّوْقُوتًا

دیکھیے ۔۔۔ پہلی آیت میں علیٰ کا چونکہ اگلے لفظ سے اتصال نہیں ہو رہا، اس لیے وہاں الف مقصورہ پر کھڑا زبر لگایا گیا ہے جبکہ دوسری آیت میں علیٰ کا اتصال مومنین سے ہو رہا ہے، سو الف مقصورہ پر کھڑا زبر نہیں لگایا گیا ۔۔۔

لیکن اس سے ایک بات صاف ہے کہ کھڑا زبر اگر اردو کی ضرورت کے تحت لگے گا تو الف مقصورہ پر ہی لگے گا ۔۔۔ یا اردو حروف کے حساب سے ی پر ۔۔۔ سو میرے خیال میں اعلیٰ میں کھڑا زبر ی پر ہی لگانا چاہیے ۔۔۔ جیسے موسیٰ، عیسیٰ وغیرہ میں لگاتے ہیں ۔۔۔ قرآنی متن سے بھی یہی پتہ چلتا ہے ۔۔۔ الف مقصورہ پر اگر کھڑا زبر ہو تو اس سے پچھلا حرف عموماً مفتوح ہوتا ہے ۔۔۔ مُوسَیٰ، عِیسَیٰ و علیٰ ھٰذا القیاس ۔۔۔

زکوٰۃ کا معاملہ بھی ایسا ہی ہے ۔۔۔ ویسے تو جدید عربی میں اس کا املا زکاۃ کیا جاتا ہے تاہم قرآنی متن میں زَکَوٰۃ ہی درج ہے اور یہ املا بھی اوپر مذکور اصول پر ہے ۔۔۔ برصغیر اور عرب دونوں خطوں میں رائج قرآنی رسم کے مطابق کھڑا زبر و پر ہی لگایا جاتا ہے۔

جہاں تک مجھے یاد پڑتا ہے، ہماری اردو لغات میں بھی یہ الفاظ بالترتیب ی اور و پر کھڑے زبر کے ساتھ ہی لکھے ہیں یا پھر املا میں الف مقصورہ کو عام الف سے بدل کر املا کی تارید کی گئی ہے۔

واللہ اعلم۔
 

سید ذیشان

محفلین
عربی میں لفظ اعلیٰ کے آخر میں الف مقصورہ ہے جو ی کی صورت میں ہی لکھا جاتا ہے ۔۔۔ قرآنی متن اور جدید فصحیٰ کے مطابق لفظ اعلیٰ میں الف مقصورہ پر کوئی علامت نہیں لگتی۔ الف مقصورہ پر کھڑا زبر عموماً تب ہی لگتا ہے جب اس پر ختم ہونے والے لفظ کا اگلے لفظ سے اتصال نہ ہو رہا ہو ۔۔۔ بصورت دیگر اس پر سے کھڑا زبر (جسے عربی میں الف خنجریۃ کہتے ہیں) ہٹا دیا جاتا ہے۔

مثلاً سورۃ بقرۃ کی آیت
أُولَٰئِكَ عَلَىٰ هُدًى مِّن رَّبِّهِمْ ۔۔۔ الخ
اور سورۃ النساء کی آیت
إِنَّ الصَّلَاةَ كَانَتْ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ كِتَابًا مَّوْقُوتًا

دیکھیے ۔۔۔ پہلی آیت میں علیٰ کا چونکہ اگلے لفظ سے اتصال نہیں ہو رہا، اس لیے وہاں الف مقصورہ پر کھڑا زبر لگایا گیا ہے جبکہ دوسری آیت میں علیٰ کا اتصال مومنین سے ہو رہا ہے، سو الف مقصورہ پر کھڑا زبر نہیں لگایا گیا ۔۔۔

لیکن اس سے ایک بات صاف ہے کہ کھڑا زبر اگر اردو کی ضرورت کے تحت لگے گا تو الف مقصورہ پر ہی لگے گا ۔۔۔ یا اردو حروف کے حساب سے ی پر ۔۔۔ سو میرے خیال میں اعلیٰ میں کھڑا زبر ی پر ہی لگانا چاہیے ۔۔۔ جیسے موسیٰ، عیسیٰ وغیرہ میں لگاتے ہیں ۔۔۔ قرآنی متن سے بھی یہی پتہ چلتا ہے ۔۔۔ الف مقصورہ پر اگر کھڑا زبر ہو تو اس سے پچھلا حرف عموماً مفتوح ہوتا ہے ۔۔۔ مُوسَیٰ، عِیسَیٰ و علیٰ ھٰذا القیاس ۔۔۔

زکوٰۃ کا معاملہ بھی ایسا ہی ہے ۔۔۔ ویسے تو جدید عربی میں اس کا املا زکاۃ کیا جاتا ہے تاہم قرآنی متن میں زَکَوٰۃ ہی درج ہے اور یہ املا بھی اوپر مذکور اصول پر ہے ۔۔۔ برصغیر اور عرب دونوں خطوں میں رائج قرآنی رسم کے مطابق کھڑا زبر و پر ہی لگایا جاتا ہے۔

جہاں تک مجھے یاد پڑتا ہے، ہماری اردو لغات میں بھی یہ الفاظ بالترتیب ی اور و پر کھڑے زبر کے ساتھ ہی لکھے ہیں یا پھر املا میں الف مقصورہ کو عام الف سے بدل کر املا کی تارید کی گئی ہے۔

واللہ اعلم۔
شکریہ۔ آپ کی بات درست معلوم ہوتی ہے۔ :)

امجد علی چیمہ صاحب راحل صاحب کی بات میں کافی وزن ہے۔
 

الف نظامی

لائبریرین
2009 کی بات ہے میں سڑک ہر جا رہا تھا کہ ایک مجذوب شخص نے مجھ سے پوچھا کہ سبحان ربی الاعلی کی ی کو کیسے لکھیں گے خطاطی میں. میں نے کہا کہ بڑی ے لکھ کر کھڑا زبر لگائیں گے. اب معلوم نہیں یہ جواب درست تھا یا نہیں.
 
2009 کی بات ہے میں سڑک ہر جا رہا تھا کہ ایک مجذوب شخص نے مجھ سے پوچھا کہ سبحان ربی الاعلی کی ی کو کیسے لکھیں گے خطاطی میں. میں نے کہا کہ بڑی ے لکھ کر کھڑا زبر لگائیں گے. اب معلوم نہیں یہ جواب درست تھا یا نہیں.
یہ عربی کلمات ہیں ان میں "یا" چھوٹی لکھی جائے یا بڑی، کوئی فرق نہیں پڑتا۔ ایک ہی بات ہے۔
 
آخری تدوین:
2009 کی بات ہے میں سڑک ہر جا رہا تھا کہ ایک مجذوب شخص نے مجھ سے پوچھا کہ سبحان ربی الاعلی کی ی کو کیسے لکھیں گے خطاطی میں. میں نے کہا کہ بڑی ے لکھ کر کھڑا زبر لگائیں گے. اب معلوم نہیں یہ جواب درست تھا یا نہیں.
میرے خیال میں بطور خطاطی کے نمونہ تو کوئی حرج نہیں ہونا چاہیے ۔۔۔ بلکہ شاید مسجد نبویﷺ میں جو خطاطی کے پرانے نمونے نستعلیق میں ہیں ان میں فی اور علی کو فے اور علےٰ لکھا ہوا ہوتا ہے ۔۔۔
 
اعلی میں ل یا ی پر؟

زکوۃ میں ک یا و پر؟
جیسا کہ راحل بھائی نے تفصیلاً لکھا ہے کہ کھڑا زبر "ی" یا "و" پر لگانا چاہیئے ۔ کھڑا زبر دراصل الف مقصورہ ( یعنی قصر کیا ہوا الف) کی علامت ہے ۔ اعلیٰ اور زکوٰۃ میں "ی" اور "و" دراصل الف کی کرسی ہیں ۔ یعنی ان الفاظ کو اعلا اور زکات لکھنے کے بجائے "ی" اور "و" سے لکھا گیا اور ان کے اوپر الف مقصورہ کی علامت بٹھا دی گئی ۔ چنانچہ کھڑا زبر اپنی کرسی پر آئے گا ، اس سے پہلے نہیں ۔
 
اردو کتابت میں تقریبََا اور یقینََا اور اسطرح کے اور الفاظ میں، دو زبر عموماََ الف پر لگادیئے جاتے ہیں ۔
جیسے اوپرعمومََا میں لگائے گئے ہیں ۔ ایسا صرف عربی الاصل الفاظ میں ہو تا ہے ۔ اور یہ عربی میں ( عربی قاعدے کے مطابق ) میں الف سے پہلے والے حروف پر لگائے جاتے ہیں ۔
اس کی اردو میں صحیح شکل کیا ہو گی ؟ اور اس بارے میں املا کمیٹی کی کیا رائے ہے ؟
عاطف بھائی ، اردو میں تنوین الف پر لگے گی ۔ یہی قدیمی رواج ہے اور یہی املا کمیٹی کی سفارش ہے ۔ اس الف کو الف تنوینی بھی کہا جاتا ہے ۔
املا کمیٹی کی سفارش کے لئے یہ ربط دیکھئے ۔
 
عاطف بھائی ، اردو میں تنوین الف پر لگے گی ۔ یہی قدیمی رواج ہے اور یہی املا کمیٹی کی سفارش ہے ۔ اس الف کو الف تنوینی بھی کہا جاتا ہے ۔
سجدۂ شکر کا مقام ہے کہ کمیٹی نے اسے تقریبن اور یقینن کی سفارش نہیں کر دی ۔ :ROFLMAO:
 
2009 کی بات ہے میں سڑک ہر جا رہا تھا کہ ایک مجذوب شخص نے مجھ سے پوچھا کہ سبحان ربی الاعلی کی ی کو کیسے لکھیں گے خطاطی میں. میں نے کہا کہ بڑی ے لکھ کر کھڑا زبر لگائیں گے. اب معلوم نہیں یہ جواب درست تھا یا نہیں.
چونکہ عربی میں امالا نہیں ہوتا اس لئے بڑی اور چھوٹی یا کا فرق کوئی معنی نہیں رکھتا۔ یہ فرق صرف اردو میں ہے۔ جیسا کہ راحل بھائی اور عاطف بھائی نے کہا کہ خطاطی میں "ی" کو دونوں صورتوں میں لکھا جاسکتا ہے ۔ بلکہ خطِ ثلث میں خوبصورتی کی خاطر اکثر "ے" ہی لکھا جاتا ہے۔
 

زیک

تقریباً غائب
عربی کے لحاظ سے الف مقصورہ ٹھیک ہے لیکن اردو میں اسے فالو کرنے کی کوئی خاص وجہ نہیں ہے۔
 
عربی کے لحاظ سے الف مقصورہ ٹھیک ہے لیکن اردو میں اسے فالو کرنے کی کوئی خاص وجہ نہیں ہے۔
کاش زبان ہم اور آپ مل کر بناسکتے!
لیکن ایسا نہیں ہے ۔ جو زبان کروڑوں لوگ صدیوں سے بولتے ، لکھتے اور پڑھتے آرہے ہیں اس کی بڑی اہمیت ہے ۔ یہ ہم سب کا مشترکہ ورثہ ہے ۔ اسے بیک جنبشِ قلم تبدیل کرنا ممکن نہیں ۔ کسی تبدیلی کے لئے تحریک تو چلائی جاسکتی ہے لیکن اس کی کامیابی یا ناکامی وقت کے ہاتھ میں
ہوتی ہے ۔
 

الف نظامی

لائبریرین
چونکہ عربی میں امالا نہیں ہوتا اس لئے بڑی اور چھوٹی یا کا فرق کوئی معنی نہیں رکھتا۔ یہ فرق صرف اردو میں ہے۔ جیسا کہ راحل بھائی اور عاطف بھائی نے کہا کہ خطاطی میں "ی" کو دونوں صورتوں میں لکھا جاسکتا ہے ۔ بلکہ خطِ ثلث میں خوبصورتی کی خاطر اکثر "ے" ہی لکھا جاتا ہے۔
بہت شکریہ لیکن یہ امالا کیا ہوتا ہے
 
کھڑا زبر دراصل الف مقصورہ ( یعنی قصر کیا ہوا الف) کی علامت ہے ۔ اعلیٰ اور زکوٰۃ میں "ی" اور "و" دراصل الف کی کرسی ہیں

صرف ایک چیز ابھی بھی confuse کر رہی ہے۔ اگر لفظ "رحمٰن" میں م کا حرف الف مقصورہ کی کرسی بن سکتا ہے، تو پھر اعلیٰ میں ل، اور زکوٰۃ میں ک کیوں نہیں کرسی بن سکتے؟
 
صرف ایک چیز ابھی بھی confuse کر رہی ہے۔ اگر لفظ "رحمٰن" میں م کا حرف الف مقصورہ کی کرسی بن سکتا ہے، تو پھر اعلیٰ میں ل، اور زکوٰۃ میں ک کیوں نہیں کرسی بن سکتے؟
اس بات کا تعلق عربی رسم الخط کے ارتقا سے ہے جو اپنی جگہ خود ایک دلچسپ کہانی ہے ۔ چونکہ مصحفِ عثمانی میں الرحمٰن اور العٰلمین وغیرہ کا املا اولین دور میں الف مقصورہ کے ساتھ لکھا گیا تھا اس لئے مزید تفرقات سے بچنے کی خاطر انہیں قرآن مجید کے نسخوں میں یونہی برقرار رکھا گیا ہے ۔ اور یہ املا اب صرف قرآن کریم اور قدیم مذہبی کتب تک محدود ہے ۔ عام عربی میں الرحمان اور العالمین ہی لکھا جاتا ہے ۔ اردو میں یہ الفاظ جس طرح تین چار سو سال پہلے آگئے اسی طرح ان کا رواج پڑ گیا ۔ اس مسئلے پر املا کمیٹی کی سفارشات یہاں ملاحظہ کیجئے۔
 
Top