لبیک یا رسول اللہ کا ملک کے مختلف شہروں کی اہم شاہراہوں پردھرنا، بدترین ٹریفک جام

جاسم محمد

محفلین
کل کلاں کو اگر تحریک لبیک حکومت میں ہوگی اور تحریک انصاف کی اپوزیشن سڑکوں پر احتجاج کرتی پائے جائے گی تو اس وقت بھی آپ اسی طرح جتھوں کا مستقل حل تلاش کرنے کی بجائے تحریک لبیک کا ماضی یاد دلا رہے ہوں گے۔ تب تحریک انصاف کے تمام ناجائز مطالبات بھی درست ہوں گے اور اس وقت کی حکومت کی ہر حکمت عملی بھی غلط۔
 
آخری تدوین:

زیک

مسافر
دھرنا ختم۔ دونوں اطراف نے کچھ لے دے کر لیا ہے :)



حکومت سے مذاکرات؛ تحریک لبیک کا دھرنے ختم کرنے کا اعلان
ویب ڈیسک / اسٹاف رپورٹر پير 19 اپريل 2021

2168914-tlpdharna-1618866600-550-640x480.jpg

کارکنان کراچی و دیگر شہروں میں دھرنے ختم کردیں صرف لاہور میں مرکزی دھرنا جاری رہے گا، ٹی پی ایل شوریٰ رکن شفیق امینی (فوٹو : فائل)


لاہور: حکومت اور کالعدم تحریک لبیک کے درمیان مذاکرات کے نتیجے میں ٹی ایل پی نے ملک بھر میں دھرنے ختم کرکے صرف لاہور کا مرکزی دھرنا جاری رکھنے کا اعلان کردیا۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق حکومت اور تحریک لبیک کے درمیان مذاکرات ہوئے جس میں حکومت کی جانب سے وزیر داخلہ شیخ رشید، وزیر مذہبی امور نور الحق قادری، گورنر پنجاب چوہدری محمد سرور، وزیر قانون راجہ بشارت، پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے نمائندوں نے شرکت کی۔ ٹی ایل پی کی جانب سے شفیق امینی، ظہیرالحسن شاہ اور مجلس شوری کے دیگر ارکان بھی موجود تھے۔

حکومتی وفد ان علما سے بریفنگ لے کر آیا تھا جو اس سے قبل کوٹ لکھپت جیل میں سربراہ ٹی ایل پی سعد رضوی سے ملاقات کرچکے تھے، ان علما نے حکومتی وفد کو تحریک لبیک کے مطالبات سے آگاہ کردیا تھا جس پر حکومتی وفد ٹی ایل پی کی شوریٰ سے ملنے پہنچا۔

ذرائع کے مطابق مذاکرات کے دوران تحریک لبیک نے شیخ رشید کے استعفی، سربراہ مولانا سعد رضوی اور گرفتار کارکنوں کی رہائی، مقدمات کے خاتمے اور فرانس کے سفیر کی ملک بدری کا مطالبہ کیا۔

حکومتی وفد نے تمام مطالبات تسلیم کرلیے لیکن فرانس کے سفیر کی ملک بدری اور شیخ رشید کو وزیر داخلہ کے عہدے سے ہٹانے سے انکار کردیا۔

مذاکرات کے دوران دونوں جانب سے تلخی بھی پیدا ہوئی، حکومتی وفد نے زیادہ تعداد میں مذہبی کارکنوں کی شہادت کو تسلیم کرنے سے انکار کیا اور کہا کہ چند کارکن جاں بحق ہوئے لیکن سوشل میڈیا پر اور تقریروں میں تعداد کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا گیا، اگر ایسا ہے تو مرنے والوں کی لاشیں دکھائی جائیں۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ تحریک لبیک نے احتجاج کو مزید نہ بڑھانے کی یقین دہانی کروا دی ہے۔ اس دوران تحریک لبیک کی شورٰی نے ملک بھر میں دھرنے ختم کرنے اور صرف لاہور میں دھرنا جاری رکھنے کا اعلان کردیا۔ تحریک لبیک کے رہنما شفیق امینی نے کارکنوں کے نام پیغام میں کہا کہ کارکنان ملک بھر میں دھرنے ختم کرکے گھروں کو چلے جائیں صرف لاہور میں مرکزی دھرنا جاری رہے گا۔

علما کے وفد کی سعد رضوی سے جیل میں ملاقات، ویڈیو بیان جاری کرنے کی اپیل

حکومتی مذکرات سے قبل کالعدم ٹی ایل پی کے سربراہ سعد رضوی سے علما کے وفد نے کوٹ لکھپت جیل میں طویل ملاقات کی جس میں علما نے سعد رضوی سے دھرنا ختم کرانے اور ویڈیو پیغام جاری کرنے کی درخواست کی، علما کا کہنا تھا جلد اچھی خبر سنائیں گے۔

چئیرمین پنجاب قرآن بورڈ صاحبزادہ حامد رضا کی قیادت میں علما کے وفد نے کالعدم تحریک لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) کے سربراہ سعد رضوی سے کوٹ لکھپت جیل میں پانچ گھنٹے طویل ملاقات کی جس میں علماء نے سعد رضوی سے احتجاج ختم کرانے کی درخواست کی۔

وفد میں ڈاکٹر ابو الخیر محمد زبیر، ثروت اعجاز قادری، پیر خالد سلطان، میاں جلیل احمد شرقپوری، خواجہ غلام قطب الدین فریدی، پیر نظام الدین سیالوی اور حامد رضا سیالکوٹی شامل تھے۔ وفد کا کہنا تھا کہ یہ وفد سرکاری بلکہ فریقین کے درمیان معاملات کو سلجھانے کی ایک کوشش ہے، ہمیں سرکاری سرپرستی حاصل نہیں۔

مذاکراتی ٹیم نے افطاری بھی سعد رضوی کے ساتھ جیل میں کی اور سعد رضوی کو معاملات افہام و تفہیم کے ساتھ حل کرنے پر قائل کرنے کی کوشش کی۔

علماء نے سعد رضوی سے درخواست کی کہ لاہور کا دھرنا ختم کرایا جائے، مظاہرین سے احتجاج ختم کرنے کی درخواست کی جائے، انتشار اور جلاؤ گھیراؤ سے اپنے ہی ملک کا نقصان ہوا، ملک میں امن و امان کی فضا کو قائم رکھا جائے۔ علما نے سعد رضوی سے مظاہرین کے نام ویڈیو پیغام جاری کرنے کی بھی درخواست کی۔

ذرائع نے بتایا ہے کہ حافظ سعد رضوی نے احتجاج ختم کرنے کے حوالے سے مثبت اشارہ دیا ہے اور کچھ مطالبات علماء کرام کے سامنے رکھے ہیں جن میں فرانسیسی سفیر کی ملک بدری، گرفتار رہنماؤں اور کارکنوں کی رہائی، مقدمات کے خاتمے اور عالمی سطح پر توہین رسالت ﷺ کی روک تھام کے لیے حکومت پاکستان کی جانب سے جدوجہد کرنا شامل ہیں۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومت اور کالعدم جماعت تحریک لبیک پاکستان کے درمیان نئے تحریری معاہدے کا امکان ہے اس سلسلے میں کالعدم جماعت کے رہنماؤں کی شوری میں بات چیت جاری ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ چیئرمین قرآن بورڈ پنجاب حامد رضا کی قیادت میں وفد کوٹ لکھپت جیل سے واپسی کے بعد کالعدم جماعت کے مرکز جامعہ مسجد رحمتہ اللعالمین چوک یتیم خانہ گیا اور ٹی ایل پی کے شوری ارکان سے بات چیت کی۔ بعد ازاں علماء کا وفد دوبارہ کوٹ لکھپت جیل پہنچا اور حافظ سعد رضوی کے ساتھ دوبارہ مذاکرات ہوئے۔

اس حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے صاحبزادہ حامد رضانے کہا کہ جلد اس معاملے پر قوم کو خوشخبری سنائیں گے، میڈیا اپنی طرف سے قیاس آرائیاں نہ کرے، ایک مثبت کام کو مثبت طریقے سے انجام تک پہنچانے میں مدد گار بنے ہیں، بریک تھرو ہوا ہے انشاء اللہ مثبت نتیجہ نکل آئے گا۔

انہوں نے بتایا کہ سعد رضوی نے ہمیں کہا ہے کہ وہ محب وطن ہیں اور انہیں کسی کالعد م طالبان کی ہمدردی نہیں چاہیے، سعد رضوی نے کارکنوں کو پرامن رہنے کا کہا ہے۔

ڈاکٹر ابوالخیر زبیر نے کہا کہ قوم امید رکھے معاملات بہتری کی طرف جارہے ہیں، مذاکرات کا پہلا مرحلہ اچھا رہا، توقع رکھیں مثبت پیش رفت کا سلسلہ جاری رہے گا۔
کالعدم دہشتگرد تنظیم سے مذاکرات!
 

جاسم محمد

محفلین

زیک

مسافر
آپ کے لبرل بہادر امریکہ نے ۱۸ سال افغان جنگ میں کھربوں ڈالر ضائع کئے اور پھر اسی طالبان سے امن مذاکرات شروع کر دیے جن پر چڑھائی کر کے افغانستان فتح کیا تھا
US-Taliban peace talks explained
یعنی دنیا جہاں سے غلطیاں اکٹھی کر کے دہرانے کا عہد کیا ہے عمران خان نے؟
 

جاسم محمد

محفلین
عمران خان بھی مغرب کو اتنا ہی سمجھتا ہے جتنا رعایت اللہ فاروقی امریکی تاریخ کو
بالکل۔ برطانیہ میں اعلی تعلیم، کاؤنٹی کرکٹ، امریکہ میں سیتا وائٹ سکینڈل، لندن میں جمائما گولڈ سمتھ سے شادی وغیرہ مغربی معاشرہ کو یکسر سمجھے بغیر عمل میں آگئی تھی۔
 

جاسم محمد

محفلین
یعنی دنیا جہاں سے غلطیاں اکٹھی کر کے دہرانے کا عہد کیا ہے عمران خان نے؟
ریاست نے یہ مذہبی جتھے پالے۔ اب یہ ریاست سے زیادہ طاقتور ہیں۔ عمران خان ان پر طاقت کا استعمال کرے تو انسانی حقوق کی خلاف ورزی۔ معاملہ افہام و تفہیم سے حل کرنے کیلیے مذاکرات کرے تو کالعدم تنظیم سے مذاکرات کیوں کئے؟ اگر ان کو دھرنے دینے دے تو ریاست کی رٹ کدھر گئی؟ اگر آپ کے پاس ان پیچیدہ مسائل کا حل ہوتا تو لبرلز کی طرح محض تنقید نہ کر رہے ہوتے۔ باقاعدہ حل تجویز کرتے۔
 

جاسم محمد

محفلین
کالعدم قرار دینے کا فیصلہ واپس نہیں لیا گیا۔ البتہ دھرنا ختم کر دیا گیا ہے۔ حکومت کو چاہئے کہ اگر تحریک لبیک کو واپس بحال کرنا ہے تو ان کو آئیندہ کسی بھی مذہبی ایشو کو بنیاد بنا کر دھرنا نہ دینا کا تحریری معاہدہ کرنا ہوگا۔ وگرنہ بحالی کے کچھ عرصہ بعد یہ دوبارہ مذہبی جتھے لے کر سڑکوں پر آجائیں گے۔
 

زیک

مسافر
بالکل۔ برطانیہ میں اعلی تعلیم، کاؤنٹی کرکٹ، امریکہ میں سیتا وائٹ سکینڈل، لندن میں جمائما گولڈ سمتھ سے شادی وغیرہ مغربی معاشرہ کو یکسر سمجھے بغیر عمل میں آگئی تھی۔
کرکٹر اور پلے بوائے ہونا مغرب کو سمجھنے کے لئے کافی نہیں
 

جاسم محمد

محفلین
تمام توہینستانیوں کو بہت مبارکباد
تحریک لبیک کے مطالبہ نہ مانیں تو دھرنے ختم نہیں ہوتے۔ دھرنے ختم نہیں ہوتے تو ریاست کی رٹ نظر نہیں آتی۔ ریاست کی رٹ دکھائیں تو انسانی حقوق نظر نہیں آتے۔ انسانی حقوق دکھائیں تو تحریک لبیک کے دھرنے بار بار واپس آجاتے ہیں۔ کیسا لگا یہ دیسی لبرل گھن چکر؟ :)
 

جاسم محمد

محفلین
پارلیمنٹ میں لے گئے تو سفیر کو نکالنے کا بل منظور ہو جائے گا بہت ہی آسانی سے۔ اسی لئے پارلیمنٹ میں نہیں لے جا رہے۔
آج معاہدہ کے مطابق یہ بل پارلیمان میں پیش کیا جائے گا۔ دیکھتے ہیں کتنی آسانی سے منظور ہو جاتا ہے :)
 
آڑی بھی اپنا، سیلیکٹر بھی اپنا، صفحہ بھی اپنا، پھر بھی حواس باختگی کا یہ عالم کہ ایک انتہائی حساس معاملے پر انتہائی عجلت میں اوٹ پٹانگ معاہدہ کیا گیا۔ بعد میں احساس ہوا تو اپنی پوری میڈیا ٹیم کو اس کے خلاف پروپیگنڈے پر لگا دیا گیا۔ اب وہی پارلیمنٹ میں پیش کرنے جارہے ہیں۔ دونوں صورتوں میں اپنی بدنامی ہے۔ بل پاس ہوگیا تو کیا فرانس سے تعلقات توڑنے کی ہمت ہے؟ بل پاس نہ ہوا تو ’’ کالعدم‘‘ جماعت کو کیا منہ دکھائیں گے جسے کالعدم قرار دینے کے بعد اس سے مذاکرات کررہے ہیں۔

اللہ پاکستان پر رحم کرے اور اسے ناعاقبت اندیشوں سے بچائے!
 

علی وقار

محفلین
پارلیمنٹ میں لے گئے تو سفیر کو نکالنے کا بل منظور ہو جائے گا بہت ہی آسانی سے۔ اسی لئے پارلیمنٹ میں نہیں لے جا رہے۔
معاہدے کے بعد مجبوری بن گئی ہے کیونکہ کافی عرصہ سے یہ روایت قائم ہو گئی تھی کہ ایک جتھہ مطالبے منوا سکتا ہے۔ یہ غلط ہے، ایسا نہیں ہونا چاہیے، مگر ایسا ہو رہا ہے اور یہ تو ہو کر رہنا تھا۔
 

جاسم محمد

محفلین
انتہائی عجلت میں اوٹ پٹانگ معاہدہ کیا گیا۔
پہلا معاہدہ ایک سال قبل مولانا خادم رضوی سے دوران دھرنا طویل مذاکرات کے بعد کیا گیا۔ تحریک لبیک والے اس وقت بھی فرانسیسی سفیر کی ملک بدری سے کم پر راضی نہ تھے اور نہ ہی آج ہیں۔ حکومت نے اسی معاہدہ کے مطابق آج ۲۰ اپریل تک ملک بدری کی قرارداد پارلیمان کے سامنے رکھنی تھی جو وعدہ کے مطابق رکھ رہی ہے۔ پھر بھی دیسی لبرلز کا بغض عمران ایسا ہے جو ختم ہونے کا نام نہیں لے رہا۔
 
Top