لبیک یا رسول اللہ کا ملک کے مختلف شہروں کی اہم شاہراہوں پردھرنا، بدترین ٹریفک جام

جاسم محمد

محفلین
وہ خود کو عقلِ کُل سمجھتے ہیں اور سیاسی مخالفین کو ملک دشمن اور غدار تصور کرتے ہیں۔
اگر ملک سیاسی مخالفین نے ہی ٹھیک کرنا ہے تو خراب کس نے کیا؟ ۱۹۷۰ سے باری باری کونسی جماعتیں حکومت میں رہی ہیں جب ملک میں مذہبی شدت پسندی کے بیج بوئے جا رہے تھے؟ یہ بھی عمران خان کا قصور ہے؟
 

جاسم محمد

محفلین
اپوزیشن پر تمام ملبہ ڈالنے سے بہتر ہے کہ اپنی نا اہلی کا بھی کہیں نہ کہیں دبوں لفظوں میں اعتراف کر لیا جائے۔
عمران خان کی نااہلی یہ ہے کہ اپوزیشن کیساتھ میچ فکس کر کے نہیں کھیلتا۔ وگرنہ ۱۹۹۰ سے تو یہ ہو رہا تھا کہ ن لیگ اور پی پی ایک دوسرے کو چور کہتے۔ پھر جو الیکشن جیت جاتا مولانا اس کا۔
 
تحریک لبیک پر پابندی ان کے مقصد کی وجہ سے نہیں لگی۔ بلکہ اپنے مقصد کے حصول کیلئے بار بار غیر جمہوری، پر تشدد طریقے اپنانے پر لگی ہے۔
اور تحریک انصاف نے کبھی ایسی حرکتیں نہیں کیں۔ نشے میں قسمیں بھی کھالیں گے اس بات پر۔ جلادو، گرادو۔ بل پھاڑ دو۔ ٹی وی اسٹیشن پر قبضہ کرلو۔ یہ تو کوئی اور تھا۔
 

جاسم محمد

محفلین
اور تحریک انصاف نے کبھی ایسی حرکتیں نہیں کیں۔ نشے میں قسمیں بھی کھالیں گے اس بات پر۔ جلادو، گرادو۔ بل پھاڑ دو۔ ٹی وی اسٹیشن پر قبضہ کرلو۔ یہ تو کوئی اور تھا۔
جب تحریک انصاف والے یہ حرکتیں کر رہے تھے اس وقت کی حکومت نے ان پر پابندی کیوں نہیں لگائی؟ ریاست کی رٹ چیلنج کرنے والی ہر جماعت کو حکومت قانونا کالعدم قرار دے سکتی ہے۔ اگر اس وقت پابندی لگا دی جاتی تو تحریک لبیک یا کسی اور جماعت کو قانون ہاتھ میں لینے کی جرات نہ ہوتی۔
 

علی وقار

محفلین
عمران خان کی نااہلی یہ ہے کہ اپوزیشن کیساتھ میچ فکس کر کے نہیں کھیلتا۔ وگرنہ ۱۹۹۰ سے تو یہ ہو رہا تھا کہ ن لیگ اور پی پی ایک دوسرے کو چور کہتے۔ پھر جو الیکشن جیت جاتا مولانا اس کا۔
آپ تو معاملہ کسی اور طرف لے گئے ہیں۔
 

جاسم محمد

محفلین
آپ تو معاملہ کسی اور طرف لے گئے ہیں۔
تحریک لبیک والے پہلی بار ۲۰۱۷ میں اپنا دھرنا لے کر فیض آباد آئے تھے۔ حلف اٹھاتے وقت ختم نبوت کی کچھ شقوں کا مسئلہ لے کر۔ ن لیگی حکومت نے پہلے ان کے ساتھ مذاکرات کئے جو ناکام ہوئے۔ پھر رینجرز کو ان سے نبٹنے کیلئے کہا جنہوں نے انکار کر دیا۔ پھر پولیس کو بھیجا تو احتجاج فیض آباد سے ملک گیر ہو گیا۔ یوں حکومت کے ہاتھ پاؤں پھول گئے اور دھرنے والوں کے تمام مطالبات منظور کر لئے۔ بعد میں ان پر من و عن عمل درآمد بھی کیا۔ اور یوں تحریک لبیک کا آئندہ احتجاجوں کیلئے اعتماد بحال کیا۔
جبکہ موجودہ حکومت نے ۲۰۱۸، ۲۰۲۰ اور اب ۲۰۲۱ کے دھرنے میں تحریک لبیک کی ایک فرمائش پر عمل درآمد نہیں کیا۔ الٹا ان کو سرے سے ہی کالعدم قرار دے دیا ہے۔
نورا کشتی اور حقیقی اپوزیشن میں فرق جان کر جیو۔
 

علی وقار

محفلین
تحریک لبیک والے پہلی بار ۲۰۱۷ میں اپنا دھرنا لے کر فیض آباد آئے تھے۔ حلف اٹھاتے وقت ختم نبوت کی کچھ شقوں کا مسئلہ لے کر۔ ن لیگی حکومت نے پہلے ان کے ساتھ مذاکرات کئے جو ناکام ہوئے۔ پھر رینجرز کو ان سے نبٹنے کیلئے کہا جنہوں نے انکار کر دیا۔ پھر پولیس کو بھیجا تو احتجاج فیض آباد سے ملک گیر ہو گیا۔ یوں حکومت کے ہاتھ پاؤں پھول گئے اور دھرنے والوں کے تمام مطالبات منظور کر لئے۔ بعد میں ان پر من و عن عمل درآمد بھی کیا۔ اور یوں تحریک لبیک کا آئندہ احتجاجوں کیلئے اعتماد بحال کیا۔
جبکہ موجودہ حکومت نے ۲۰۱۸، ۲۰۲۰ اور اب ۲۰۲۱ کے دھرنے میں تحریک لبیک کی ایک فرمائش پر عمل درآمد نہیں کیا۔ الٹا ان کو سرے سے ہی کالعدم قرار دے دیا ہے۔
نورا کشتی اور حقیقی اپوزیشن میں فرق جان کر جیو۔
معاہدہ تو موجودہ حکومت نے بھی کیا ہے۔ گزشتہ حکومت نے فیض حمید وغیرہ سے ڈر کر معاہدہ کر لیا تھا مگر موجودہ حکومت تو معاہدے سے ہی مکر گئی ہے۔ کم از کم پارلیمنٹ کے فورم میں یہ معاملہ لے جانا چاہیے تاکہ مزید لہو نہ بہے اور معاملہ افہام و تفہیم سے حل ہو جائے۔
 
معاہدہ تو موجودہ حکومت نے بھی کیا ہے۔ گزشتہ حکومت نے فیض حمید وغیرہ سے ڈر کر معاہدہ کر لیا تھا مگر موجودہ حکومت تو معاہدے سے ہی مکر گئی ہے۔ کم از کم پارلیمنٹ کے فورم میں یہ معاملہ لے جانا چاہیے تاکہ مزید لہو نہ بہے اور معاملہ افہام و تفہیم سے حل ہو جائے۔
بھائی گریٹ لیڈر وہی ہے جو یوٹرن لے۔ گوئبلز کے بعد بڑی مشکل سے پاکستان میں پیدا ہوپایا ہے ایسا لیڈر!
 

جاسم محمد

محفلین
معاہدہ تو موجودہ حکومت نے بھی کیا ہے۔ گزشتہ حکومت نے فیض حمید وغیرہ سے ڈر کر معاہدہ کر لیا تھا مگر موجودہ حکومت تو معاہدے سے ہی مکر گئی ہے۔ کم از کم پارلیمنٹ کے فورم میں یہ معاملہ لے جانا چاہیے تاکہ مزید لہو نہ بہے اور معاملہ افہام و تفہیم سے حل ہو جائے۔
معاہدہ کے مطابق ۲۰ اپریل تک اس معاملہ کو پارلیمان میں ڈسکس ہونا تھا۔ آج وعدے کے مطابق ۱۹ اپریل کو یہ معاملہ پارلیمان میں ڈسکس ہوا ہے۔
 

جاسم محمد

محفلین
دھرنا ختم۔ دونوں اطراف نے کچھ لے دے کر لیا ہے :)



حکومت سے مذاکرات؛ تحریک لبیک کا دھرنے ختم کرنے کا اعلان
ویب ڈیسک / اسٹاف رپورٹر پير 19 اپريل 2021

2168914-tlpdharna-1618866600-550-640x480.jpg

کارکنان کراچی و دیگر شہروں میں دھرنے ختم کردیں صرف لاہور میں مرکزی دھرنا جاری رہے گا، ٹی پی ایل شوریٰ رکن شفیق امینی (فوٹو : فائل)


لاہور: حکومت اور کالعدم تحریک لبیک کے درمیان مذاکرات کے نتیجے میں ٹی ایل پی نے ملک بھر میں دھرنے ختم کرکے صرف لاہور کا مرکزی دھرنا جاری رکھنے کا اعلان کردیا۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق حکومت اور تحریک لبیک کے درمیان مذاکرات ہوئے جس میں حکومت کی جانب سے وزیر داخلہ شیخ رشید، وزیر مذہبی امور نور الحق قادری، گورنر پنجاب چوہدری محمد سرور، وزیر قانون راجہ بشارت، پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے نمائندوں نے شرکت کی۔ ٹی ایل پی کی جانب سے شفیق امینی، ظہیرالحسن شاہ اور مجلس شوری کے دیگر ارکان بھی موجود تھے۔

حکومتی وفد ان علما سے بریفنگ لے کر آیا تھا جو اس سے قبل کوٹ لکھپت جیل میں سربراہ ٹی ایل پی سعد رضوی سے ملاقات کرچکے تھے، ان علما نے حکومتی وفد کو تحریک لبیک کے مطالبات سے آگاہ کردیا تھا جس پر حکومتی وفد ٹی ایل پی کی شوریٰ سے ملنے پہنچا۔

ذرائع کے مطابق مذاکرات کے دوران تحریک لبیک نے شیخ رشید کے استعفی، سربراہ مولانا سعد رضوی اور گرفتار کارکنوں کی رہائی، مقدمات کے خاتمے اور فرانس کے سفیر کی ملک بدری کا مطالبہ کیا۔

حکومتی وفد نے تمام مطالبات تسلیم کرلیے لیکن فرانس کے سفیر کی ملک بدری اور شیخ رشید کو وزیر داخلہ کے عہدے سے ہٹانے سے انکار کردیا۔

مذاکرات کے دوران دونوں جانب سے تلخی بھی پیدا ہوئی، حکومتی وفد نے زیادہ تعداد میں مذہبی کارکنوں کی شہادت کو تسلیم کرنے سے انکار کیا اور کہا کہ چند کارکن جاں بحق ہوئے لیکن سوشل میڈیا پر اور تقریروں میں تعداد کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا گیا، اگر ایسا ہے تو مرنے والوں کی لاشیں دکھائی جائیں۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ تحریک لبیک نے احتجاج کو مزید نہ بڑھانے کی یقین دہانی کروا دی ہے۔ اس دوران تحریک لبیک کی شورٰی نے ملک بھر میں دھرنے ختم کرنے اور صرف لاہور میں دھرنا جاری رکھنے کا اعلان کردیا۔ تحریک لبیک کے رہنما شفیق امینی نے کارکنوں کے نام پیغام میں کہا کہ کارکنان ملک بھر میں دھرنے ختم کرکے گھروں کو چلے جائیں صرف لاہور میں مرکزی دھرنا جاری رہے گا۔

علما کے وفد کی سعد رضوی سے جیل میں ملاقات، ویڈیو بیان جاری کرنے کی اپیل

حکومتی مذکرات سے قبل کالعدم ٹی ایل پی کے سربراہ سعد رضوی سے علما کے وفد نے کوٹ لکھپت جیل میں طویل ملاقات کی جس میں علما نے سعد رضوی سے دھرنا ختم کرانے اور ویڈیو پیغام جاری کرنے کی درخواست کی، علما کا کہنا تھا جلد اچھی خبر سنائیں گے۔

چئیرمین پنجاب قرآن بورڈ صاحبزادہ حامد رضا کی قیادت میں علما کے وفد نے کالعدم تحریک لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) کے سربراہ سعد رضوی سے کوٹ لکھپت جیل میں پانچ گھنٹے طویل ملاقات کی جس میں علماء نے سعد رضوی سے احتجاج ختم کرانے کی درخواست کی۔

وفد میں ڈاکٹر ابو الخیر محمد زبیر، ثروت اعجاز قادری، پیر خالد سلطان، میاں جلیل احمد شرقپوری، خواجہ غلام قطب الدین فریدی، پیر نظام الدین سیالوی اور حامد رضا سیالکوٹی شامل تھے۔ وفد کا کہنا تھا کہ یہ وفد سرکاری بلکہ فریقین کے درمیان معاملات کو سلجھانے کی ایک کوشش ہے، ہمیں سرکاری سرپرستی حاصل نہیں۔

مذاکراتی ٹیم نے افطاری بھی سعد رضوی کے ساتھ جیل میں کی اور سعد رضوی کو معاملات افہام و تفہیم کے ساتھ حل کرنے پر قائل کرنے کی کوشش کی۔

علماء نے سعد رضوی سے درخواست کی کہ لاہور کا دھرنا ختم کرایا جائے، مظاہرین سے احتجاج ختم کرنے کی درخواست کی جائے، انتشار اور جلاؤ گھیراؤ سے اپنے ہی ملک کا نقصان ہوا، ملک میں امن و امان کی فضا کو قائم رکھا جائے۔ علما نے سعد رضوی سے مظاہرین کے نام ویڈیو پیغام جاری کرنے کی بھی درخواست کی۔

ذرائع نے بتایا ہے کہ حافظ سعد رضوی نے احتجاج ختم کرنے کے حوالے سے مثبت اشارہ دیا ہے اور کچھ مطالبات علماء کرام کے سامنے رکھے ہیں جن میں فرانسیسی سفیر کی ملک بدری، گرفتار رہنماؤں اور کارکنوں کی رہائی، مقدمات کے خاتمے اور عالمی سطح پر توہین رسالت ﷺ کی روک تھام کے لیے حکومت پاکستان کی جانب سے جدوجہد کرنا شامل ہیں۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومت اور کالعدم جماعت تحریک لبیک پاکستان کے درمیان نئے تحریری معاہدے کا امکان ہے اس سلسلے میں کالعدم جماعت کے رہنماؤں کی شوری میں بات چیت جاری ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ چیئرمین قرآن بورڈ پنجاب حامد رضا کی قیادت میں وفد کوٹ لکھپت جیل سے واپسی کے بعد کالعدم جماعت کے مرکز جامعہ مسجد رحمتہ اللعالمین چوک یتیم خانہ گیا اور ٹی ایل پی کے شوری ارکان سے بات چیت کی۔ بعد ازاں علماء کا وفد دوبارہ کوٹ لکھپت جیل پہنچا اور حافظ سعد رضوی کے ساتھ دوبارہ مذاکرات ہوئے۔

اس حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے صاحبزادہ حامد رضانے کہا کہ جلد اس معاملے پر قوم کو خوشخبری سنائیں گے، میڈیا اپنی طرف سے قیاس آرائیاں نہ کرے، ایک مثبت کام کو مثبت طریقے سے انجام تک پہنچانے میں مدد گار بنے ہیں، بریک تھرو ہوا ہے انشاء اللہ مثبت نتیجہ نکل آئے گا۔

انہوں نے بتایا کہ سعد رضوی نے ہمیں کہا ہے کہ وہ محب وطن ہیں اور انہیں کسی کالعد م طالبان کی ہمدردی نہیں چاہیے، سعد رضوی نے کارکنوں کو پرامن رہنے کا کہا ہے۔

ڈاکٹر ابوالخیر زبیر نے کہا کہ قوم امید رکھے معاملات بہتری کی طرف جارہے ہیں، مذاکرات کا پہلا مرحلہ اچھا رہا، توقع رکھیں مثبت پیش رفت کا سلسلہ جاری رہے گا۔
 

سید ذیشان

محفلین
معاہدہ تو موجودہ حکومت نے بھی کیا ہے۔ گزشتہ حکومت نے فیض حمید وغیرہ سے ڈر کر معاہدہ کر لیا تھا مگر موجودہ حکومت تو معاہدے سے ہی مکر گئی ہے۔ کم از کم پارلیمنٹ کے فورم میں یہ معاملہ لے جانا چاہیے تاکہ مزید لہو نہ بہے اور معاملہ افہام و تفہیم سے حل ہو جائے۔
پارلیمنٹ میں لے گئے تو سفیر کو نکالنے کا بل منظور ہو جائے گا بہت ہی آسانی سے۔ اسی لئے پارلیمنٹ میں نہیں لے جا رہے۔
 

جاسم محمد

محفلین
محترم عمران خان صاحب کو اس واقعے کے بعد تعلیم کے بجٹ اور موجودہ تعلیمی نصاب پہ شدت سے غور کرنا چاہیے۔
مدارس کے مکمل خاتمہ یا تنظیم نو تک یہ مسائل چلتے رہیں گے۔ یہ جہاد کی فیکٹریاں جب تک موجود ہیں۔ کسی بھی قسم کی بہتری کو بھول ہی جائیں۔
 

جاسم محمد

محفلین
پارلیمنٹ میں لے گئے تو سفیر کو نکالنے کا بل منظور ہو جائے گا بہت ہی آسانی سے۔ اسی لئے پارلیمنٹ میں نہیں لے جا رہے۔
حکومت بقول وزیر داخلہ پارلیمان میں ایسا بل لانا چاہ رہی تھی جس سے حرمت رسول کا ایشو بھی اجاگر ہو جائے اور پاکستان کے یورپ سے تعلقات بھی خراب نہ ہوں۔ اس سلسلہ میں لبیک والوں سے تین ماہ مذاکرات ہوئے لیکن وہ آج کی تاریخ تک بضد ہیں کہ حکومت ہر صورت فرانس کے سفیر کو ملک بدر کرے۔ وزیر اعظم کی کل کی تقریر سے واضح ہے کہ ایسا کرنا ممکن نہیں ہے کیونکہ یہ پاکستان میں مفاد میں نہیں۔ یوں کسی ایک مذہبی جماعت کے مفاد کو پورے ملک کے مفاد پر فوقیت نہیں دی جا سکتی۔ اسی ہٹ دھرمی کی وجہ سے تحریک لبیک کو کالعدم قرار دے دیا گیا ہے۔ حکومت اب زیادہ سے زیادہ رعایت ان کی لیڈرشپ پر جاری مقدمات واپس لے کر دے سکتی ہے۔ باقی کالعدم ہونے کا فیصلہ، سفیر کو ملک بدر نہ کرنے کا فیصلہ واپس نہیں ہو سکتا۔
 
کالعدم ٹی ایل پی کے احتجاج سے نمٹنے میں 'ناکامی'، اپوزیشن کی حکومت پر سخت تنقید
ویب ڈیسک | جاوید حسیناپ ڈیٹ 20 اپريل 2021
Facebook Count
Twitter Share
0
Translate
607dd53d2343d.png

شاہد خاقان عباسی کے مطابق حکومتی ناکامی کی وجہ سے شہریوں اور امن وامان نافذ کرنے والے اہلکاروں کی قیمتی جانوں کا ضیاع ہوا—فوٹو: اے ایف پی
اپوزیشن جماعتوں نے 18 اپریل کو لاہور میں کالعدم تحریک لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) اور پولیس کے مابین چھڑپوں کے نتیجے میں پیدا ہونے والی صورتحال اور 3 مظاہرین کی ہلاکت اور پولیس اہلکاروں سمیت کئی افراد کے زخمی ہونے پر حکمراں جماعت پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) پر شدید تنقید کی ہے۔

پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ 'انسانی خون بہانا اور تشدد پر اکسانا کبھی بھی صورتحال کو بہتر نہیں کر سکتا کیونکہ تاریخ ہمیں یہ بتاتی ہے کہ تشدد مزید تشدد کو جنم دیتا ہے'۔

انہوں نے سوال اٹھایا کہ 'اصل جنگ تو اس خراب ہوتی صورتحال کی وجوہات کے خلاف ہے، اس سلیکٹڈ حکومت نے نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد کیوں نہیں کیا یا ان چیلنجز کو پارلیمنٹ میں زیر بحث کیوں نہیں لائی؟

بلاول بھٹو زرداری نے گزشتہ روز کالعدم ٹی ایل پی کے ورکرز اور گزشتہ ہفتے پرتشدد واقعات میں پولیس اہلکاروں کی اموات کی مذمت کی اور شدید دکھ کا اظہار کیا۔

انہوں نے کہا کہ یہ حالات مظاہرین سے پرامن طریقے سے نمٹنے میں پی ٹی آئی حکومت کی ناکامی کی وجہ سے پیدا ہوئے۔

بلاول بھٹو نے کہا کہ بڑی سیاسی پارٹیوں کو کمزور کرنے کے لیے نسلی، مذہبی اور فرقہ واریت نفرتوں کے ذریعے اشتعال انگیزی کو فروغ دینے کا رجحان جنرل ضیا الحق کے دور سے شروع ہوا تھا۔

انہوں نے مزید کہا کہ ' یہ آمرانہ ہتھیار آج تک سیاسی پارٹیوں کو کمزور کرنے کے لیے استعمال کیے جارہے ہیں اور نئی نئی عفریتوں کو جنم دیا جارہا ہے تاکہ پاکستان کے عوام کی جمہوری خواہشات کو دبایا جا سکے۔

اپنے بیان میں بظاہر پی ٹی آئی کے اسلام آباد کے دھرنے کا حوالہ دیتے ہوئے چیئرمین پیپلزپارٹی نے کہا کہ ' نظام کو مزید تباہ کرنے کے لیے آج انہی کے طریقہ کار کو دہرایا جا رہا ہے'۔


بلاول بھٹو نے کہا کہ 'عوام کی جانوں کے تحفظ کی ذمہ داری ریاست پر عائد ہوتی ہے اور اس ذمہ داری کو پورا کرنے میں حکومت کی ناکامی کا نتیجہ ملک میں غیر یقینی صورتحال اور انتشار کی صورت میں نکلا ہےجبکہ عوام اور ریاست دونوں ناقابل تلافی نقصان کے خطرات کا شکار ہیں'۔

انہوں نے زور دیا کہ 'مزید تشدد کے استعمال کے بجائے تمام معاملات آئینی طریقہ کار کے مطابق حل کیے جانے چاہئیں'۔

دریں اثنا پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کے سیکریٹری جنرل اور پاکستان مسلم لیگ(ن) کے رہنما شاہد خاقان عباسی نے بھی گزشتہ روز پیش آئے پر تشدد واقعے کی 'سخت مذمت ' کی۔

انہوں نے کہا کہ پی ڈی ایم سمجھتی ہے کہ ناموس رسالتﷺ ہر مسلمان کے عقیدے کا بنیادی جزو ہے، کوئی مسلمان اس پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرسکتا۔


شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ حکومتی ناکامی کی وجہ سے شہریوں اور امن وامان نافذ کرنے والے اہلکاروں کی قیمتی جانوں کا ضیاع ہوا ۔

2017 میں کالعدم ٹی ایل پی کے فیض آباد دھرنے کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ 2017 میں بھی اسی طرح کے پرتشدد واقعات ہوئے تھے جس کے نتیجے میں اس معاملے پر سپریم کورٹ کا فیصلہ آیا تھا۔

انہوں نے کہا کہ پی ڈی ایم زور دیتی ہے کہ پاکستان میں امن اس وقت ہی قائم ہوسکتا ہے اگر اسے آئین اور عوامی خواہشات کے مطابق چلایا جائے۔

لاہور میں پولیس کارروائی اور کشیدگی
خیال رہے کہ 18 اپریل کی صبح کو پنجاب پولیس نے دعویٰ کیا تھا کہ کالعدم تحریک لبیک پاکستان کے کارکنوں نے لاہور کے یتیم خانہ چوک پر پُرتشدد مظاہرے کے دوران ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ پولیس (ڈی ایس پی) کو 'بے دردی سے تشدد کا نشانہ بنایا' اور ساتھ ہی 4 دیگر عہدیداروں کو بھی یرغمال بنا لیا۔

لاہور کے سی سی پی او کے ترجمان رانا عارف نے بتایا تھا کہ کالعم تنظیم کے مشتعل کارکنوں نے پولیس پر پیٹرول بم سے حملے بھی کیے تھے۔

یاد رہے کہ مذکورہ علاقے میں ٹی ایل پی کا احتجاج 12 اپریل سے جاری تھا۔

احتجاجی مظاہرین اور پولیس کے درمیان شدیدجھڑپوں کے نتیجے میں 3 افراد ہلاک اور 15 پولیس اہلکاروں سمیت سیکڑوں زخمی ہوگئے تھے۔

بعدازاں پولیس کی جانب سے صبح میں شروع کیے گئے آپریشن کو روک دیا گیا تھا جبکہ وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں سیکیورٹی سخت جبکہ کراچی میں ریڈ الرٹ کردیا گیا تھا۔

جس کے بعد گزشتہ شب لاہور میں پیش آنے والی صورتحال پر مفتی منیب الرحمٰن کی سربراہی میں تنظیمات اہلسنت کا ایک خصوصی اجلاس ہوا تھا اور پریس کانفرنس کرتے ہوئے آج 19 اپریل کو ملک گیر پہیہ جام ہڑتال کی کال دی گئی تھی جس کی حمایت جمیعت علمائے اسلام (ف) اور جماعت اسلامی نے بھی کی تھی۔

جس کے بعد علی الصبح شیخ رشید نے ایک ویڈیو بیان میں بتایا تھا کہ کالعدم ٹی ایل پی کے ساتھ مذاکرات کا سلسلہ شروع ہوگیا ہے۔

انہوں نے بتایا تھا کہ ٹی ایل پی نے اغوا کیے گئے پولیس اہلکاروں کو چھوڑ دیا ہے اور خود مسجد رحمتہ اللعالمین میں چلے گئے ہیں جبکہ پولیس بھی پیچھے ہٹ چکی ہے۔
 
Top