قلندر کا مفہوم

محمد بلال اعظم نے 'متفرقات' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏فروری 8, 2013

  1. فاتح

    فاتح لائبریرین

    مراسلے:
    15,751
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Hungover
    واہ کیا معانی کے دریا بہہ نکلے ہیں یہاں تو اور دریا بھی ایسے کہ کوئی مشرق کی جانب بہہ رہا ہے تو کوئی مغرب کی جانب اور کسی کا رخ شمال کو ہے اور کسی کا جنوب کو۔ :rollingonthefloor:
     
    آخری تدوین: ‏جنوری 21, 2016
    • پر مزاح پر مزاح × 3
  2. زیک

    زیک محفلین

    مراسلے:
    38,882
    جھنڈا:
    UnitedStates
    موڈ:
    Bookworm
    قلندر تو شاید فارسی میں calendar کو کہتے ہیں۔
     
    • معلوماتی معلوماتی × 1
  3. نایاب

    نایاب لائبریرین

    مراسلے:
    13,421
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Goofy
    دشت تو دشت ہے دریا بھی نہ چھوڑے ہم نے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    یہ دریا کی مجبوری ہے کہ نشیب کی جانب بہے ۔۔۔۔۔۔۔ مشرق ہو یا کہ مغرب یا جنوب
    بہت دعائیں
     
  4. فاتح

    فاتح لائبریرین

    مراسلے:
    15,751
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Hungover
    یہاں تو کئی گنگائیں الٹی بہتی نظر آ رہی ہیں نشیب و فراز سے قطع نظر :laughing:
     
    • غمناک غمناک × 1
  5. نایاب

    نایاب لائبریرین

    مراسلے:
    13,421
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Goofy
    • معلوماتی معلوماتی × 1
  6. نایاب

    نایاب لائبریرین

    مراسلے:
    13,421
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Goofy
    وہ کیا ہے کہ محترم بھائی
    بحر ظلمات میں گھوڑے دوڑانا خوب آتا ہے ہمیں ۔۔۔۔۔۔۔
    بہت دعائیں
     
    • دوستانہ دوستانہ × 1
  7. فاتح

    فاتح لائبریرین

    مراسلے:
    15,751
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Hungover
    میں تو یہ لڑی پڑھنے کے بعد اپنی غزل کا مطلع بھی تبدیل کرنے کے متعلق سنجیدگی سے سوچ رہا ہوں۔ ;)
     
    • معلوماتی معلوماتی × 1
  8. نایاب

    نایاب لائبریرین

    مراسلے:
    13,421
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Goofy
    چلیں کچھ تو کام آئی یہ لڑی ۔۔۔۔۔
    بہت دعائیں
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
    • پر مزاح پر مزاح × 1
  9. زیک

    زیک محفلین

    مراسلے:
    38,882
    جھنڈا:
    UnitedStates
    موڈ:
    Bookworm
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
    • پر مزاح پر مزاح × 2
  10. نایاب

    نایاب لائبریرین

    مراسلے:
    13,421
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Goofy
    میرے بھائی
    بہت معذرت آپ کو مذاق محسوس ہوا ۔
    میرے خیال اسے دائرہ العارف والوں نے قلندر کی مفصل تشریح کی ہے ۔
    باقی یہ دیوانوں کی باتیں ہیں فرزانوں کی نہیں ۔
    فرزانہ سیب اٹھا لیتا ہے ۔۔۔۔۔ دیوانہ گرنے کا سبب تلاشتے وقت ضائع کرتا ہے
    بہت دعائیں
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  11. زیک

    زیک محفلین

    مراسلے:
    38,882
    جھنڈا:
    UnitedStates
    موڈ:
    Bookworm
    دائرہ معارف کے مضمون کو مذاق نہیں کہا بلکہ اپنی پہلی پوسٹ کو ناکام مزاح قرار دیا تھا۔
     
    • دوستانہ دوستانہ × 2
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  12. ڈ١کٹر ثمینہ رفیق

    ڈ١کٹر ثمینہ رفیق محفلین

    مراسلے:
    2
     
    • دوستانہ دوستانہ × 1
  13. ڈ١کٹر ثمینہ رفیق

    ڈ١کٹر ثمینہ رفیق محفلین

    مراسلے:
    2
    انتہائ مدلل اور جا مع جواب ہے اللہ سب کو راہ سلوک پر چلنا نصیب کرے
     
    • متفق متفق × 1
  14. Muhammad Gulzar khan

    Muhammad Gulzar khan محفلین

    مراسلے:
    1
    پہلے تو یہ سمجھ لیں کہ ولایت کے مناصب کون کون سے ہیں، اور کیسے حاصل ہوتے ہیں

    جب تمام سات لطائف پر ذکرِ قلبی مضبوط ہوجاتا ہے،، یعنی لطائف منور ہوجاتے ہیں،، تو روح میں ایک قوت پیدا ہوتی ہے جو اسے عالمِ اَمر اور قربِ الہٰی کی جانب سفر میں سپورٹ کرتی ہے
    کثرتِ ذکر اور شیخ کی توجہ کے باعث روح میں جیسے جیسے لطافت بڑھتی جاتی ہے، اسکا سفر تیز تر ہوتا جاتا ہے
    روح کے اس سفر میں مختلف اولیاء اللہ کواللہ پاک کی طرف سے مختلف مناصب (Designations) بطور گفٹ عطا کئے جاتے ہیں

    سب سے پہلا منصب ہے ابدال، اسکے بعد قطب،،قطب وحدت،، قطب ارشاد،، پھر قطب مدار،، غوث،،قیوم،، فرد اور صدیق کے مناصب ہیں
    یہ ضروری نہیں کہ کسی صاحبِ منصب کو یہ علم بھی ہو کہ میں اب فلاں منصب پر فائز ہوں،،
    دنیا میں اللہ کی مرضی کہ کسی کو بتائے یا نہ بتائے،، ہاں مرنے کے بعداسے پتہ لگ جاتا ہے
    تصوف و سلوک میں' قلندر' کوئی منصب نہیں ہے

    یہ ایک انجانی اصطلاح ہے جو نامعلوم کس بنا پر لعل شہبازؒ کے ساتھ منسوب کر دی گئی ہے
    اسی طرح 'خواجۂ خواجگان' بھی کوئی منصب نہیں ہے
    عوام کا حال تو یہ ہے کہ علم ذرا نہیں اور دعویٰ ایسا کہ شرم بھی نہ آئے
    کئی بزرگوں کے نام کیساتھ دو منصب لکھ دیتے ہیں، مثلاً پہلے کسی کو قطب لکھیں گے پھر اسےابدال بنا دیں گے، یعنی پہلے ترقی دی پھر تنزلی کرا دی
    یا کبھی یوں ہوگا کہ اللہ کے کسی ولی کا منصب صدیق ہوگا تو اسے غوث لکھ دیں گے،،
    یہ تو ایسا ہے کہ جیسے کسی وزیر اعظم کو پٹواری لکھ دیا جائے
    دوسری بات عورت کے متعلق،، عورت میں انوارات برداشت کرنے کی صلاحیت مرد سے کم ہوتی ہے
    اس لئے عورت کو نبوت نہیں دی گئی،، مگر ولایت مل سکتی ہے عورت کے آدھے قلندر ہونے والی بات من گھڑہے

    کسی منصب کا کیا معنی ہے،، یہ ایسا ہے کہ آپ کسی سے پوچھیں کہ میجر، کرنل اور برگیڈئیر کا کیا معنی ہے
    یہ ولایت کےاسٹیٹس ہیں جو ہر امت میں انکے انبیاء علیھم السلام کے متبعین میں سے صالحین کو من جانب اللہ عطا ہوتے ہیں
    مثلاً حضرت خضر ؒ قطب مدار تھے
    اسی طرح امت محمدیؐہ میں بے شمار ہستیاں ان مناصب کی حامل رہی ہیں
    مثلا بہاؤالدین زکریاؒ 'غوث' تھے،، مولانا احمد علی لاہوریؒ 'قطب ارشاد' تھے،، اور مولانا اللہ یار خانؒ 'صدیق' تھے وغیرہ
    جو شخص جس قدر بلند منصب ہو گا،اس میں عوام کی باطنی اصلاح کرنے اور برکاتِ نبوت ٹرانسفر کرنے کی صلاحیت اسی قدر قوّی ہو گی
    یہاں ایک اور سوال پیدا ہوتا ہے کہ آخر یہ لوگ دوسروں کو کیسے یقین دلائیں گے کہ ہم فلاں منصب پر فائز ہیں؟

    یاد رکھیں،، صرف نبی/رسول کو دوسروں کو یقین دلانے کی ضرورت ہوتی ہے
    کہ میں پیغمبر ہوں
    ولی کا کردار اور اسکے ساتھ اٹھنے بیٹھنے والوں کی تربیت، افکار، مجاہدات اور کریکٹر اس بات کے ظاہری گواہ ہوتے ہیں کہ یہ جھوٹا ہے یا سچا

    کسی ولی کو اپنی زندگی میں اپنے منصب کا علم ہونا لازم نہیں،، ہو بھی سکتا ہے
    یہ اللہ کریم کی مرضی ہے کہ بتائے یا نہ بتائے،،البتہ بعداز موت اسے علم ضرور ہو جاتا ہے
    اگر اللہ پاک کسی کو باطنی/قلبی نگاہ نصیب فرمائیں تو کسی ولی کا منصب دیکھا بھی جا سکتا ہے -

    انسانی جسم کے دو حصے ہیں
    1)بدن
    2)روح

    روح کا تعلق عالمِ امر سے ہے اور جس دل/قلب کی ہم یہاں بات کر رہے ہیں اسکا تعلق بھی روح کے پارٹس سے ہے

    بدن کی تخلیق چار چیزوں سے ہوئی ہے
    ہوا، پانی، مٹی، آگ
    ان چاروں کے ملنے سے انسانی نفس بنتا ہے
    یہ نفس چونکہ مادی اور فانی اشیاء سے مل کر بنا ہے،، اسلئے اسکی خواہشات اور ضروریات بھی مادی ہیں، یہ اُن دنیاوی آسائشوں کی طرف رغبت کرتا ہے جس سےمادی بدن کو تسکین ملے

    1)دل مردہ ہو جائے تو انسانی نفس مضبوط ہو جاتا ہے،، اور پہلوان بن جاتا ہے
    اسے نفس امّارہ کہتے ہیں
    سورہ یوسف میں اسکا ذکر ہے
    (وما أبرئ نفسي إن النفس لأمارة بالسوء إلا ما رحم ربي) یہ ہمیشہ بدی کی دعوت دیتا ہے

    2)دل کی اصلاح شروع ہو جائے تو یہ نفس کمزور ہو کر امارہ سے لوّامہ ہو جاتا ہے
    یہ نیکی پر ابھارتا ہے اور برائی پر ملامت کرتا ہے
    سورۃ القیامہ میں اس کا ذکر ہے
    (ولا اقسم بالنفس اللوامہ)

    3)دل کو مزید غذا (ذکرِ الہٰی) وافر مقدار میں فراہم کی جاتی رہے تو نفس مزید کمزور ہو کر لوامہ سے نفس مطمئنہ بن جاتا ہے اس مقام پر بندہ اللہ کی رضا سے ہمہ وقت راضی رہتا ہے اور نیکی کو چھوڑنا مشکل ہوجاتا ہے
    گناہ سے نفرت ہو جاتی ہے
    سورۃ الفجر میں اسکا ذکر ہے
    (یا ایتھا النفس المطمئنۃ۔ ارجعی الی ربکِ راضیۃ مّرضیہ)
     
    • معلوماتی معلوماتی × 2
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
    • زبردست زبردست × 1
  15. نور وجدان

    نور وجدان مدیر

    مراسلے:
    6,383
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Asleep
    کاپی پیسٹ
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  16. ظہیر انور

    ظہیر انور محفلین

    مراسلے:
    2
    اقبال علیہ رحمت نے فرمایا تھا
    بیا بہ مجلس اقبال و یک دو ساغر کش
    اگرچہ سر نہ تراشد قلندری دارد
    اقبال کی مجلس میں آ کر ایک دو جام پی اگرچہ اس نے سر نہیں منڈوایا لیکن قلندری سے متصف ہے
    ولی،ابدال، غوث، قطب اور قلندر وغیرہ اہل تصوف کی اصطلاحات ہیں جن کی قرآن اور سنت سے براہ راست سند نہیں ہے- یار لوگ کھینچ کر انہیں شریعت سے ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں علامہ اقبال نے اپنے آپ کو اصطلاحی نہیں لغوی معنی میں قلندر کہا ہے
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
  17. سید عمران

    سید عمران محفلین

    مراسلے:
    14,036
    جھنڈا:
    Pakistan
    محمد بلال اعظم
    اب تک کے مراسلوں میں بہت مشکل الفاظ و اصطلاحات استعمال کی گئی ہیں۔۔۔
    اور سب کا سب کتابی علم ہے۔۔۔
    حقیقت سے کوئی بھی روشناس نہیں۔۔۔
    آسان الفاظ میں مختصر بیان کردوں کہ یہ محض کتابی علم نہیں۔۔۔۔
    تصوف نام ہے احکامِ شریعت کو محبت سے ادا کرنے کا۔۔۔
    نہ کہ دین محمد کے مقابل کسی نے دین یا ازم کا۔۔۔
    اور شریعت پر عمل کرنا یہ ہے کہ فرض، واجبات، سنن، متحبات پر عمل کیا جائے، برے اخلاق سے نجات پالی جائے، اچھے اخلاق پر عمل پیرا ہو۔۔۔
    اور تقویٰ سے رہے۔۔۔
    اور تقویٰ نام ہے صغیرہ کبیرہ ہر گنا ہ سے بچنے کا۔۔۔
    بس جو شریعت پر جتنا زیادہ عمل کرتا ہے اللہ کا قرب بڑھتا جاتا ہے۔۔۔
    جتنا قرب بڑھتا ہے شریعت کے اسرار کھلتے جاتے ہیں۔۔۔
    جس طرح شریعت کے احکام چھپانا حرام ہے اسی طرح شریعت کے اسرار بتانا حرام ہے۔۔۔
    کیونکہ ہر ایک کو اللہ تعالیٰ شریعت پر عمل کرنے کے الگ الگ ثمرات سے نوازتے ہیں۔۔۔
    اسی لیے انہیں دوسروں کو بتانا لاحاصل ہے ۔۔۔
    ان حاملین ِ اسرار کے مختلف درجات ہوتے ہیں۔۔۔
    ان کو محض پہچان کے لیے مختلف نام دئیے گئے ہیں۔۔۔۔ مثلا سالک، ولی، ابدال، قطب ، غوث وغیرہ۔۔۔
    سلوک راستے کو کہتے ہیں اور سالک اسے کہتے ہیں جو اللہ کا راستہ طے کرے۔۔۔
    ولی ہر وہ متبع سنت و شریعت اور متقی ہوتا ہے جو اللہ تعالیٰ کا قرب خاص حاصل کرچکا ہو۔۔۔
    ان کا چہرہ ہی دیکھ کر لگتا ہے کہ یہ کوئی خاص ہے۔۔۔
    اسی لیے حدیث پاک ہے کہ اللہ والوں کو دیکھ کر اللہ یاد آتا ہے۔۔۔
    باقی ابدال، قطب، غوث تکوینی مراتب ہیں۔۔۔
    سلوک طے کرنے کا مقصد صاحبِ تکون بننا نہیں ہوتا۔۔۔
    بلکہ اللہ تعالیٰ کی رضا اور خوشنودی حاصل کرنا ہوتا ہے۔۔۔
    البتہ اگر اللہ تعالیٰ چاہیں تو اسے تکوینی مرتبہ دے دیں۔۔۔
    لیکن تکوینی مرتبہ حاصل کرنا مقصود نہیں ہے۔۔۔
    ہر مسلمان کا مقصود صرف اللہ کو راضی کرنا اور آخرت کی تیاری کرنا ہے۔۔۔
    آج تک کوئی ڈاڑھی منڈا، شرابی ، جواری، سٹہ کا نمبر بتانے والا اور اسی طرح دیگر گناہوں میں مبتلا نبی تو کیا ولی بھی نہیں ہوا۔۔۔
    اور تکوینیات کیا ہے؟؟؟
    یہ بالکل الگ تفصیل طلب مضمون ہے۔۔۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
    • زبردست زبردست × 1
    • معلوماتی معلوماتی × 1
  18. محمد ریحان قریشی

    محمد ریحان قریشی محفلین

    مراسلے:
    2,058
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Brooding
    یعنی حضرت آدھے قلندر ولی نہیں قرار پائیں گے؟
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  19. حسن محمود جماعتی

    حسن محمود جماعتی محفلین

    مراسلے:
    2,522
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Breezy
    خاصاں دی گل عاماں اگے نہیں مناسب کرنی
    مٹھی کھیر پکا محمد کتیاں اگے دھرنی۔۔۔۔۔۔۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
    • متفق متفق × 1
  20. سید عمران

    سید عمران محفلین

    مراسلے:
    14,036
    جھنڈا:
    Pakistan
    مجھے نہیں پتا آپ کا اشارہ کس طرف ہے۔۔۔
    لیکن چند کبیرہ گناہوں کا ذکر کیا ہے۔۔۔
    جن میں مبتلا ہونے والا اللہ تعالیٰ کا قرب نہیں پاسکتا۔۔۔
    کیوں کہ یہ ہماری آپ کی ، کسی انسان کی بنائی ہوئی باتیں نہیں ہیں۔۔۔
    دین اسلام کے احکامات ہیں۔۔۔
    کوئی مانے یا نہ مانے۔۔۔
    یہ اس کا اپنا انفرادی معاملہ ہے!!!
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2

اس صفحے کی تشہیر