قلندر کا مفہوم

محمد بلال اعظم نے 'متفرقات' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏فروری 8, 2013

  1. آبی ٹوکول

    آبی ٹوکول محفلین

    مراسلے:
    3,502
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Drunk
    محمود بھائی انکی ایک کتاب کہے فقیر کا کسی حد تک مطالعہ تو میں نے بھی کیا تھا مگر مجھے کچھ زیادہ متاثر نہ کرسکی خاص طور پر نظریہ توحید کے معاملے میں ویسے یہ کون صاحب ہیں انکے بارے میں کچھ مزید معلومات دےس کتے ہیں آپ ؟؟؟
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  2. محمد یعقوب آسی

    محمد یعقوب آسی محفلین

    مراسلے:
    6,852
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Buzzed
    قلندر
    خاصے قیمتی اور قابلِ توجہ مباحث ہو چکے۔ اس پر کوئی مفید اضافہ نہیں کر سکوں گا۔

    اقبال کی لفظیات کے حوالے کوئی مستند کتاب یا مخطوطہ کسی صاحب کی رسائی میں ہو تو اس کا اتہ پتہ عنایت فرمائیں۔ اقبال کے ہاں بہت سارے اسماء اپنے عمومی معانی سے کسی قدر مختلف معانی میں بھی آتے ہیں۔
     
    • معلوماتی معلوماتی × 1
    • متفق متفق × 1
  3. محمد یعقوب آسی

    محمد یعقوب آسی محفلین

    مراسلے:
    6,852
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Buzzed
  4. محمود احمد غزنوی

    محمود احمد غزنوی محفلین

    مراسلے:
    6,435
    موڈ:
    Torn
    شاہ صاحب آجکل لندن میں ہیں اور مارچ میں واپسی کا پروگرام ہے :)
     
    • معلوماتی معلوماتی × 3
  5. محمود احمد غزنوی

    محمود احمد غزنوی محفلین

    مراسلے:
    6,435
    موڈ:
    Torn
    شاہ صاحب کو سید یعقوب علی شاہ صابری کےی طرف سے خلافت حاصل ہے اسکے علاوہ انہیں داتا صاحب کی جانب سے بھی خلافت سے نوازا گیا ہے (انکے ایک لیکچر میں انہوں نے اس واقعہ کا ذکر کیا ہے)۔ معروف روحانی شخصیت ہیں ۔ ممتاز مفتی کی الکھ نگری اور اشفاق احمد صاحب کی تحریروں میں بھی انکا ذکر ملتا ہے۔۔صاحبِ کشف بزرگ ہیں۔ اگرچہ انہیں اجازت و خلافت حاصل ہے لیکن روایتی پیری مریدی نہیں کرتے۔ بس لیکچرز کا سلسلہ جاری ہے ۔ کافی پڑھے لکھے ہیں ۔ 1966 سے پہلے انہوں نے ایم بی اے کیا اور سوئی گیس کے محکمے میں ہائی لیول منجمنٹ میں شامل رہے۔ ابھی بھی جاب کرتے ہیں۔ اسکے علاوہ لندن میں کسی یونیورسٹی میں بزنس اینڈ مینجمنٹ پر لیکچرز بھی دیتے رہے ہیں۔
    اگر آپ انہیں روایتی دیوبندی یا بریلوی پیمانے سے دیکھیں تو کئی معاملات میں اپکو یہ بریلوی مکتبہ فکر کے قریب نظر آئیں گے اور کئی دیگرمعاملات میں دیوبندی سکول آف تھاٹ سے ہم آہنگ محسوس ہونگے۔ لیکن انکو ان دونوں مکاتب کے ساتھ identify نہ ہی کریں تو زیادہ درست بات ہوگی۔ کیونکہ انکی ساری گفتگو زیادہ تر اپنے اوپر بیتی ہوئی روحانی واردات کے نتیجے میں حاصل ہونے والے علم کے مطابق ہوتی ہے۔ انکے لیکچرز کا بھی اصل مقصد یہ ہے کہ لوگوں کے کانسپٹس کلئیر کردئیے جائیں روحانیت و تصوف کے حوالے سے۔۔۔
     
    • معلوماتی معلوماتی × 5
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  6. آبی ٹوکول

    آبی ٹوکول محفلین

    مراسلے:
    3,502
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Drunk
    بہت شکریہ محمود بھائی آپ کی اتنی محبت کا کہ یوں شفقت فرمائی اچھا تعارف دیا آپ نے حضرت کا ۔ بحرحال میں بھی انکو روایتی دیوبندی بریلوی مکاتب ہائے فکر کے حوالوں سے نہیں دیکھ رہا تھا بلکہ مجھے تعجب ان کی کتاب پڑھ کر انکے علم اور انکی شخصیت کے حوالہ سے انکے تصور توحید پرہی ہو اتھا بحرحال ۔۔۔۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
    • دوستانہ دوستانہ × 1
  7. محمود احمد غزنوی

    محمود احمد غزنوی محفلین

    مراسلے:
    6,435
    موڈ:
    Torn
    آپکو کس بات پر تعجب ہوا تھا؟۔۔معلومات کیلئے پوچھ رہا ہوں :)
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
    • معلوماتی معلوماتی × 1
  8. آبی ٹوکول

    آبی ٹوکول محفلین

    مراسلے:
    3,502
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Drunk
    چھوڑیں محمود بھائی پھر کسی اور موقع پر سہی اب حافظہ اتنا قوی نہیں رہا کتاب میں نے ساری نہیں پڑھی مطالعہ شروع ہی کیا تھا کہ پھر واپسی ہوگئی سپین میں اور کتاب پاک میں اپنی لائبریری میں چھوڑ آیا
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  9. آبی ٹوکول

    آبی ٹوکول محفلین

    مراسلے:
    3,502
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Drunk
    ہوسکتا ہے محمود بھائی کہ میرا سرسری مطالعہ مجھے انھے سمجھنے مین دقت بنا ہو واللہ اعلم ورسولہ
     
  10. محمود احمد غزنوی

    محمود احمد غزنوی محفلین

    مراسلے:
    6,435
    موڈ:
    Torn
    چھوٹی موٹی باتوں میں اختلافات چلتے ہی رہتے ہیں کیونکہ دنیا میں کوئی بھی دو شخص بعینہِ ایک ہی انداز میں نہیں سوچتے۔۔ذوق، مشرب اور مزاج کا بھی کافی عمل دخل ہوتا ہے، خاص طور پر صوفیوں میں۔ لیکن فرق اتنا ہے کہ ایک مسجد میں دو مولوی، ایک نیام میں دو تلواریں اور ایک شلطنت میں دو بادشاہ تو شائد ایڈجسٹ نہیں ہوسکتے، لیکن ایک گڈری میں کئی صوفی ایک دوسرے کے ساتھ گذارہ کر جاتے ہیں :)
     
    • متفق متفق × 6
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
    • پر مزاح پر مزاح × 1
  11. محمد بلال اعظم

    محمد بلال اعظم لائبریرین

    مراسلے:
    10,288
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Angelic
    سبحان اللہ
    کیا خوب لکھا ہے۔
    بہت بہت شکریہ نایاب صاحب اس معلوماتی تحریر کے لیے بیحد ممنون ہوں آپ کا۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
    • دوستانہ دوستانہ × 1
  12. مزمل شیخ بسمل

    مزمل شیخ بسمل محفلین

    مراسلے:
    3,530
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Depressed
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
    • دوستانہ دوستانہ × 1
  13. نایاب

    نایاب لائبریرین

    مراسلے:
    13,421
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Goofy
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
    • معلوماتی معلوماتی × 1
    • دوستانہ دوستانہ × 1
  14. عظیم اللہ قریشی

    عظیم اللہ قریشی محفلین

    مراسلے:
    2,583
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Tolerant
    مجھ کم علم کو کیسے یاد فرمالیا ۔
    سب سے پہلے تو آپ لوگوں کو بتاتا چلوں کہ کہے فقیر کے سے نام اے آر وائی نے ایک پروگرام شروع کیا ہے جس کے میزبان مشہور شاعر وصی شاہ ہیں اور مہمان سید سرفراز شاہ ہیں آپ کو گوگل سرچ میں پچھلے پروگرامز مل جائیں گے۔
    اب رہ گئی بات قلندر کی تو قلندر کا ذکر سیدِ ہجویر قدس سرہ العزیز نے اپنی مشہور زمانہ تصنیف کشف المحجوب میں بیان فرمایا ہے دنیا میں ہروقت 7 قلندر مؤجود ہوتے ہیں۔
    جہاں تک قلندر کی تعریف کا تعلق ہے تو "تذکرہ قلندر بابااولیاء" جو کہ خواجہ شمس الدین عظیمی نے غالبا 27 اکتوبر 1982 نے تحریر کی تھی اس کتاب کے صفحہ نمبر 21پر خواجہ شمس الدین عظیمی صاحب فرماتے ہیں کہ " ایسا انسان جس کے دیدہ اعتبار اور چشم حقیقت کے سامنے ہرشئے کی شیئت اٹھ گئی ہو اور وہ مراتب وجود کو سمجھ کر ان میں عروج کرتا رہے یہاں تک کہ عالمِ تکوین سے بالا قدم رکھے اور مقام وحدانیت کے مشاہدے میں غرق رہ کر احدت کی تفصیل میں عین وحدت کا جمال مشاہدہ کرکے مقامِ وحدت کی مستی اور بے کیفی میں گم رہتے ہوئے مرتبہ احدیت پر واپس آئے۔ اس کے بعد اپنے مراتب سے جدا ہوئے بغیر احدیت کے مشاہدے میں محو رہے۔ پھر انسانی مرتبے پر پہنچ کر عبودیت کا مقام حاصل کرے، یہاں تک کہ اس کا عروج و نزول ایک ہوجائے۔ جز میں کُل اور کُل میں جز کو دیکھے،پجر ان تمام سے مستغنی ہوکر حیرتِ محمودہ یعنی سرور میں رہے تو اس کو قلندر کہتے ہیں "
    میں اس تعریف سے اتفاق نہیں کرتا ہوں کیونکہ یہ کسی بھی ولی کامل جو کہ فنا فی اللہ بقا باللہ کا حامل ہو اس کی تعریف ہے ۔
    میرا اپنا ذاتی خیال یہ ہے کہ قلندر ایک ایسی ہستی ہے جو کہ دیوانہ کردینے والی تجلیات کو اپنے نفس میں سمو لینے کی اہلیت رکھتا ہو یعنی اللہ تبارک تعالیٰ کی بعض تجلیات ایسی ہوتی ہیں کہ جو کہ کاسہ دماغ کو الٹ پلٹ کررکھ دیتی ہیں۔ قلندر ایک ایسے قوی نفس کا نام ہے جو کہ ان فریکیوئنسیوں کا اپنے اندر جذب کرلیتا ہے۔
    قارئین سے ایک گزارش کرونگا کہ خدا را مجھے اس قسم کے دھاگوں میں ٹیگ مت کیا کیجئے کیونکہ یہ موضوع کافی دقیق اور پیچیدہ ہوتے ہیں جیسے کہ آپ دیکھ لیں کہ اوپر شمس الدین عظیمی صاحب نے ایک لفظ استعمال کیا ہے جس کو مراتب وجود کہتے ہیں۔ اب ایک عام محفلین کو کیا پتہ کہ یہ کیا چیز ہے اوپر سے ادھر فضلول قسم کے لوگوں کی بھی کمی نہیں جن کا کام ہی اعتراض ہے جس کی وجہ ادھر اردو محفل میں ایسے موضوعات کے لیئے کسی موزوں زمرہ کا نہ ہونا ہے۔
     
    • معلوماتی معلوماتی × 3
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
  15. نایاب

    نایاب لائبریرین

    مراسلے:
    13,421
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Goofy
    محترم روحانی بابا جی
    ماشاءاللہ ۔۔۔ اللہ تعالی نے آپ کو علم سے نواز رکھا ہے ۔
    کیا ہی خوب تعریف کی ہے " قلندر " کی ۔
    آپ روشن چراغ کی مثال ہیں ۔ اور چراغ اس فکر سے دور رہتے اپنی روشنی چہار جانب بکھیرتا ہے کہ کون کس نیت سے اس کی روشنی سے مستفید ہو رہا ہے ۔ آپ جیسے صاحب علم اگر ان فکروں میں الجھ علم کی روشنی کو " مراتب وجود " تک محدود کریں گے ۔ تو مجھ جیسے " جاہل عام فضول " لوگ سدا اعتراض میں الجھے " علم " سے دور رہیں گے ۔ بزرگوں نے کہا ہے کہ کوئی بھی " اعتراض " کبھی فضول نہیں ہوتا ۔ اگر اعتراض نہ ہو تو " مباحث علم " کبھی رواں نہیں رہ سکتے ۔ معترض " بہر صورت " اپنے جہل کو علم میں بدلنے کے لیئے " اعتراض " کو اپنا ذریعہ بناتا ہے ۔
    سو ہم جیسوں کے لیئے کچھ لکھ دیا کیجئے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 3
    • متفق متفق × 3
  16. ساقی۔

    ساقی۔ محفلین

    مراسلے:
    3,304
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Brooding
    نایاب
    ۔نایاب بھائی یہ نصف قلندر والی بات کھوپڑی میں نہیں بیٹھ رہیِِ!
    کیا عورت ہونے کی وجہ سے انہیں نصف قلندر کہتے ہیں یا کوئی اور وجہ ہے؟
     
    • معلوماتی معلوماتی × 1
  17. نایاب

    نایاب لائبریرین

    مراسلے:
    13,421
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Goofy
    محترم بھائی میرے ناقص خیال سے اس کی دو وضاحتیں ہیں ۔
    اک یہ کہ یہ " نصف " اک مرد کے مقابلے پر دو عورتوں کی گواہی کے اصول پر استوار ہے ۔۔۔۔۔
    دوسرا یہ کہ " دوران رضاعت " لڑکے کو لڑکی کی نسبت " دوگنا وزنی " ماں کا دودھ ملتا ہے ۔ ۔۔ یعنی لڑکی کو لڑکے کی نسبت " نصف "
    باقی اہل علم ہی اس کی مناسب وضاحت کر سکتے ہیں ۔
     
    • معلوماتی معلوماتی × 3
  18. نور وجدان

    نور وجدان مدیر

    مراسلے:
    6,368
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Asleep
    ابدال۔۔۔۔۔۔قطب۔۔۔۔۔۔۔۔غوث۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ان کی تعریف کیا ہے
    یعنی بے ہوشی و مستی جتنی زیادہ ہوگی اتنے ہی مدارج زیادہ ہوں گے ۔مقام ء فنا کے بعد بھی کوئی درجہ ہوگا جو ان مدارج سے گزرتا ہو

    تکوینی امور کا ولی یا کسی ایسے صاحب ئ ہستی سے کیا تعلق ہے اور کونسا مقام جناب ء خضر کو دیا گیا ہے ۔ جناب ء خضر نے کیا واقعی ہی آب ء حیات پیا تھا

    مقام وحدانیت کے مشاہدے میں غرق رہ کر احدت کی تفصیل میں عین وحدت کا جمال مشاہدہ کرکے مقامِ وحدت کی مستی اور بے کیفی میں گم رہتے ہوئے مرتبہ احدیت پر واپس آئے


    احدیث کیا ہے ؟ مشاہدہ کیسے اور کیونکر ممکن ہے ؟

    پھر انسانی مرتبے پر پہنچ کر عبودیت کا مقام حاصل کرے
    جناب حضرت ابراہیم علیہ سلام کا مقام صدیق تھا جبکہ حضرت ایوب علیہ سلام کا مقام عبد تھا جیسا کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ والہ وسلم کا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔عام انسان یہ مقام کیسے پا سکتا ہے ؟



    یہ سراسر نا انصافی ہے اور اس کو ایسا کیوں کہا گیا ہے اس کی لاجک کیا ہے
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  19. نایاب

    نایاب لائبریرین

    مراسلے:
    13,421
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Goofy
    میری محترم بٹیا
    تصوف کی ابتدا یا تصوف کی بنیاد جو کلمہ کہلاتا ہے ۔ وہ کچھ یوں ہے کہ
    " جس نے خود کو جان لیا اس نے اپنے رب کو پہچان لیا "
    خود کی پہچان کے لیئے اپنے باطن کو چھاننے کے سفر میں نکلنے والے راہ سلوک پر رواں رہتے " سالک ،ابدال ۔ قطب ، غوث ، عبد " کی منزل سے گذر حقیقت کی حقیقت کو پاتے ہیں ۔ اور فلاح انسانیت میں مصروف رہتے تاریکی میں نور کی شمع جلائے رکھتے ہیں ۔
    ان کی سچی حقیقت سے تو صرف رب سچا ہی آگاہ ہوتا ہے ۔ اور یہ خود میں مست اللہ مسبب الاسباب کی حکمت پوری ہونے کے سبب اسی کی رضا اور امر سے تلاشتے ہیں ۔ یہ جہان تصوف میں ایسی ہستیاں قرار دی جاتی ہیں جنہوں نے خود کو پہچان کر اپنے خالق کی پہچان کر لی ہوتی ہے ۔ اور یہ اپنے نفس پر ایسے قادر ہوتے ہیں جیسے اک مداری اپنے پالتو سدھائے ہوئے جانوروں پر ۔
    صوفیاء میں " قلندر " سے مراد " آزاد اور اپنی مستی میں مست ہستی " وہ ہستی کہلاتی ہے ۔ جس نے کٹھن مجاہدے کے بعد اپنے نفس پر قدرت پا لی ہو۔" بو علی شاہ " سخی لعل شہباز " جناب رابعہ بصری " یہ تین ہستیاں درجہ " قلندری " کی حامل قرار دی جاتی ہیں ۔
    جناب رابعہ بصری کو " نصف قلندر " کہا جاتا ہے ۔ قلندر میں مجذوبیت اور مستی بدرجہ اتم موجود ہوتی ہے ۔ یہ مجذوبیت اور مستی ان کے مجاہدے و مشاہدے پر استورا ہوتی ہے ۔ مجذوب اور قلندر اک جیسی کیفیات کے حامل ہوتے ہیں ۔ فرق صرف اتنا کہ " مجذوبیت " مادر ذاد بحکم الہی ہوتی ہے
    اور قلندری " اپنے من میں ڈوب کر پا جا سراغ زندگی " کے قول پر عمل پیرا ہوتے ابھرتی ہے ۔
    تصوف میں یہ واحد مقام ہے جو کہ اپنے آپ میں مکمل ہے ۔ باقی تمام تصوف کے سلسلے راہ سلوک پر چلتے سالک سے ولی ۔ ولی سے ابدال ابدال سے قطب قطب سے غوث سے عبد کی جانب رواں رہتے ہیں ۔ عبد بمعنی " اللہ کا بندہ " یہ درجہ آپ جناب نبی پاک علیہ السلام کی ذات پر منقطع ہو چکا ۔
    اب غوث پر بھی اس کا اتباع لازم ہے ۔
    اب یہ خود کو کیسے جاننا ہے کیا جاننا ہے ؟ اس بارے سچے علیم الحکیم نے فرما دیا کہ "لقد کان لکم فی رسول الله اسوه حسنہ " (الاحزاب 21 )
    قران پاک کی تلاوت سے مشرف ہوتے اس کے بیان پر غور کرتے "اسوہ حسنہ " کو نہ صرف جانا جائے ۔ بلکہ اس کو خود پر طاری کیا جائے ۔ قران پاک نے کھول کر بیان کر دیا ہے کہ " اسوہ حسنہ " کیا ہے ۔ مجاہدہ کیا ہوتا ہے ۔ مشاہدہ کیسے ہوتا ہے ۔
    تو انسان اپنی حقیقت کو جاننے لگتا ہے ۔ اپنی تخلیق کے مقصد کو پانے لگتا ہے ۔ اور جب وہ جان جاتا ہے ۔ تو مخلوق میں اسے خالق کی جانب سے درج بالا درجوں میں سے کسی درجے کا حقدار قرار دے دیا جاتا ہے ۔
    مجھے اسے سمجھنے میں آسانی محترم خواجہ شمس الدین عظیمی کے جواب ہوئی جو انہوں نے ان درجوں کے بارے سوال پردیا ۔۔۔۔۔۔۔
    اللہ تعالیٰ نے آدم کو زمین میں اپنا نائب اور خلیفہ مقرر کیا ۔ آدم کو نیابت اور خلافت اس وقت منتقل ہوئی اور وہ مسجود ملائک ٹھہرے جب اللہ تعالیٰ نے آدم کے اندر اپنی روح پھونکی اور ’’علم الاسماء‘‘ سکھایا۔
    اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس کائنات کے انتظامی امور کو سمجھنا اور اللہ تعالیٰ کے دیئے ہوئے علم الاسماء کی روشنی میں ان انتظامی امور کو چلانا نیابت کے دائرے میں آتا ہے۔ انسان کو بحیثیت خلیفتہ اللہ علم الاسماء کی حکمت تکوین کے اسرار و رموز اس لئے سکھائے گئے کہ وہ نظامت کائنات کے امور میں نائب کے فرائض پورے کر سکے۔
    اوتار، طلب، غوث، ابدال وغیرہ یہ کائناتی نظام تکوین کا کام کرنے والے حضرات کے عہدوں کے نام ہیں۔ یہ حضرات اپنے عہدے اور علم کے مطابق تکوینی امور (Administration) سر انجام دیتے ہیں۔ علم الاسماء سے واقفیت اور تکوینی عہدے پر فائز ہونا اللہ تعالیٰ کا کسی بندے پر فضل و کرم اور انعام ہے۔ سورۂ کہف میں حضرت موسیٰ علیہ السلام اور ایک بندے کا واقعہ بیان ہوا ہے۔ اس واقعہ میں اللہ تعالیٰ نے ہمیں ایک ایسے بندے سے متعارف کرایا ہے جو نظام تکوین کا رکن تھا۔ عرف عام میں اس بندے کو حضرت خضر علیہ السلام کہا جاتا ہے۔


    اور بلاشک اللہ ہی بہتر جانتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔
    بہت دعائیں
     
    • زبردست زبردست × 1
  20. نور وجدان

    نور وجدان مدیر

    مراسلے:
    6,368
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Asleep
    اوتار یا ابدال یا اخیار یا قطب ۔۔۔۔۔۔۔۔ ان کی تعریفیں کیا ہیں اور آپ نے کہا حضرت خضر علیہ سلام اعلی درجے پر ہیں تو ان کا کون سا درجہ ہے ؟

    قلندری کس طرح مکمل ہے ۔۔اس کی ترقی نہیں ہوتی ہے ؟

    انسان اپنی تخلیق کے مقصد کب اور کیسے پاتا ہے ؟ اور کیا اچانک اونچا درجہ بھی مل جاتا ہے کیا ؟
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1

اس صفحے کی تشہیر