قضا نمازیں کیسے ادا کی جائیں۔۔؟

کیفیت
مزید جوابات کے لیے دستیاب نہیں

شاکرالقادری

لائبریرین
اس بارے میں یہ اصول پیش نظر رکھنا چاہیے کہ عبادات میں سے کوئی چیز کرنے کے لیے اور معاملات میں‌ نہ کرنے کے لیے قرآن و حدیث سے دلیل چاہیے ہوتی ہے۔

بالکل بجا فرمايا

اور کيا يہ دليل نہيں

اس کے علاوہ مرنے والے کے لیے حج کرنا اور اس کے فرض روزوں کی قضا کا بھی ثبوت ملتا ہے۔۔

يعني مرنے والے کے فرض روزوں اور حج کي قضا ہو سکتي ہے اور مرنے والا چونکہ يہ عمل خود نہيں کر سکتا اسليے اس کي بجائے دوسروں کي جانب سے اس کے ليے کيے جانے والا عمل قبول ہو جاتا ہے يہي ايصال ثواب ہے ايک فرض عبادت کي قضا ہو سکتي ہے تو دوسرے کي کيوں نہيں؟؟؟
 

فرید احمد

محفلین
اور اس "ھوگا" کو لوگ اس وقت تک نہیں چھوڑیں گے جب تک قرآن و حدیث سے یہ ثابت نہ ہوجائے کہ "نہیں ملتا" کیونکہ اس "ہوگا" میں امید ہے مایوسی نہیں اور امید پر دنیا قائم ہے جبکہ مایوسی کو کفر کہا جاتا ہے
اور دیکھا جائے تو
صدقہ جاریہ ،علم نافع ،نیک اولاد۔۔۔
تین ایسے ہیڈ ہے جن میں بے شمار ضمنی چیزیں آجاتی ہیں اولاد نیک ہوگی تو ماں باپ کے لیے ایصال ثواب کرے کی نا بد اولاد سے کسی چیز کی توقع ہو سکتی ہے

یہ تو اس حدیث میں ہی صاف طور پر کہ دیا گیا ہے ، اس میں امید ہی نہیں یقین ہے ، حدیث کے الفاظ ہیں ، صدقۃ جاریۃ ، ایسا صدقہ جو جاری ہو ، جاری ہونے کا مطلب یہ ہے کہ لوگوں کو اس سے نفع پہنچتا رہے ، مثلا اسکول ، مدرسہ بنا دینا ، کنواں بنا دینا ، ضرورت مند کو گھر بنا دینا ، وغیرہ ۔ تو اس کے جاری باقی رپنے تک ثواب جاری رہے گا
دوسری چیز ہے " علم ینتفع بہ " ایسا علم جس سے فائدہ اٹھایا جائے ۔ مثلا کسی کو قرآن کی تعلیم دی ، کسی کو حلال روزگار کی تعلیم دی ، کسی کو صحیح مسئلہ بتا دیا وغیرہ اور وہ اس پر عمل کرے ، تو عمل کرنے تک ثواب ملتا رہے گا ۔

تیسری چیز " ولد صالح یدعو لہ " ایسا نیک لڑکا جو اس کے لیے دعا کرے " یعنی مغفرت کی دعا کرے ، اس " دعا " کے لفظ کی جامعیت سے اصل دلیل ہے کہ اس میں لڑکے کی جانب سے کیا جانے والا کوئی بھی نیک عمل ، جس کے بعد وہ دعا کرے کہ اس کا ثواب مرنے والے کو ملے تو اس میں شامل ہے ،
توجہ دیں ، حدیث میں ہے کہ " ولد صالح یدعو لہ " ایسا نیک لڑکا جو اس کے لیے دعا کرے " اس سے مراد کیا فقط یہی دعا ہوگی کہ "اللہ فلاں کی مغفرت کر دے " ؟ ہر گز نہیں ، بلکہ تمام دعا ئیں شامل ہیں ۔
ایک دوسری حدیث میں اس کی وضاحت یوں بھی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس طرح کرنے سے اس عمل کرنے والے کے ثواب کو بھی کم نہیں کیا جائے گا ، بلکہ اس کو بھی پورا اجر ملے گا ۔

اس آخری بات میں غور فرمائیں کہ اگر لڑکے کو کسی نے علم نافع سکھا دیا ، یا اس کو صدقہ جاریہ کا کچھ بنوا دیا تو وہ چیز تو اول دو میں شامل ہو گی ، اور اولین دو چیزں وہ ہیں ، جس سے فائدہ اٹھانے پر اس کے جاری کرنے والے کو ثواب ملے گا ، چاہے فائدہ اٹھانے والا اس جاری کرنے والے کے لیے دعا کرے یا نہ کرے ، پہچانتا ہو یا نہ پہچانتا ہو ۔ جب کہ تیسری چیز میں ولد صالح کے دعا کرنے کی بات ہے ۔

پوری بات کا خلاصہ یہ ہوا کہ حدیث پاک میں تینوں چیزوں کے ثواب پہنچنے کے ساتھ اس کی دلیل اور وجہ ( اس کو اصلی زبان میں " علت " کہتے ہیں ) بھی بیان کر دی گئی ہے ۔ اور جب کوئی حکم اس کی علت کے ساتھ ہو تو پھر جہاں جہاں وہ علت ہوگی، وہ حکم لاگو ہوگا ۔ مثلا نشہ ، سود وغیرہ میں ایسا ہی ہوتا ہے ۔
 

قسیم حیدر

محفلین
اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے مخاطب ہونے ہوئے فرمایا:
یایھا الرسول بلغ ما انزل الیک من ربک و ان لم تفعل فما بلغت رسالتہ (المائدۃ آیت 68 )
“اے رسول! آپ کے رب کی طرف سے جو کچھ آپ کی طرف وحی کیا گیا ہے اسے لوگوں تک پہنچا دیجیے اور اگر آپ نے ایسا نہ کیا تو اس کی رسالت کا حق ادا نہ کیا”
جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ (حجۃ الوداع کے موقع پر) خطبہ دینے کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا:
“تم سے میرے بارے میں سوال کیا جائے گا تو تم کیا کہو گے؟”
صحابہ نے عرض کیا:
“ہم گواہی دیں گے کہ آپ نے ہمیں اللہ کا پیغام پہنچا دیا اور (حق تبلیغ) ادا کر دیا اور خوب نصیحت و خیرخواہی کی”۔
اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنی شہادت کی انگلی آسمان کی طرف اٹھائی اور لوگوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے تین بار فرمایا “اے اللہ! گواہ رہنا”۔ (صحیح المسلم، کتاب الحج، باب حجۃ النبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم)
حجۃ الوادع کے موقع پر ہی یہ آیت نازل ہوئی تھی:
الیوم اکملت لکم دینکم و اتممت علیکم نعمتی و رضیت لکم الاسلام دینا (المائدۃ۔3)
“آج کے دن میں نے تمہارا دین تمہارے لیے مکمل کر دیا اور تم پر اپنی نعمت پوری کر دی اور تمہارے لیے بحیثیت دین، اسلام کو پسند کیا ہے”
ان آیات اور احادیث سے واضح ہے کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی حیات مبارکہ
میں دین کی تکمیل ہو چکی تھی اور وہ تمام شعبہ ہائے حیات کے بارےمیں اللہ تعالیٰ کے احکام امت تک پہنچا کر اس دنیا سے تشریف لےگئے تھے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنے بعد دین میں نئی چیز یا اضافہ کرنے سے سختی سے منع فرمایا:
من احدث فی امرنا ھذا ما لیس منہ فھو رد
“جس نے ہمارے اس (دین) کے کام میں کوئی نئی چیز نکالی تو وہ رد ہے”
دوسری حدیث میں ہے:
من عمل عملا لیس علیہ امرنا فھو رد
“جس نے کوئی ایسا کام کیا جس پر ہمارا عمل نہیں تو وہ رد ہے” (او کما قال علیہ الصلوۃ والسلام)
قیامت کے دن کتنے ہی لوگ ہوں گے جو خودساختہ عبادتیں کر کے اس حال میں آئیں گے کہ ان کے چہرے تھکے ہوئے ہوں گے لیکن ان کی کوئی عبادت قبول نہیں کی جائے گی اور جہنم میں ڈالیں جائیں گے۔
وجوہ یومئذ خاشعۃ عاملۃ ناصبۃ تصلیٰ نارا حامیۃ (سورۃ الغاشیۃ)
“اس (قیامت کے روز) بہت سے چہرے ذلیل ہوں گے اور محنت کر نے والےتھکے ہوں گے۔وہ دہکتی آگ میں جائیں گے”
امام مالک رحمہ اللہ کا قول ہے:
“جو شخص دین میں اضافہ کرتا ہے وہ اپنی دانست میں یہ سمجھتا ہے کہ اللہ کے رسول نے دین پہنچانے میں (نعوذباللہ) کوئی کمی کی تھی جسے وہ پوری کرنا چاہ رہا ہے”
یہ دین کی بنیادی باتیں ہیں اور میں نہیں سمجھتا کہ کسی کو ان سے اختلاف ہو سکتا ہے۔اب اصل مسئلے کی طرف آئیے۔ ایصالِ ثواب ایک عبادت ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اس کا جو طریقہ بتایا لازم ہے کہ اسے بلا کم و کاست اسی طرح بجا لایا جایا جس طرح احادیث سے ثابت ہے۔ کسی مسلمان کے شایانِ شان نہیں ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے مبارک طریقے کو چھوڑ کر اپنے اخذ کردہ طریقوں پر چلنے لگے۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے:
و ان تطیعوہ تھتدوا (النور)
“اور اگر تم ان (رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کی اطاعت کرو گے تو ہدایت پا جاؤ گے”
سورۃ آل عمران میں ہے:
قل ان کنتم تحبون اللہ فاتبعونی یحببکم اللہ و یغفر لکم ذنوبکم (آل عمران)
“کہہ دیجیے اگر تمہیں اللہ سے محبت ہے تو میری اتباع کرو اللہ تم سے محبت کرے گا اور تمہارے گناہ معاف کر دے گا”
سورۃ الحشر میں فرمایا:
و ما ءاتکم الرسول فخذوہ و ما نھٰکم عنہ فانتھوا (الحشر)
“رسول (جو حکم یا شئے) تمہیں دیں اسے لے لو اور جس سے منع کر دیں اس سے رک جاؤ”
احادیث سے جن چند اعمال کا میت کے لیے فائدہ مند ہونا ثابت ہوتا ہے ان میں صدقہ جاریہ، علم نافع، نیک اولاد کی دعا، مرنے والے کے لیے(دوسری شرائط کو پورا کرنے کے بعد) حج کرنا، اس کے روزوں کی قضا، قرض کی ادائیگی وغیرہ شامل ہیں۔ دلائل ملاحظہ فرمائیے:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا:
“جب کوئی انسان فوت ہو جاتا ہے تو اس کا ہر عمل کٹ جاتا ہے سوائے تین (اعمال) کے۔
۱۔ جو صدقہ اس نے کیا تھا اور وہ جاری ہو(یعنی مرنے والے کے بعد وہ صدقہ یا اس کا فائدہ رک نہ گیا ہو)
2۔ ایسا علم جو کہ (دینی طور پر) فائدہ مند ہو۔
3۔ صالح اولاد جو دعا اس کے لیے کرے۔ (صحیح المسلم)
ابو ہریرۃ رضی اللہ عنہ سے مروی ایک روایت میں صدقہ جاریہ اور علم نافع کی مزید تفصیل بیان کی گئی ہے۔ ابو ہریرۃ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا:
“بے شک کسی ایمان والے کی موت کے بعد جو کام اور نیکیاں اس تک پہنچتی رہتی ہیں ان میں (قرآن و حدیث کا) وہ علم ہے جو اس نے (کسی کو) سکھایا اور اس علم کو پھیلایا، نیک اولاد جو اس نے چھوڑی، مصحف (قرآن) جس کو وراثت میں چھوڑا، یا جو مسجد بنوائی، یا کوئی نہر جاری کروائی،یا مسافروں کے لیے کوئی آرام گاہ تعمیر کروائی، یا جو صدقہ اپنے مال میں سے اپنی زندگی میں اپنی صحت مندی کی حالت میں نکالا ہو، یہ (سب) اسے ملتا ہے۔” (ابن ماجہ، صحیح ابن حبان)
مرنے والے کو اس کی نیکو کار اولاد کے نیک اعمال کابھی اتنا ہی ثواب ملتا ہے جتنا خود کرنے والوں کو اور کرنے والوں کے اجر میں بھی کوئی کمی نہیں کی جاتی۔اس کی اولاد کو ثواب “بھیجنے” کی ضرورت نہیں ہوتی بلکہ وہ جو بھی نیک کام کرتے ہیں اس کے برابر کا ثواب ان کے مومن والدین کے لیےلکھ دیا جاتا ہے۔اس کی دلیل عائشہ رضی اللہ عنہا کی حدیث ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا:
“انسان کا سب سے اچھا کھانا وہ ہے جو وہ خود کما کر کھائے اور انسان کی اولاد اس کی کمائی ہے” (سنن ابو داؤد، سنن النسائی، سنن دارمی، سنن ترمذی، المستدرک حاکم)
مرنے والے کی اولاد اس کی طرف سے صدقہ کرے تو بھی فائدہ مند ہوتا ہے۔ عائشہ رضی اللہ عنہا ہی سے روایت ہے کہ “ ایک آدمی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے کہا “میری والدہ اچانک فوت گئیں اور انہوں نے کوئی وصیت بھی نہیں کی، میرا خیال ہے کہ اگر (انہیں مہلت ملتی) اور وہ بولتیں تو صدقہ کرتیں۔ اب اگر میں ان کی طرف سے صدقہ کروں تو کی اُنہیں اور مجھے اس صدقہ کا اجر ملے گا؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا” ہاں” ۔ تو اس شخص نے (اپنی ماں کی طرف سے) صدقہ کیا۔ (صحیح البخاری، مسلم، ابوداؤد، النسائی)
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا:
“کسی مرنے والے پر اگر کوئی روزے ادا کرنا باقی ہیں تو اس کا ولی اس کی طرف سے وہ روزے رکھے” (صحیح البخاری، صحیح المسلم، سنن ابوداؤد)
یہ اس صورت میں ہے جب میت کے روزے کسی عذر کی وجہ سے چھوٹ گئے ہوں، بلاعذر چھوڑے گئے روزوں کی قضا ولی پر نہیں ہے۔ ابن القیم اس بارے میں لکھتے ہیں:
“وہ شخص جس کے پاس کوئی شرعی عذر نہیں تھا اور وہ دیدہ دانستہ فرائض کی ادائیگی میں کوتاہی کرتا رہا۔ اب اس کے مرنے کے بعد کوئی شخص اس کے فرائض ادا کرنا چاہے تو اس ادائیگی کا مرنے والے کو کوئی فائدہ نہیں۔”
ان احادیث کو ذکر کرنے سے مقصد یہ ہے کہ جب یہ طریقے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے بتا دیے ہیں اور ان میں سے کوئی طریقہ بھی ایسا نہیں ہے جس پر عمل کرنا آج یا کسی بھی زمانے میں مشکل رہا ہو تو آخر وجہ کیا ہے کہ انہیں چھوڑ کر ہم قیاس و گمان کے تیر چھوڑتے ہیں اور رائے اور قیاس سے مسائل اخذ کر کے انہیں وہی حیثیت دینا چاہتے ہیں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے ثابت شدہ امور کی ہے۔ ایصالِ ثواب کے جتنے طریقے ہمارے معاشرے میں رائج ہیں وہ اسی قسم کے قیاسات پر مبنی ہیں کہ “اگر اِن اعمال کا ثواب پہنچ سکتا ہے تو دوسروں کا بھی پہنچ سکتا ہو گا”۔ انصاف کی نظر سے دیکھا جائے تو اس موقف کے قائلین کویہ کہنا چاہیے تھا کہ “قرآن و حدیث سے ثابت ہوتا ہے کہ میت کو ان ان اعمال سے فائدہ پہنچتا ہے، لیکن ہماری رائے اور سمجھ کے مطابق دوسرے اعمال بھی فائدہ مند ہو سکتے ہیں”۔ پھر بات کی جا سکتی تھی کہ کسی کی رائے اور قیاس دین میں کیا مقام رکھتی ہے۔ لیکن یہاں الٹا چور کوتوال کو ڈانٹے، انہی لوگوں پر اعتراض کیا جا رہا ہے جوصرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے ثابت شدہ اعمال سے میت کو فائدہ پہچانے کی بات کرتے ہیں۔ فیا للعجب
قرآن و حدیث میں اپنی رائے کا اضافہ کرنے سے امت میں تفرقہ بازی اور فتنوں کا بہت بڑا دروازہ کھل سکتا ہے بلکہ کھلا ہوا ہے۔ اس لیے کہ ہر آدمی کی رائے مختلف ہوتی ہے۔ زیر، بحث مسئلے ہی کو لے لیجیے۔ ایک گروہ کہتا ہے کہ “حدیث سے ثابت ہے کہ فلاں اعمال میت کو فائدہ دیتے ہیں اس لیے ہم صرف انہی کو بجا لائیں گے کیونکہ ان پر مدنی مہر تصدیق ثبت ہے۔” ، دوسرا گروہ اس میں اضافہ کرتا ہے کہ “اچھا، اگر ایک عمل فائدہ دیتا ہے تو دوسرا بھی دیتا ہو گا، لہٰذا میں اپنی سمجھ سے جو بھی نیک عمل کروں گا وہ میت کے لیے مفید ہو گا”
فرق صاف ظاہر ہے۔اوپر والی پوسٹ میں “پہنچتا ہے" اور “پہنچ سکتا ہو گا” میں دراصل اسی طرف اشارہ کرنا چاہ رہا تھا۔ اختلافات دور کرنے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ متفق علیہ اور ثابت شدہ مسائل تک محدود رہا جائے۔
میں نہیں سمجھتا کہ کسی مسلمان کے سامنے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا خالص مدنی عمل موجود ہو اور وہ اسے چھوڑ کر قیاسات پر بھروسہ کرنے لگے۔
 

شاکرالقادری

لائبریرین
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا:
“کسی مرنے والے پر اگر کوئی روزے ادا کرنا باقی ہیں تو اس کا ولی اس کی طرف سے وہ روزے رکھے”
(صحیح البخاری، صحیح المسلم، سنن ابوداؤد)

یہ اس صورت میں ہے جب میت کے روزے کسی عذر کی وجہ سے چھوٹ گئے ہوں، بلاعذر چھوڑے گئے روزوں کی قضا ولی پر نہیں ہے۔ ابن القیم اس بارے میں لکھتے ہیں:
“وہ شخص جس کے پاس کوئی شرعی عذر نہیں تھا اور وہ دیدہ دانستہ فرائض کی ادائیگی میں کوتاہی کرتا رہا۔ اب اس کے مرنے کے بعد کوئی شخص اس کے فرائض ادا کرنا چاہے تو اس ادائیگی کا مرنے والے کو کوئی فائدہ نہیں۔”
کوئي از راہ انصاف بتائے کہ اوپر کے اقتباس ميں جہاں ام المومنيں رضي اللہ عنہا کي روايت ہے پوري کي پوري روايت ميں کہيں اس بات کا ذکر ہے کہ بلا غزر چھوڑے گئے روزے اس ميں شامل نہيں

اور کوئي از راہ انصاف يہ بھي بتا دے کہ ابن قيم نے جو يہ فيصلہ کيا ہے کيا يہ وہي بات نہيں جس کا ہمارے فاضل دوست نے ذکر فرمايا ہے۔ ذيل کا اقتباس ديکھئے

ان احادیث کو ذکر کرنے سے مقصد یہ ہے کہ جب یہ طریقے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے بتا دیے ہیں اور ان میں سے کوئی طریقہ بھی ایسا نہیں ہے جس پر عمل کرنا آج یا کسی بھی زمانے میں مشکل رہا ہو تو آخر وجہ کیا ہے کہ انہیں چھوڑ کر ہم قیاس و گمان کے تیر چھوڑتے ہیں اور رائے اور قیاس سے مسائل اخذ کر کے انہیں وہی حیثیت دینا چاہتے ہیں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے ثابت شدہ امور کی ہے۔

آخر کيا وجہ ہے کہ اگر ابن قيم قياس کرے تو ان کي رائے کو رسول اللہ صلي اللہ عليہ وآلہ سے ثابت شدہ امور کي سي حيثيت دي جائے اور انہيں دھڑلے سے لوگوں کے ليے پيش بھي کر ديا جائے اور يہي قياس کوئي اور کر لے تو اس پر بدعت کے فتوي جاري کرديا جائے

يہ رويہ کوئي مناسب رويہ نہيں اور قرين انصاف بھي نہيں
اس طرح تو آپ کو ايک فہرست مرتب کرنا ہو گي ثابت شدہ امور کي
اور دور جديد کے مسائل تو کہيں ثابت نہيں ہو نگے

پھر بات کی جا سکتی تھی کہ کسی کی رائے اور قیاس دین میں کیا مقام رکھتی ہے۔ لیکن یہاں الٹا چور کوتوال کو ڈانٹے، انہی لوگوں پر اعتراض کیا جا رہا ہے جوصرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے ثابت شدہ اعمال سے میت کو فائدہ پہچانے کی بات کرتے ہیں۔ فیا للعجب
اور وہي لوگ رسول اللہ صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم کے اقوال کے مقابلہ ابن قيم اور اسي طرح کے دوسرے شيوخ کے اقوال اور قياسات اور آراء کو پيش کرتے ہيں جس سے يقينا

امت میں تفرقہ بازی اور فتنوں کا بہت بڑا دروازہ کھل سکتا ہے بلکہ کھلا ہوا ہے۔



میں نہیں سمجھتا کہ کسی مسلمان کے سامنے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا خالص مدنی عمل موجود ہو اور وہ اسے چھوڑ کر قیاسات پر بھروسہ کرنے لگے۔
جيسا کہ ابن قيم نے قياس کيا ہے
 

شمشاد

لائبریرین
محفل کی ایک رکن نے سوال پوچھا تھا " قضا نمازیں کیسے ادا کی جائیں؟"

میرے خیال میں اس کا مفصل جواب آ چکا ہے۔

اب بحث ایک دوسرا رخ اختیار کر رہی ہے جو کہ اس دھاگے پر مناسب معلوم نہیں ہوتی۔ اس لیے اس دھاگے کو مقفل کر رہا ہوں۔

آپ حضرات اگر چاہتے ہیں کہ عنوان سے ہٹ کر بحث جاری رہے تو نیا دھاگہ کھول سکتے ہیں۔

جن ارکین نے اس دھاگے پر شرکت کی اللہ سے دعا ہے کہ انہیں بہترین اجر دے۔
 
کیفیت
مزید جوابات کے لیے دستیاب نہیں
Top