قضا نمازیں کیسے ادا کی جائیں۔۔؟

کیفیت
مزید جوابات کے لیے دستیاب نہیں

دوست

محفلین
جب ایک نکتہ ہی واضح نہیں تو یہ آپ پر منحصر ہے اسے کیسے لیں۔ بڑی سادہ سی بات ہے اگر سمجھنا ہو تو۔:)
 

بنتِ حوا

محفلین
مسئلہ تو کب کا حل ہو چکا اور سوال پوچھنے والی مطمئن ہو کر چلی بھی گئی

خواہ مخواہ کی باتیں ہو رہی ہیں

میں آپ کے سوال کو ذرا اور مختصر اور انتہائی وصاحت سے بیان کرنا چاہتا ہوں اور اس کا جواب ان سب مناظرین و منطرات کے ذمہ ہے جو ہر چیز کو بدعت قرار دینے پر تلے ہوئے ہیں

1۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ پوری طرح ثابت ہے کہ اگر کسی وجہ سے کوئی نماز رہ جائے تو اسے ادا کیا جائے گا

تو پھر عمر بھر کی قضا شدہ نمازوں کی ادائیگی پر ان لوگوں کو کیوں اعتراض ہے

2۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کیا کوئی ایسی حدیث موجود ہے جس میں منع کیا گیا ہو کہ سابقہ زندگی کی نمازیں ادا کرنا بدعت ہے

قرآن اور حدیث کی باتیں میرا نہیں خیال کہ خواہ مخواہ کی باتیں ہو سکتی ہیں۔۔مسلئہ حل ہونے کے بعد اور بھی مسئلے نکل آئے ہیں جیسے فدیہ کا مسئلہ تو کیا کسی کو یہ حق نہیں کہ اس بارے میں تفصیل پوچھے کہ یہ دین میں نماز کا بدلہ فدیہ کس نے اور کیوں مقرر کیا ؟؟
ہر چیز بدعت) کی وضاحت کرنا پسند کریں گے؟؟
ہم ہر اس چیز کو بدعت سمجھتے ہیں جو دین میں اضافہ ہے جس پر ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا عمل،حکم نہیں ۔
1۔ کسی وجہ سے نماز رہ جائے(اس کسی وجہ کی وضاحت بھی ساتھ کر دی گئی ہے)
جیسے کے پیچھے ایک بھائی نے کہا کہ اس وقت منافق بھی نماز پڑھتے تھے۔(کیونکہ اس وقت نماز نہ پڑھنے والوں کو مسلمان تصور نہیں کیا جاتا تھا وہ نماز پڑھتے تھے تا کہ انہیں مسلمان سمجھا جائے اور انہیں دھوکے کا موقع مل جائے نبی ص کے آخری دور میں ہونے والے مسلمانوں کو نبی ص نے یہ کیوں نہیں کہا کہ تم اپنی پچھلی زندگی کی نمازیں بھی پڑھو
سارا نے کہا کہ جیسے عورت کو اس کے مخصوص ایام میں نہ رکھے گئے روزوں کی قضا دینے کا حکم ہے تو اس کو نماز کی قضا دینے کا حکم کیوں نہیں ہے؟
شمشاد بھائی نے قرآن کی آیت پیش کی ہے اسے بھی پڑھ لیں(بے شک مومنوں پر نماز ہے فرض پابندیِ وقت کے ساتھ)
2،کوئی ایسی حدیث موجود نہیں جس میں کہا گیا ہو کہ سابقہ زندگی کی نمازیں پڑھنا منع ہے،کوئی ایسی حدیث بھی موجود نہیں جس میں کہا گیا ہو کہ مہینے سالوں کی نمازیں چھوڑتے رہو اور پھر جب جی چاہے انہیں اکھٹا کر کے پڑھ لو۔اس وقت تو بوڑھے اور بیمار جو صحیح چل پھر نہیں سکتے تھے انہیں اٹھا کر لایا جاتا تھا اور لا کر صفوں میں بٹھا دیا جاتا تھا۔خود نبی ص آخر وقت تک سہارا لے کر آتے تھے اور ان کی زبان مبارک پر آخر وقت میں بھی نماز نماز کے ہی الفاظ تھے،آج ہماری نظر میں نماز کی وہ اہمیت نہیں رہی جو اس وقت ہوتی تھئ بلکہ ہم نے آسانی کے لیے یہ طریقہ نکال لیا ہے کہ چلو کوئی بات نہیں اب نہیں پڑھتے آخر وقت میں قضا عمری پڑھ لیں گے
اگر آپ کسی سے کہیں کہ ایک ٹانگ پر کھڑے ہو جاؤ تو وہ ہو جائے گا لیکن آپ اسے دوسری ٹانگ بھی اٹھانے کا کہیں تو یہ ممکن نہیں۔۔ہمارے دین میں بہت آسانی ہے اسے مشکل نہ بنائیں، اللہ غفور الرحیم ہے اللہ کی رحمت بہت وسیع ہے اسے معدود نہ کریں
 

امن ایمان

محفلین
آج ہماری نظر میں نماز کی وہ اہمیت نہیں رہی جو اس وقت ہوتی تھئ بلکہ ہم نے آسانی کے لیے یہ طریقہ نکال لیا ہے کہ چلو کوئی بات نہیں اب نہیں پڑھتے آخر وقت میں قضا عمری پڑھ لیں گے
اگر آپ کسی سے کہیں کہ ایک ٹانگ پر کھڑے ہو جاؤ تو وہ ہو جائے گا لیکن آپ اسے دوسری ٹانگ بھی اٹھانے کا کہیں تو یہ ممکن نہیں۔۔ہمارے دین میں بہت آسانی ہے اسے مشکل نہ بنائیں، اللہ غفور الرحیم ہے اللہ کی رحمت بہت وسیع ہے اسے معدود نہ کریں

یہاں میں ایک بات کہنا چاہوں گی۔۔۔کہ جیسا کہ آپ نے کہا کہ چلو کوئی بات نہیں آخر وقت میں نماز پڑھ لیں گے۔۔۔تو یہ عبادت کے ساتھ مذاق ہے۔۔۔بڑھاپے میں بھی قضا عمری ایک دو دن میں ادا نہیں ہوگی۔۔۔تب بھی کئی سالوں کی نمازیں ہی ادا کرنا ہوں گی۔۔اس لیے آج جو اس نیت کے ساتھ نمازیں چھوڑ رہے ہیں۔۔۔اللہ تعالیٰ کو کل خود جواب دہ ہوں گے۔۔۔اب جبکہ ان کو ہدایت بھی ملی۔۔اور نماز نہ پڑھنے کی سزا کا بھی پتہ چل گیا۔


اب تو جو میں نے پڑھا،سمجھا،دیکھا اور جانا۔۔۔۔صاف نظر آیا یہاں دو الگ الگ فرقوں سے تعلق رکھنے والے لوگ موجود ہیں۔ رویوں میں لچک کسی جگہ بھی نہیں ہے۔۔۔جسے پڑھ کر دل اور دکھتا ہے۔ میں اب بھی جواب نہ لکھتی۔۔لیکن ایک ہی بات کی تکرار۔۔ جان بوجھ کر نماز چھوڑی۔۔۔پلیزز آپ سب تھوڑا سا رحم کریں۔۔۔اگر یہ توجیع پیش کرتے ہیں کہ فرض نماز کے ساتھ قضا نماز سے لوگ ڈر جائیں گے۔۔اور فرض نماز بھی چھوڑ جائیں گے۔۔۔تو اس بات پر غور کریں۔
ہم نوافل کیوں پڑھتے ہیں۔۔؟ اللہ تعالیٰ کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے۔ ہیں نا؟؟؟ تو اگر اسی وقت میں چار فرض قضا نماز قضا بھی پڑھ لیں گے تو کیا اللہ تعالیٰ گناہ دیں گے۔۔؟؟؟ :(
ایک بات صاف۔۔۔اب جب کہ نماز کی اہمیت واضع ہوگئی۔۔اور اب میں کوئی نماز چھوڑوں گی۔۔اس امید پر کہ کل پرسوں قضا ادا کرلوں گی تو یہ عمل سراسر اللہ تعالیٰ کی حکم عدولی ہوگا۔۔بلکہ میں اسے ایک طرح سے سرکشی کہوں گی۔
توبہ استغفار اپنی جگہ۔۔۔اس میں کوئی شک نہیں کہ اللہ تعالیٰ بخشنے والا نہایت مہربان ہے۔۔۔لیکن جب ہر جرم کی سزا موجود ہے۔۔۔جان کے بدلے جان۔۔۔ہاتھ کے بدلے ہاتھ۔۔تو پھر نماز کے بدلے نماز۔
جو نہیں پڑھنا چاہتے۔۔وہ توبہ کرتے رہیں۔۔۔جو پڑھنا چاہتے ہیں بغیر ڈرے پڑھتے رہیں۔
پیارے اللہ تعالیٰ میں نے اپنی دانست میں سیدھا راستہ چنا ہے۔۔۔۔اس یقین کے ساتھ کہ آپ میری خطائیں بخش دیں گے۔
 

سارا

محفلین
جہاں تک میرا خیال ہے کہ بدعت کہنے والوں نے بھی اور قضا عمری پڑھنے والوں نے بھی اپنا اپنا موقف بیان کر دیا ہے اب میرا نہیں خیال کہ اس پر مزید بات کرنے کی ضرورت ہے اب یہ ہم پڑھنے والوں پر بات چھوڑتے ہیں کہ وہ کس بات کو لیتے ہیں اور کسے چھوڑتے ہیں ہمارا مقصد بات پہنچا دینا ہے کسی سے بات منوانا نہیں۔۔۔امید ہے بات کو سب سمجھ جائیں گے انشا اللہ
 

ماوراء

محفلین
آج ہماری نظر میں نماز کی وہ اہمیت نہیں رہی جو اس وقت ہوتی تھئ بلکہ ہم نے آسانی کے لیے یہ طریقہ نکال لیا ہے کہ چلو کوئی بات نہیں اب نہیں پڑھتے آخر وقت میں قضا عمری پڑھ لیں گے
آپ نے فدیہ کے بارے میں ایسا ہی کچھ کہا کہ اگر اس کی اجازت ہے تو ہم زندگی میں ہی پیسے جمع کر لیں گے اور مرنے کے بعد دے دئیے جائیں گے۔؟ اور اب یہ کہ نماز اب نہیں پڑھتے تو پھر کبھی پڑھ لیں گے۔

تو پیاری بنتِ حوا یہ سوال یا سوچ ایک عقل والے کے ذہن میں کبھی نہیں آ سکتی۔ نماز وقت پر پڑھنا فرض ہے۔ کبھی کوئی ایسا سوچ نہیں سکتا کہ ایک بار ہی قضا عمری پڑھ لیں گے۔ ایک ایسا انسان جو ساری عمر غلط راستے پر چلتا رہا، اور اس نے نماز نہ پڑھی، اب اگر وہ عمر کے کسی حصے میں آ کر پڑھنا چاہتا ہے تو قضا عمری پڑھ سکتا ہے۔ اور جس نے نماز پڑھنی ہے وہ ہمیشہ وقت پر ہی پڑھے گا۔
 

ماوراء

محفلین
جہاں تک میرا خیال ہے کہ بدعت کہنے والوں نے بھی اور قضا عمری پڑھنے والوں نے بھی اپنا اپنا موقف بیان کر دیا ہے اب میرا نہیں خیال کہ اس پر مزید بات کرنے کی ضرورت ہے اب یہ ہم پڑھنے والوں پر بات چھوڑتے ہیں کہ وہ کس بات کو لیتے ہیں اور کسے چھوڑتے ہیں ہمارا مقصد بات پہنچا دینا ہے کسی سے بات منوانا نہیں۔۔۔امید ہے بات کو سب سمجھ جائیں گے انشا اللہ
ہمارا مقصد۔۔۔؟؟ سارا، میں کہنا تو نہیں چاہ رہی تھی۔ لیکن ایک بات بتاؤ کہ کیا تمھیں سو فیصد یقین ہے کہ تمھیں جو علم ہے وہ سو فیصد درست ہے؟ اور تم اس کو آگے پہنچا رہی ہو؟
میں بالکل یہ نہیں کہہ رہی کہ میرا فرقہ درست ہے۔
 

سارا

محفلین
ہمارا مقصد۔۔۔؟؟ سارا، میں کہنا تو نہیں چاہ رہی تھی۔ لیکن ایک بات بتاؤ کہ کیا تمھیں سو فیصد یقین ہے کہ تمھیں جو علم ہے وہ سو فیصد درست ہے؟ اور تم اس کو آگے پہنچا رہی ہو؟
میں بالکل یہ نہیں کہہ رہی کہ میرا فرقہ درست ہے۔


ماوراء یہاں جو میں نے ''ہمارا مقصد'' کہا ہے اس سے میری مراد ہم سب جو شروع سے لے کر آخر تک اس دھاگے میں اپنے اپنے خیالات کا اظہار کرتے رہے ہیں قرآن و حدیث یا اپنے خیالات لکھتے رہے ہیں وہ سب شامل ہیں(جنہوں نے اسے بدعت کہا یا جنہوں نے اسے صحیح کہا وہ سب)
اگر علم سے تمہاری مراد قضا عمری والے مسئلے کی بات ہے تو میں نے اس بارے میں سب کو پڑھا ہے(اسی دھاگے پر) اور علماء کرام کو بھی سنا ہے اور مجھے جو بات سہی لگی وہ یہی لگی کہ یہ بدعت ہے اسی لیے میں نے اس کا ذکر کرنا بہتر سمجھا جہاں تک سو فیصدی صحیح کی بات ہے تو اس کا علم تو میرا نہیں خیال کہ کسی کو ہو سکتا ہے قرآن اور صحیح حدیث پر عمل کرنے والے ہی سو فیصد درست ہو سکتے ہیں تو ہمیں یہ دیکھنا چاہیے کہ ہم جس پر عمل کر رہے ہیں وہ قرآن اور حدیث سے ثابت ہے یا نہیں۔۔۔
جہاں تک فرقے کی بات ہے تو میرا تعلق کسی فرقے سے نہیں ہے اور نہ ہی مقصد کسی فرقے کو غلط ثابت کرنا ہے مجھے جو بات جس کی صحیح لگتی ہے اس پر عمل کرتی ہوں جو غلط لگتی ہے اسے چھوڑ دیتی ہوں۔۔۔
 
بھائیو اور بہنو، صاحبو، نماز کی پابندی اور بروقت آدائیگی اپنی جگہ مسلم ہے۔ شمشاد بھائی کا اس آیت کی فراہمی کا شکریہ۔ آپ سب بہت اچھے خیالات پیش کررہے ہیں اور امید ہے کہ مزید بہتر معلومات حاصل ہونگی۔

آج تک میری نطر سے کوئی ایسی آیت نہیں گزری جو قضا عمری کے بارے میں‌ہو۔ جن ساڑھے تین احادیث کی کتب کا مطالعہ کیا ہے ان میں بھی ایسی کوئی حدیث ذہن میں نہیں آتی جو قضائے عمری کے بارے میں ہو۔ اگر ہے تو مجھے معاف کیجئے گا۔ اگر ہم ایک ایسا اصول وضع کر رہے ہیں کہ
---- بنیادی پانچ فرض عبادات کسی طور معاف نہیں ہو سکتے اور بندے کو ہر حال میں قضا نماز ادا کرنی ہے ورنہ ۔۔۔۔ ----
تو یہ اصول نہ صرف قرآن سے ثابت نہیں ہوتا بلکہ بڑی مشکلات پیدا کردیتا ہے۔ بہت ادب اور محبت سے عرض ہے کہ آپ مجھے اس منطقی نکتہ پر ارتکاز کرنے دیجئے کہ

اگر بنیادی اصول یہ ہے کہ ---- بنیادی پانچ فرض عبادات کسی طور معاف نہیں ہو سکتے اور بندے کو ہر حال میں قضا نمازیں پوری کرنی ہے ---- تو باقی فرائض‌ نے کیا قصور کیا ہے؟
تو صاحبو یہ اصول بہت ہی سخت اصول ہے اور اپنی تو بخشش نمازیں پوری کرکے بھی نہیں ہوگی ۔ اس اصول کی روشنی میں درج ذیل آیت کو دیکھئے۔ درج ذیل آیت "بر و تقوی" کی تعریف فراہم کرتی ہے۔

اس آیت میں آپ کو سب سے پہلے ملتا ہے "ایمان"، پھر" آتی المال علی حبہ"، پھر اقیمو الصلوۃ، پھر آتی الزکوۃ، پھر ایفائے عہد اور پھر صبر۔ دیکھئے

[AYAH]2:177[/AYAH] نیکی صرف یہی نہیں کہ تم اپنے منہ مشرق اور مغرب کی طرف پھیر لو بلکہ اصل نیکی تو یہ ہے کہ کوئی شخص اﷲ پر اور قیامت کے دن پر اور فرشتوں پر اور (اﷲ کی) کتاب پر اور پیغمبروں پر ایمان لائے، اور اﷲ کی محبت میں (اپنا) مال قرابت داروں پر اور یتیموں پر اور محتاجوں پر اور مسافروں پر اور مانگنے والوں پر اور (غلاموں کی) گردنوں (کو آزاد کرانے) میں خرچ کرے، اور نماز قائم کرے اور زکوٰۃ دے اور جب کوئی وعدہ کریں تو اپنا وعدہ پورا کرنے والے ہوں، اور سختی (تنگدستی) میں اور مصیبت (بیماری) میں اور جنگ کی شدّت (جہاد) کے وقت صبر کرنے والے ہوں، یہی لوگ سچے ہیں اور یہی پرہیزگار ہیں

ایمان ہم لے آئے، اب ایمان کے بعد اور نماز سے پہلے اللہ تعالی نے یہ شرط لگا دی ہے کہ :
اور اﷲ کی محبت میں (اپنا) مال
1۔ قرابت داروں پر
2۔ اور یتیموں پر
3۔ اور محتاجوں پر
4۔ اور مسافروں پر
5۔ اور مانگنے والوں پر
6۔ اور (غلاموں کی) گردنوں (کو آزاد کرانے) میں خرچ کرے،


صاحبو۔ ہم اپنا تعین کیا ہوا اصول اس "اتی المال علی حبہ" پر بھی اپلائی کرکے دیکھتے ہیں۔ کہ ہم بالغ ہوئے کمانے لگے اور اللہ کی محبت میں نمبر ایک سے نمبر 6 تک مال دینے لگے۔ اب اس میں نمبر 1 سے نمبر 5 والے حضرات تو روز ہی کھانا کھاتے ہیں۔ اب ہمیں --- اپنے وضع کئے ہوئے اصول کے مطابق ----- ہر روز تین وقت کم از کم 5 قسم کو لوگوں‌کو تو کھانا کھلانے کی حد تک تو مال دینا ہی چاہئے؟ اگر ایک دن کی چوک ہوگئی تو، اس متعین کئے اصول کے مطابق، اس دن کا فدیہ دینا ہی ہوگا۔ چونکہ یہ حکم نماز سے پہلے ہے اس لئے نماز سے پہلے آپ نے یہ کرنا ہی ہوگا۔ اور اگر ایک دن کا بھی رہ گیا تو سیدھے جہنم میں ؟ کیا ہمارا الرحمن الرحیم اتنا ہی ظالم ہے؟ جو لوگ نماز پر ، جو اس قدر اہم ہے، اتنا زور دیتے رہے - وہ نماز سے پہلے اور ایمان کے بعد والا حکم تو بھول ہی گئے؟ جی؟

آپ دیکھ رہے ہیں کہ سورۃ بقرہ کے گائے والوں کی طرح ہم جتنے سوال کریں گے، اپنے دین کو اتنا ہی سخت کرتے چلے جائیں، ہماری انتہا پسندی کا پیٹ نہیں‌بھرنا ہے۔ پھر اس کا حل کیا ہے؟

اس کا حل اللہ تعالی ہی فراہم کرتے ہیں کہ
1۔ وہ انتہائی عظیم ہے۔
2۔اس کے دین میں‌جبر و زبردستی نہیں ہے۔
اس کی عظمت کے لئے دیکھئے، ایک ایک لفظ ذرا غور کرکے پڑھئے کہ اس نے خود اپنی عظمت اس آیت میں کس طرح بیان کی ہے:
[AYAH]2:255[/AYAH] اﷲ، اس کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں، ہمیشہ زندہ رہنے والا ہے (سارے عالم کو اپنی تدبیر سے) قائم رکھنے والا ہے، نہ اس کو اُونگھ آتی ہے اور نہ نیند جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے سب اسی کا ہے، کون ایسا شخص ہے جو اس کے حضور اس کے اِذن کے بغیر سفارش کر سکے، جو کچھ مخلوقات کے سامنے (ہو رہا ہے یا ہو چکا) ہے اور جو کچھ ان کے بعد (ہونے والا) ہے (وہ) سب جانتا ہے، اور وہ اس کی معلومات میں سے کسی چیز کا بھی احاطہ نہیں کر سکتے مگر جس قدر وہ چاہے، اس کی کرسیء (سلطنت و قدرت) تمام آسمانوں اور زمین کو محیط ہے، اور اس پر ان دونوں (یعنی زمین و آسمان) کی حفاظت ہرگز دشوار نہیں، وہی سب سے بلند رتبہ بڑی عظمت والا ہے

اپنی عظمت و شان و شوکت کا یہ بیان کرنے کے بعداللہ بزرگ برتر فرماتے ہیں کہ دین میں‌ کوئی جبر و زبردستی نہیں :
[AYAH]2:256 [/AYAH] دین میں کوئی زبردستی نہیں، بیشک ہدایت گمراہی سے واضح طور پر ممتاز ہو چکی ہے، سو جو کوئی معبودانِ باطلہ کا انکار کر دے اور اﷲ پر ایمان لے آئے تو اس نے ایک ایسا مضبوط حلقہ تھام لیا جس کے لئے ٹوٹنا (ممکن) نہیں، اور اﷲ خوب سننے والا جاننے والا ہے

ایک مشہور عالم ہیں، اپنے ایک مضمون میں ایک دوسرے موضوع پر لکھتے ہیں کہ ---- دین کا راستہ نرمی اور سختی کے بیچ کا راستہ ہے ---- تو ہم کو چاہئیے کہ اس میانہ روی کے راستے کو تلاش کریں۔ اللہ تعالی تو ہمیں دین میں جبر و زبردستی نہ ہونے کے اصول پہلے ہی سکھا چکا ہے۔ جو بھی عبادت ہے آپ کے اور اس ذات باری تعالی کے درمیان ہے۔ اپنی طرف سے بہترین کاوش و عبادت کیجئے، جو کمی رہ جائے یا غلطی ہو جائے تو اسی بزرگ و برتر سے توبہ کیجئے، وہ ذات کریم بے نیاز ہے اور توبہ کو قبول کرنے والا ہے۔ اور اس کے حضور کسی کی سفارش نہیں کام آتی۔

والسلام۔
 

faqintel

محفلین
041. Fushshilat
33
. and who is better In speech than He who [says: "My Lord is Allâh (believes In his Oneness)," and Then stands Straight (acts upon his Order), and] invites (men) to Allâh's (Islâmic Monotheism), and does righteous deeds, and says: "I am one of the Muslims."
( ٣٣ )
ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﺳﮯ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﺍﭼﮭﯽ ﺑﺎﺕ ﻭﺍﻻ ﻛﻮﻥ ﮨﮯ ﺟﻮاللھ ﻛﯽ ﻃﺮﻑ ﺑﻼﺋﮯ ﺍﻭﺭ ﻧﯿﻚ ﰷﻡ ﻛﺮﮮ ﺍﻭﺭ ﻛﮩﮯ ﻛﮧ ﻣﯿﮟ ﯾﻘﯿﻨﺎ ﹰﻣﺴﻠﻤﺎﻧﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺳﮯ ﮨﻮﮞ۔

میرےاسلامی بھایو اور بھنوں اللہ کے دین میں پھوٹ مت ڈالو اور فرکوں میں مت بٹو
رہی میری بات تو میں اپنے اپ کو صرف مسلمان ہی کہتا ہوں سنی یا وحابی نہی
 

بنتِ حوا

محفلین
یہاں میں ایک بات کہنا چاہوں گی۔۔۔کہ جیسا کہ آپ نے کہا کہ چلو کوئی بات نہیں آخر وقت میں نماز پڑھ لیں گے۔۔۔تو یہ عبادت کے ساتھ مذاق ہے۔۔۔بڑھاپے میں بھی قضا عمری ایک دو دن میں ادا نہیں ہوگی۔۔۔تب بھی کئی سالوں کی نمازیں ہی ادا کرنا ہوں گی۔۔اس لیے آج جو اس نیت کے ساتھ نمازیں چھوڑ رہے ہیں۔۔۔اللہ تعالیٰ کو کل خود جواب دہ ہوں گے۔۔۔اب جبکہ ان کو ہدایت بھی ملی۔۔اور نماز نہ پڑھنے کی سزا کا بھی پتہ چل گیا۔


اب تو جو میں نے پڑھا،سمجھا،دیکھا اور جانا۔۔۔۔صاف نظر آیا یہاں دو الگ الگ فرقوں سے تعلق رکھنے والے لوگ موجود ہیں۔ رویوں میں لچک کسی جگہ بھی نہیں ہے۔۔۔جسے پڑھ کر دل اور دکھتا ہے۔ میں اب بھی جواب نہ لکھتی۔۔لیکن ایک ہی بات کی تکرار۔۔ جان بوجھ کر نماز چھوڑی۔۔۔پلیزز آپ سب تھوڑا سا رحم کریں۔۔۔اگر یہ توجیع پیش کرتے ہیں کہ فرض نماز کے ساتھ قضا نماز سے لوگ ڈر جائیں گے۔۔اور فرض نماز بھی چھوڑ جائیں گے۔۔۔تو اس بات پر غور کریں۔
ہم نوافل کیوں پڑھتے ہیں۔۔؟ اللہ تعالیٰ کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے۔ ہیں نا؟؟؟ تو اگر اسی وقت میں چار فرض قضا نماز قضا بھی پڑھ لیں گے تو کیا اللہ تعالیٰ گناہ دیں گے۔۔؟؟؟ :(
ایک بات صاف۔۔۔اب جب کہ نماز کی اہمیت واضع ہوگئی۔۔اور اب میں کوئی نماز چھوڑوں گی۔۔اس امید پر کہ کل پرسوں قضا ادا کرلوں گی تو یہ عمل سراسر اللہ تعالیٰ کی حکم عدولی ہوگا۔۔بلکہ میں اسے ایک طرح سے سرکشی کہوں گی۔
توبہ استغفار اپنی جگہ۔۔۔اس میں کوئی شک نہیں کہ اللہ تعالیٰ بخشنے والا نہایت مہربان ہے۔۔۔لیکن جب ہر جرم کی سزا موجود ہے۔۔۔جان کے بدلے جان۔۔۔ہاتھ کے بدلے ہاتھ۔۔تو پھر نماز کے بدلے نماز۔
جو نہیں پڑھنا چاہتے۔۔وہ توبہ کرتے رہیں۔۔۔جو پڑھنا چاہتے ہیں بغیر ڈرے پڑھتے رہیں۔
پیارے اللہ تعالیٰ میں نے اپنی دانست میں سیدھا راستہ چنا ہے۔۔۔۔اس یقین کے ساتھ کہ آپ میری خطائیں بخش دیں گے۔

قضا عمری نماز کے بارے میں سننے کے بعد زیادہ لوگوں کی سوج یہی ہوتی ہے جو میں نے لکھا ہے یہ میں کسی سے سنی سنائی بات نہیں کر رہی میں نے خود لوگوں کو یہ کہتے سنا ہے اور آخر وقت میں قضا نمازیں پڑھتا دیکھا ہے(سب نہیں لیکن اکثریت ) آپ نے بات کی کہ بڑھاپے میں بھی قضا عمری نماز ایک دو دن میں ادا نہیں ہو گی تو شاید آپ کو معلوم نہیں آپ قضا عمری نماز کے بارے میں تفسیل میں جائیں تو ایسے طریقے بھی لوگوں نے نکالے ہوئے ہیں جن میں ایک قضا عمری نماز پڑھنے سے ان کی پچھلی زندگی کی نمازیں معاف ہو جاتی ہین وہ شاید سال میں ایک دفعہ پڑھتے ہیں یا کچھ ایسا ہی طریقہ ہے اپ کسی اور سے اس کی تفصیل پوچھ سکتی ہیں اسی جگہ پیچھے ایک رضا بھائی نے بھی اس نماز کو شارٹ کرنے کے بارے میں بتایا تھا کہ ایسے تیسریی اور چھوتھی رکعت میں سورہ فاتحہ کو چھوڑ کر کچھ مختسر زکر بتایا تھا
آپ نے کہا کہ رویوں میں لچک نہین ہے تو یہ بات آپ نے با لکل سہی کہی ہے ہم مسلمانوں کی اکثریت نے اپنا اپنا ایک فرقہ پکڑا ہوا ہے اور وہ اسی کو فالو کرتا ہے اگر کوئی کسی سے سہی بات بھی سنے گا تو عمل نہیں کرے گا بلکہ پہلے اپنے فرقے کے علما سے پوچھے گا پھر جو وہ اسے کہیں گے وہی کرے گا
ایک طرف آپ کہہ رہی ہیں کہ اللہ بخشنے والا مہربان ہے دوسری طرف سزا تجویز کر رہی ہیں جان کے بدلے جان، ہاتھ کے بدلے ہاتھ جتنا ہمارے نبی ص نے ہمیں بتایا بس اتنا ہی اس کے آگے ہم ایک لفظ کا بھی اضافہ نہیں کر سکتے اضافے کو ہی تو بدعت کہتے ہیں
آپ کو صحیح لگا نماز کو قضا ادا کرنے والا مسئلہ تھیک ہے آپ عمل کریں اللہ آپ کے اعمال کو قبول کریں اور ہم سب کو ایک اس بات پر متفق کر دے جو ان دونوں میں سے صحیح ہے آمین،
 

بنتِ حوا

محفلین
آپ نے فدیہ کے بارے میں ایسا ہی کچھ کہا کہ اگر اس کی اجازت ہے تو ہم زندگی میں ہی پیسے جمع کر لیں گے اور مرنے کے بعد دے دئیے جائیں گے۔؟ اور اب یہ کہ نماز اب نہیں پڑھتے تو پھر کبھی پڑھ لیں گے۔

تو پیاری بنتِ حوا یہ سوال یا سوچ ایک عقل والے کے ذہن میں کبھی نہیں آ سکتی۔ نماز وقت پر پڑھنا فرض ہے۔ کبھی کوئی ایسا سوچ نہیں سکتا کہ ایک بار ہی قضا عمری پڑھ لیں گے۔ ایک ایسا انسان جو ساری عمر غلط راستے پر چلتا رہا، اور اس نے نماز نہ پڑھی، اب اگر وہ عمر کے کسی حصے میں آ کر پڑھنا چاہتا ہے تو قضا عمری پڑھ سکتا ہے۔ اور جس نے نماز پڑھنی ہے وہ ہمیشہ وقت پر ہی پڑھے گا۔
ہمارے نبی ص نے ہمیں حکم دیا کہ وقت پر نماز پڑھنا فرض ہے ٹھیک۔اور اگر کسی مجبوری کی باعث نہ پڑھ سکو تو بعد میں قضا پڑھ لو یہ بھی ٹھیک۔ اب لوگوں نے آگے اسے مہینوں سالوں کی نمازیں پڑھنا بھی سہی قرار دیا ،ذرا اور آگے چلیں تو مرنے کے بعد فدیہ بھی مقرر کر دیا لیکن کسی نے یہ نہیں بتایا کہ یہ اس سب کا حکم کس نے دیا اگر ایسا ہی ہوتا رہا تو جو میں نے کہا ہے لوگ اسی طرح اضافہ کر تے کرتے یہ سب بھی کرنے لگیں گے
 

بنتِ حوا

محفلین
جہاں تک میرا خیال ہے کہ بدعت کہنے والوں نے بھی اور قضا عمری پڑھنے والوں نے بھی اپنا اپنا موقف بیان کر دیا ہے اب میرا نہیں خیال کہ اس پر مزید بات کرنے کی ضرورت ہے اب یہ ہم پڑھنے والوں پر بات چھوڑتے ہیں کہ وہ کس بات کو لیتے ہیں اور کسے چھوڑتے ہیں ہمارا مقصد بات پہنچا دینا ہے کسی سے بات منوانا نہیں۔۔۔امید ہے بات کو سب سمجھ جائیں گے انشا اللہ

جی میرا بھی یہی خیال ہے ،ہمارے ہاں ایک کہاوت کہی جاتی ہے کہ پانی میں مدانی چلانے کا کوئی فائدہ نہیں ہے گنٹوں چلانے پر بھی کچھ حاصل نہیں ہو گا،سب نے اپنا موقف کہہ دیا ہے اب فیصلہ دوسروں پر چھوڑتے ہیں جسے قضا عمری صحیح لگتی ہے وہ پڑھے جسے بدعت لگتی ہے وہ چھوڑ دے
 

بنتِ حوا

محفلین
بھائیو اور بہنو، صاحبو، نماز کی پابندی اور بروقت آدائیگی اپنی جگہ مسلم ہے۔ شمشاد بھائی کا اس آیت کی فراہمی کا شکریہ۔ آپ سب بہت اچھے خیالات پیش کررہے ہیں اور امید ہے کہ مزید بہتر معلومات حاصل ہونگی۔

آج تک میری نطر سے کوئی ایسی آیت نہیں گزری جو قضا عمری کے بارے میں‌ہو۔ جن ساڑھے تین احادیث کی کتب کا مطالعہ کیا ہے ان میں بھی ایسی کوئی حدیث ذہن میں نہیں آتی جو قضائے عمری کے بارے میں ہو۔ اگر ہے تو مجھے معاف کیجئے گا۔ اگر ہم ایک ایسا اصول وضع کر رہے ہیں کہ
---- بنیادی پانچ فرض عبادات کسی طور معاف نہیں ہو سکتے اور بندے کو ہر حال میں قضا نماز ادا کرنی ہے ورنہ ۔۔۔۔ ----
تو یہ اصول نہ صرف قرآن سے ثابت نہیں ہوتا بلکہ بڑی مشکلات پیدا کردیتا ہے۔ بہت ادب اور محبت سے عرض ہے کہ آپ مجھے اس منطقی نکتہ پر ارتکاز کرنے دیجئے کہ

اگر بنیادی اصول یہ ہے کہ ---- بنیادی پانچ فرض عبادات کسی طور معاف نہیں ہو سکتے اور بندے کو ہر حال میں قضا نمازیں پوری کرنی ہے ---- تو باقی فرائض‌ نے کیا قصور کیا ہے؟
تو صاحبو یہ اصول بہت ہی سخت اصول ہے اور اپنی تو بخشش نمازیں پوری کرکے بھی نہیں ہوگی ۔ اس اصول کی روشنی میں درج ذیل آیت کو دیکھئے۔ درج ذیل آیت "بر و تقوی" کی تعریف فراہم کرتی ہے۔

اس آیت میں آپ کو سب سے پہلے ملتا ہے "ایمان"، پھر" آتی المال علی حبہ"، پھر اقیمو الصلوۃ، پھر آتی الزکوۃ، پھر ایفائے عہد اور پھر صبر۔ دیکھئے

[AYAH]2:177[/AYAH] نیکی صرف یہی نہیں کہ تم اپنے منہ مشرق اور مغرب کی طرف پھیر لو بلکہ اصل نیکی تو یہ ہے کہ کوئی شخص اﷲ پر اور قیامت کے دن پر اور فرشتوں پر اور (اﷲ کی) کتاب پر اور پیغمبروں پر ایمان لائے، اور اﷲ کی محبت میں (اپنا) مال قرابت داروں پر اور یتیموں پر اور محتاجوں پر اور مسافروں پر اور مانگنے والوں پر اور (غلاموں کی) گردنوں (کو آزاد کرانے) میں خرچ کرے، اور نماز قائم کرے اور زکوٰۃ دے اور جب کوئی وعدہ کریں تو اپنا وعدہ پورا کرنے والے ہوں، اور سختی (تنگدستی) میں اور مصیبت (بیماری) میں اور جنگ کی شدّت (جہاد) کے وقت صبر کرنے والے ہوں، یہی لوگ سچے ہیں اور یہی پرہیزگار ہیں

ایمان ہم لے آئے، اب ایمان کے بعد اور نماز سے پہلے اللہ تعالی نے یہ شرط لگا دی ہے کہ :
اور اﷲ کی محبت میں (اپنا) مال
1۔ قرابت داروں پر
2۔ اور یتیموں پر
3۔ اور محتاجوں پر
4۔ اور مسافروں پر
5۔ اور مانگنے والوں پر
6۔ اور (غلاموں کی) گردنوں (کو آزاد کرانے) میں خرچ کرے،


صاحبو۔ ہم اپنا تعین کیا ہوا اصول اس "اتی المال علی حبہ" پر بھی اپلائی کرکے دیکھتے ہیں۔ کہ ہم بالغ ہوئے کمانے لگے اور اللہ کی محبت میں نمبر ایک سے نمبر 6 تک مال دینے لگے۔ اب اس میں نمبر 1 سے نمبر 5 والے حضرات تو روز ہی کھانا کھاتے ہیں۔ اب ہمیں --- اپنے وضع کئے ہوئے اصول کے مطابق ----- ہر روز تین وقت کم از کم 5 قسم کو لوگوں‌کو تو کھانا کھلانے کی حد تک تو مال دینا ہی چاہئے؟ اگر ایک دن کی چوک ہوگئی تو، اس متعین کئے اصول کے مطابق، اس دن کا فدیہ دینا ہی ہوگا۔ چونکہ یہ حکم نماز سے پہلے ہے اس لئے نماز سے پہلے آپ نے یہ کرنا ہی ہوگا۔ اور اگر ایک دن کا بھی رہ گیا تو سیدھے جہنم میں ؟ کیا ہمارا الرحمن الرحیم اتنا ہی ظالم ہے؟ جو لوگ نماز پر ، جو اس قدر اہم ہے، اتنا زور دیتے رہے - وہ نماز سے پہلے اور ایمان کے بعد والا حکم تو بھول ہی گئے؟ جی؟

آپ دیکھ رہے ہیں کہ سورۃ بقرہ کے گائے والوں کی طرح ہم جتنے سوال کریں گے، اپنے دین کو اتنا ہی سخت کرتے چلے جائیں، ہماری انتہا پسندی کا پیٹ نہیں‌بھرنا ہے۔ پھر اس کا حل کیا ہے؟

اس کا حل اللہ تعالی ہی فراہم کرتے ہیں کہ
1۔ وہ انتہائی عظیم ہے۔
2۔اس کے دین میں‌جبر و زبردستی نہیں ہے۔
اس کی عظمت کے لئے دیکھئے، ایک ایک لفظ ذرا غور کرکے پڑھئے کہ اس نے خود اپنی عظمت اس آیت میں کس طرح بیان کی ہے:
[AYAH]2:255[/AYAH] اﷲ، اس کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں، ہمیشہ زندہ رہنے والا ہے (سارے عالم کو اپنی تدبیر سے) قائم رکھنے والا ہے، نہ اس کو اُونگھ آتی ہے اور نہ نیند جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے سب اسی کا ہے، کون ایسا شخص ہے جو اس کے حضور اس کے اِذن کے بغیر سفارش کر سکے، جو کچھ مخلوقات کے سامنے (ہو رہا ہے یا ہو چکا) ہے اور جو کچھ ان کے بعد (ہونے والا) ہے (وہ) سب جانتا ہے، اور وہ اس کی معلومات میں سے کسی چیز کا بھی احاطہ نہیں کر سکتے مگر جس قدر وہ چاہے، اس کی کرسیء (سلطنت و قدرت) تمام آسمانوں اور زمین کو محیط ہے، اور اس پر ان دونوں (یعنی زمین و آسمان) کی حفاظت ہرگز دشوار نہیں، وہی سب سے بلند رتبہ بڑی عظمت والا ہے

اپنی عظمت و شان و شوکت کا یہ بیان کرنے کے بعداللہ بزرگ برتر فرماتے ہیں کہ دین میں‌ کوئی جبر و زبردستی نہیں :
[AYAH]2:256 [/AYAH] دین میں کوئی زبردستی نہیں، بیشک ہدایت گمراہی سے واضح طور پر ممتاز ہو چکی ہے، سو جو کوئی معبودانِ باطلہ کا انکار کر دے اور اﷲ پر ایمان لے آئے تو اس نے ایک ایسا مضبوط حلقہ تھام لیا جس کے لئے ٹوٹنا (ممکن) نہیں، اور اﷲ خوب سننے والا جاننے والا ہے

ایک مشہور عالم ہیں، اپنے ایک مضمون میں ایک دوسرے موضوع پر لکھتے ہیں کہ ---- دین کا راستہ نرمی اور سختی کے بیچ کا راستہ ہے ---- تو ہم کو چاہئیے کہ اس میانہ روی کے راستے کو تلاش کریں۔ اللہ تعالی تو ہمیں دین میں جبر و زبردستی نہ ہونے کے اصول پہلے ہی سکھا چکا ہے۔ جو بھی عبادت ہے آپ کے اور اس ذات باری تعالی کے درمیان ہے۔ اپنی طرف سے بہترین کاوش و عبادت کیجئے، جو کمی رہ جائے یا غلطی ہو جائے تو اسی بزرگ و برتر سے توبہ کیجئے، وہ ذات کریم بے نیاز ہے اور توبہ کو قبول کرنے والا ہے۔ اور اس کے حضور کسی کی سفارش نہیں کام آتی۔

والسلام۔

ماشا اللہ بہت اچھے طریقے سے ساری بات کو بیان کیا ہے میری اللہ سے دعا ہے کہ اللہ مجھے بھی اتنے اچھے طریقے سے اپنی بات کو آگے پہنچانے کی توفیق دے آمین
 

faqintel

محفلین
زینب ایک قضا نماز کا فدیہ کیا ہو گا۔۔۔۔۔۔؟

زینب ایک قضا نماز کا فدیہ کیا ہو گا۔۔۔۔۔۔؟
میں اس کے اپر تحکیک کر کے جواب دوں گا
 

قسیم حیدر

محفلین
میری واپسی تک ساری باتیں تو ہو چکی ہیں ماشاءاللہ۔ مزید لکھنے کی ضرورت نہیں البتہ کچھ نکات پیش کرنے کی کوشش کرتا ہوں۔
 

faqintel

محفلین
مذید ڈھونڈ رھا ہوں

میرے پاس ابھی تک کوئ صحیح حدیث نہیں مل سکی جس میں قضا نماز کا فدیہ اداء کرنے کا حکم ہو
مذید یہ کہ جہاں پر بہی مجکوفدیہ نظرایا رمضان کے ساتھ ایا
مذید ڈھونڈ رھا ہوں
 
کیفیت
مزید جوابات کے لیے دستیاب نہیں
Top