قرنطینہ

زیک نے 'ادبیات و لسانیات' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏اپریل 13, 2020

  1. سید عاطف علی

    سید عاطف علی لائبریرین

    مراسلے:
    10,626
    جھنڈا:
    SaudiArabia
    موڈ:
    Cheerful
    دلچسپ!!!
    مندرجہ بالا عکس سے ظاہر ہوا کہ اس فرہنگ میں لفظ "لغت" (بمعنی ڈکشنری) کو مذکر استعمال کیا گیا ہے ۔ جبکہ یہ میری رائے میں تو یہ (اب) بالاتفاق مؤنث ہی استعمال ہوتا ہے ۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
    • دوستانہ دوستانہ × 1
  2. عمار نقوی

    عمار نقوی محفلین

    مراسلے:
    352
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Bookworm
    جی محترم سید عاطف علی صاحب قرنطین بھی استعمال ہوتا ہے اور قرنطینه بھی درج ذیل لنک میں " قرنطینه ہے:
    قرنطینه - ویکی‌پدیا، دانشنامهٔ آزاد
     
    • دوستانہ دوستانہ × 2
  3. سید عاطف علی

    سید عاطف علی لائبریرین

    مراسلے:
    10,626
    جھنڈا:
    SaudiArabia
    موڈ:
    Cheerful
    جی ہاں عمار بھائی ۔ بہت سی اخبار میں یہ بھی مذکور ہے، وہ بھی کثرت سے ۔
     
    • متفق متفق × 2
  4. سیما علی

    سیما علی لائبریرین

    مراسلے:
    9,670
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cool
    بہت بہترین افسانہ ہے ۔۔۔
     
    • متفق متفق × 1
  5. ظہیراحمدظہیر

    ظہیراحمدظہیر محفلین

    مراسلے:
    3,488
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Busy
    دلچسپ بالکل ٹھیک کہا آپ نے عاطف بھائی ۔لغت بمعنی ڈکشنری کو ہم سب مؤنث استعمال کرتے ہیں تو یہ غلط العوام ہے ۔ لغت بمعنی زبان اور بمعنی فرہنگ ہمیشہ مذکر ہی رہا ہے ۔ اردو کی ہر قدیم و جدید لغت میں مذکر ہی مندرج ہے ۔ اب تک ثقہ مصنفین اسے مذکر ہی لکھتے آئے ہیں ۔ مولوی عبدالحق ، شمس الرحمٰن فاروقی اور گوپی چند نارنگ وغیرہ نے اسے مذکر ہی لکھا ہے ۔ یہ مؤنث کی بدعت شایدپچھلی چار پانچ دہائیوں میں پیدا ہوئی ہے اور میرا ذاتی خیال یہ ہے کہ اس کی وجہ انگریزی لفظ "ڈکشنری" ہے ۔ڈکشنری کا لفظ چونکہ زیادہ معروف ہے اور اپنے آخر میں موجود "ی" کی وجہ سے مؤنث مانا جاتا ہے ۔ سو عام رواج کے مطابق اس کا اردو ترجمہ "لغت" بھی مؤنث بولا جانے لگا ہے ۔ :)
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 3
    • معلوماتی معلوماتی × 2
    • متفق متفق × 1

اس صفحے کی تشہیر