عرفان صدیقی غزل ۔ ذہن ہو تنگ تو پھر شوخیِ افکار نہ رکھ ۔ عرفان صدیقی

محمداحمد نے 'پسندیدہ کلام' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏اکتوبر 13, 2012

  1. محمداحمد

    محمداحمد لائبریرین

    مراسلے:
    22,240
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Amazed
    غزل
    ذہن ہو تنگ تو پھر شوخیِ افکار نہ رکھ
    بند تہہ خانوں میں یہ دولتِ بیدار نہ رکھ
    زخم کھانا ہی جو ٹھہرا تو بدن تیرا ہے
    خوف کا نام مگر لذتِ آزار نہ رکھ
    ایک ہی چیز کو رہنا ہے سلامت، پیارے
    اب جو سر شانوں پہ رکھا ہے تو دیوار نہ رکھ
    خواہشیں توڑ نہ ڈالیں ترے سینے کا قفس
    اتنے شہ زور پرندوں کو گرفتار نہ رکھ
    اب میں چپ ہوں تو مجھے اپنی دلیلوں سے نہ کاٹ
    میری ٹوٹی ہوئی تلوار پہ تلوار نہ رکھ
    آج سے دل بھی ترے حال میں ہوتا ہے شریک
    لے، یہ حسرت بھی مری چشمِ گنہگار میں رکھ
    وقت پھر جانے کہاں اس سے ملا دے تجھ کو
    اس قدر ترکِ ملاقات کا پندار نہ رکھ
    عرفان صدیقی
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 4
    • زبردست زبردست × 1
  2. قرۃالعین اعوان

    قرۃالعین اعوان محفلین

    مراسلے:
    8,651
    موڈ:
    Lurking
    خواہشیں توڑ نہ ڈالیں ترے سینے کا قفس
    اتنے شہ زور پرندوں کو گرفتار نہ رکھ
    واہ!
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  3. محمد بلال اعظم

    محمد بلال اعظم لائبریرین

    مراسلے:
    10,220
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Angelic
    وقت پھر جانے کہاں اس سے ملا دے تجھ کو
    اس قدر ترکِ ملاقات کا پندار نہ رکھ
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  4. لاریب مرزا

    لاریب مرزا محفلین

    مراسلے:
    5,648
    واہ!! خوبصورت انتخاب!!

    احمد بھائی!! یہاں ٹائپو ہے شاید، ایک بار دیکھ لیجیے۔ :)
     

اس صفحے کی تشہیر