جمال احسانی غزل ۔ بہت دنوں سے دکھائی نہیں دیا وہ شخص ۔ جمالؔ احسانی

محمداحمد

لائبریرین
غزل​
​
بہت دنوں سے دکھائی نہیں دیا وہ شخص​
یہ تجھ سے پوچھتے ہوں گے تری گلی والے​
​
بس ایک حرفِ متانت سے جل کے راکھ ہوئے​
وہ میرے یار مِرے قہقہوں کے متوالے​
​
اگر وہ جان کے درپے ہیں اب تو کیا شکوہ​
وہ لوگ تھے بھی بہت میرے چاہنے والے​
​
مقدروں کی لکیروں سے مات کھا ہی گئے​
ہم ایک دوسرے کا ہاتھ چومنے والے​
​
اُسی مقام پہ کل مجھ کو دیکھ کر تنہا​
بہت اُداس ہوئے پھول بیچنے والے​
​
جمالؔ احسانی​
 

فاتح

لائبریرین
مقدروں کی لکیروں سے مات کھا ہی گئے​
ہم ایک دوسرے کا ہاتھ چومنے والے​
واہ کیا کہنے​
 
محفل فورم صرف مطالعے کے لیے دستیاب ہے۔
Top