غزل ۔ اُس کے نزدیک غمِ ترکِ وفا کچھ بھی نہیں ۔ اختر شمار

محمداحمد نے 'پسندیدہ کلام' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏اکتوبر 29, 2008

  1. محمداحمد

    محمداحمد لائبریرین

    مراسلے:
    21,404
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Depressed
    غزل

    اُس کے نزدیک غمِ ترکِ وفا کچھ بھی نہیں
    مطمئن ایسا ہے وہ جیسے کہ ہوا کچھ بھی نہیں

    اب تو ہاتھوں سے لکیریں بھی مٹی جاتی ہیں
    اُس کو کھو کر تو میرے پاس رہا کچھ بھی نہیں

    کل بچھڑنا ہے تو پھر عہدِ وفا سوچ کے باندھ
    ابھی آغازِ محبت ہے گیا کچھ بھی نہیں

    میں تو اس واسطے چپ ہوں کہ تماشہ نہ بنے
    تو سمجھتا ہے مجھے تجھ سے گلہ کچھ بھی نہیں

    اے شمار آنکھیں اسی طرح بچھائے رکھنا
    جانے کس وقت وہ آجائے پتہ کچھ بھی نہیں

    اختر شمار
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 7
    • زبردست زبردست × 1
    • دوستانہ دوستانہ × 1
  2. زینب

    زینب محفلین

    مراسلے:
    11,211
    میں تو اس واسطے چپ ہوں کہ تماشہ نہ بنے
    تو سمجھتا ہے مجھے تجھ سے گلہ کچھ بھی نہیں


    شاندار
     
  3. محمداحمد

    محمداحمد لائبریرین

    مراسلے:
    21,404
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Depressed
    زینب, محمد وارث, ملائکہ

    انتخاب کی پسندیدگی کا بے حد شکریہ!
     
  4. محمد مطہر نصیر

    محمد مطہر نصیر محفلین

    مراسلے:
    2
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cool
    جواب نہیں۔ نہایت اعلیٰ انتخاب ہے۔
     
  5. نیرنگ خیال

    نیرنگ خیال لائبریرین

    مراسلے:
    17,638
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Dunce
    بہت اعلی انتخاب۔۔۔ کیا کہنے۔۔۔
     
    • دوستانہ دوستانہ × 1
  6. محمداحمد

    محمداحمد لائبریرین

    مراسلے:
    21,404
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Depressed
    آداب عرض ہے۔
     
    • دوستانہ دوستانہ × 1

اس صفحے کی تشہیر