نظر لکھنوی غزل: یہ بسمل خستہ دل آتش بجاں تیرا ہے یا میرا٭ نظرؔ لکھنوی

یہ بسمل خستہ دل آتش بجاں تیرا ہے یا میرا
مسلماں خاکداں میں میہماں تیرا ہے یا میرا

بجا ہے شک ترا یا رب مرے اخلاصِ طاعت پر
قصور و حور کا لیکن بیاں تیرا ہے یا میرا

علوم و آگہی میری ہے گرچہ فتنہ زا لیکن
یہ کارِ کشفِ اسرارِ جہاں تیرا ہے یا میرا

نگاہ و دل کی لغزش پر سزاوارِ سزا ہوں میں
مگر یہ فتنۂ حسنِ بتاں تیرا ہے یا میرا

ستم کش آہ کش بندے نظرؔ آتے ہیں گر تیرے
تو ہی بتلا دے مجھ کو آسماں تیرا ہے یا میرا

محمد عبد الحمید صدیقی نظر لکھنوی​
 

ظہیراحمدظہیر

لائبریرین


بجا ہے شک ترا یا رب مرے اخلاصِ طاعت پر
قصور و حور کا لیکن بیاں تیرا ہے یا میرا

محمد عبد الحمید صدیقی نظر لکھنوی​
بہت خوب! کیا اچھی غزل ہے !
بس دوسرے شعر پر مجھے تردد ہے ۔نمعلوم نظر لکھنوی جیسے دیدہ ور شاعر نے ایسی بات کیونکر لکھ دی ۔اللہ تعالیٰ تو دلوں کا حال بخوبی جانتا ہے۔ وہ العلیم الخبیر ہے ۔ چنانچہ اس کے لئے شک کا لفظ استعمال کرنا بالکل درست نہیں ۔ اس طرح کا اسلوب کسی شخص مثلاً واعظ کے لئے استعمال کرنا تو ٹھیک ہے لیکن ایسی بات اللہ تعالیٰ کے لئے میری نظر سے پہلے کبھی نہیں گزری ۔
محمد تابش صدیقی صاحب یہ بات مجھے ٹھیک نہیں لگی اس لئے رہا نہ گیا اور میں نے یہ سطور لکھ دیں ۔ امید ہے ناگوار نہیں گزرے گا ۔
 
بہت خوب! کیا اچھی غزل ہے !
بس دوسرے شعر پر مجھے تردد ہے ۔نمعلوم نظر لکھنوی جیسے دیدہ ور شاعر نے ایسی بات کیونکر لکھ دی ۔اللہ تعالیٰ تو دلوں کا حال بخوبی جانتا ہے۔ وہ العلیم الخبیر ہے ۔ چنانچہ اس کے لئے شک کا لفظ استعمال کرنا بالکل درست نہیں ۔ اس طرح کا اسلوب کسی شخص مثلاً واعظ کے لئے استعمال کرنا تو ٹھیک ہے لیکن ایسی بات اللہ تعالیٰ کے لئے میری نظر سے پہلے کبھی نہیں گزری ۔
محمد تابش صدیقی صاحب یہ بات مجھے ٹھیک نہیں لگی اس لئے رہا نہ گیا اور میں نے یہ سطور لکھ دیں ۔ امید ہے ناگوار نہیں گزرے گا ۔
پسندیدگی کا ممنون ہوں۔
باقی ناگوار گزرنے والی بات تو آپ نے کوئی کی ہی نہیں۔ اور اس معاملے میں میں بھی یہی کہوں گا کہ نا معلوم انہوں نے کیونکراورکس کیفیت میں لکھ دی۔ ان شاء اللہ والد صاحب سے اس حوالے سے تذکرہ کروں گا۔ توجہ کے لئے مشکور ہوں۔ جزاک اللہ
 
Top