غزل: وہی صبح ہے، وہی شام ہے ٭ محمد تابش صدیقی

ہماری داد سے شاید آپ کو اتنا حوصلہ نہ ملے۔ پھر بھی بہت سی داد
بہت شکریہ۔ آپ کی داد بھی بہت اہم ہے۔ ہر داد کی اہمیت اپنی جگہ ہے۔ :)
اساتذہ اور مستند شعراء کی داد اس لحاظ سے زیادہ اہمیت حاصل کر جاتی ہے کہ آپ کو اپنے لکھے پر اعتماد حاصل ہو جاتا ہے۔ خاص طور پر یہاں اردو محفل میں، جہاں داد کے نام پر منافقت نہ ہونے کے برابر ہے۔ :)
 

ظہیراحمدظہیر

لائبریرین
اس کی قصوروار بھی اردو محفل ہی ہے۔ :)
دلچسپ بات یہ ہے کہ ابو نے بھی کسی زمانے میں چار چھ غزلیں لکھی ہیں، جو کہ اب تک ہماری نظروں سے چھپی ہوئی ہیں۔ :)
بہت مزا آئے اگر وہ کسی صورت ہاتھ لگ جائیں تو!
اور پھر میں ان پرتحقیق کرکے ’’تین نسلیں اور تین غزلیں‘‘ کے عنوان سے پی ایچ ڈی مقالہ لکھ ڈالوں گا ۔ :):):)
 
وہی صبح ہے، وہی شام ہے
وہی گردشوں کو دوام ہے

نہ چھپا سکا میں غمِ دروں
کہ مرا ہنر ابھی خام ہے

کبھی دُکھ ملے، کبھی سُکھ ملے
یہی میرے رب کا نظام ہے

پسِ پردہ رہتے ہیں نیک خو
جو شریر ہے، سرِ عام ہے

بہت اعلیٰ
 
آخری تدوین:

م حمزہ

محفلین
دلچسپ بات یہ ہے کہ ابو نے بھی کسی زمانے میں چار چھ غزلیں لکھی ہیں، جو کہ اب تک ہماری نظروں سے چھپی ہوئی ہیں۔ :)
46 یا 64 ؟ خیر جتنا کلام بھی ان کا ہاتھ لگ رہا ہے، اسے ضرور یہاں شئیر کریں۔

تاکہ مجھ جیسے بےکار کو بھی اپنا وقت اچھے سےگزارنے کا موقع مل جائے ورنہ مجھے کیا معلوم کہ شاعری کیا ہوتی ہے۔
 
Top