غالب سے منسوب ایک غلط شعر؟

کیفیت
مزید جوابات کے لیے دستیاب نہیں

راعمس

محفلین
ایک میل لسٹ پر اس شعر کے بارے میں پوچھا گیا ہے کہ کس شاعر کا ہے


چند تصویرِ بتاں چند حسینوں کے خطوط
بعد مرنے کے مرے گھر سے یہ ساماں نکلا

عمومی طور پر اسے غالب کا سمجھا جاتا ہے، جبکہ دیوان میں نہیں ہے۔ کوئی اگر اس شعر کی غزل یا اصل شاعر سے واقف ہو تو ضرور مدد کیجیے۔ شکریہ۔
 

فرخ منظور

لائبریرین
میرے پاس ایک بہت پرانا غالب کا دیوان تھا اس میں‌ یہ شعر موجود تھا، وہ دیوان کہیں گم ہوگیا- لیکن اس کے بعد میں نے کسی دیوان میں‌یہ شعر نہیں دیکھا - لیکن عمومی طور پر اسے غالب کا ہی سمجھا جاتا ہے-
 

راعمس

محفلین
میرے پاس ایک بہت پرانا غالب کا دیوان تھا اس میں‌ یہ شعر موجود تھا، وہ دیوان کہیں گم ہوگیا- لیکن اس کے بعد میں نے کسی دیوان میں‌یہ شعر نہیں دیکھا - لیکن عمومی طور پر اسے غالب کا ہی سمجھا جاتا ہے-

یہ تو کافی عجیب بات ہو؁ئی۔ شعر کافی مشہور ہے، اور اسطرح دیوان سے‌ غائب ہو جانا کچھ سمجھ نہیں آیا۔ انٹرنیٹ پر موجود تمام دیوان میں بھی یہ شعر موجود نہیں ہے۔ اگر یہ واقعی غالب کا ہے تب آج کے برقی دور میں اسکی دیوان میں عدم موجودگی اور حیران کن ہے۔ سخنور صاحب، کیا آپ کو یقین ہے کہ یہ شعر واقعی پرانے دیوان میں تھا؟‌ اگر آپ کو اس دیوان کے بارے میں کوئی بھی معلومات ہو تو ازراہِ کرم ضروربتائیے۔ شکریہ۔
 

محمد وارث

لائبریرین
میرے خیال میں راعمس آپ بہت جلد نتیجے پر پہنچ گئے ہیں جب کہ مشہور بھی یہی ہے اور شہادتیں بھی یہی ہیں، جیسے اوپر فرّخ صاحب نے لکھا ہے اور میں نے بھی اس شعر کو غالب کے ایک دیوان میں دیکھا تھا۔

جب کہ غالب کی طرف غلط طور سے منسوب ہونے کی بات ابھی تک میرے محدود مطالعے میں تو نہیں آئی، اور نا ہی ابھی تک کسی اور یا نامعلوم شاعر کی طرف اسکی نسبت ظاہر کی گئی ہے اور نا ہی کسی شعر کا کسی شاعر کے دیوان میں نہ ہونے سے یہ لازم آتا ہے کہ اسے اسکا نہ سمجھا جائے۔ پس جب تک کسی مستند حوالے یا تحریر سے یہ ثابت نہیں ہوجاتا کہ یہ غالب کا شعر نہیں ہے میرے ذاتی خیال میں اسے غالب کا شعر ہی سمجھنا چاہیئے۔ ہاں تحقیق کا دروازہ ضرور کھلا ہے اور تحقیق کرنی بھی چاہیئے۔
 

راعمس

محفلین
میرے خیال میں راعمس آپ بہت جلد نتیجے پر پہنچ گئے ہیں جب کہ مشہور بھی یہی ہے اور شہادتیں بھی یہی ہیں، جیسے اوپر فرّخ صاحب نے لکھا ہے اور میں نے بھی اس شعر کو غالب کے ایک دیوان میں دیکھا تھا۔

جب کہ غالب کی طرف غلط طور سے منسوب ہونے کی بات ابھی تک میرے محدود مطالعے میں تو نہیں آئی، اور نا ہی ابھی تک کسی اور یا نامعلوم شاعر کی طرف اسکی نسبت ظاہر کی گئی ہے اور نا ہی کسی شعر کا کسی شاعر کے دیوان میں نہ ہونے سے یہ لازم آتا ہے کہ اسے اسکا نہ سمجھا جائے۔ پس جب تک کسی مستند حوالے یا تحریر سے یہ ثابت نہیں ہوجاتا کہ یہ غالب کا شعر نہیں ہے میرے ذاتی خیال میں اسے غالب کا شعر ہی سمجھنا چاہیئے۔ ہاں تحقیق کا دروازہ ضرور کھلا ہے اور تحقیق کرنی بھی چاہیئے۔

دراصل یہ سوال کولمبیا یونیورسٹی کی پروفیسر Frances W. Pritchett نے اٹھایا ہے۔ وہ اردو زبان کی محقق ہیں، اور غالب پر بھی انہوں نے بہت تحقیق کی ہوئی ہے۔ ان کا یہ مشہور کام تو شاید آپ کے علم میں بھی ہو:
A DESERTFUL OF ROSES

انکی میل میں نیچے نقل کر رہا ہوں

On Thu, Feb 28, 2008 at 3:06 PM, Frances Pritchett <fp7@columbia.edu> wrote:


Dear List,

Shah Jemal Alam has pointed out to me the prevalence of

chand ta.sviir-e butaa;N chand ;hasiino;N ke ;xu:tuu:t
ba((d marne ke mire ghar se yih saamaa;N niklaa

as a verse that is commonly (on message boards, etc.) attributed to
Ghalib. It's not his, of course. So I have two questions:

1) Does anybody know whose it is? Maybe one of the Progressives?

2) Have others noticed this attribution as well? Perhaps I ought to
consider specifically discussing it in connection with {6}?

All thoughts appreciatively received,
Fran​
 

محمد وارث

لائبریرین
جی ہاں راعمس، پروفیسر صاحب کا میں بہت بڑا معتقد ہوں اور نہ صرف انکا غالب پر کام بلکہ میر اور اردو عروض پر بھی کام دیکھ چکا ہوں اور مستفید ہو چکا ہوں۔

یقین مانیئے اگر پروفیسر Fwp نے اس موضوع پر کام شروع کردیا ہے تو وہ جلد ہی کچھ نہ کچھ ڈھونڈ نکالیں گے، پروفیسر صاحب پہلے بھی دیوانِ غالب میں موجود غزلوں کے متعلق ہمارے علماء و فضلاء سے اختلاف کر چکے ہیں، مثلاً عرشی اور مہر کے نسخوں سے لیکر عام ملنے دیوانِ غالب میں ایک ہی زمین میں دو علیحدہ غزلیں ہیں جس پر انہیں اختلاف ہے اور وہ انہیں اپنی تحقیق کی رو سے ایک ہی غزل مانتے ہیں، وغیرہ۔

بہرحال اس تحقیق کے نتائج سے ہمیں اس فورم پر ضرور مطلع رکھیئے گا۔
 

راعمس

محفلین
جی ہاں راعمس، پروفیسر صاحب کا میں بہت بڑا معتقد ہوں اور نہ صرف انکا غالب پر کام بلکہ میر اور اردو عروض پر بھی کام دیکھ چکا ہوں اور مستفید ہو چکا ہوں۔

یقین مانیئے اگر پروفیسر Fwp نے اس موضوع پر کام شروع کردیا ہے تو وہ جلد ہی کچھ نہ کچھ ڈھونڈ نکالیں گے، پروفیسر صاحب پہلے بھی دیوانِ غالب میں موجود غزلوں کے متعلق ہمارے علماء و فضلاء سے اختلاف کر چکے ہیں، مثلاً عرشی اور مہر کے نسخوں سے لیکر عام ملنے دیوانِ غالب میں ایک ہی زمین میں دو علیحدہ غزلیں ہیں جس پر انہیں اختلاف ہے اور وہ انہیں اپنی تحقیق کی رو سے ایک ہی غزل مانتے ہیں، وغیرہ۔

بہرحال اس تحقیق کے نتائج سے ہمیں اس فورم پر ضرور مطلع رکھیئے گا۔

جی ہاں ضرور! امید ہے جلد ہی یہ عقدہ حل ہو جائے گا۔

پسِ لفظ:‌ پروفیسر Fwp خاتون ہیں :)
 

فرخ منظور

لائبریرین
جس دیوان میں‌‌ یہ شعر تھا وہ تاج کمپنی، لاہور کا چھپا ہوا تھا لیکن مرتب کردہ یا کونسا نسخہ تھا اس بارے میں پتہ نہیں‌ چل سکا اور مجھے یاد ہے کہ وہ کسی غزل میں کے ساتھ نہیں‌ بلکہ علیحدہ ہی تھا اس لیے ہو سکتا ہے مرتب کرنے والے نے ویسے ہی لکھ دیا ہو -
 

پپو

محفلین
جہاں تک میری ناقص رائے ہے اسے غالب سے منسوب کیا جاتا ہے اگرچہ میں اسے تلاش نہیں سکا
 

راعمس

محفلین
پروفیسر Frances W. Pritchett کی تحقیق کا نتیجہ

AN APOCRYPHAL VERSE: Many people nowadays attach to this ghazal another, apocryphal verse:

چند تصویرِ بتاں چند حسینوں کے خطوط
بعد مرنے کے مرے گھر سے یہ ساماں نکلا

[some pictures of idols, some letters of beautiful ones
after dying, from my house this equipment/material emerged]

Please note that this verse is NOT by Ghalib. (I will refrain from going into a long tirade about how it doesn't even sound like his, but still it certainly doesn't.) For more discussion of the issues surrounding such apocryphal verses, see {219,1}. I'm grateful to Shah Jemal Alam for pointing out this verse and examining its wide circulation. And I'm particularly grateful to Irfan Khan, who posted this very helpful information to the Urdulist:

"This verse has been discussed by Hanif Naqvi in غالب : احوال و آثار (1990). The key points:

= Except for the 1922 edition of Ghalib's divan published by the Nizami Press, this verse has never appeared in any divan. And even there, it appeared in a special section of verses not from the traditional divan.

= Bazm Akbarabadi composed, sometime before 1910, the following similar verse:

ایک تصویر کسی شوخ کی اور نامے چند
گھر سے عاشق کے پسِ مرگ یہ ساماں نکلا

[one picture of some mischievous one, and some letters
from the lover's house, after death, this equipment/material emerged]
= Naqvi is of the opinion that the verse attributed to Ghalib is a modified form of this verse of Bazm's."
 

مغزل

محفلین
میرے پاس 1938 میں طبع شدہ نسخہ موجود ہے اس میں بھی یہ شعر موجود ہے۔
بھارت کے شہر ممبئی میں لال پریس بھنڈی چوک چھاپہ خانہ نے یہ نسخہ شائع کیا تھا۔ اس کے علاوہ
تاج کمپنی لاہور نے 1951 میں بھی ایک نسخہ شائع کیا جس میں یہ شعر موجود ہے ۔۔ نیاز فتخ پوری صاحب
نے نگار کے سلسلے خدا نمبر میں بھی یہ شعر غالب سے ہی منسوب کرتے ہوئے نقل کیا ہے۔۔۔

 

سعدی غالب

محفلین
یہ شعر غالبؔ دکنی کا ہے
دبستانِ لکھنؤ اور دبستانِ دلی کا فرق سمجھنے والے حضرات بہتر سمجھ سکتے ہیں
جس لہجے کا یہ شعر ہے وہ دلی کی زبان میں معیوب سمجھی جاتی تھی، کجا کہ اتنا عامیانہ شعر غالبؔ کہتے جنہیں وبائے عام میں مرنا بھی گوارہ نہ تھا
 
جی ہاں ضرور! امید ہے جلد ہی یہ عقدہ حل ہو جائے گا۔

پسِ لفظ:‌ پروفیسر Fwp خاتون ہیں :)
:laugh:اُس پوسٹ میں صیغہء مذکر نے مجھے بھی چونکا دیا۔
اس طرح کی ناانصافی ایریل ڈیورانٹ کے ساتھ بھی ہوتی ہے۔ یا تو اس کا کام ول ڈیورانٹ كے کھاتے میں ڈال دیتے ہیں یا اس کو مسٹر سمجھ لیتے ہیں۔
 

سید عاطف علی

لائبریرین
یہ شعر غالبؔ دکنی کا ہے
دبستانِ لکھنؤ اور دبستانِ دلی کا فرق سمجھنے والے حضرات بہتر سمجھ سکتے ہیں
جس لہجے کا یہ شعر ہے وہ دلی کی زبان میں معیوب سمجھی جاتی تھی، کجا کہ اتنا عامیانہ شعر غالبؔ کہتے جنہیں وبائے عام میں مرنا بھی گوارہ نہ تھا
مرزا کے کلام میں سے کچھ عامیانہ ، معیوب ، یا لکھنوی طرز کے اشعار مل جانے سے ( اور ضرور ایسے نمونے مل جائیں گے) مرزا کے مقام و مرتبے پر کچھ فرق نہیں پڑتا ۔کیونکہ یہ مرتبہ بلند ملا جس کو مل گیا - نہ ہی مرزا کے کلام میں کسی ترکیب سے اختلاف سے ایسا ہوتا ہے۔ جیسا کہ بہت سے محققین نے کیا ہے ۔۔اور میری رائے میں جا بجا صد فی صد درست بھی کیا ہے۔۔ تحقیق کے دروازے بہر حال ہمیشہ کھلے ہونے چاہییں ۔۔۔
 

فرخ منظور

لائبریرین
مرزا کے کلام میں سے کچھ عامیانہ ، معیوب ، یا لکھنوی طرز کے اشعار مل جانے سے ( اور ضرور ایسے نمونے مل جائیں گے) مرزا کے مقام و مرتبے پر کچھ فرق نہیں پڑتا ۔کیونکہ یہ مرتبہ بلند ملا جس کو مل گیا - نہ ہی مرزا کے کلام میں کسی ترکیب سے اختلاف سے ایسا ہوتا ہے۔ جیسا کہ بہت سے محققین نے کیا ہے ۔۔اور میری رائے میں جا بجا صد فی صد درست بھی کیا ہے۔۔ تحقیق کے دروازے بہر حال ہمیشہ کھلے ہونے چاہییں ۔۔۔

میرے خیال میں آپ تحقیق نہ کیجیے لیکن صرف غالب کو اچھی طرح پڑھ لیجیے تو بھی آپ پر بہت کچھ واضح ہو جائے گا۔
 

سید عاطف علی

لائبریرین
میرے خیال میں آپ تحقیق نہ کیجیے لیکن صرف غالب کو اچھی طرح پڑھ لیجیے تو بھی آپ پر بہت کچھ واضح ہو جائے گا۔
جناب کی راے محترم لیکن عرض یہ ہے کہ اچھی طرح پڑھنے کو میں تحقق وتبحث کے زمرے میں شمار کرتا ہوں ۔ تحقیق کا در مقفل کرنا کنویں والے مینڈک کی مثال کا مصداق بننے کے مترادف ہے۔ ا ور مرزا کے الفاظ میں کہوں تو آسمان کو بیضہء مور ٹھرادیا جاےٴ۔

فکر میری محیط جذب ازل
دوسرا مصرع یاد نھیں آ رہا اگر چہ شعر میرا ھی ہے۔۔والسلام
 
کیفیت
مزید جوابات کے لیے دستیاب نہیں
Top