عید-1443ھ- کے دن میری ایک غزل

گزشتہ روز چاند رات کو برادرم عرفان علوی صاحب کی پر لطف غزل پڑھی بہت پسند آئی ۔ سو عید کے دن کچھ تحریک ملی اور کچھ فرصت بھی سو ایک غزل ہماری جانب سے بھی اسی زمین میں ۔
لیکن اسے در جواب آں غزل کی جرات نہ سمجھا جائے ۔



آن میں کیا ہے اور آن میں کیا
اس نے میرے کہا یہ کان میں کیا

سسکیوں کی صدا ہے اک، دل میں
کوئی بستا ہے اس مکان میں کیا

اڑ گئیں حسرتیں دھواں بن کے
کچھ بچا بھی ہے نیم جان میں کیا

دل کی دنیا کا کر دیا سودا
بیچنے کو بچا دکان میں کیا

گہہ ترنم ، گہے تبسم ہے
یہ قصیدہ ہے اس کی شان میں کیا

خالی ترکش ہے سامنے ہے غزال
آخری تیر تھا کمان میں کیا

کوئلہ ایک بس سلگتا ہے
اور باقی ہے خاکدان میں کیا

کہہ دے آخر، نہ بڑبڑا اتنا
پھر وہی بات آئی دھیان میں کیا

عید کے دن تو خود گلے لگ جاؤ
ہم کہیں اپنی اب زبان سے کیا ؟

ہاں یا نا، کچھ نہ کہہ سکا عاطف
عشق نے پوچھا امتحان میں کیا!
 
آخری تدوین:
گزشتہ روز چاند رات کو برادرم عرفان علوی صاحب کی پر لطف غزل پڑھی بہت پسند آئی ۔ سو عید کے دن کچھ تحریک ملی اور کچھ فرصت بھی سو ایک غزل ہماری جانب سے بھی اسی زمین میں ۔
لیکن اسے در جواب آں غزل کی جرات نہ سمجھا جائے ۔



آن میں کیا ہے اور آن میں کیا
اس نے میرے کہا یہ کان میں کیا

سسکیوں کی صدا ہے اک دل میں
کوئی بستا ہے اس مکان میں کیا

اڑ گئیں حسرتیں دھواں بن کے
کچھ بچا بھی ہے نیم جان میں کیا

دل کی دنیا کا کر دیا سودا
بیچنے کو بچا دکان میں کیا

گہہ ترنم ، گہے تبسم ہے
یہ قصیدہ ہے اس کی شان میں کیا

خالی ترکش ہے سامنے ہے غزال
آخری تیر تھا کمان میں کیا

کوئلہ ایک بس سلگتا ہے
اور باقی ہے خاکدان میں کیا

کہہ دے آخر، نہ بڑبڑا اتنا
پھر وہی بات آئی دھیان میں کیا

عید کے دن تو خود گلے لگ جاؤ
ہم کہیں اپنی اب زبان سے کیا ؟

ہاں یا نا، کچھ نہ کہہ سکا عاطف
عشق نے پوچھا امتحان میں کیا!
عاطف صاحب، ذرہ نوازی کا شکریہ! اِس بات کو مد نظر رکھتے ہوئے کہ یہ تخلیق ’آن کی آن‘ میں ہوئی ہے، :) مجھے یہ غزل پسند آئی . داد قبول فرمائیے .
 

الف عین

لائبریرین
و؛ہ برادرم، کیا ہی اچھی غزل کہی ہے۔
اسی زمین میں اور کچھ ارکان طبع آزمائی کریں تو ساری ایک ساتھ 'سمت' میں شامل کر دی جائیں
 

امین شارق

محفلین
و؛ہ برادرم، کیا ہی اچھی غزل کہی ہے۔
اسی زمین میں اور کچھ ارکان طبع آزمائی کریں تو ساری ایک ساتھ 'سمت' میں شامل کر دی جائیں
غزل پیشِ خدمت ہے سر۔۔

دِل نے چاہا تھا خُود گُمان میں کیا؟
بدلا منظر ہے ایک آن میں کیا؟

کوئی تو ہو جو داستان سُنے
سو چُکے ہیں سبھی جہان میں کیا؟

تیری منزل اسی زمین پہ ہے
ڈُھونڈتا ہے تُو آسمان میں کیا؟

ظُلم کے باوجود بھی چپ ہو
لفظ خاموش ہیں زبان میں کیاِ؟

ظُلم کو دیکھ کر یوں جی نہ جلا
تیِر ناپید ہیں کمان میں کیا؟

کُچھ خطا تو دماغ کی بھی گِنو
یا
کُچھ خطا عقل کی بھی ہے لوگو!
دِل ہی پاگل ہے جِسم و جان میں کیا؟

دل کے ارمان ریزہ ریزہ ہوئے
یہ دُھواں سا ہے اِس مکان میں کیا؟

حُسن ہی بے وفا اگر نکلے
عِشق جیتے گا اِمتحان میں کیا؟

جِس کو لوگوں کا کُچھ خیال نہ ہو
اُس کی عِزت ہو خاندان میں کیا؟

عِشق اس کو ہی کہتے ہیں شاید
کُچھ نظر میں ہے اور دھیان میں کیا؟

ہائے محبُوب کے لب و عارض
اِک غزل کہہ دُوں ان کی شان میں کیا؟

اے خِزاں دِیدہ پیڑ تُو ہی بتا
یہ خموشی ہے گُلستان میں کیا؟

شورِ دل کے علِاوہ وصل کی شب
تیرے میرے تھا درمیان میں کیا؟

دِل نہیں چُھونے دیتی لوگوں کے
وہ کمی ہے مرے بیان میں کیا؟

جون کی رُوح خُواب میں شارؔق
یہ غزل کہہ گئی ہے کان میں کیا؟
 

اشرف علی

محفلین
آن میں کیا ہے اور آن میں کیا
واااہ ! یہ مصرع ہی بہت خووب ہے

گہہ ترنم ، گہے تبسم ہے
یہ قصیدہ ہے اس کی شان میں کیا
بہت عمدہ ہے سر



عید کے دن تو خود گلے لگ جاؤ
ہم کہیں اپنی اب زبان سے کیا ؟
سر ! اس شعر میں ردیف بدل گئی ہے کیا
 
سر ! اس شعر میں ردیف بدل گئی ہے کیا
ہاں بھئی یہ تو ہم سب میں سے کسی نے دیکھا ہی نہیں ۔ یہ شعر تو ویسے بھی عید کی مناسبت سے آگیا اسے محذوف ہی سمجھ لیتے ہیں ۔
ویسے اس دقت نظر کا خاص شکریہ برادرم اشرف علی
الف عین بھائی سے کہہ دیتے ہیں کہ اگر سمت کی سمت بھیجیں تو عید والے شعر کو نکال دیں ورنہ سمت کی سمت معیار کے رخ سے ہٹ جائے گی ۔
 

محمداحمد

لائبریرین
Top