اختر شیرانی عمر بھر کی تلخ بیداری کا ساماں ھو گئیں(اختر شیرانی)

عمر بھر کی تلخ بیداری کا ساماں ھو گئیں
ہائے وہ راتیں کہ جو خواب پریشاں ھو گئیں

میں فدا اس چاند سے چہرے پہ ، جس کے نور سے
میرے خوابوں کی فضائیں یوسفستاں ھو گئیں

عمر بھر کم بخت کو پھر نیند آسکتی نہیں
جس کی آنکھوں پر تری زلفیں پریشاں ھو گئیں

دل کے پردوں میں تھیں جو جو حسرتیں پردہ نشیں
آج وہ آنکھوں میں آنسو بن کے عریاں ھو گئیں

کچھ تجھے بھی ھے خبر ، او سونے والے ناز سے
میری راتیں لٹ گئیں ، نیندیں پریشاں ھو گئیں

آہ وہ دن ، جو نہ آئے پھر گزر جانے کے بعد
ھائے وہ راتیں کہ جو خواب پریشاں ھو گئیں

اختر شیرانی
 

الف عین

لائبریرین
بھئی آپ ہ کو ھ کیوں لکھتے ہیں، اگر اردو پیڈ میں ہی ٹائپ کر رہے ہیں تو چھوٹی ہ O پر ہے۔
ویسے ماشاء اللہ اب اتنا کلام جمع ہوتا جا رہا ہے کہ ان کی ای بکس بن سکتی ہے۔ محسن نقوی، احسان دانش، وغیرہ کی۔
 

جیا راؤ

محفلین
کچھ تجھے بھی ھے خبر ، او سونے والے ناز سے
میری راتیں لٹ گئیں ، نیندیں پریشاں ھو گئیں


بہت ہی خوب !
 
آہ وہ دن ، جو نہ آئے پھر گزر جانے کے بعد
ھائے وہ راتیں کہ جو خواب پریشاں ھو گئیں

کلاسکیکل انداز کے خوب اشعار ہیں۔ شکریہ پوسٹ کرنے کا۔
 

زینب

محفلین
دل کے پردوں میں تھیں جو جو حسرتیں پردہ نشیں
آج وہ آنکھوں میں آنسو بن کے عریاں ھو گئیں

کچھ تجھے بھی ھے خبر ، او سونے والے ناز سے
میری راتیں لٹ گئیں ، نیندیں پریشاں ھو گئیں


شاندار۔۔۔۔
 
بھئی آپ ہ کو ھ کیوں لکھتے ہیں، اگر اردو پیڈ میں ہی ٹائپ کر رہے ہیں تو چھوٹی ہ O پر ہے۔
ویسے ماشاء اللہ اب اتنا کلام جمع ہوتا جا رہا ہے کہ ان کی ای بکس بن سکتی ہے۔ محسن نقوی، احسان دانش، وغیرہ کی۔

محترم O سے جو ہ لکھتا ہوں تو اس کا مزا کبھی کبھی نہیں آتا ویسے کوشش اب یہی ہے کہ آپ کے مشورے کے مطابق لکھا کروں۔
 
Top