علی سرمد کی غزل کا ترجمہ کرنے کی ایک کوشش از محمد خلیل الرحمٰن


غزل
علی سرمد کی غزل کا ترجمہ کرنے کی ایک کوشش
محمد خلیل الرحمٰن

کوئی پوچھ لے میرے قاتل سے
مری جاں بخشو گے، کیا لوگے

تم پیار کا مول لگاتے ہو
مجھے پیار کرو گے، کیا لو گے

تمہیں تنہا بھی تو مرنا ہے
مرے ساتھ مرو گے، کیا لو گے

ہر ایک کا ساتھ نبھاتے ہو
مرے ساتھ پھرو گے، کیا لو گے

تم ہنستے اچھے لگتے ہو
ہر بار ہنسو گے، کیا لوگے

اِک کرم کرو ، مری جاں لے لو
گر کرم کروگے، کیا لوگے

تم یاد تو آتے رہتے ہو
گر خود آؤ گے، کیا لو گے

مری سانسوں کا کیا مول، کہو!
مری جاں لے لوگے، کیا لوگے

ہم دِل کا حال سناتے ہیں
یہ حال سنو گے، کیا لوگے

ہم پیار میں یارا ڈوب گئے
باہر کھینچو گے، کیا لوگے

مرے دِل کے مرشد، ڈھول پیا!
مری بانہہ پکڑو گے، کیا لو گے

تنہائی مجھ سے پوچھتی ہے
مجھے ساتھ رکھو گے، کیا لو گے
ٌٌٌٌ ٌٌٌٌٌٌٌ ٌٌٌ

نوٹ: ’’گے کیا لو گے‘‘ کی جگہ’’ تو کیا لوگے‘‘ بھی کیا جاسکتا ہے، کیا بہتر رہے گا.

کیا کچھ قوافی درست ہیں یا سارے قوافی درست نہیں۔

کیا علی کی اوریجنل غزل کے قوافی درست ہیں؟

غزل
‏کوئی پُچھ ڈیوے ، میڈے ساہواں کُوں
میڈی جان چھڈن دا کِی گھِنسو ؟

تُسی پیار دَا مُل وِی لاؤندے او
ساکوں پیار کرن دا کِی گھِنسو ؟

تُساں کَلیاں وِی تے مرناں ہئے
ساڈے نال مرن دا کِی گھِنسو ؟

‏ہر اِک نوں سنگت وَنڈدے او
ساڈے نال پِھرن دا کِی گھِنسو ؟

تُسی ہسدے سوہنے لگدے او
ہر وار ہَسن دا کِی گھِنسو ؟

ہِک کرم کرو ، میکوں مار ڈیوو
سرکار ، کرم کرن دا کِی گھِنسو ؟

‏تُساں یاد تے آؤندے رہندے اوو
دَسو آپ آوَن دا کِی گھِنسو ؟

میڈے ساہواں نُوں کِی بھاء گھِنسو ؟
میڈی جان گھِنن دا کِی گھِنسو ؟

اَساں دِل دَا حال سناؤنا اے
سائیں حال سُنَن دَا کِی گھِنسو ؟

‏اَسی ڈُب گئے آں تُہاڈے عشقے وِچ
ساکوں باہر کَڈھن دا کِی گھِنسو ؟

میڈے دِل دے مُرشد! ڈھول پیا!
میڈا ہَتھ پَھڑن دا کِی گھِنسو ؟

میکوں پُچھدی اے تنہائی
میکوں نال رَکھن دا کِی گھِنسو ؟
 
آخری تدوین:
زبردست!!!!!!!
بہت اعلیٰ خلیل بھائی ! کمال کردیا !

سرائیکی زبان مجھے زیادہ تو نہیں آتی لیکن آپ کا ترجمہ اصل کے بہت قریب محسوس ہورہا ہے ۔ پُر اثر ترجمہ ہے !
اصل کلام تو شاید ہندی بحر میں ہے لیکن آپ کے تمام مصرعے متدارک مخبون ( فعِلن فعِلن فعِلن فعِلن) کے وزن پر آرہے ہیں ماسوائے کرم والے شعر کے۔ اسے دیکھ لیجئے ۔
روایتی اور اصولی طور پر تو قوافی درست نہیں ہیں لیکن اب اس طرح کے قوافی کا چلن عام ہوتا جارہا ہے ۔ ویسے بھی ترجمے میں اتنی تکنیکی اور فنی رعایت تو ملنی ہی چاہئے ۔میں سمجھتا ہوں کہ قوافی بدلنے کی قطعی کوئی ضرورت نہیں ۔
 
زبردست!!!!!!!
بہت اعلیٰ خلیل بھائی ! کمال کردیا !

سرائیکی زبان مجھے زیادہ تو نہیں آتی لیکن آپ کا ترجمہ اصل کے بہت قریب محسوس ہورہا ہے ۔ پُر اثر ترجمہ ہے !
اصل کلام تو شاید ہندی بحر میں ہے لیکن آپ کے تمام مصرعے متدارک مخبون ( فعِلن فعِلن فعِلن فعِلن) کے وزن پر آرہے ہیں ماسوائے کرم والے شعر کے۔ اسے دیکھ لیجئے ۔
روایتی اور اصولی طور پر تو قوافی درست نہیں ہیں لیکن اب اس طرح کے قوافی کا چلن عام ہوتا جارہا ہے ۔ ویسے بھی ترجمے میں اتنی تکنیکی اور فنی رعایت تو ملنی ہی چاہئے ۔میں سمجھتا ہوں کہ قوافی بدلنے کی قطعی کوئی ضرورت نہیں ۔
آداب ظہیر بھائی! کچھ ڈھارس بندھی قوافی کے بارے میں، ورنہ ہمیں ڈر یہ تھا کہ اس کو ردی کی نوکری کے حوالے ہی نہ کرنا پڑجائے۔

حوالہ افزائی پر شکریہ قبول فرمائیے۔
 
زبردست!!!!!!!
بہت اعلیٰ خلیل بھائی ! کمال کردیا !

سرائیکی زبان مجھے زیادہ تو نہیں آتی لیکن آپ کا ترجمہ اصل کے بہت قریب محسوس ہورہا ہے ۔ پُر اثر ترجمہ ہے !
اصل کلام تو شاید ہندی بحر میں ہے لیکن آپ کے تمام مصرعے متدارک مخبون ( فعِلن فعِلن فعِلن فعِلن) کے وزن پر آرہے ہیں ماسوائے کرم والے شعر کے۔ اسے دیکھ لیجئے ۔
روایتی اور اصولی طور پر تو قوافی درست نہیں ہیں لیکن اب اس طرح کے قوافی کا چلن عام ہوتا جارہا ہے ۔ ویسے بھی ترجمے میں اتنی تکنیکی اور فنی رعایت تو ملنی ہی چاہئے ۔میں سمجھتا ہوں کہ قوافی بدلنے کی قطعی کوئی ضرورت نہیں ۔

یہ سرائیکی پنجابی رلی ملی ہے۔۔۔ ہاہاہاہا
ٹھوس سرائیکی نہیں ہے۔۔۔
خیر اس زبان کے کئی لہجے ہیں۔۔۔
 
غزل
علی سرمد کی غزل کا ترجمہ کرنے کی ایک کوشش
محمد خلیل الرحمٰن

کوئی پوچھ لے میرے قاتل سے
مری جاں بخشو گے، کیا لوگے

تم پیار کا مول لگاتے ہو
مجھے پیار کرو گے، کیا لو گے

تمہیں تنہا بھی تو مرنا ہے
مرے ساتھ مرو گے، کیا لو گے

ہر ایک کا ساتھ نبھاتے ہو
مرے ساتھ پھرو گے، کیا لو گے

تم ہنستے اچھے لگتے ہو
ہر بار ہنسو گے، کیا لوگے

اِک کرم کرو ، مری جاں لے لو
گر کرم کروگے، کیا لوگے

تم یاد تو آتے رہتے ہو
گر خود آؤ گے، کیا لو گے

مری سانسوں کا کیا مول، کہو!
مری جاں لے لوگے، کیا لوگے

ہم دِل کا حال سناتے ہیں
یہ حال سنو گے، کیا لوگے

ہم پیار میں یارا ڈوب گئے
باہر کھینچو گے، کیا لوگے

مرے دِل کے مرشد، ڈھول پیا!
مری بانہہ پکڑو گے، کیا لو گے

تنہائی مجھ سے پوچھتی ہے
مجھے ساتھ رکھو گے، کیا لو گے
ٌٌٌٌ ٌٌٌٌٌٌٌ ٌٌٌ

نوٹ: ’’گے کیا لو گے‘‘ کی جگہ’’ تو کیا لوگے‘‘ بھی کیا جاسکتا ہے، کیا بہتر رہے گا.

کیا کچھ قوافی درست ہیں یا سارے قوافی درست نہیں۔

کیا علی کی اوریجنل غزل کے قوافی درست ہیں؟

بہت اچھی کوشش ہے۔۔۔ ماشااللہ
 

یاسر شاہ

محفلین
مشفقی خلیل بھائی !

میں سرائیکی سے نابلد ہوں لیکن چونکہ یہ کچھ خاص مشکل زبان نہیں چنانچہ اندازہ ہورہا ہے کہ نظم میں شاعر کیا کہنا چاہ رہا ہے -شعر کا ترجمہ ، شعر ہی کی صورت میں کماحقہ کرنا ،جوئے شیر لانا ہے- میرے نزدیک آپ کی نظم اصل سے خاصی دور رہ گئی ہے -کچھ تو زبان و بیان کے مسائل کی وجہ سے -لگتا ہے آپ بھی سرائیکی سے کچھ خاص واقف نہیں لہٰذا ہوبہو ترجمہ کرنے کی کوشش بار آور ثابت نہیں ہو پائی -مَثَلاً <میڈی جان چھڈن دا کِی گھِنسو ؟> کا ترجمہ <مری جاں بخشو گے، کیا لوگے>کر کے آپ نے ایک جملے کو دو جملوں میں توڑ دیا-جس سے روانی و مفہوم دونوں میں حرج ہوا اور اس قبیل کا ترجمہ اپ نے ہر مصرع ثانی میں کیا لہٰذا ایک تیسری چیز بھی مجروح ہوئی جسے کہتے ہیں نظم کا آہنگ -پھر ہر زبان کا روز مرّہ و محاورہ الگ ہوتا ہے اس لیے ہوبہو شعری ترجمے کے مقابلے میں مفہوم ادا کر دینا بہتر آپشن ہوتا ہے -مَثَلاً <مرے دِل کے مرشد، ڈھول پیا!--مری بانہہ پکڑو گے، کیا لو گے> سرائیکی کا ڈھول جدا ہے اردو کا ڈھول الگ -پھر <بانہہ پکڑنا> ایں چہ چیز است ؟:)

سرائیکی نظم شاعر کی دلی کیفیت کی ترجمان ہے اور یہ کیفیت نظم کے آہنگ کی صورت میں جھلکتی ہے جسے زبان نہ جانتے ہوئے بھی محسوس کیا جا سکتا ہے -علی سرمد کی پوری نظم میں ایک اضطراری ،دردانگیز و والہانہ کیفیت ہے جبکہ آپ کی نظم کا آہنگ بہت دھیما سا ہے -یوں لگ رہا ہے بھابھی جی سے ارشاد فرما رہے ہوں ،امتیاز اسٹور جا رہا ہوں، کیا کیا چاہیے ؟ :D
 
Top