علی سرمد کی غزل کا ترجمہ کرنے کی ایک کوشش از محمد خلیل الرحمٰن

محمد خلیل الرحمٰن نے 'اِصلاحِ سخن' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏اکتوبر 2, 2019

ٹیگ:
  1. فاخر رضا

    فاخر رضا محفلین

    مراسلے:
    2,733
    بہت خوب خلیل بھائی ماشاءاللہ
    میں نے اس نظم کو بطور ترجمہ نہیں پڑھا تھا اور نہ ضرورت محسوس کی
     
    آخری تدوین: ‏اکتوبر 5, 2019
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
    • دوستانہ دوستانہ × 1
  2. یاسر شاہ

    یاسر شاہ محفلین

    مراسلے:
    859
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cheerful
    -
     
    آخری تدوین: ‏اکتوبر 5, 2019
  3. فاخر رضا

    فاخر رضا محفلین

    مراسلے:
    2,733
    تدوین کردی ہے
     
    • دوستانہ دوستانہ × 2
  4. محمد خلیل الرحمٰن

    محمد خلیل الرحمٰن مدیر

    مراسلے:
    7,609
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Festive
    جزاک اللہ فاخر رضا بھائی!
     
    • دوستانہ دوستانہ × 1
  5. محمد خلیل الرحمٰن

    محمد خلیل الرحمٰن مدیر

    مراسلے:
    7,609
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Festive
    محبت ہے آپ کی، یاسر شاہ بھائی کہ اتنی اپنائیت کے ساتھ آپ نے تنقید کی۔ ہم بھی مطمئین نہیں تھے۔ اپنے چھوٹے بھائی @محمدحفیظ الرحمٰن کے بقول جب بھی ہم کچھ لکھ لیتے ہیں، کاتا اور لے بھاگی کے مصداق اسے فوراً محفل پر پیش کردیتے ہیں۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 3
  6. محمد امین صدیق

    محمد امین صدیق محفلین

    مراسلے:
    1,388
    موڈ:
    Cheerful
    • دوستانہ دوستانہ × 1
  7. یاسر شاہ

    یاسر شاہ محفلین

    مراسلے:
    859
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cheerful
    جزا ک الله خلیل بھائی آپ نے مجھ دیوانے کی بڑ پہ توجہ دی -:)
    ایک اور مشوره یہ ہے کہ آپ انگریزی نظموں کا ترجمہ کریں -خصوصا نیچر پہ جو لکھی ہیں ،ولیم ورڈزورتھ وغیرہ نے -مجھے لگتا ہے آج کل جو آپ ترجمے لکھ رہے ہیں ان کے مقابلے میں بہت بہتر ترجمے آپ انگریزی نظموں کے کر سکتے ہیں کیونکہ آپ کی اردو اور انگلش پہ اچھی گرفت ہے اور پھر اردو ادب میں نیچر پہ بہت کم لکھا گیا ہے لہٰذا یہ اردو کی خدمت بھی ہوگی -

    باقی خطوط نگاری اردو ادب کی علیحدہ سے ایک صنف ہے جس کی مقبولیت کا راز ہی خط میں بے تکلّفانہ گفتگو ہے -ایسے میں ایک ادبی صنف کو دوسری ادبی صنف میں تبدیل کرنا اور وہ بھی وزن کے تکلّف سے میری نظر میں مفید نہیں -

    ایک نظم دیکھیے ،مجھے پسند ہے،آخر کی سطریں تو غضب کی ہیں - شاید اردو منظوم مفہوم کے لیے آپ کی توجہ کھینچ پائے -

    Stopping by Woods on a Snowy Evening
    BY ROBERT FROST


    Whose woods these are I think I know
    His house is in the village though
    He will not see me stopping here
    To watch his woods fill up with snow

    My little horse must think it queer
    To stop without a farmhouse near
    Between the woods and frozen lake
    The darkest evening of the year

    He gives his harness bells a shake
    To ask if there is some mistake
    The only other sound’s the sweep
    Of easy wind and downy flake

    The woods are lovely, dark and deep
    But I have promises to keep
    And miles to go before I sleep
    And miles to go before I sleep
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
    • زبردست زبردست × 1
  8. ظہیراحمدظہیر

    ظہیراحمدظہیر محفلین

    مراسلے:
    2,412
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Busy
    یاسر بھائی ، بانہہ پکڑنا ایک عام اور مستند محاورہ ہے بمعنی دستگیری کرنا ، اپنا بنانا ، سہارا دینا ۔ یہ محاورہ اردو کی تمام دستیاب لغات میں موجود ہے ۔ دیکھ لیجئے ۔ (انہی معنوں میں ہاتھ پکڑنا بھی مستعمل ہے)۔ اصل سرائیکی یا پنجابی کلام میں بھی ہتھ پھڑن کے الفاظ استعمال ہوئے ہیں اور جہاں تک میرا علم ہے ان زبانوں میں بھی اس کا وہی مطلب ہے جو اردو میں ہے ۔
     
    • دوستانہ دوستانہ × 1
    • متفق متفق × 1
  9. یاسر شاہ

    یاسر شاہ محفلین

    مراسلے:
    859
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cheerful
    جی ظہیر بھائی بجا فرمایا -اس اصطلاح کو گیتوں میں رائج دیکھا -جیسے موری بھیاں ،میری بانھیں تھام لو وغیرہ وغیرہ یہاں کھٹکی اس لیے فارسی بگھاری - میری ہر بات اتنی سنجیدگی سے نہ لیا کریں -:)
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  10. abdul.rouf620

    abdul.rouf620 محفلین

    مراسلے:
    1
    السلام علیکم
    بھائی بہت اچھی کوشش ہے میرے خیال میں "تو کیا لو گے" بہتر معلوم ہو رہا ہے
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
    • دوستانہ دوستانہ × 1
  11. عاطف ملک

    عاطف ملک محفلین

    مراسلے:
    1,062
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Innocent
    چھوٹا منہ بڑی بات، لیکن سرائیکی ہونے کے ناطے گفتگو کرنے کی ہمت کر رہا ہوں۔
    خلیل سر نے ترجمہ درست کیا ہے لیکن یاسر شاہ والی بات بھی کچھ کچھ ٹھیک ہے کہ سرائیکی زبان میں نظم کا جو ماحول ہے وہ اس ترجمے میں محسوس نہیں ہو رہا۔بہرحال اس میں ترجمے کا کوئی قصور نہیں ہے۔ہر زبان کا الگ ماحول ہوتا ہے۔
    قوافی تو غالباً درست ہیں۔لیکن
    سرکار کرم کرن دا کی گھنسو
    اس مصرعے میں مسئلہ لگ رہا ہے، یا شاید نقل کرنے والے سے چُوک ہوئی ہے۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
    • دوستانہ دوستانہ × 1

اس صفحے کی تشہیر