عظیم کی شاعری برائے اصلاح و تنقید و تبصرہ

عظیم

محفلین
سچ تو یہ ہے کہ جُھوٹ کہتا تھا
مَیں کِسی اور دُھن میں رہتا تھا

مُسکراتا ہُوں اب ، کہ ہنس ہنس کے
اُن کے ظلم و سِتم کو سہتا تھا

کِس طرف جائیں گے قدم میرے
کون اُس پار ہے یا رہتا تھا​

بہت خوب ۔۔۔ ۔!

خوش رہیے۔

اللہ آپ کو بھی خُوش رکھے
آمین
 

عظیم

محفلین



کُچھ ایسی آگ اِس دِل میں لگی ہے
ہماری رُوح جِس سے کانپ اُٹھی ہے

ہمارے سامنے اِک عمر ہے اور
ہمیں اِک زندگی سی کاٹنی ہے

ہُوئے عشقِ بُتاں سے جونہی غافل
خدا کی یاد آنے لگ پڑی ہے

ہزاروں بار آہیں بھر چُکے ہیں
کہاں اُس سنگ دل نے اِک سُنی ہے

خُدا جانے ہماری آخرت کو
ہماری ابتدا میں بے کسی ہے

عظیم اِس درد میں لذت ہے کیسی
عظیم اِس میں یہ کیسی چاشنی ہے

 

عظیم

محفلین

سخت حیران ہُوں کہاں جاؤں
مَیں پریشان ہُوں کہاں جاؤں

پوچھتا پھر رہا ہُوں دنیا سے
ایک انسان ہُوں کہاں جاؤں

اہلِ ظاہر تلاش کرلیں گے
اپنی پہچان ہُوں کہاں جاؤں

اے مرے جسم آہ مَیں تُجھ سے
جا چُکی جان ہُوں کہاں جاؤں

صاحبِ علم غافلوں میں ہُوں
اور نادان ہُوں کہاں جاؤں



 

الف عین

لائبریرین
باقی تو درست ہیں اشعار
پوچھتا پھر رہا ہُوں دنیا سے
ایک انسان ہُوں کہاں جاؤں
۔۔دوسرا مصرع
میں جو انسان ہوں÷÷÷ کیسا رہے گا؟

اہلِ ظاہر تلاش کرلیں گے
اپنی پہچان ہُوں کہاں جاؤں
÷÷واضح نہیں، یوں بھی تصوف کے اشعار مری سمجھ میں نہیں آتے۔

اے مرے جسم آہ مَیں تُجھ سے
جا چُکی جان ہُوں کہاں جاؤں
÷÷دوسرا مصرع عدم روانی کا بری طرح شکار ہے۔ جا چکی جان ہوں، گرامر کی رو سے بے معنی ہے۔
 

الف عین

لائبریرین
کُچھ ایسی آگ اِس دِل میں لگی ہے
ہماری رُوح جِس سے کانپ اُٹھی ہے
÷÷دوسرا مصرع اچھی گرہ نہیں کہی جا سکتی۔

ہمارے سامنے اِک عمر ہے اور
ہمیں اِک زندگی سی کاٹنی ہے
÷÷دوسرا مصرع درست نہیں، زندگی سی کاٹنی سے مراد۔
اس کی بجائے یوں کہو
یہ فصلِ خار ہم کو کاٹنی ہے۔
بلکہ اس کو مطلع بنایا جا سکتا ہے۔
وہ جو اک عمر ہے، آگے پڑی ہے
یا اس سے بہتر گرہ لگا کر

ہُوئے عشقِ بُتاں سے جونہی غافل
خدا کی یاد آنے لگ پڑی ہے
÷÷لگ پڑی!! اچھا نہیں
خدا کی یاد کچھ آنے لگی ہے
خدا کی یاد سی کچھ آ رہی ہے
وغیرہ کر دو

ہزاروں بار آہیں بھر چُکے ہیں
کہاں اُس سنگ دل نے اِک سُنی ہے
÷÷پہلے مصرع میں فریاد لا سکو تو بہتر ہو گا۔

خُدا جانے ہماری آخرت کو
ہماری ابتدا میں بے کسی ہے
÷÷یہ شعر نکال ہی دو۔

عظیم اِس درد میں لذت ہے کیسی
عظیم اِس میں یہ کیسی چاشنی ہے
درست
مختصر یہ کہ اس میں مجرد قوافی ہونے کی وجہ سے تمہارے ایسے زود گو کے لئے پچاس شعر کہنا بھی مشکل نہیں۔ ڈھیروں کہو، پھر ان میں سے کچھ نکال دو، خود تنقیدی کر کے۔ اور یوں بھی تبدیلی کرنا بہت آسان ہے۔ مجرد قوافی اور آسان ردیف کی وجہ سے۔
 

عظیم

محفلین
باقی تو درست ہیں اشعار
پوچھتا پھر رہا ہُوں دنیا سے
ایک انسان ہُوں کہاں جاؤں
۔۔دوسرا مصرع
میں جو انسان ہوں÷÷÷ کیسا رہے گا؟

اہلِ ظاہر تلاش کرلیں گے
اپنی پہچان ہُوں کہاں جاؤں
÷÷واضح نہیں، یوں بھی تصوف کے اشعار مری سمجھ میں نہیں آتے۔

اے مرے جسم آہ مَیں تُجھ سے
جا چُکی جان ہُوں کہاں جاؤں
÷÷دوسرا مصرع عدم روانی کا بری طرح شکار ہے۔ جا چکی جان ہوں، گرامر کی رو سے بے معنی ہے۔


جی بابا : )
 

عظیم

محفلین
سخت حیران ہُوں کہاں جاؤں
مَیں پریشان ہُوں کہاں جاؤں

پوچھتا پھر رہا ہُوں دنیا سے
تُم سا انسان ہُوں کہاں جاؤں

جانتا ہُوں فنِ عزاداری
اور ثنا خوان ہُوں کہاں جاؤں

اُٹھ کے حیرت کدہء عالم سے
پل کا مہمان ہُوں کہاں جاؤں

اے نگہ ناز آہ میں خُود پر
اب پشیمان ہُوں کہاں جاؤں

دیدہ و دِل دماغ و عقلِ عام
آخر انجان ہُوں کہاں جاؤں

اے شبِ ہجر کی سیاہی مَیں
اُس پہ قربان ہُوں کہاں جاؤں

صاحبِ علم غافِلوں میں ہُوں
اور نادان ہُوں کہاں جاؤں


بابا میری اصلاح فرمائیے
 
آخری تدوین:

عظیم

محفلین
باقی تو درست ہیں اشعار
پوچھتا پھر رہا ہُوں دنیا سے
ایک انسان ہُوں کہاں جاؤں
۔۔دوسرا مصرع
میں جو انسان ہوں÷÷÷ کیسا رہے گا؟

اہلِ ظاہر تلاش کرلیں گے
اپنی پہچان ہُوں کہاں جاؤں
÷÷واضح نہیں، یوں بھی تصوف کے اشعار مری سمجھ میں نہیں آتے۔

ہاہا ۔۔

اے مرے جسم آہ مَیں تُجھ سے
جا چُکی جان ہُوں کہاں جاؤں
÷÷دوسرا مصرع عدم روانی کا بری طرح شکار ہے۔ جا چکی جان ہوں، گرامر کی رو سے بے معنی ہے۔
 

عظیم

محفلین
زمانے سے پرائے ہو گئے ہیں
ہم اُس کی دُھن میں ایسے کھو گئے ہیں

نہیں آنکھوں میں اب تک نیند اُتری
فلک پر چاند تارے سو گئے ہیں

ہمیں ڈھونڈیں گی دُنیا کی نگاہیں
ہم اپنے آپ میں یُوں کھو گئے ہیں

نہ جانے آسماں کیا ظلم ڈھائے
زمیں زادے جو ظالم ہو گئے ہیں

جو آئے تھے ہمیں ہنسنا سِکھانے
ہمیں سے وہ لپٹ کر رو گئے ہیں

کدھر جائیں گے کوئی اُن سے پُوچھے
تُمہارے در سے اُٹھ کر جو گئے ہیں

وہ، صاحب جو کبھی مخدوم تھے اب
وہی حاکم ہمارے ہو گئے ہیں
 
آخری تدوین:

الف عین

لائبریرین
پہلے یہ

سخت حیران ہُوں کہاں جاؤں
مَیں پریشان ہُوں کہاں جاؤں

پوچھتا پھر رہا ہُوں دنیا سے
تُم سا انسان ہُوں کہاں جاؤں

جانتا ہُوں فنِ عزاداری
اور ثنا خوان ہُوں کہاں جاؤں
÷÷ یہ سب درست

اُٹھ کے حیرت کدہء عالم سے
پل کا مہمان ہُوں کہاں جاؤں
÷÷مفہوم کے علاوہ ’حیرت کدہء‘ کا تلفظ غلط بندھا ہے۔ حیرت کدائے’ لے طور پر باندھا گیا ہے جو غلط ہے۔
اے نگہ ناز آہ میں خُود پر
اب پشیمان ہُوں کہاں جاؤں
÷÷نگہ ناز درست نہیں بندھا۔ اس کو یوں کہو تو بات بنے، اور ’آہ‘ کے بھرتی لفظ سے بھی نجات حاصل ہو
نگہِ ناز تجھ سے کیا پردہ
خود پشیمان ہوں
یاخود سے شرمندہ ہوں کہاں جاؤں

دیدہ و دِل دماغ و عقلِ عام
آخر انجان ہُوں کہاں جاؤں
÷÷یہ بھی میرے اوپر سے نکل گیا، اپنے بابا کو کیا جنات سمجھتے ہو جو تمہارے اندر کی بات سمجھ لوں؟

اے شبِ ہجر کی سیاہی مَیں
اُس پہ قربان ہُوں کہاں جاؤں
۔÷÷سیاہی کے بعد کوما ضروری ہے۔ ٹھیک ہے شعر
صاحبِ علم غافِلوں میں ہُوں
اور نادان ہُوں کہاں جاؤں
درست
 

الف عین

لائبریرین
زمانے سے پرائے ہو گئے ہیں
ہم اُس کی دُھن میں ایسے کھو گئے ہیں
۔۔درست

نہیں آنکھوں میں اب تک نیند اُتری
فلک پر چاند تارے سو گئے ہیں
÷÷بہتر روانی کی خاطر
نہیں آئی ہے نیند آنکھوں میں اب تک

ہمیں ڈھونڈیں گی دُنیا کی نگاہیں
ہم اپنے آپ میں یُوں کھو گئے ہیں
÷÷یہ مطلع کی ہی ایک اور شکل لگتی ہے نا!!

نہ جانے آسماں کیا ظلم ڈھائے
زمیں زادے جو ظالم ہو گئے ہیں
÷÷درست

جو آئے تھے ہمیں ہنسنا سِکھانے
ہمیں سے وہ لپٹ کر رو گئے ہیں
÷÷رو گئے ہیں؟؟

کدھر جائیں گے کوئی اُن سے پُوچھے
تُمہارے در سے اُٹھ کر جو گئے ہیں
÷÷درست

وہ، صاحب جو کبھی مخدوم تھے اب
وہی حاکم ہمارے ہو گئے ہیں
درست
اب بہت بہتری آ گئی ہے ماشاء اللہ
 

عظیم

محفلین

دل گنوایا ہے جاں گنوائیں گے
عشق میں ہم یہ کر دکھائیں گے

کب تلک راہ میں پھریں ، بھٹکے
ہم بھی اپنا مقام پائیں گے

روٹھ جائیں گے ہم زمانے سے
اب زمانے ہمیں منائیں گے

تُم رقیبوں سے کہنا اے قاصد
ہم بھی اُن کے حضور جائیں گے

اور کب تک پیئں گے اپنے اشک
اور کب تک نہ مسکرائیں گے

ہم کو اپنی تلاش ہے یارو
دیکھنا یار ڈھونڈ لائیں گے

ہم ، عظیم اِس طرح کریں گے بین
دُنیا والوں کو سنگ رُلائیں گے


 
آخری تدوین:

عظیم

محفلین
اُن کے بارے میں کُچھ کہا کیجئے
جب کبھی ہم سے آ ملا کیجئے

درد حد سے گُزر گیا اب تو
اِن مریضوں کی کُچھ دوا کیجئے

ہم نے مانا جناب سچے ہیں
پر ہماری بھی کُچھ سنا کیجئے

بھاگ نکلے ہیں ہم جفاؤں سے
اور وفاؤں میں ہیں دُعا کیجئے

ڈھونڈئیے تب کسی خُدا کو آپ
جب کسی غیر سے ملا کیجئے

بتکدوں میں عظیم ایسے مت
آپ صاحب خُدا خُدا کیجئے
 

سید فصیح احمد

لائبریرین
حضرت معلوم نہیں تکنیکی قباحتیں موجود ہیں یا نہیں ،، مجھے گہرائی میں علم نہیں ،، مگر کیا ہی لکھتے ہیں مکرمی ! ،،، بہت سی داد !!
ہمیں معنی سے مطلب ہے تو میاں ۔۔ ،،
؎
بتکدوں میں عظیم ایسے مت
آپ صاحب خُدا خُدا کیجئے

کمال ہی کمال ہے :) :)
 

عظیم

محفلین
حضرت معلوم نہیں تکنیکی قباحتیں موجود ہیں یا نہیں ،، مجھے گہرائی میں علم نہیں ،، مگر کیا ہی لکھتے ہیں مکرمی ! ،،، بہت سی داد !!
ہمیں معنی سے مطلب ہے تو میاں ۔۔ ،،
؎
بتکدوں میں عظیم ایسے مت
آپ صاحب خُدا خُدا کیجئے

کمال ہی کمال ہے :) :)

حضرت کون میرے بھائی ؟ نام سے پکار لیا کیجئے
دعائیں
 
Top