عظیم کی شاعری برائے اصلاح و تنقید و تبصرہ

عظیم

محفلین
پہلے ہم کو بھا گیئں سنسار کی رعنائیاں
پھر ہمیں بس راس آئیں دشت سی تنہائیاں

جب تمنا تھی کسی کی زلف کے ہوتے اسیر
تب زمانے میں فقط ہم کو ملی رسوائیاں

کوئی پوچھے یہ تو بلبل سے وہ نغمہ درد کا
کیوں سنائے اب تو بجتی بھی نہیں شہنائیاں

ہائے طرزِ زندگی نے موت کا بدلا نظام
لوگ چھپتے ہیں جہاں دکھنے لگیں پرچھائیاں

اور تو کوئی ہمارا فرض ہم کو یاد نہ
سب بھلا کر رات بیٹھے کی سُخن آرائیاں

تجھ سے اپنا ساتھ کتنا ہے ہمیں معلوم یہ
اس گھڑی کا بس کہ جس میں تُو نہ لے انگڑائیاں

یاد مدت بعد آیا تھا جو لمحے بھر کا کھیل
ہم عظیم اتنے نہیں تھے جتنی تھیں گہرائیاں
 

الف عین

لائبریرین
دو بحور کا خوبصورت امتزاج۔۔ یہ درست ہے یا نہیں، یہ مزمل شیخ بسمل کہہ سکتے ہیں۔ مجھے اس کی بحر کے افاعیل یہ لگے ہیں
متفاعلن فعولن مفعول فاعلاتن۔ مستعمل بحور میں یا تو متفاعلن فعولن دو بار ہوتا ہے، یا مفعول فاعلاتن دو بار۔
 

عظیم

محفلین
آپ تمام ساتھیوں کا تہِ دل سے شکر گزار ہوں کہ جنہوں نے میری اس کاوش کو سراہا اور میری ہمت افزائی کی
دعائیں
 
دو بحور کا خوبصورت امتزاج۔۔ یہ درست ہے یا نہیں، یہ مزمل شیخ بسمل کہہ سکتے ہیں۔ مجھے اس کی بحر کے افاعیل یہ لگے ہیں
متفاعلن فعولن مفعول فاعلاتن۔ مستعمل بحور میں یا تو متفاعلن فعولن دو بار ہوتا ہے، یا مفعول فاعلاتن دو بار۔


بالکل درست ہے استاد محترم۔
غور کریں تو یہ دو نہیں ایک ہی بحر ہے۔
رمل مکفوف:
فعِلاتُ فاعلاتن فعِلاتُ فاعلاتن

فعلات میں مسلسل تین متحرک حروف میں درمیان والے کو تسکین اوسط کے ذریعے ساکن کرنے کی اجازت ہوتی ہے۔ اس لئے یہ فعِلاتُ کا عین ساکن ہوکر فعلاتُ بوزن مفعولُ بن جاتا ہے۔ اس لئے یہ ایک ہی بحر ہے۔

یا پھر بحر کامل مخلع مسکن میں بھی تقطیع ممکن ہے۔ اور وہاں بھی یہ ایک ہی بحر ہے:
متفاعلن فعولن مستفعلُن فعولن
متفاعلن سے ت تسکینِ اوسط یا اضمار سے ساکن ہوا تو مستفعلن بن گیا۔
لیکن یہاں خلع کے زحاف کے استعمال کی اجازت نہیں اس لئے حقیقی تقطیع اوپر والی بحر یعنی رمل مکفوف میں ہوگی۔ یہ تقطیع غیر حقیقی ہے۔۔
 

عظیم

محفلین
اِن خیالوں کے سمندرمیں روانی ڈھونڈئیے
جایئے جا کرگھٹاؤں کا بھی پانی ڈھونڈیئے
اُس طرف جو پھر گیا وہ لوٹ کر آیا نہیں
عشق کی دہلیز پر نہ اب جوانی ڈھونڈیئے
ذرا ذرا جس کے ہونے کی گواہی دے جہاں
مانیئے میری وہیں پر وہ نشانی ڈھونڈیئے
کچھ مجھےمعلوم نہ میں کون ہوں کس واسطے
آیئے اب آپ ہی میری کہانی ڈھونڈئیے
میں تو آیا ہوں یہاں پر موت اپنی ڈھونڈنے
آپ کو مل جائے گر تو زندگانی ڈھونڈیئے
سادگی اتنی مری تحریر میں کس واسطے
کیا سنائی دے رہا میری زبانی ڈھونڈیئے
آگئی اپنے خیالوں پر مجھے تو اب ہنسی
کیا لگا رکھا ہے کب سے ڈھونڈئیے جی ڈھونڈئیے
ہم عظیم اُس کے سوالی ہیں جہاں سے آج تک
کوئی لیکر آ گیا جھولی جو خالی ڈھونڈیئے
 
اور تو کوئی ہمارا فرض ہم کو یاد نہ
سب بھلا کر رات بیٹھے کی سُخن آرائیاں

یاد مدت بعد آیا تھا جو لمحے بھر کا کھیل
ہم عظیم اتنے نہیں تھے جتنی تھیں گہرائیاں

عمدہ! امید ہے عظیم صاحب ایک دن عظیم غزلیں لکھیں۔ ویسے ایک نظر اس پر پڑی ہے:
اور تو کوئی ہمارا فرض ہم کو یاد نہ
یہاں نہ کا استعمال اچھا نہیں۔ جیتے رہیں۔​
 

الف عین

لائبریرین
رعنائیاں اور دشت کی پہنائیں کے ساتھ سنسار کا استعمال اچھا نہیں لگ رہا۔ یہاں ’دنیا‘ ہی کر دیں، کچھ رد و بدل کر کے۔
محتشم ی بات کے علاوہ یہ مصرع بھی روانی چاہتا ہے
یاد مدت بعد آیا تھا جو لمحے بھر کا کھیل

بعد اک مدت کے یاد آیا تھا لمحے بھر کا کھیل
کیا جا سکتا ہے

یہاں بھی ’یہ‘ پر ختم مصرع اچھا نہیں لگ رہا
تجھ سے اپنا ساتھ کتنا ہے ہمیں معلوم یہ

نہ بطور دو حرفی دونوں غزلوں میں کئی جگہ استعمال کیا گیا ہے۔ جو اچھا نہیں لگتا۔ بلکہ میں تو غلط ہی مانتا ہوں ۔ کہ اور نہ کا اس طرح استعمال
 

عظیم

محفلین
ہم نے کب تم سے کہا تھادل سے اپنا مان لو
تھی مگر اتنی گزارش دیکھ کر پہچان لو

چال کوئی اور تھی پرہو گیا ہے اور کچھ
غم تمہارا زندگی دے تم ہماری جان لو

بے رخی دنیا کی ہم کو ہے گوارا یار پر
کس طرح کر لیں گوارا تم جو پردہ تان لو

جس گھڑی ہم عاشقوں کو رخ دکھے دلدار کا
اُس گھڑی میں ہم بتا دیتے ہیں صدیاں جان لو

اب جتائے گر نہ تم کو پھر بتادو کیا کرے
کس نے تم سے یہ کہا تھا غیر کا احسان لو

اے ہمارے حاکموں اِس حکم کی تکمیل ہو
چھوڑ دو دستور اپنے ہاتھ میں قرآن لو

ہم کو لوٹا دو ہمارےقہقہے تم سب عظیم
ورنہ ہم سے چھین بھی یہ آخری مسکان لو
 
آخری تدوین:

عظیم

محفلین
تیرگی میں ڈوب جائیں جب سویرے کیا کریں
بخت میں اپنے اُجالے اب اندھیرے کیا کریں

آنے والی ہے قضا اب تو ہمارے نام کی
لوٹ کر سانسوں کو اپنی اب لٹیرے کیا کریں

کچھ نہیں اب تو ہمارے پاس آ کر دیکھ لو
جان اپنی بھی نہیں ہے نام تیرے کیا کریں

باپ کی شفقت نہ ممتا کی ملی آغوش جب
غیر کے در پر نہ ماریں گر جو پھیرے کیا کریں

یاد اب تک ہے ہمیں اِک بار بولا تھا عظیم
نیک نیت ہی نہیں اعمال میرے کیا کریں

 
آخری تدوین:

عظیم

محفلین
خُدارا مرا دامَنِ دل چھُڑا دو تُم اپنی وفاوں کی اِن الجھنوں سے
مرے دل کا پیمانہ بھرنے لگا ہے تمہاری محبت بھری نفرتوں سے

کسی کو خبر ہی نہیں ہے کسی کی کسی دل میں اب تک کئی دھڑکنیں ہیں
کسی کو یہ سوجھے کسی کو وہ بھیجے کوئی لکھ کہ پیغام اِن دھڑکنوں سے

یہ بھٹکے ہوئے کچھ ستارے خدایا مجھے راستہ اب دکھائیں گے کیسے
تری جستجو لے چلا ہوں میں گھر سے ملیں گے مجھے راستے راستوں سے

گلستاں میں میرے اُگے ہیں شرارے مجھے خوف کوئی خزاوں کا کیوں ہو
بدلنا ہے فطرت بدل جاو تم بھی یہ کہہ دونگا اپنے سبھی موسموں سے

نشے میں ہوں لیکن یہ مجھ کو خبر ہے کہ اے حسنِ ساقی تجھی پر نظر ہے
تجھے کچھ خبر ہے پلا دے اگر تُو نشہ مر کے اُترے گا پھر مے کشوں سے

عظیم اُس سے کہہ دو دعا میں نہ مانگے تمہارے لیئے اب بہاروں کے موسم
وہ پچھلی بہاروں میں دیکھا تھا جس نے اٹھا تھا دھواں جب تیرے گلشنوں سے
 
آخری تدوین:

الف عین

لائبریرین
اچھی غزل ہے عظیم۔ لبتہ ردیف میں جمع کے صیغے کا استعمال ہے، جو ہر جگہ درست نہیں۔
’مر کے‘ کو ’مر کہ‘ لکھا گیا ہے، اور مطلع میں ہی |’مرا‘ کو ’میرا‘
 

عظیم

محفلین
جی بہتر حضور آئندہ خیال رہے گا
ہمت افزائی کےلیئے شکر گزار ہوں
اللہ سبحان و تعالی آپ کے علم میں مزید اضافہ فرمائے
آمین
 
بہت خوب غل ہے میاں۔ استاد محترم نشان دہی فرما چکے ہیں۔
جب کبھی حضور قوافی جمع کے سیغے میں باندھیں تو اس بات کا خیال رکھیں کہ ان کے واحد کے سیغے آپس میں قوافی ہوں۔
بطورِ مثال
دیوانوں اور ارمانوں کو قوافی تسلیم نہیں کیا جا سکتا۔ کیوں کہ انکے واحد دیوانہ اور ارمان ہیں جو کہ قوافی نہیں۔
آپ کی غزل میں الجھن، دھڑکن اور گلشن والے قوافی درست ہیں۔
امید ہے یہ باتیں درست ہوں گی۔ ورنہ اساتذہ ضرور نشاندہی کریں کہ اس میں ہماری اصلاح بھی مضمر ہے۔
 

عظیم

محفلین


اے غمِ ہجراں ذرا سا چین کھونے دے مجھے
میں کہیں پتھر نہ ہوجاوں تُو رونے دے مجھے

دل پہ جاناں اپنے مجھ کو کچھ نہیں ہے اختیار
میں ترا ہو جاوں پہلے اپنا ہونے دے مجھے

عشق ہے وحشت کوئی مجھ کو ترے غم سے نہیں
تیرے غم میں ہار اشکوں سے پرونے دے مجھے

دشت گر ہے دل مرے پھر گل تو گلشن بھی نہیں
چھوڑ گلشن دشت ہی میں بیج بونے دے مجھے

اُس اذیت سے تو اچھا ہے مہرباں یہ سکوں
اے مرے غم خار غم کا بھار ڈھونے دے مجھے

اب عظیم اُس کو تمہاری یاد تک آتی نہیں
جس پہ تم الزام دھرتے ہو نہ سونے دےمجھے
 
آخری تدوین:
Top