عشق کاجام سرِ عام پیا جاتا ہے

صابرہ امین

لائبریرین
معزز استادِ محترم الف عین ، ظہیراحمدظہیر
محمد خلیل الرحمٰن ، سید عاطف علی
@محمّد احسن سمیع :راحل:بھائ

آداب
آپ کی خدمت میں ایک غزل حاضر ہے۔ آپ سے اصلاح و راہنمائ کی درخواست ہے ۔ ۔



بےرخی کا ہمیں الزام دیا جاتا ہے
بن تمہارے بھی بھلا ہم سے جیا جاتا ہے

ہم نے تو گاڑ دیے عشق کے جھنڈے ہر سو
اس لیے نام ہمارا ہی لیا جاتا ہے

طاقِ نسیان میں موجود ہیں اب عشق کے داغ
ایسے زخموں کو بس ایسے ہی سیا جاتا ہے

اپنی سوچوں میں ہی گم رہنا، مقدر اپنا
صبح تا شام یہی کام کیا جاتا ہے

وہ لگاتے رہیں چرکے ہمیں غم ہو کیونکر
زہر کا گھونٹ تو ہنس ہنس کے پیا جاتا ہے

اس نے چپکے سے مری پیٹھ میں خنجر مارا
دوستی میں بھلا ایسا بھی کیا جاتا ہے

مسلکِ عشق میں رسوائی کا درجہ ہے بڑا
عشق کی مے کو سرِ عام پیا جاتا ہے
 
ہماری صلاح

طاقِ نسیان میں موجود ہیں اب عشق کے داغ
ایسے زخموں کو بس ایسے ہی سیا جاتا ہے
یہاں طاقِ نسیاں آنا چاہیے۔ مصرع دوبارہ کہیے

اس نے چپکے سے مری پیٹھ میں خنجر مارا
دوستی میں بھلا ایسا بھی کیا جاتا ہ
خنجر گھونپا کردیجیے

مسلکِ عشق میں رسوائی کا درجہ ہے بڑا
عشق کی مے کو سرِ عام پیا جاتا ہے
عشق کی جام سرِ عام پیا جاتا ہے

وہ لگاتے رہیں چرکے ہمیں غم ہو کیونکر
زہر کا گھونٹ تو ہنس ہنس کے پیا جاتا ہے

چرکے کو گھاؤ کردیجیے
 

الف عین

لائبریرین
بےرخی کا ہمیں الزام دیا جاتا ہے
بن تمہارے بھی بھلا ہم سے جیا جاتا ہے
... ویسے درست ہے لیکن دوسرے
مصرع میں بھی غائب کا صیغہ ہو تو ذرا لطف بڑھ جاتا ہے میرے خیال میں
اس کے بن بھی کیا بھلا ہم سے جیا....

ہم نے تو گاڑ دیے عشق کے جھنڈے ہر سو
اس لیے نام ہمارا ہی لیا جاتا ہے
.. درست

طاقِ نسیان میں موجود ہیں اب عشق کے داغ
ایسے زخموں کو بس ایسے ہی سیا جاتا ہے
... کیسے سیا جاتا ہے، یہ واضح نہیں۔ خلیل میاں نے نسیاں استعمال کرنے کا صائب مشورہ دیا ہے
طاق نسیاں میں رکھے جاتے ہیں سب عشق کے داغ
فوری جو مصرع ذہن میں آیا ہے، جس سے کچھ ربط مضبوط بن سکتا ہے

اپنی سوچوں میں ہی گم رہنا، مقدر اپنا
صبح تا شام یہی کام کیا جاتا ہے
... ہے' کی کمی کھٹکتی ہے
.... ہے قسمت اپنی
کیا جا سکتا ہے

وہ لگاتے رہیں چرکے ہمیں غم ہو کیونکر
زہر کا گھونٹ تو ہنس ہنس کے پیا جاتا ہے
... گھاؤ بھی اچھا نہیں لگا، اس سے تو چرکے ہی بہتر ہے، یا زخم لانے کی کوشش کرو
جیسے
زخم پر زخم لگائیں وہ، ہمیں درد نہ ہو

اس نے چپکے سے مری پیٹھ میں خنجر مارا
دوستی میں بھلا ایسا بھی کیا جاتا ہے
... خنجر کا پیوست ہونا سب سے بہتر ہے،. گھونپا کرخت محسوس ہوتا ہے، محاورہ بھی چاقو گھونپنا ہے،
فوری یہ ذہن میں آیا ہے اس نے چپکے سے کیا پیٹھ میں خنجر پیوست
اگرچہ 'میری پیٹھ' نہیں اس میں

مسلکِ عشق میں رسوائی کا درجہ ہے بڑا
عشق کی مے کو سرِ عام پیا جاتا ہے
.. عشق کا جام.... درست مشورہ ہے بھائی خلیل کا
 

صابرہ امین

لائبریرین
آپ کی اور خلیل بھائی کی رہنمائی کی روشنی میں مندرجہ ذیل تبدیلیاں ملاحظہ کیجیے ۔


بےرخی کا ہمیں الزام دیا جاتا ہے
بن تمہارے بھی بھلا ہم سے جیا جاتا ہے
... ویسے درست ہے لیکن دوسرے
مصرع میں بھی غائب کا صیغہ ہو تو ذرا لطف بڑھ جاتا ہے میرے خیال میں
اس کے بن بھی کیا بھلا ہم سے جیا....
دیکھیے ۔

بےرخی کا ہمیں الزام دیا جاتا ہے
اس کے بن بھی کیا بھلا ہم سے جیا جاتا ہے

طاقِ نسیان میں موجود ہیں اب عشق کے داغ
ایسے زخموں کو بس ایسے ہی سیا جاتا ہے
... کیسے سیا جاتا ہے، یہ واضح نہیں۔ خلیل میاں نے نسیاں استعمال کرنے کا صائب مشورہ دیا ہے
طاق نسیاں میں رکھے جاتے ہیں سب عشق کے داغ
فوری جو مصرع ذہن میں آیا ہے، جس سے کچھ ربط مضبوط بن سکتا ہے


طاقِ نسیاں میں چھپا دیتے ہیں ہم عشق کے داغ
درد کا درماں اب ایسے ہی کیا جاتا ہے


اپنی سوچوں میں ہی گم رہنا، مقدر اپنا
صبح تا شام یہی کام کیا جاتا ہے
... ہے' کی کمی کھٹکتی ہے
.... ہے قسمت اپنی
کیا جا سکتا ہے


وہ لگاتے رہیں چرکے ہمیں غم ہو کیونکر
زہر کا گھونٹ تو ہنس ہنس کے پیا جاتا ہے
... گھاؤ بھی اچھا نہیں لگا، اس سے تو چرکے ہی بہتر ہے، یا زخم لانے کی کوشش کرو
جیسے
زخم پر زخم لگائیں وہ، ہمیں درد نہ ہو
ہمیشہ کی طرح مخمصے میں مبتلا ہوں کہ کونسا مناسب رہے گا

زخم پر زخم لگائیں وہ، ہمیں درد نہ ہو
زہر کا گھونٹ تو ہنس ہنس کے پیا جاتا ہے

اس کے زخموں کا ہر ایک وار سہیں گے ہم، کہ
زہر کا گھونٹ تو ہنس ہنس کے پیا جاتا ہے

کر کے زخموں پہ نمک پاشی ہو تم کیوں حیراں
زہر کا گھونٹ تو ہنس ہنس کے پیا جاتا ہے


اس نے چپکے سے مری پیٹھ میں خنجر مارا
دوستی میں بھلا ایسا بھی کیا جاتا ہے
... خنجر کا پیوست ہونا سب سے بہتر ہے،. گھونپا کرخت محسوس ہوتا ہے، محاورہ بھی چاقو گھونپنا ہے،
فوری یہ ذہن میں آیا ہے اس نے چپکے سے کیا پیٹھ میں خنجر پیوست
اگرچہ 'میری پیٹھ' نہیں اس میں
اس نے چپکے سے کیا پیٹھ میں خنجر پیوست
دوستی میں بھلا ایسا بھی کیا جاتا ہے

یا
اس نے پیوست کیا پیٹھ میں خنجر میری
دوستی میں بھلا ایسا بھی کیا جاتا ہے


مسلکِ عشق میں رسوائی کا درجہ ہے بڑا
عشق کی مے کو سرِ عام پیا جاتا ہے
.. عشق کا جام.... درست مشورہ ہے بھائی خلیل کا
جی بہتر ۔

مسلکِ عشق میں رسوائی کا درجہ ہے بڑا
عشق کا جام سرِ عام پیا جاتا ہے
 
اچھی غزل ہے ، صابرہ امین!
ٹیگ کرکے متوجہ کرنے کا شکریہ ! خلیل بھائی اور استادِ محترم الف عین نے اکثر اشعار پر رہنمائی کردی ہے ۔ اچھے غزلیہ مضامین ہیں ۔ میں صرف اتنا کہوں گا کہ دونوں مصرعوں کو مربوط کرنے پر توجہ دیجئے ۔ ایک مثال دیکھئے ۔

زخم پر زخم لگائیں وہ، ہمیں درد نہ ہو
زہر کا گھونٹ تو ہنس ہنس کے پیا جاتا ہے
پہلا مصرع مبہم ہے ۔ یہ معلوم نہیں ہوتا کہ یہ جملہ تمنائی ہے یا بیانِ حقیقت ہے اگر بیانِ حقیقت تو یوں ہونا چاہئے کہ: زخم پر زخم لگائیں وہ ہمیں درد نہیں ہوتا ۔
ا سے یوں کر کے دیکھیے ۔
زخم پر زخم لگائیں وہ، ہمیں شکوہ نہیں
زہر کا گھونٹ تو ہنس ہنس کے پیا جاتا ہے

اسی طرح ہر شعر کی نثر بنا کر دیکھئے ۔ ربط کی کمزوری واضح ہوجائے گی ۔
طاقِ نسیاں میں چھپا دیتے ہیں ہم عشق کے داغ
درد کا درماں اب ایسے ہی کیا جاتا ہے

عشق کے داغ تو ٹھیک نہیں ہے ۔ غالباً بے وفائی کے داغ یا محبوب کے جور و ستم مراد ہیں ۔ سو جو کہنا چاہ رہی ہیں اس کے لئے مناسب الفاظ یا پیرایہ ڈھونڈیئے ۔ دوسری بات یہ کہ درماں کا الف اور نون غنہ گرایا نہیں جاسکتا ۔
اس وقت صرف اتنا ہی لکھنے کی فرصت ہے ۔ آپ مشق جاری رکھئے ۔ اگر محنت کرتی رہیں تو ایک دن آپ اچھی شاعرہ بنیں گی۔

 

صابرہ امین

لائبریرین
اچھی غزل ہے ، صابرہ امین!
ٹیگ کرکے متوجہ کرنے کا شکریہ ! خلیل بھائی اور استادِ محترم الف عین نے اکثر اشعار پر رہنمائی کردی ہے ۔ اچھے غزلیہ مضامین ہیں ۔ میں صرف اتنا کہوں گا کہ دونوں مصرعوں کو مربوط کرنے پر توجہ دیجئے ۔ ایک مثال دیکھئے ۔

زخم پر زخم لگائیں وہ، ہمیں درد نہ ہو
زہر کا گھونٹ تو ہنس ہنس کے پیا جاتا ہے
پہلا مصرع مبہم ہے ۔ یہ معلوم نہیں ہوتا کہ یہ جملہ تمنائی ہے یا بیانِ حقیقت ہے اگر بیانِ حقیقت تو یوں ہونا چاہئے کہ: زخم پر زخم لگائیں وہ ہمیں درد نہیں ہوتا ۔
ا سے یوں کر کے دیکھیے ۔
زخم پر زخم لگائیں وہ، ہمیں شکوہ نہیں
زہر کا گھونٹ تو ہنس ہنس کے پیا جاتا ہے

اسی طرح ہر شعر کی نثر بنا کر دیکھئے ۔ ربط کی کمزوری واضح ہوجائے گی ۔
طاقِ نسیاں میں چھپا دیتے ہیں ہم عشق کے داغ
درد کا درماں اب ایسے ہی کیا جاتا ہے

عشق کے داغ تو ٹھیک نہیں ہے ۔ غالباً بے وفائی کے داغ یا محبوب کے جور و ستم مراد ہیں ۔ سو جو کہنا چاہ رہی ہیں اس کے لئے مناسب الفاظ یا پیرایہ ڈھونڈیئے ۔ دوسری بات یہ کہ درماں کا الف اور نون غنہ گرایا نہیں جاسکتا ۔
اس وقت صرف اتنا ہی لکھنے کی فرصت ہے ۔ آپ مشق جاری رکھئے ۔ اگر محنت کرتی رہیں تو ایک دن آپ اچھی شاعرہ بنیں گی۔

یوریکا!
دماغ کی ایک گرہ اور کھل گئی ۔ کاش یہ سب جلد آسان ہو ۔اللہ آپ کی زبان مبارک کرے اور آپ کو جزائے خیر دے ۔ آمین
 

الف عین

لائبریرین
زخم پر زخم والا شعر ظہیر میاں نے زبردست اصلاح کر دی، بخوشی قبول کر لو

ایسے ہی سیا جاتا ہے کی بجائے درماں کیا جاتا ہے بہتر ہو سکتا تھا لیکن اسقاط کی وجہ سے درست نہیں۔ کچھ اور سوچو
خنجر پیوست والا، جو متبادل تم کو زیادہ پسند ہو، رکھا جا سکتا ہے، دونوں درست لگ رہے ہیں۔
 

صابرہ امین

لائبریرین
اچھی غزل ہے ، صابرہ امین!
ٹیگ کرکے متوجہ کرنے کا شکریہ ! خلیل بھائی اور استادِ محترم الف عین نے اکثر اشعار پر رہنمائی کردی ہے ۔ اچھے غزلیہ مضامین ہیں ۔ میں صرف اتنا کہوں گا کہ دونوں مصرعوں کو مربوط کرنے پر توجہ دیجئے ۔ ایک مثال دیکھئے ۔

زخم پر زخم لگائیں وہ، ہمیں درد نہ ہو
زہر کا گھونٹ تو ہنس ہنس کے پیا جاتا ہے
پہلا مصرع مبہم ہے ۔ یہ معلوم نہیں ہوتا کہ یہ جملہ تمنائی ہے یا بیانِ حقیقت ہے اگر بیانِ حقیقت تو یوں ہونا چاہئے کہ: زخم پر زخم لگائیں وہ ہمیں درد نہیں ہوتا ۔
ا سے یوں کر کے دیکھیے ۔
زخم پر زخم لگائیں وہ، ہمیں شکوہ نہیں
زہر کا گھونٹ تو ہنس ہنس کے پیا جاتا ہے

اسی طرح ہر شعر کی نثر بنا کر دیکھئے ۔ ربط کی کمزوری واضح ہوجائے گی ۔
طاقِ نسیاں میں چھپا دیتے ہیں ہم عشق کے داغ
درد کا درماں اب ایسے ہی کیا جاتا ہے

عشق کے داغ تو ٹھیک نہیں ہے ۔ غالباً بے وفائی کے داغ یا محبوب کے جور و ستم مراد ہیں ۔ سو جو کہنا چاہ رہی ہیں اس کے لئے مناسب الفاظ یا پیرایہ ڈھونڈیئے ۔ دوسری بات یہ کہ درماں کا الف اور نون غنہ گرایا نہیں جاسکتا ۔
اس وقت صرف اتنا ہی لکھنے کی فرصت ہے ۔ آپ مشق جاری رکھئے ۔ اگر محنت کرتی رہیں تو ایک دن آپ اچھی شاعرہ بنیں گی۔

جی تبدیلیاں کر کے حاضر ہوتی ہوں۔ شکریہ
 

صابرہ امین

لائبریرین
زخم پر زخم والا شعر ظہیر میاں نے زبردست اصلاح کر دی، بخوشی قبول کر لو

۔

جی بہتر، استادِ محترم
اب ملاحظہ کیجیے ۔

زخم پر زخم لگائیں وہ، ہمیں شکوہ نہیں
زہر کا گھونٹ تو ہنس ہنس کے پیا جاتا ہے

ایسے ہی سیا جاتا ہے کی بجائے درماں کیا جاتا ہے بہتر ہو سکتا تھا لیکن اسقاط کی وجہ سے درست نہیں۔ کچھ اور سوچو

ملاحظہ کیجیے ۔

طاقِ نسیاں میں چھپا رکھتے ہیں ہم داغِ جگر
دردِ پنہاں کو تو بس ایسے سہا جاتا ہے

خنجر پیوست والا، جو متبادل تم کو زیادہ پسند ہو، رکھا جا سکتا ہے، دونوں درست لگ رہے ہیں۔

اس نے چپکے سے کیا پیٹھ میں خنجر پیوست
دوستی میں بھلا ایسا بھی کیا جاتا ہے


ظہیر احمد ظہیر صاحب اور آپ سے یہ سمجھنا چاہتی ہوں کہ درماں کا "ا "اور "ں " کیوں نہیں گرایا جاتا تاکہ ہمیشہ کے لیے کنفیوژن دور ہو جائے ۔

طاقِ نسیاں میں چھپا رکھتے ہیں ہم داغِ جگر
درد کا درماں تو ایسے ہی کیا جاتا ہے

یہ تقطیع کیوں ٹھیک نہیں ہے ؟

طا قِ نس یا مِ چ پا رک تِ ہ ہم دا غِ جِ گَر

در د کا در مَ تُ ای سے ہِ ک یا جا تا ہے


شکریہ ۔
 

الف عین

لائبریرین
دردِ پنہاں کو تو بس ایسے سہا جاتا ہے
کو
دردِ پنہاں کو تو بس یونہی سہا جاتا ہے
کر دیں تو؟
فارسی اور عربی الفاظ میں آخری حرف علت کے اسقاط کی ثقہ عروضی اجازت نہیں دیتے۔ ں تو ویسے ہی تقطیع نہیں کیا جاتا، درماں کے الف کا اسقاط ہو رہا ہے یہاں۔ جو مجھے قبول تھا لیکن عروضی طور پر عزیزی ظہیراحمدظہیر بھی غلط نہیں تھے۔
 

صابرہ امین

لائبریرین
دردِ پنہاں کو تو بس ایسے سہا جاتا ہے
کو
دردِ پنہاں کو تو بس یونہی سہا جاتا ہے
کر دیں تو؟
فارسی اور عربی الفاظ میں آخری حرف علت کے اسقاط کی ثقہ عروضی اجازت نہیں دیتے۔ ں تو ویسے ہی تقطیع نہیں کیا جاتا، درماں کے الف کا اسقاط ہو رہا ہے یہاں۔ جو مجھے قبول تھا لیکن عروضی طور پر عزیزی ظہیراحمدظہیر بھی غلط نہیں تھے۔
بہت بہت شکریہ استادِ محترم ۔ اللہ آپ کو جزائے خیر دے ۔ آمین
 

صابرہ امین

لائبریرین
معزز استادِ محترم الف عین ، محترم ظہیراحمدظہیر
محترم محمد خلیل الرحمٰن

میں آپنی غزل کو سنوارنے اور نکھارنے پر آپ کی شکرگذار ہوں ۔ آپ سب کی قیمتی اصلاح کی روشنی میں مندرجہ ذیل تبدیلیاں کی ہیں ۔ آپ سے نظرِ ثانی کی درخواست ہے ۔



بےرخی کا ہمیں الزام دیا جاتا ہے
اس کے بن بھی کیا بھلا ہم سےجیا جاتا ہے

ہم نے تو گاڑ دیے عشق کے جھنڈے ہر سو
اس لیے نام ہمارا ہی لیا جاتا ہے

طاقِ نسیاں میں چھپا رکھتے ہیں ہم داغِ جگر
دردِ پنہاں کو تو بس یونہی سہا جاتا ہے

اپنی سوچوں میں ہی گم رہنا ہے قسمت اپنی
صبح تا شام یہی کام کیا جاتا ہے

زخم پر زخم لگائیں وہ، ہمیں شکوہ نہیں
زہر کا گھونٹ تو ہنس ہنس کے پیا جاتا ہے

اس نے چپکے سے کیا پیٹھ میں خنجر پیوست
دوستی میں بھلا ایسا بھی کیا جاتا ہے

مسلکِ عشق میں رسوائی کا درجہ ہے بڑا
عشق کا جام سرِ عام پیا جاتا ہے
 
ظہیر احمد ظہیر صاحب اور آپ سے یہ سمجھنا چاہتی ہوں کہ درماں کا "ا "اور "ں " کیوں نہیں گرایا جاتا تاکہ ہمیشہ کے لیے کنفیوژن دور ہو جائے ۔
فارسی اور عربی الفاظ میں آخری حرف علت کے اسقاط کی ثقہ عروضی اجازت نہیں دیتے۔ ں تو ویسے ہی تقطیع نہیں کیا جاتا، درماں کے الف کا اسقاط ہو رہا ہے یہاں۔ جو مجھے قبول تھا لیکن عروضی طور پر عزیزی ظہیراحمدظہیر بھی غلط نہیں تھے۔
تفصیلاً لکھنے کی تو فرصت نہیں ہے اس وقت ۔ اسقاطِ الف کے موضوع پر کئی دھاگوں میں متعدد بار لکھا جاچکا ہے اور امید ہے کہ تلاش کرنے پر مل جائے گا۔ بہتر ہے کہ آپ عروض کی کوئی بنیادی کتاب ساتھ رکھیں اور ضرورت پڑنے پر اس سے رجوع کریں۔ بنیادی مسائل پر رجوع کرنے کے لئے کتاب بہترین ذریعہ ہے کہ اس میں تفصیل سے باتیں درج ہوتی ہیں ۔ ۔ یہ مطالعہ آپ کے بہت کام آئے گا۔
اس وقت مختصراً یہ جان لیجئے کہ جب کسی لفظ کے آخر سے الف گرایا جاتا ہے تو دراصل اسے زبر کی حرکت میں بدل دیا جاتا ہے۔ یعنی الف کی حرکت جو دو یا ڈھائی زبروں کے برابر طویل ہوتی ہے اسے گھٹا کر ایک زبر کے برابر کردیا جاتا ہے ۔ اسی کو الف گرانا یا الف دبانا کہتے ہیں۔ مثلاً "میرا فیصلہ" کو" مے ۔ رَفیصلہ" کردیا جاتا ہے۔ اس طرح کرنے سے لفظ صوتی طور پر مسخ نہیں ہوتا اور مصرع کی ادائیگی اور روانی پر عموماً کوئی فرق نہیں پڑتا ۔ اگر لفظ "اں" پر ختم ہورہا ہو تو اس صورت میں الف اور نون غنہ بیک وقت گرانے سے ادائیگی اور روانی متاثر ہوتی ہے ۔
مثلاً " کہاں جاؤں" کو " کہَجاؤں" پڑھنا نسبتاً مشکل ہوتا ہے ۔
دوسری بات یہ کہ عروضی اصول اور شعری روایات کے تحت عربی اور فارسی الفاظ کے آخر سے الف نہیں گرایا جاسکتا ۔ یہ اجازت صرف ہندی اور اردو لفظوں کے لئے مخصوص ہے۔ (کیوں کی وضاحت کے لئے تفصیل درکار ہوگی۔)
تیسری بات یہ کہ درماں دراصل درمان کی متغیر شکل ہے۔ سو درماں کے لفظ کو نون غنہ کے ساتھ پوری طرح ادا کرنا ضروری ہے۔ اس کو "درمَ" بنا کر اس کی صوتی شکل کو مسخ نہیں کیا جاسکتا۔ ایسا کرنے سے مصرع کی قرآت اور روانی بری طرح متاثر ہوگی۔
 

محمد عبدالرؤوف

لائبریرین
بےرخی کا ہمیں الزام دیا جاتا ہے
اس کے بن بھی کیا بھلا ہم سےجیا جاتا ہے

طاقِ نسیاں میں چھپا رکھتے ہیں ہم داغِ جگر
دردِ پنہاں کو تو بس یونہی سہا جاتا ہے

پہلے مصرع میں "کیا" وزن میں نہیں آ رہا، دوسرے مصرع میں "ہیں ہم" میں تنافر ہے
 

الف عین

لائبریرین
پہلے مصرع میں "کیا" وزن میں نہیں آ رہا، دوسرے مصرع میں "ہیں ہم" میں تنافر ہے
کیا کو ک تقطیع کرنا درست ہے، اس کی ی تو ویسے بھی تقطیع میں آتی ہی نہیں، صرف الف کا اسقاط ہے جو گوارا ہے۔
ہاں، 'ہیں ہم' میں تنافر کی بات سے متفق ہوں
 

صابرہ امین

لائبریرین
تفصیلاً لکھنے کی تو فرصت نہیں ہے اس وقت ۔ اسقاطِ الف کے موضوع پر کئی دھاگوں میں متعدد بار لکھا جاچکا ہے اور امید ہے کہ تلاش کرنے پر مل جائے گا۔ بہتر ہے کہ آپ عروض کی کوئی بنیادی کتاب ساتھ رکھیں اور ضرورت پڑنے پر اس سے رجوع کریں۔ بنیادی مسائل پر رجوع کرنے کے لئے کتاب بہترین ذریعہ ہے کہ اس میں تفصیل سے باتیں درج ہوتی ہیں ۔ ۔ یہ مطالعہ آپ کے بہت کام آئے گا۔
اس وقت مختصراً یہ جان لیجئے کہ جب کسی لفظ کے آخر سے الف گرایا جاتا ہے تو دراصل اسے زبر کی حرکت میں بدل دیا جاتا ہے۔ یعنی الف کی حرکت جو دو یا ڈھائی زبروں کے برابر طویل ہوتی ہے اسے گھٹا کر ایک زبر کے برابر کردیا جاتا ہے ۔ اسی کو الف گرانا یا الف دبانا کہتے ہیں۔ مثلاً "میرا فیصلہ" کو" مے ۔ رَفیصلہ" کردیا جاتا ہے۔ اس طرح کرنے سے لفظ صوتی طور پر مسخ نہیں ہوتا اور مصرع کی ادائیگی اور روانی پر عموماً کوئی فرق نہیں پڑتا ۔ اگر لفظ "اں" پر ختم ہورہا ہو تو اس صورت میں الف اور نون غنہ بیک وقت گرانے سے ادائیگی اور روانی متاثر ہوتی ہے ۔
مثلاً " کہاں جاؤں" کو " کہَجاؤں" پڑھنا نسبتاً مشکل ہوتا ہے ۔
دوسری بات یہ کہ عروضی اصول اور شعری روایات کے تحت عربی اور فارسی الفاظ کے آخر سے الف نہیں گرایا جاسکتا ۔ یہ اجازت صرف ہندی اور اردو لفظوں کے لئے مخصوص ہے۔ (کیوں کی وضاحت کے لئے تفصیل درکار ہوگی۔)
تیسری بات یہ کہ درماں دراصل درمان کی متغیر شکل ہے۔ سو درماں کے لفظ کو نون غنہ کے ساتھ پوری طرح ادا کرنا ضروری ہے۔ اس کو "درمَ" بنا کر اس کی صوتی شکل کو مسخ نہیں کیا جاسکتا۔ ایسا کرنے سے مصرع کی قرآت اور روانی بری طرح متاثر ہوگی۔
جی تمام باتوں پر عمل کرتی ہوں ۔ یعنی
عروض کی کتاب کا وقتا فوقتا مطالعہ
متعلقہ لڑیوں کی تلاش ۔ ان شاء اللہ
بے حد شکریہ
 
Top