عدت کے دوران نکاح غیر قانونی نہیں،بے قاعدہ ہے، ماہرین

459187_5122766_updates.jpg

ماہرین قانون کا کہنا ہے کہ مسلم فیملی لاز میں عدت کے دوران نکاح کو جرم قرار نہیں دیا گیا اور نہ ہی اسے غیر قانونی قرار دے کر اس کیلئے کوئی سزا مقرر ہے تاہم اسے بے قاعدہ یا بے ضابطہ کہا جاسکتا ہے۔
لاہور ہائیکورٹ کی سابق جج ناصرہ جاوید اقبال نے کہا کہ علماء کا اپنا موقف ہے تاہم عدت کے دوران نکاح حرام نہیں ہے بلکہ یہ بے قاعدہ ہے اور ایسی صورت میں جب عدت کی مدت ختم ہو جائے گی تو یہ نکاح از خود ریگولر ہو جائے گا، عدت کی مدت کے دوران نہ صرف نکاح ہو سکتا ہے بلکہ کچھ حدود و قیود کے ساتھ رخصتی بھی ہوسکتی ہے تاہم ہم ایسے نکاح یا شادی کو حرام قرار نہیں دے سکتے بلکہ ایک سقم والی شادی کہہ سکتے ہیں جونہی عدت کی مقررہ مدت ختم ہو گی یہ سقم بھی دور ہو جائے گا اور یہ نکاح یا شادی ریگولر ہو جائے گی۔
فوجداری قانون کے ماہرآفتاب احمد باجوہ نے کہا کہ مسلم فیملی لاز آرڈیننس 1961 کے تحت چیئرمین ثالثی کونسل طلاق موثر ہونے کا سرٹیفیکٹ جاری کریگی جو طلاق ہونے کے 90دن کے بعد جاری کیا جاتا ہے اس کا مطلب ہے کہ خاتون کو طلاق موثر ہو گئی ہے اور اب وہ جہاں مرضی چاہے نکاح کر سکتی ہے، 90دن کی مدت اس لئے رکھی گئی تاکہ اگر خاتون حاملہ ہو تو پتہ چل جائے ، آج کے جدید دور اور ٹیکنالوجی چند ہفتوں کے حمل اور دنوں کے حمل کو بھی ظاہر کر سکتی ہے اگر عورت حاملہ نہیں تو وہ نکاح کر سکتی ہے تاہم ایسا نکاح بےقاعدہ ہوگا غیرقانونی نہیں۔ پاکستان کے قوانین عدت کے دوران نکاح کے معاملہ پر خاموش ہیں اس لئےایسے نکاح کو غیرقانونی یا قابل سزا نہیں کہا جاسکتا۔
سابق ڈپٹی اٹارنی جنرل راجہ عبدالرحمان نے کہا کہ عائلی قوانین میں ایسی کوئی شق نہیں جس کے تحت عدت کے دوران نکاح کو جرم قرار دیا گیا ہو ،اس لئے ایسا نکاح غیرقانونی تونہیں البتہ یہ بے قاعدہ ہو سکتا ہے اور رائج قوانین میں اس کے لئےکی سزا کا تعین نہیں ہے۔
روزنامہ جنگ
 
آخری تدوین:

سروش

محفلین
شرعاً کیا حکم ہے؟ وہ بھی بیان کردیں۔
لاہور ہائیکورٹ کی سابق جج ناصرہ جاوید اقبال نے کہا کہ علماء کا اپنا موقف ہے
علماء کا مؤقف شرع کے حساب سے ہے۔ اگر مسلم ہے تو شریعت پر چلنا پڑے گا ۔ قانون میں سقم ہو تو شریعت کو قصوروار نہیں ٹھہرا سکتے ۔
نوٹ:مجھے یہ خبر جنگ کی سائٹ پر نہیں ملی ہے ، اسکا ربط فراہم کردیں۔ شکریہ
 
آخری تدوین:
شرعاً کیا حکم ہے؟ وہ بھی بیان کردیں۔

علماء کا مؤقف شرع کے حساب سے ہے۔ اگر مسلم ہے تو شریعت پر چلنا پڑے گا ۔ قانون میں سقم ہو تو شریعت کو قصوروار نہیں ٹھہرا سکتے ۔
سروش بھائی رہنے دیں! یار لوگوں نے قرآن کے حکم ہی کو پس پشت ڈالنا ہو تب بھی یہی کہتے ہیں کہ یہ "علماء کا موقف ہے"۔ کوئی صاف صاف یہ کب کہتا ہے کہ "ہم قرآن کے اس حکم کو نہیں مان سکتے"۔
قرآن تو صاف کہتا ہے:
ولا تعزموا عقدة النكاح حتي يبلغ الكتاب اجله

اب کس کا گریبان پکڑیں گے۔ افسوس صد افسوس
 

سروش

محفلین
وَلَا جُنَاحَ عَلَيْكُمْ فِيمَا عَرَّضْتُمْ بِهِ مِنْ خِطْبَةِ النِّسَاءِ أَوْ أَكْنَنْتُمْ فِي أَنْفُسِكُمْ عَلِمَ اللَّهُ أَنَّكُمْ سَتَذْكُرُونَهُنَّ وَلَكِنْ لَا تُوَاعِدُوهُنَّ سِرًّا إِلَّا أَنْ تَقُولُوا قَوْلًا مَعْرُوفًا وَلَا تَعْزِمُوا عُقْدَةَ النِّكَاحِ حَتَّى يَبْلُغَ الْكِتَابُ أَجَلَهُ وَاعْلَمُوا أَنَّ اللَّهَ يَعْلَمُ مَا فِي أَنْفُسِكُمْ فَاحْذَرُوهُ وَاعْلَمُوا أَنَّ اللَّهَ غَفُورٌ حَلِيمٌ﴿البقرۃ235﴾
تم پر اس میں کوئی گناه نہیں کہ تم اشارةً کنایتہً ان عورتوں سے نکاح کی بابت کہو، یا اپنے دل میں پوشیده اراده کرو، اللہ تعالیٰ کو علم ہے کہ تم ضرور ان کو یاد کرو گے، لیکن تم ان سے پوشیده وعدے نہ کرلو ہاں یہ اور بات ہے کہ تم بھلی بات بوﻻ کرو اور عقد نکاح جب تک کہ عدت ختم نہ ہوجائے پختہ نہ کرو، جان رکھو کہ اللہ تعالیٰ کو تمہارے دلوں کی باتوں کا بھی علم ہے، تم اس سے خوف کھاتے رہا کرو اور یہ بھی جان رکھو کہ اللہ تعالیٰ بخشش اور علم والا ہے۔ (235)

تفسیر ابن کثیر میں ہے:
مطلب یہ کہ صراحت کے بغیر نکاح کی چاہت کا اظہار کسی اچھے طریق پر عدت کے اندر کرنے میں گناہ نہیں مثلاً یوں کہنا کہ میں نکاح کرنا چاہتا ہوں، میں ایسی ایسی عورت کو پسند کرتا ہوں، میں چاہتا ہوں کہ اللہ میرا جوڑا بھی ملا دے، ان شاءاللہ میں تیرے سوا دوسری عورت سے نکاح کا ارادہ نہیں کروں گا، میں کسی نیک دیندار عورت سے نکاح کرنا چاہتا ہوں، اسی طرح اس عورت سے جسے طلاق بائن مل چکی ہو عدت کے اندر ایسے مبہم الفاظ کہنا بھی جائز ہیں۔ جیسا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا سے فرمایا تھا جبکہ ان کے خاوند ابوعمرو بن حفص رضی اللہ عنہ نے انہیں آخری تیسری طلاق دے دی تھی کہ جب تم عدت ختم کرو تو مجھے خبر کر دینا، عدت کا زمانہ ابن مکتوم رضی اللہ عنہ کے ہاں گزارو، جب فاطمہ رضی اللہ عنہا نے عدت نکل جانے کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اطلاع دی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما سے جن کا مانگا تھا، نکاح کرا دیا۔ (صحیح مسلم:1480)

 
آخری تدوین:
قانونی ماہرین نے مروجہ قانون کے حساب سے رائے دی ہے، اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ شرعی طور پہ بھی درست ہے، اس مطلب صرف یہ ہے کہ قانونی طور پہ قابلِ گرفت نہیں۔
 

شاہد شاہ

محفلین
قانونی ماہرین نے مروجہ قانون کے حساب سے رائے دی ہے، اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ شرعی طور پہ بھی درست ہے، اس مطلب صرف یہ ہے کہ قانونی طور پہ قابلِ گرفت نہیں۔
یعنی عمران خان (صادق و امین) قانون کی گرفت سے پھر بچ گیا۔ ایسا تو ہوتا ہے ایسے کاموں میں
 

سید عمران

محفلین
ریاست اپنے قوانین سے پہچانی جاتی ہے اب اس ملک کو کیا کہیں سمجھ نہیں آتی اور مزے کی بات ہے اس ریاست کے زوال میں اس کے ہر فرد نے حسبِ توفیق حصہ ڈالا ہے
یہی تو عرض ہے کہ کیا پاکستان کفرستان ہے؟؟؟
اگر اس پر کوئی کافر ملک حملہ کرے تو اس کے دفاع کے لیے عوام پر شرعا جہاد فرض ہوگا یا نہیں؟؟؟
 

شاہد شاہ

محفلین
فقہی کتب میں تفصیل موجود ہے کہ کس مملکت کو اسلامی کہیں گے...
لیکن یہ کیسے کہیں گے کہ پاکستان کفرستان ہے؟؟؟
فقہی کتب میں مملکت کا تصور ہی نہیں ہے۔ صرف امت اور حکومت وقت کا ہے۔ دارالاسلام اور دارالحرب کے ہوتے ہوئے کونسا ملک کفرستان کے فتوے سے بچتا ہے؟
 

توقیر عالم

محفلین
اگر پاکستان کافرستان ہے تو اسکی عوام شرعی کیسے ہو گئے؟
جہاد صرف اپنے علاقے کے دفاع کا نام نہیں ہو سکتا میری ناقص رائے میں
جہاد تو ہم پر اب بھی فرض ہے وہ الگ بات ہے ہم ادا نہیں کر رہے جو کر رہے ان کے مقاصد بھی کچھ اور ہیں سوائے ان کے جو اپنے دفاع کے لیے لڑ رہے ہیں
 

شاہد شاہ

محفلین
جہاد صرف اپنے علاقے کے دفاع کا نام نہیں ہو سکتا میری ناقص رائے میں
جہاد تو ہم پر اب بھی فرض ہے وہ الگ بات ہے ہم ادا نہیں کر رہے جو کر رہے ان کے مقاصد بھی کچھ اور ہیں سوائے ان کے جو اپنے دفاع کے لیے لڑ رہے ہیں
میری نااہل رائے میں جہاد صرف ایک اسلامی حکومت ہی شروع کر سکتی ہے۔ چونکہ اسلامی حکومت ہے ہی نہیں تو اسکے دفاع میں کیا جانا “جہاد” غیر شرعی ہوا
 

توقیر عالم

محفلین
میری نااہل رائے میں جہاد صرف ایک اسلامی حکومت ہی شروع کر سکتی ہے۔ چونکہ اسلامی حکومت ہے ہی نہیں تو اسکے دفاع میں کیا جانا “جہاد” غیر شرعی ہوا
پہلے تو جہاد ہے کیا یہ سمجھنا چاہیے
اللہ کا فرمان ہے
سورة النساء آیات (75)
اور تمہیں کیا ہوا کہ نہ لڑو اللہ کی راہ میں اور کمزور مردوں اور عورتوں اور بچوں کے واسطے یہ دعا کر رہے ہیں کہ اے ہمارے رب ہمیں اس بستی سے نکال جس کے لوگ ظالم ہیں اور ہمیں اپنے پاس سے کوئی حمایتی دے دے اور ہمیں اپنے پاس سے کوئی مددگار دے دے
اس آیت کی روشنی میں اس ریاست کا کیا فرض بنتا ؟
 
Top