اسکین دستیاب عثمان بطور

محب علوی نے 'اردو نثر' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏ستمبر 16, 2020 3:16 شام

  1. محب علوی

    محب علوی لائبریرین

    مراسلے:
    11,893
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Bookworm
    عثمان بطور گفتگو دھاگہ

    عثمان بطور کمیونسٹ چین سے قازق مسلمانوں کی داستان ہجرت پر مشتمل ہے۔ اس کے مصنف گوڈفرے الیاس ہیں اور مترجم شاہداحمد دہلوی ہیں۔ دیباچہ محمد عثمان فارقلیط نے لکھا ہے۔

    عثمان بطور 12 ابواب پر مشتمل ہے۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
  2. شمشاد

    شمشاد لائبریرین

    مراسلے:
    203,239
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Relaxed
    ریختہ صفحہ 28
    وطن کو بڑی دلسوزی سے یاد کیا گیا ہے، اور مشرقی ترکستان کے پہاروں کی جتنی محبوب چوٹیاں ہیں، ان سب کا بڑی محبت سے اس گیت میں تذکرہ کیا گیا ہے۔ ایک اور گیت جو مولیا کا گایا ہوا ہے "بادر بودہ" کہلاتا ہے۔ کاراملا اور اس کے ہمنواؤں نے "اطفال مکتب" کا گیت ریکارڈ کرایا جس کا مصرعہ ہے، "کرو علم حاصل بنامِ خدا۔" "یہ بدلتی ہوئی دنیا" اور "اے دنیا" جو دو گیت ہیں، غالباً چار سو سال پہلے ان کی دُھنیں بنی تھیں، لیکن جو بول ان میں گائے گئے ہیں، وہ خاص طور پر ہمارے لیے اب لکھے گئے ہیں۔ ہمیں افسوس کے ساتھ یہ کہنا پڑتا ہے کہ قازقوں کو اپنی روایتی دھنوں پر نئے بول کہنے کا بڑا شوق ہے۔ ان کے تصور کے لیے تو یہ بات اچھی ہے لیکن سورماؤں کے کارناموں پر جو پرانی رزمیہ داستانیں لکھی گئی تھیں وہ رفتہ رفتہ معدوم ہوتی جا رہی ہیں۔

    جب بھاٹ کاراملا اپنی رزمیہ منظومات ریکارڈ کرا چکا تو ہم نے اس سے فرمائش کی کہ عربی رسم الخط میں انہیں لکھ بھی دے، کیونکہ قازق عموماً عربی ہی میں لکھتے ہیں۔ اس کے بعد ہم نا کاراملا اور اس کے دوستوں کی دعوت کی۔ اگر الطائی کے سلسلۂ کوہ کے خیمے میں ہم اس کے مہمان ہوتے تو ہم سب کو ایک ہی گہری رکابی میں اپنی انگلیاں ڈبو ڈبو کر کھانا پڑتا اور چونکہ قازقوں کے آداب طعام سے ہم ناواقف تھے اس لیے شاید ہماری انگلیاں جھلس بھی جاتیں، لیکن دیویلی میں ہیم سب چھری کانٹے سے کھاتے تھے، اس لیے ترکی ہوٹل کا مالک رکابیوں میں کھانا لگا لگا کر لاتا رہا، حسین تجی کاراملا کے ایک طرف بیٹھا ہوا تھا اور دوسری طرف میں تھا۔ جب ہم کھانے سے فارغ ہو چکے تو حسین تجی نے بھاٹ پر پُر لطف فقرے کسنے شروع کیے۔


    ریختہ صفحہ 29
    کاراملا خاموشی سے انہیں انگیز کرتا رہا بلکہ اور سب کی طرح بظاہر ان سے لطف اندوز ہوتا رہا، پھر ہم سب نے مل کر اسے اُکسانہ شروع کیا کہ وہ بھی کچھ بولے، اس پر اس نے دبی زبان سے کہا:

    "اگر مجھے یہ اپنی ٹوپی عاریتاً دے دے تو میں اسے اس کی تگنی قیمت ادا کروں گا۔"

    حسین تجی کا دبلا پتلا ناک نقشہ اور منگولی چہرہ تھا، ہلکی نیلی آنکھیں اور چھدری چگی ڈاڑھی ایک رنگ کالی تھی، اس میں ایک بال بھی سفید نہیں تھا، حالانکہ وہ ساٹھ سے اوپر تھا۔ بہت بڑے گھیر کی گول ٹوپی اس کے سر پر رکھی عجیب چیز دکھائی دیتی تھی۔

    حسین تجی سے کاراملا کم از کم دس سال چھوٹا ہے مگر اپنے معمر دوست کے برعکس اس کے اگلے دانت سارے غائب ہیں۔ اس کی وجہ وہ صعوبتیں ہیں جن سے زندگی میں اسے دوچار ہونا پڑا۔ یقیناً اس کا اصلی نام کاراملا نہیں ہے جس کے معنی ہیں کالا ملا۔ بلکہ اس نام کریم اللہ ہے شاید۔ اس وجہ سے اس کا نام کاراملا پڑ گیا ہو کہ اس کا رنگ کالا تھا، یا اس وجہ سے کہ تو تعویذ گنڈے ملاؤں کی طرح کرتا ہو گا۔ بہرحال ہم وثوق سے وجہ تسمیہ نہیں بتا سکتے۔ لیکن وہ ایک سچا مسلمان ہے اور سچے مسلمان جادو ٹونے اور ٹؤٹکے نہیں کیا کرتے۔ البتہ قازقوں میں بھی ایسے نیم ملا ہوتے ہیں جو دوسرے مذاہب کے عالموں کی دیکھا دیکھی اس قسم کے ڈھونگ رچا لیتے ہیں۔

    تفصیلی حالات تو آگے چل کر ہمیں معلوم ہوں گے۔ حسین تجی نے اشتراکیوں کی تاخت سے تنگ آ کر بیس سال ہوئے اپنا آبائی مقام بارکل چھوڑ دیا تھا اور غزکل – غازکول نام کی ایک جھیل کے قریب بود و باش


    ریختہ صفحہ 30
    اختیار کر لی تھی۔ غازکول کے لفظیمعنی ہیں ہاتھ بھر کی جھیل ڈول کی شکل کی۔ لہذا اس کا نام سُنتے ہی ہر قازق سمجھ جاتا ہے۔ یہ ایک تنگ اور لمبی سی جھیل ہے جس کی شکل ڈول جیسی ہے۔ قازق نام بامعنی ہوتے ہیں اور جنہیں ان کی زبان آتی ہے وہ نام ہی سے اس کا مفہوم سمجھ لیتے ہیں، ایک نام مجھے بہت پسند آیا۔ "چہکتی چڑیوں کی وادی" لیکن ایسے ناموں میں ایک بڑی دقت بھی ہوتی ہے، وہ یہ کہ دور دور کے علاقوں میں بھی ناموں کا توارد ہو جاتا ہے۔ سست رو خانہ بدوش کےلیے تو اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا لیکن تیز رفتار زمانے کے باشندوں کے لیے ایک ہی جیسے نام پریشانی کا باعث ہوتے ہیں۔

    جب حسین تجی بارکل اور غزکل میں اپنے نمدہ دار خیموں میں بیویوں اور بچوں اورو لواحقین کے ساتھ رہا کرتا تھا تو اس کا ایک دوست تھا، سلطان شریف۔ یہ بھی قریب ہی رہتا تھا۔ ہماری ملاقات سلطان شریف سے "مرکز قیام" میں ہوئی۔ یہ مرکز استنبول کے قریب ہے۔ قازق مہاجروں کو زمین دینے سے پہلے ترکی حکومت کچھ عرصہ "مرکز قیام" میں رکھتی ہے۔

    سلطان شریف سے ہمارا تعارف مشرقی ترکستان کے ایک اور مہاجر محمد امین بغرا نے کرایا جس کا اب اپنا نہایت خوشنما گھر استنبول کے روبرو باسفورس کے ایشایئ علامے میں ہے۔ محمد امین قازق نہیں ہے، ترکی کا رہنے والا ہے، یہ ان ترکوں میں سے ہے جو زمیندار ہیں اور تاجر ہیں۔ اور مشرقی ترکستان میں اسی وقت سے آباد رہے ہیں جب سے قازق وہاں آباد ہوئے، ان کی تعداد بھی قازقوں سے زیادہ ہی ہے۔ لیکن محمد امین کا باپ خُتن کا امیر تھا اور خود محمد امین سنکیانگ کی علاقائی حکومت کا نائب صدر


    ریختہ صفحہ 31
    تھا۔ مشرقی ترکستان ہی کو چینی لوگ سنکیانگ کہتے ہیں۔ جب 1949؁ء میں اشتراکیوں نے اس علاقائی حکومت پر قبضہ کیا تو محمد امین وہاں سے بچ نکلا اور کشمیر پہنچ گیا۔ اس افتاد کے پڑنے کی وجہ سے وہ ان تمام سازشوں سے واقف ہے جن کی وجہ سے اسے ترک وطن کرنا پڑا۔ اور جو قازق مقاومت میں بڑی اہمیت رکھتی ہیں۔

    علی بیگ، حمزہ، کاراملا، حسین تجی، سلطان شریف اور محمد امین سب ابھی جیتے ہیں۔ مشرقی ترکستان کی جہد آزادی میں ان کے علاوہ جن لوگوں نے حصہ لیا اور جن کے ناموں اور کارناموں کا اس کتاب میں ذکر ہے، وہ سب مر چکےہیں، مگر ان کی یاد ان کے بہادر ساتھیوں کے دلوں میں زندہ ہے۔


    ریختہ صفحہ 32
    پہلا باب

    سُورما کی پیدائش

    قازقوں کے نمدہ دار خیموں کے آس پاس آئے دن پیدائشیں اور موتیں ہوتی رہتی ہیں۔ یہ کوئی ایسا غیر معمولی واقعہ نہیں ہوتا کہ اس کا کوئی باقاعدہ نقشہ رکھا جائے یا اس پر حاشیہ آرائی کی جائے۔ یہ تو ایک نظامِ قدرت ہے کہ مناسب موسم اور وقت مقررہ پر بھیڑ بکری، گائے، اونٹنی اور گھوڑیوں کے ہاں بچے ہوتے رہیں، انسانوں کے ہاں بھی اسی فطری طریقے اور تقریباً ایسی ہی پابندی کے ساتھ بچے ہوتے رہتے ہیں۔ البتہ موسم کی قید تولید انسانی میں نہیں ہوتی۔ جانوروں کے نوزائیدہ بچوں کی طرح انسانی بچوں کو بھی والدین کی خاص توجہ، محبت اور خدمت کی ضرورت ہوتی ہے، لیکن کوہستانی قبیلوں میں والدین کو بہت کام کرنے پڑتے ہیں اس لیے بچے زیادہ سے زیادہ اپنے ہی وسائل پر چھوڑ دیے جاتے ہیں۔ چنانچہ بچے متواتر تجربے کیے جاتے ہیں اور طرح طرح کی غلطیاں کرتے رہتے ہیں اور بچے


    ریختہ صفحہ 33
    اپنے بڑوں کے طرزِ عمل کو بڑے غور و خوض سے دیکھتے رہتے ہیں اور مفید کارآمد باتیں سیکھتے رہتے ہیں۔

    بچوں کی پیدائش جیسے واقعات کو قازق خیموں میں کوئی اہم واقعہ نہیں سمجھا جاتا اس لیے ان کا کوئی نقشہ یا گوشوارہ نہیں بنایا جاتا۔ البتہ سال بھر کے تیج تہواروں کا حساب رکھا جاتا ہے، مثلاً رمضان شریف اور عیدین کا۔ ترکی میں جتنے قازق مہاجر تھے ان میں سے ایک بھی ایسا نہیں تھا جو ہمیں یہ بتا سکتا کہ عثمان بطور کس دن یا کس مہینے میں پیدا ہوا۔ ہاں یہ سب جانتے تھے کہ کس سال میں پیدا ہوا۔ اس کے ماں باپ کو مرے عرصہ ہو گیا۔ اس کے تین بھائی اور بہن گمان غالب یہ ہے کہ مر چکے ہیں۔ بالفرض اگر جیتے بھی ہوتے تب بھی اس کی تاریخ پیدائش سے ناواقف ہوتے کیونکہ عثمان بطور پہلونٹی کا تھا۔ اس کے دوستوں کا بیان ہے کہ وہ خود کبھی اس موضوع پر گفتگو نہیں کرتا تھا۔ سلطنت چین کے اس دُور دراز علاقے میں ایسا کوئی محکمہ نہیں تھا جس میں پیدائش و اموات کا اندارج کیا جاتا ہو۔ ہمیں بس انتا معلوم ہے کہ وہ 1899ء؁ میں پیدا ہوا تھا۔ یعنی اسی سال جس سال بوئر جنگ شروع ہوئی۔

    عثمان کا باپ اسلام باعی صرف گلہ بان یا مویشیوں کا پالنے والا نہیں تھا، وہ ایک منفرد قسم کا "خشک" کسان بھی تھا۔ اس کا مسکن کک تُغائی میں تھا۔ جو الطائی کا ایک ٖضلع ہے جہاں روسی، چینی اور منگولی علاقوں کی حدود ملتی ہیں۔ وہاں سے یہ مقام کچھ زیادہ دور نہیں ہے۔ "خشک" کسان ہونے کی وجہ سے اسلام باعی جب چاہے باہر جا سکتا تھا۔ اسے دوسرے "تر" کسانوں کی طرح فصل کے لیے پانی نکالنے


    ریختہ صفحہ 34
    کی ضرورت نہیں تھی جو میدانوں میں کھیتی باڑی کرتے اور نہری پانی کے محتاج رہتے۔

    ہر موسم بہار میں اسلام باعی اپنے بیل جوت کر زمین پر ہل چلاتا اور گیہوں کا بیج ڈال دیتا۔ اس کے بعد وہ اپنے بال بچوں اور نمدہ دار خیموں اور اپنے گلوں اور ملازموں کے لے کر الطائی کی اونچی چراگاہوں میں چلا جاتا۔ کھیتوںمیں جو بیج ڈالتا، اُسے ہوا، پانی، سورج اور خدا کے رحم و کرم پر چھوڑ دیتا کہ آپ ہی آپ بیج پھوٹیں، فصلیں تیار ہوں اور پک جائیں۔ وقت کا اندازہ لگا کر وہ فصلیں کاٹنے کے لیے پھر نیچے اُتر آتا۔

    چنانچہ 1899؁ء میں بھی اسلام باعی نے اپنی بیویوں کو ساتھ لیا اور کوہ الطائی کی بلندیوں پر جا کر اس نے اسی طرح خیمے لگائے جیسے حضرت ابراہیم نے یہودیہ کی پہاڑیوں میں لگائے تھے۔ اس کی ایک بیوی کے ہاں بچہ پیدا ہونے والا تھا۔ ہمیں یہ تو ٹھیک نہیں معلوم کہ اس نے کس مقام پر خیمے لگائے تھے لیکن توکُز تاروہی ایک ایسا مقام تھا جو اس کے لیے مناسب تھا۔ یہ ایک وادی ہے جس کے نام کے معنی ہیں "نودنتی کنگھی"۔ اس وادی کا یہ نام اس وجہ سے پڑا تھا کہ سربفلک پہاڑوں کے نو شگافوں سے چشمے اُبل کر اس وادی میں آن ملتے الطائی کی بلندیوں سے اسن کا ٹھنڈا یخ پانی جنگل اور چراگاہوں کی اس سرسبز وادی میں آتا تھا۔ اسی فراخ وادی میں اسلام باعی اور اس کے ساتھ سو خاندانوں کا قبیلہ گرمیوں بھی قیام کرتا۔

    مشرقی ترکستان میں توکُز تارو نام کی کئی وادیاں ہیں۔ جیسے کلک سوما، نیلے سمندر نام کی کئی کئی جھیلیں ہیں اور کئی چشمے قزل اُزرن یا سُرخ چشمے


    ریختہ صفحہ 35
    کہلاتے ہیں۔ عجیب نام کا ایک درہ بھی ہے جو "درۂ بادِ مُعزز" کہلاتا ہے۔ اسے چینی لوگ لاؤ فنگ کو کہتے ہیں۔ چین کے صوبہ سنکیانگ کے دارالحکومت اُرمچی کو سویت قازقستان سے تین شاہراہیں جاتی ہیں، ان میں سے ایک اس درۂ باد مرزز میں سے گزرتی ہے۔ جب اس صوبے میں پہلا اشتراکی گورنر چن شُوجن متعین ہوا تو چینی فوجی دستے سے لدی ہوئ ایک لاری درے کے اوپر بگڑ گئی۔ لاری کا ڈرائیور اس کی خرابی دور کرنے میں لگا ہوا تھا کہ باد مُعزز نے اس پر اور لاری پر اور لاری کے مسافروں پر برف کے تودے لگانے شروع کر دیئے۔ اور سب کے سب جم کر مر گئے۔ ان کی لاشیں بھی اس وقت ملیں جب کئی مہینے بعد برف پگھلی۔ روایت یہ ہے کہ درۂ باد مرزز اکثر اس سے بھی بدتر عذاب نازل کرتا ہے۔ مثلاً ایسی ہوا بھی چلا دیتا ہے جس سے پورے پورے قافلے اڑ کر دُور نیچے گہری جھیل میں جا پڑتے ہیں۔

    کچھ دنوں بعد اسلام باعی کی بیوی کے ہاں زچگی کا وقت آ پہنچا۔ جب اسے درد لگے تو اس نے ایک ملازم کو اپنی ماں کے پاس اطلاع دینے کے لیے بھیجا، ماں کا خیمہ ایک قریب کی وادی میں لگا تھا، وہ اپنے ٹٹو پر سوار ہو کر بیٹی کے ہاں آ پہنچی، آتے ہی اس نے اسلام باعی کے "عاادل" یعنی خیمے میں ایک سرے سے دوسرے سرے تک ایک رسا ران دیا۔ بیٹی سے اس نے کہا کہ اس رسے کے آگے دو زانو ہو کر اپنے دونوں ہاتھ اس پر اس ڈال دو کہ دونوں بغلیں رسے پر ٹک جائیں۔ پھر اپنے بدن کو ڈھیلا چھوڑ کر اس رسے پر اپنا دباؤ ڈالو۔ رُک رُک کر بس یہی کرتی رہو۔ جب درد اور بڑھ گئے تو ماں ایک برے کی کھال کا بنا ہوا چھوٹا


    ریختہ صفحہ 36
    مشکیرہ اٹھا لائی اور بیٹی سے بولی ":جب تم آگے کو دباؤ دیا کرو تو اس مشکیزہ میں زور سے ہوا بھرو۔" بالآخر جب ماں نے دیکھا کہ اب زچگی کا وقت آ پہنچا تو اس نے اسلام باعی سے نمدے کے چند ٹکڑے منگائے اور جوں ہی اس کی بیٹی رسے پر دباؤ ڈالنے کے لیے ذرا اونچی ہوئی اس نے جھٹ یہ نمدے اس کے نیچے رکھ دیئے۔ اس کے بعد بڑی بی نے اسلام باعی سے کہا، "اب تمہاری ضرورت نہیں ہے جب تک بچہ نہ ہو جائے، تم اندر نہ آنا۔"

    اسلام باعی خیمے سے باہر نکل کر کھڑا ہو گیا۔ کچھ دیر بعد ایک تیز باریک سی آواز خیمے میں سے برآمد ہوئی اور درختوں میں بادِ شمال کی سرگوشیوں میں تحلیلہو گئی۔ سنگ ریزوں سے چشمے کی کانا پھوسی اس آواز میں جذب ہو گئی اور پھر یہ آواز مویشیوں کی آوازوں اور گھنٹیوں کی صداؤں میں گھلتی چلی گئے۔ جب اسلام باعی کے کان میں یہ آواز پڑی تو اس نے خیمے کا پردہ اُٹھایا اور اپنے کفش پوش دونوں پاؤں ٹکرا کر جھٹکے تاکہ عااول میں بچھے ہوئے قالین ان سے خراب نہ ہونے پائیں۔ اندر جاتے ہوئے وہ دروازے میں جھک کر نکلا تاکہ دروازے کی چوکھٹ سے بالکل چھونے نہ پائے ورنہ آگے چل کر یہ بُرا شگون رنگ لاتا ہے۔ اسی وجہ سے دہلیز پر سے بھی وہ بہت احتیاط سے پھلانگا۔

    اندر پہنچنے کے بعد اسلام باعی نے ساس کی طرف سوالیہ نظروں سے دیکھا۔ اس نے سر ہلا کر ظاہر کیا سب خیریت ہے۔ پھر اس نے اپنی بیوی سے کہا :

    بچے کا نام کیا رکھنا چاہیے؟ اس کا فیصلہ کیا ہم اللہ پر چھوڑ دیں،


    ریختہ صفحہ 37
    کہ خیمے سے باہر نکل کر میری نظر سب سے پہلے جس جاندار پر پڑے اسی پر اس بچے کا نام رکھ دیا جائے۔ یا قرآن شریف میں دیکھ کر ہم خود ہی اس بچے کا نام تجویز کر دیں؟"

    اسلام باعی کی بیوی کو معلوم تھا کہ اس سوال کا جواب کیا دینا ہے، کیونکہ بچے کے پیدا ہونے سے بہت پہلے ہی بارہا اس مسئلے پر گفتگو ہو چکی تھی۔ بیوی نے کہا، "قرآن شریف دیکھ کر نام رکھنا چاہیے۔" چنانچہ بچے کا نام عثمان رکھا گیا۔ نام کا دوسرا حصہ "بطور" یعنی بطل یا سورما، جس سے اس کے اہل وطن نے اسے جانا پہچانا، 1942ء؁ تک اس کے نام کا جزو نہیں بنا تھا۔ 1942ء؁ میں اس کی قوم نے اُسے "بطور" کا خطاب دیا۔ اور اسی کے ساتھ تمغۂ آزادی سے بھی سرفراز کیا۔ خیر یہ تو بعد کی باتیں ہیں۔ چپٹپن میں جب کبھی اسے چوٹ پھیٹ لگ جاتی تو اس کی ماں اسے گود میں لے کر چمکارتی اور کہتی، "آہا میرا بیٹا بڑا بہادر سورما ہے۔ سورما کہیں رویا کرتے ہیں۔"

    جب عثمان کا نام رکھا جا چکا تو اسلام باعی قبیلے کے رواج کے مطابق پھر خیمے کے باہر آیا اور اس نے ایک بھیڑ حلال کی اور اس کی پیٹ چاک کر کے اس کی اوجھڑی نکالی اور اپنی ساس کو پہنچا دی۔ بڑی بی نے اُسے صاف کر کے دودھ میں پکنے کے لیے چولہے پر چڑھا دیا، جب یہ خوب پک چکی اور دودھ گاڑھا ہو گیا تو اسے اپنی بیٹی کے لیے اتار کے رکھ دیا، کیونکہ اس کے پینے سے زچہ میں طاقت آتی ہے اور دودھ افراط کے ساتھ اترتا ہے۔ اس کے بعد جب اسلام باعی نے بھیڑ کی کھال اُتار لی تو اس کی ساس نے گوشت کے پارچے بنا کر اس گرم پانی کی دیگ میں انہیں ڈال دیا جو خیمے کے وسط میں آگ پر لٹکی ہوئی ہوئی تھی اس سالم بھیڑ کی یخنی اور گوشت زچہ ہی کو کھلایا پلایا گیا اور جب تک یہ ختم نہ ہو گیا۔
     
  3. سیما علی

    سیما علی لائبریرین

    مراسلے:
    5,294
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cool
    ریختہ صفحہ -26

    کہیں زیادہ حیثیت رکھتی ہے کہ ایک پوری قوم کے کارناموں پر مشتمل ہے۔
    جب کوئی بھاٹ اپنے گیت سناتا تو ساتھ ساتھ ڈمبری بھی بجاتا۔ڈمبری ایک لمبا سا ساز ہے ستار کی طرح کا ، مگر اس میں صرف دو ہوتے ہیں۔اس لیے اسے ایک قسم دو تارہ سمجھنا چاہیئے، کارا ملا جیسےاستاد ان تاروں کو اس انداز سے چھیڑتے ہیں کہ ہر تارایک زخمے سے دوآوازیں دیتا ہے۔ یہ بات ہماری سمجھ میں نہیں آئی کہ ایک زخمے میں دو سرُکیسے پیدا ہو جاتے ہیں اور پھر مشتاق استاد کے زخمےسے پیدا ہونے
    والے سرُاس وقت تک گونجتے رہتے ہیں۔ جب تک دوسرا زخمہ نہ لگا یاجائے ۔ دیویلی میں کئی دفعہ میں نے اس ساز کو بجاتے دیکھا ہے۔ سازگار کبھی تو بڑے انہماک سے اسے بجاتے ہیں اور کبھی بڑی بے توجہی سے۔
    کا را مّلا ایک دھن بڑی دلکش بجاتا ہے یہ دھن بہت موثر اور دکھ بھری تھی،ایسا معلوم ہوتا تھا کہ اپنے وطن واپس جانے کی آرزو اس میں تڑپ رہی ہے۔
    اس نے بتا یا تھاکه یہ دھن الطائی کی ہے مگر اس کا نام اس نے نہیں بتایا ۔
    بہت سے قازق ڈمبری بجانا جانتے ہیں اور ترکی میں جن سے ہماری ملاقات ہوئی نہ صرف گانا جانتے تھے بلکہ دھن پر اپنے بول بھی کہہ لیتےتھے سینکڑوں سال پرانی دھنوں پر انھوں نے اپنے نئے بول اُٹھالیے تھے۔ اس قسم کے بہت سے نو ساختہ گانوں کے ریکارڈ بھر ہم اپنےساتھ لے آئے لیکن عموماً یہ نئے بول ان لوگوں کے کہے ہوئے ہیں،جو ہمیں اپنا گانا سنایا کرتے تھے مثلاً کا رملاّ ، علی بیگ کی تینوں بیویاں ، پندرہ سولہ برس

    ریختہ صفحہ۔27

    کے لڑکے لڑکیاں یہ گانے بناتے اور گاتے ۔ایک دھن ہم سلحیل سے بھی ریکارڈ کرکے لائے تھے۔ یہ دھن ایک عجیب شکل کے ساز پر بجائی گئی ہے۔ یہ سیدھی سادی سی بانسری ہے جس میں صرف تین سوراخ ہوتے میں اس بانسری کا نام سیبز کا ہے ۔ بانسری بجانے والا بانسری کے او پری سرےکے اندر اپنی زبان اس طرح داخل کرتا ہے کہ اس سے سیٹی کی آواز پھونک
    مارنے پر پیدا ہوتی ہے۔ یہ بانسری ایک کلے کی طرف رہتی ہے اور دوسرےکلے سے مشک باجے کی طرح ایک بانسری صرف آس دیتی رہی ہے ۔اِس پرُسرار طریقےسے وہ ایک ایسا غیرمعمولی نغمہ پیدا کرتا ہے جو کارا کی روانی کی عکاسی کرتا ہے۔ کارا - کالا - ارتعش وہ بڑا دریاہے جو کوہ الطائی سےنکل کر سوویت قازقستان اور سائبیریا کے چوڑےبنجر میدانوں کے
    بیچ میں سے ہوتا ہوا دریائے اوب میں جاملتا ہے جوآگے چل کر بحر منجمد شمال میں جا گرتا ہے .
    جہاں تک ہمیں علم ہے ہم نے جتنے قازقی نغمے دیویلی اور سلحیلی ميں
    ریکارڈ کیے وہ پوری آزاد دنیا کے لیےبالکل ناشنیده ہیں سوائے شایدایک گیت کے جسے روسی فوج نے جنگ کے زمانے میں اپنا کوچ کا گیت بنالیا تھاہمارے ریکارڈ کیے ہوئےسرمائے میں ایک گیت کا عنوان ہے “بگلے کی پرواز” یہ گیت علی بیگ کی دو بیویوں خدیجہ اور مولیا نے گایا ہےبگلوں کو قازق بُرےشگون کے پرندوں میں شمارکرتے ہیں اس لیےیہ گیت غمناک
    ہے۔ اسی طرح ایک اور درد ناک گیت "نوحہ ہے ۔ یہ گیت ایک دس سال کی لڑکی نے بتا یا ہے اور اس میں اپنے مرحوم باپ کی یاد کو تازہ کیا ہے
    “پریم تاؤ میرے وطن کےپہاڑ” ایک ایسا گیت ہے جس میں اپنے
     
  4. اوشو

    اوشو لائبریرین

    مراسلے:
    2,427
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Drunk
    عثمان بطور ر۔۔۔۔ ریختہ صفحہ 51

    دوسرا باب

    گھر سے عثمان کی جدائی

    چالیس سال پہلے جب کوئی مہمان کسی قازق کے گھر آتا بلکہ اس زمانے تک جب اشتراکیوں نے یہ طے نہیں کر لیا تھا کہ ان کی قدیم تہذیب کو مٹا دیا جائے تو اس کا خیر مقدم اسی قدیم روایت کے مطابق کیا جاتا جو زمانہ قدیم سے قبل تاریخ سے چلی آتی تھی۔ اس میں اس وقت بھی کوئی فرق نہیں آیا جب گیارہویں اور چودھویں صدی کے درمیان قازق مشرف بہ اسلام ہوئے۔ اسلام باعی کے خیمے میں بوکو بطور کی پذیرائی کیسے کی گئی؟ اس کا کوئی مصدقہ بیان ہمارے پاس نہیں ہے لیکن چونکہ قزاقوں کے دستوں اور روایتوں میں کوئی فرق نہیں آیا ہے اس لیے ہم بغیر کسی دشواری کے اس منظر کو پیش کر سکتے ہیں ہیں۔
    بوکو بطور جب جھک کر خیمے میں داخل ہوا تو اس نے بڑی احتیاط برتی کہ دہلیز سے اس کا پاؤں نہ ٹکرانے پائے اور داخل ہونے میں اس کا لمبا چوغہ دروازے کی چوکھٹ سے نہ ٹکرانے پائے۔ "سلام علیکم"
    -------------------------------------------------------

    عثمان بطور ر۔۔۔۔ ریختہ صفحہ 52

    کہہ کر وہ خیمے میں داخل ہوا اور دونوں پیروں کو ٹکرا کر اس نے کفش پوشوں کو دروازے کے قریب ایک پہلو میں اتار دیا اور پھر آگے جائے نشست کی طرف بڑھا۔
    اسلام باعی نے "وعلیکم السلام" کہہ کر بوکو بطور کے پھیلے ہوئے ہاتھ کو پہلے اپنے داہنے ہاتھ میں لیا اور پھر دونوں ہاتھوں میں لے کر مصافحہ کیا۔ اس کے بعد مہمان اور میزبان دونوں نے اپنے اپنے ماتھوں، لبوں اور سینوں کو سیدھے ہاتھ سے چھوا۔ اس کے بعد دونوں دروازے کی طرف رخ کر کے بیٹھ گئے گئے سب ملا کر کوئی 16 کلمات خیر کرے گئے جب میزبان اور مہمان ان تکلفات سے فارغ ہوئے اور ان کے ملازمین خاص سے بھی رسوم ادا ہو چکیں تو آگ کے چاروں طرف گھیرا بنا کر حسب مراتب دوزانو یا آلتی پالتی مار کر بیٹھ گئے۔ پھر سب نے مل کر دونوں ہاتھ دعا کے لیے اٹھائے اور کوئی قرآنی دعا پڑھی۔ آخر میں سب نے ایک ساتھ آمین کہا اور اپنے دونوں ہاتھوں کو چہرے اور داڑھیوں پر پھیر لیا۔
    دعا کے ختم ہوتے ہیں اسلام باعی نے کہا "آپ کے تشریف لانے سے ہماری نہایت عزت و حوصلہ افزائی ہوئی۔" عثمان اس کے پیچھے ہی کھڑا ہوا تھا اس کی طرف رخ کر کے اور لہجہ بدل کر کے اسلام بعی نے کہا۔ "ارے شریر شیطان اس لڑکے کو کبھی کوئی تمیز نہ آئے گی۔ اسے یہ تک نہیں معلوم کہ باپ کے مہمان کا استقبال بیٹا بھی اس کے شایان شان کرتا ہے"
    عثمان اس دستور سے واقف تھا وہ یہ سمجھ رہا تھا کہ باپ کی
    -------------------------------------------------------

    عثمان بطور ر۔۔۔۔ ریختہ صفحہ 53

    یہ تہدید صرف ایک نمائشی چیز ہے۔ اس پر بھی وہ جھجکتا ہوا آگے بڑھا کیوں کہ بوکو بطور بہت مشہور سورما تھا جس کے کارنامے وہ ہوش سنبھالنے کے بعد سے اب تک برابر سنتا رہا تھا آگے آکر اس نے بوکو بطور سے آنکھیں چار کر کے بالکل اپنے باپ کی طرح خیر مقدم کے الفاظ کہے اور آخر میں جب اس نے اللہ اکبر کہا تو اس کی آواز بالکل ماند پڑ گئی تھی۔
    عثمان کا بایاں ہاتھ اپنے ہاتھ میں لے کر بوکو بطور نے اسے آگے کھینچا اور اس پر نظریں جما کر بولا " غالباً یہ وہی لڑکا ہے جس کا ذکر میں نے اپنے دوستوں کے خیموں میں اکثر سنا ہے اس کے متعلق کہا جاتا ہے کہ اس میں اپنی عمر سے زیادہ قوت و دانش ہے اور اس کے لئے ایک شاندار مستقبل مقدر ہو چکا ہے۔"
    باپ نے کہا "یہ لڑکا کم عقل ہے کسی کام کا نہیں ہے بے ہودہ بھاگ جا احمق ہمارے مہمان کے گھوڑے کو ذرا دیکھ بھال کر۔"
    عثمان نے ہمت کر کے کہا "کیا وہ مہمان زیادہ توجہ کے لائق نہیں جس کا گھوڑا اس قدر قابل توجہ ہو اگر اجازت ہو تو میں یہیں ٹھہرا رہوں اور اس بات کا خیال رکھوں کہ گھوڑے کے مالک کو کسی قسم کی زحمت نہ ہونے پائے؟"
    بوکو بطور کی گرجدار آواز سنائی دی۔ "واللہ! تم نے سنا لڑکے نے کیا کہا؟ وئ! وئ! اور ابھی وہ بچہ ہی ہے۔"
    اسلام باعی نے کہا "مہمانوں کا خیال رکھنا باپ کا فرض ہے اس شریر کی طرح جو چھوٹے لڑکے ہوتے ہیں انہیں نسبتا ہلکے کام کرنے
    -------------------------------------------------------

    عثمان بطور ر۔۔۔۔ ریختہ صفحہ 54

    چاہییں اور مناسب یہ ہے کہ جو کچھ ان سے کہا جائے وہ کریں۔"
    عثمان تو جانتا ہی تھا کہ باپ بظاہر ناراض ہو رہا ہے مگر دل میں اس طرز عمل سے خوش ہے ادھر بوکو بطور کی تعریف سے بھی وہ بہت خوش تھا لہذا فورا خیمے سے باہر بھاگا تاکہ اونچے شبدیز کی خبر گیری کرے۔
    باہر نکل کر اس نے دیکھا کہ بوکو بطور کا ایک ملازم قازقوں کے اصولوں کے مطابق گھوڑے کو ٹہلا رہا تھا تا کہ اتنے لمبے سفر میں سواری دینے کے بعد اس کی ٹانگیں کہیں اکڑ کر نہ رہ جائیں۔ عثمان نے ملازم سے گھوڑے کی لگام لے لی اور نڈر ہو کر اس کی زین پر چڑھ بیٹھا۔
    سائیس قریب ہی کھڑا ہوا تھا۔ وہ حیران رہ گیا اور بے اختیاری میں اس کے منہ سے نکلا "وایا پرامائی! یہ تو اعجاز ہے اعجاز! آقا کا گھوڑا اسے نہیں پھینکتا! میں نے تو پہلے کبھی نہیں دیکھا کہ اس نے اپنے اوپر کسی اور کو سوار ہونے دیا ہو۔ اس لڑکے کے مقدر میں لوگوں کا رہنما بننا ضرور ہے۔ اور تمام منہ زور گھوڑوں کی سواری کرنا بھی اس کے لئے مقسوم ہو چکا ہے۔"
    اپنے ملازم کی حیرت زدہ باتیں بوکو بطور نے خیمے کے اندر سن لیں اور وہ اتھ کر خیمے کے دروازے پر آ گیا۔
    عثمان کو دیکھ کر بولا۔ "آہا! شریر لڑکے، تو میرے گھوڑے پر بھی سوار ہو گیا۔ "
    عثمان نے جھجکتے ہوئے کہا۔ "میں نے سوچا کہ اسے کھلانے پلانے سے پہلے ذرا ٹھنڈا کر لوں۔"
    بوکو بطور ہنسا۔ بولا۔ "غنیمت ہے کہ جب تو نے اس کی رکاب میں پاؤں رکھا تو اس نے تجھے چبا نہیں ڈالا۔ اس نے چونکہ تجھے نہیں کاٹا
    -------------------------------------------------------

    عثمان بطور ر۔۔۔۔ ریختہ صفحہ 55

    اس لئے میں سمجھتا ہوں کہ میرا یہاں آنا ٹھیک رہا۔"
    اب عثمان نے ہمت کر کے پوچھا۔ "اگر آپ اجازت دیں تو میں اب اسے کھلانے پلانے لے جاؤں؟"
    بوکو بطور نے کنکھیوں سے اپنے میزبان کی طرف دیکھا کہ وہ بھی سن لے اور اونچی آواز میں بولا۔ "ہر گز نہیں، اسے نہ تو پانی پلانا اور نہ کچھ کھلانا، کیونکہ رات ہونے سے پہلے مجھے یہاں سے روانہ ہو جانا ہے۔ "
    اسلام باعی نے گھبرا کر کہا "نہیں نہیں! آپ کا اتنی جلدی رخصت ہونا میری مہمان نوازی کو شرمندہ کرنا ہو گا۔۔۔۔۔۔" پلٹ کر اس نے آواز دی۔ "بیوی! جلدی سے چائے اور نان لاؤ۔ اس میں تاخیر ہونے کی وجہ سے ہمارےمہمان بد دل ہو رہے ہیں۔ میں کہتا ہوں جلدی لاؤ۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ ان کے چلے جانے سے ہمیں شرمندگی کا منہ دیکھنا پڑے۔ "
    یہ سنتے ہی اسلام باعی کی "باعی بی شا" یعنی زوجۂ اول نمکین چائے سے بھر ئے تانبے کے پیالے اٹھا لائی اور ان کےساتھ روایتی نمکین نان پارے بھی۔ یہ نان پارے ایک رومال میں تھے۔ جس کے چاروں کونوں کو یک جا کر کے گرہ لگا دی گئی تھی۔ ان چیزوں کو دیکھ کر بوکو بطور کو پھر خیمے میں آ کر اپنی مقررہ جائے اعزاز پر بیٹھنا پڑا۔ اب وہ کھانے کے لئے تیار ہو رہا تھا۔ مگر بار بار عذر کرتا جاتا تھا کہ میں ایسی نوازش کا مستحق نہیں ہوں، میں اس اعزاز کے لائق نہیں ہوں۔ اس نے اسلام باعی کی بیوی کے ہاتھ سے پیالہ لے کر چائے پینی شروع کر دی۔ دانت بند کئے وہ شڑکے لگا رہا تھا، اور غٹر غٹر گھونٹ گلے
    -------------------------------------------------------

    عثمان بطور ر۔۔۔۔ ریختہ صفحہ 56

    میں اتار رہا تھا۔ ایک گھونٹ اور دوسرے گھونٹ کے درمیان جو وقفہ ملتا اس میں وہ سخت نان کے ٹکڑے کو منہ میں رکھنے سے پہلے چائے میں ڈبو لیتا۔
    جب قازقوں کے دستور کے مطابق بوکو بطور نے روٹی کھا لی اور چائے پی لی تو اسلام باعی نے بوکو بطور سے کہا۔ "کیا اب اجازت ہے کہ میں عثمان کو بھیج کر گھوڑے کو دانہ پانی دلواؤں کیونکہ کہا یہ گیا ہے کہ جب گھوڑے سے دن بھر محنت لے لی جائے تو پہلے اسے پانی پلایا جائے اور اس کے بعد اسے کھلایا جائے تاکہ اگلے دن پھر اس سے محنت لینے کے لئے طاقت آ جائے۔ "
    بوکو بطور نے نیچی آواز میں کہا۔ "ایسے میزبان کی نوازشوں کی تعریف نہیں ہو سکتی۔"
    اسلام باعی نے اپنا سلسلہ کلام جاری رکھا۔ "اگر زحمت نہ ہو تو ریوڑ کا معائنہ فرما لیا جائے تاکہ پسندیدہ جانور حلال کر لیا جائے اور میری بیویاں طعام شب تیار کر دیں۔"
    بوکو بطور نے ازراہِ کسرِ نفسی کہا۔ "اس خانہ بدوش کے لئے کوئی جانور حلال نہ کیا جئے۔ میں نے پہلے عرض کیا تھا کہ رات ہونے سے پہلے مجھے روانہ ہو جانا چاہیے۔"
    اسلام باعی نے اسے یہ کہہ کر یاد دلایا کہ "میں نے بھی تو عرض کیا تھا کہ آپ کے اس طرح رخصت ہونے سے میری مہمان نوازی شرمندہ ہو گی۔ اور یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ گھوڑے کو کھلا پلا دینے کے بعد اس سے محنت نہیں لینی چاہیے۔"
    بوکو بطور نے گھوڑے کے متعلق جو کچھ کہا گیا تھا اسے تو اڑا دیا اور بولا۔ "ایسے میزبان کو شرمندہ کرنا اپنے آپ کو نقصان پہنچانا ہے۔ اچھا تو میزبان
    -------------------------------------------------------

    عثمان بطور ر۔۔۔۔ ریختہ صفحہ 57

    کو جس بات میں سب سے کم زحمت ہو وہ کی جائے۔"
    اسلام باعی لپک کر خیمے کے دروازے پر گیا اور آواز دے کر کہا۔ "لڑکے! شب دیز کو دانہ پانی دے دو۔ اس کے آقا کا آج رات کو یہیں قیام رہے گا۔ بوری میں سے دانہ نکال لاؤ، مگر پہلے اسے دریا پر لے جاؤ تاکہ وہ تازہ پانی پی لے۔ اتنے گھوڑے کو دانہ پانی ملے۔ سب سے عمدہ یک سالہ بّرے خیمے کے دروازے پر لائے جائیں تاکہ ان میں سے طعامِ شب کے لئے مہمانِ گرامی خود انتخاب فرما لیں۔"
    عثمان شب دیز کو دریا کی طرف لے چلا۔ باپ نے کہا تھا کہ اس کی لگام پکڑ کر لے جانا مگر وہ اس پر بڑے فخر کے ساتھ سوار جا رہا تھا اور بوکو بطور کے ملازم حیران ہو رہے تھے کیونکہ اس گھوڑے نے ان میں سے کسی کو بھی اپنے اوپر سوار ہونے نہیں دیا تھا اور نہ اس پر سوار ہونے کی کسی میں ہمت ہی تھی۔ اس پر اب تک سوائے بوکو بطور کے اور کوئی سوار ہی نہیں ہوا تھا۔
    خیمہ بوکو بطور کے خدم و حشم سے خالی ہو چکا تھا۔ خیمے میں واپس اپنی جگہ آ کر چھاپہ مار سردار اب بھی اصرار کئے جا رہا تھا۔
    "دایا پرامائی! میرے لئے کوئی جانور حلال نہ کیا جائے۔ کیا میں نے اور میرے محافظوں نے جب اپنے دوست کے ہاں آنے کا ارادہ کیا صبح تڑکے اپنے پڑاؤ سے روانہ ہونے سے پہلے خوب ڈٹ کر کھایا نہیں تھا؟"
    اسلام باعی نے اپنی ضد جاری رکھی۔ "کھانا تو کھانے کے لیے ہی ہوتا ہے اور پیٹ اس لیے ہوتا ہے کہ اسے بھرا جائے۔ موقع ملنے پر جو شخص اپنا پیٹ نہیں بھرتا اسے روزوں میں اور بھی زیادہ بھوک لگتی ہے۔"
    -------------------------------------------------------

    عثمان بطور ر۔۔۔۔ ریختہ صفحہ 58

    بوکو بطور نے کہا۔ "لیکن میزبانوں کے گھر والوں کے لیے باعثِ زحمت بننا بڑی ناشائستہ حرکت ہے۔"
    اسلام باعی کی زوجۂ اول بیچ میں بول اٹھی "کام ان آنسوؤں سے کہیں اچھا ہے جو مہمان کے، اور ایسے جلیل القدر مہمان کے خالی پیٹ جانے پر ہم عورتوں کو بہانے پڑیں، یا اگر وہ پیٹ بھر کر بھی جائے مگر کھانا اس کے لائق نہ ہو۔"
    بالآخر بوکو بطور کو اس پر رضامن ہونا پڑا کہ خیمے کے دروازے پر جائے۔ جہاں ایک سالہ بّروں کا ایک ریوڑ کھڑا ممیا رہا تھا۔
    اسلام باعی نے کہا۔ "انتخاب کرنا مہمان کا کام ہے۔ مگر میری بیوی حاتانم نے بڑی سچی بات کہی ہے۔ اگر کوئی مہمان ازراہ تکلف ایسے جانور کا اتخاب کرے جو اس کے لائق نہ ہو اور میزبان کے لائق بھی نہ ہو تو اس صورت میں میزبان کو اس وقت تک اپنی آنکھیں بند کیے رہنا چاہیے جب تک کوئی اور بہتر جانور انتخاب نہ کر لیا جائے۔"
    بوکو بطور کی آنکھوں میں اطمینان کی چمک پیدا ہوئی۔ بولا "جب میزبان ایسا ہو تو مہمان کے لئے اس کے سوا اور کیا چارہ رہ جاتا ہے کہ ریوڑ کا بہترین جانور چن لے۔"
    یہ کہہ کر ایک بڑے تیار بّرے کے سر پر اس نے ہاتھ رکھ دیا اسے فوراً لے جا کر حلال کیا گیا اور رات کے کھانے کے لئے اسے بنا ڈالا گیا۔
    اسلام باعی نے کہا۔ "ان کے لئے بھی پسند کیجیئے جو آپ کے ساتھ آئے ہیں۔ ساتھیوں کی تعداد چونکہ بیس تھی اس لیے بوکو بطور نے تین اور بّروں پر اپنا ہاتھ رکھا اور جب اسلام باعی نے شکایت کی کہ یہ ناکافی ہیں تو اس نے
    -------------------------------------------------------

    عثمان بطور ر۔۔۔۔ ریختہ صفحہ 59

    تین اور بّروں کے سروں پر ہاتھ رکھ دیا۔ اور جب کھانے سے فارغ ہوئے تو ان چھ میں سے کچھ بھی نہیں بچا تھا کیونکہ قازق کھانے کے بڑے شوقین ہوتے ہیں۔
    میزبانی اور مہمانی کے نہ بدلنے والے دستور جب دونوں جانب سے اس طرح ادا ہو چکے تو اسلام باعی اپنے مہمان کو پھر خیمے میں لے آیا اور خیمے کے دروازے کے سامنے گھر کے بنے اور رنگے ہوئے شوخ رنگ کے قالینوں پر رکھی ہوئی گدیوں پر دونوں آدمی پہلو بہ پہلو بیٹھ گئے اور عورتوں نے منتخب بّروں کے پارچوں کو ایک ایک کر کے بری دیگ میں ابلنے کے لئے ڈالنا شروع کیا۔ سری علیحدہ رکھ لی تاکہ پارچے کھا لینے کے بعد اسے بھون کر چاولوں کے ساتھ کھایا جائے۔ تھوری دیر بعد گھوڑے کو دانہ پانی دے کر عثمان خاموشی سے اندر آ گیا۔ آگ کی دوسری جانب خیمے کے دروازے کے قریب وہ اس طرح بیٹھ گیا کہ کسی طرح بھی اس کا وجود حائل نہ ہونے پائے۔ لیکن بغیر ان کی نظروں پر چڑھے ان دونوں بزرگوں کو دیکھتا بھی رہے اور ان کی باتیں سنتا بھی رہے۔ لیکن اسے اندر آئے کچھ زیادہ دیر نہ ہوئی تھی کہ اسے اچانک معلوم ہوا کہ وہ دونوں خود اسی کے متعلق باتیں کر رہے تھے۔
    بوکو بطور کہہ رہا تھا "لڑکا جو خیمے کے دروازے کے پاس بیٹھا ہے میں جانتا ہوں کہ کس قسم کا ہے۔"
    عثمان کے باپ نے کہا۔ "بہت سے لڑکوں سے کم عقل ہے۔ وادی میں شاید ہی کوئی ایسا لڑکا ہو جو کم عقلی میں اس سے برھ کر ہو۔ کھیلوں میں مثلاً سر پٹ بھاگتے گھوڑے کی پیٹھ پر کمالات دکھانے میں، زین پر سے پھسل کر گھوڑے کے پیٹ کے نیچے آ جانے اور پھر زین پر
    -------------------------------------------------------
     
  5. اوشو

    اوشو لائبریرین

    مراسلے:
    2,427
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Drunk
    عثمان بطور ر۔۔۔۔ ریختہ صفحہ 60

    پہنچ جانے جمیں یا چڑھے ہوئے دریا میں تیرنے میں، یا عااوُل میں ملّا کے پس پشت مضحکہ خیز اشعار کہنے میں، ان سب حماقتوں میں اس سے کوئی بازی نہیں لے جا سکتا۔"
    بوکو بطور زور سے ہنسا۔ "وئ وی! واقعی یہ سب حماقتیں ہیں۔ ایسے اور بھی بہت ہوں گے جو سر پٹ دوڑتے گھوڑے کی زین سے پھسل کر پیٹ سے چمٹ جاتے ہیں اور پورے قدو قامت کی بھیڑ کو گھوڑا دوڑا کر زمین سے اٹھا لیتے ہیں، ایسے بہت ہوں گے جو تیر سکتے ہیں اور جو شعر کہہ سکتے ہیں، لیکن ایسے شاذ ہی ہوتے ہیںجو یہ ساری باتیں ہنر مندی سے کر سکتے ہیں۔۔۔۔۔ عثمان یہاں آؤ، میرے پاس آ کر بیٹھو، ہاں، اب مجھے بتاؤ تمہیں اور کیا کیا آتا ہے؟ بندوق سے نشانہ لگانا آ گیا۔ تلوار کے ایک وار میں بھیڑ کا سر اڑا سکتے ہو؟ زحل کے گرد تم کتنے حلقے دیکھ سکتے ہو یا مشتری کو کتنے چاند اپنے حلقے میں لیے ہوئے دیکھتے ہو؟"
    اسلام باعی نے کچھ بولنے کا ارادہ کیا تو اس نے کہا "نہیں دوست لڑکے کو خود بولنے دو، تبھی میں جان سکوں گا کہ جو قصے میں نے اس کے بارے میں سنے ہیں کہاں تک ان میں صداقت ہے۔"
    عثمان نے کہا "یہ کام تو ایسے ہیں جو کئے جاتے ہیں۔ صرف ان کا تذکرہ بے کار ہے اور جب تک کوئی صحیح استاد نہ ملے کوئی لڑکا کیسے انہیں کر سکتا ہے؟"

    یا اللہ! میں اس کے باپ کے سامنے کہتا ہوں اور خود اس کے سامنے بھی کہ اس کا مثل اس کے بعد کبھی پیدا نہیں ہو گا، افواہ کم از کم
    -------------------------------------------------------

    عثمان بطور ر۔۔۔۔ ریختہ صفحہ 61

    ایک بار تو سچی ثابت ہوئی، کھانے سے فارغ ہونے کے بعد اس موضوع پر مزید گفتگو کروں گا۔"
    اتنے کم سن لڑکے کے لیے بوکو بطور جیسے آدمی کے م نہ سے ایسی باتیں کچھ مبالغہ آمیز نظر آتی ہیں۔ لیکن یہ ثابت ہے کہ بوکو بطور نےیہی الفاظ متعدد بار مختلف مواقع پر کہے ہیں۔ ہمیں یہ تو صحیح نہیں معلوم کہ بوکو بطور نے اسلام باعی سے کس ملاقات میں اپنی تجویز کا تذکرہ کیا لیکن اتنا ہم ضرور جانتے ہیں کہ جو تجویز آگے بیان کی جائے گی وہ بوکو بطور نے ہی پیش کی تھی۔
    قازقوں کی یہ سدا کی عادت ہے کہ کھانے سے پہلے سنجیدہ معاملات پر گفتگو نہیں کرتے۔ اس لیے جب بوکو بطور نے یہ کہا مجھے سنجیدگی سے گفتگو کرنی ہے تو اس کے بعد معمولی واقعات پر بات چیت ہونے لگی۔ اور عثمانیہ محسوس کر کے کہ اب اس کی ضرورت نہیں رہی، چپکے سے اٹھا اور پھر دروازے کے قریب مقام خاکسارانہ پر جا بیٹھا۔ وہاں وہ بیٹھا توجہ سے سنتا رہا اور اس کے بزرگوں نے اسے یکسر فراموش کر کے کچھ اور ہی باتیں شروع کر دیں۔ اپنے گلوں کی، شکار کی، آنے والی فصل کی، اپنے قبیلے والوں کے معاملات کی، ناسازگار بیرونی دنیا کی جو انہیں گھیرے لے رہی تھی۔ یہ آخری موضوع ان کی گفتگو کو چینیوں کی طرف لے آیا۔
    اسلام باعی نے اپنے مہمان سے نظریں چرا کر پوچھا۔ "کیا یہ سچ ہے کہ خطائیوں نے بوکو بطور کے سر کی قیمت لگا رکھی ہے؟"

    بوکو بطور نے بے پروائی سے جواب دیا۔ "مجھ سے یہی کہا گیا ہے۔ اگر یہ صحیح ہے تو اچھا ہے۔ جو خطرے میں ہوتے ہیں ہمیشہ لمبی عمر پاتے ہیں۔"
    -------------------------------------------------------

    عثمان بطور ر۔۔۔۔ ریختہ صفحہ 62

    "کیا قیمت لگائی ہے؟"
    " میں نے سنا ہے کہ دس ہزار تائل۔"
    1911 ء کے بھاؤ سے یہ رقم ڈھائی ہزار پونڈ کے قریب بنتی تھی۔ یہ وہ زمانہ تھا کہ مشرقی ترکستان میں تس تائل میں گھوڑا خریدا جا سکتا تھا۔
    " یہ تو بڑی رقم ہے۔ کیا اسے اس کا خوف نہیں ہے کہ کوئی اتنی بڑی رقم کے لالچ میں اسے دغا دے جائے گا؟"
    بوکو بطور ہنسا۔
    "میرے اپنے آدمی تو ایسا نہیں کریں گے وہ جانتے ہیں کہ خطائی اپنا وعدہ پورا کرنے کے لیے یہ رقم تو ادا کر دیں گے، مگر انعام پانے والے دروازے تک نہیں پہنچیں گے کہ گلے میں رسی کا پھندا پڑ جائے گا۔ خون کی اس رقم کو کوئی اور مرد یا عورت حاصل کرنے کا موقع ہی نہیں پا سکے گی۔ یا اگر کسی نے یہ روپیہ لے بھی لیا تو اس میں اسے خرچ کرنے کی ہمت کہاں سے آئے گی؟"
    "کتنے آدمیوں کو معلوم ہے کہ آج کی رات وہ کہاں بسر کر رہا ہے؟"
    بوکو بطور نے جواب دینے سے پہلے احتیاط سے چاروں طرف دیکھا پھر بہت نیچی آواز میں بولا۔ "صرف وہ جانتے ہیں جنھوں نے اسے اپنے خون شریک بھائی کے خیمے میں داخل ہوتے دیکھا۔"

    اسلام باعی نے چوک کر اب چاروں طرف دیکھا اور بولا۔ "خاموش! اگر کسی کن سنیاں لینے والے نے ہمارے اس عہد کا ذکر سن لیا جو راز ہے ہم دونوں کے درمیان، یا جسے صرف وہ ملّا جانتا ہے جس نے ہمارے باہمی عہد کا حلف اٹھاتے وقت ہم دونوں کے خون کو ایک پیالے میں ملایا
    -------------------------------------------------------

    عثمان بطور ر۔۔۔۔ ریختہ صفحہ 63

    تھا تو سمجھ لو کہ ہمارے لیے روزِ بد آ پہنچا۔"
    "ایک شخص ایسا ہے جسے میں چاہتا ہوں کہ اس کا علم ہو جائے۔ میری یہ خواہش کیوں ہے اس کی وضاحت میں بعد میں کروں گا۔"
    " وہ کون ہے؟"
    " وہ لڑکا جو سامنے خیمے کے دروازے کے قریب بیٹھا اپنے دونوں کان ہماری باتوں پر لگائے ہے۔ لیکن اب کھانے کے بعد کے لیے اس موضوع کو اٹھا رکھو۔ جب پیٹ بھرا ہوتا ہے تو دل ہرا ہوتا ہے۔ دوست سے دل کی بات کہنے کا وقت یہی ہوتا ہے۔ لفظ زیادہ بڑے اور شیخی بھرے ہوتے ہیں، جب پیٹ کی ہوا سے پھولنے کے لیے ان کے لیے ضرورت سے زیادہ جگہ موجود ہوتی ہے۔"
    ہماری کہانی کے اب پھر کوئی دستاویزی ثبوت نہیں ہیں لیکن یہ بات بھی کچھ انہونی سی ہے کہ جب دو شخص نہایت مقدس قربت میں منسلک ہو جائیں تو اس کے لیے کوئی دستاویز بھی تیار کی جائے۔ اگر یہ صورت ہوا کرتی تو اس تعلق خاص کی افادیت ہی ختم ہو جاتی۔ بوکو بطور اور اسلام باعی تو ایسے آدمی تھے کہ ان کے بارے میں یہ سوچا ہی نہ جا سکتا تھا کہ ان کے خون شریک بھائی نہیں ہوں گے۔ اور یہ بھی قطعی نا ممکن تھا کہ بوکو بطور کا اگر اسلام باعی سے خون بندھن نہ ہوتا تو عثمان کے ساتھ بوکو بطور کا اس نوع کا رویہ ہوتا۔

    قازق معاہدوں میں خون کا بھائی چارہ دو آدمیوں میں سب سے پکا بندھن سمجھا جاتا ہے، ایک ماں کے پیٹ کی اولاد سے بھی زیادہ، زن و شوہر کے تعلقات سے بھی قوی تر، کیونکہ اسلامی قانون کے مطابق ان میں تین دفعہ
    -------------------------------------------------------

    عثمان بطور ر۔۔۔۔ ریختہ صفحہ 64

    طلاق دینے پر علیحدگی ہو جاتی ہے۔ دراسل یہ ایک ایسا بندھن ہے جو جسمانی بھی ہے اور روحانی بھی۔ زندگی بھر ایک دوسرے کی مادی خدمات تو لازم و ملزوم ہوتی ہی ہیں، مرنے کے بعد بھی ان دونوں کی روحیں جنت میں یکجا ہو جائیں گی۔ کیونکہ بہ اعتبار مسلمان ہونے کے قازق یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ جب جسم مر جاتے ہیں تو روحیں اپنی اصل کی طرف رجوع کرتی ہیں اور مدغم ہو کر ایک ہو جاتی ہیں۔

    اچھا تو اب ہمیں یہ تصور کرنا چاہیے کہ ادھر عورتیں کھانا پکانے میں لگی ہوئی تھیں اور ادھر یہ دونوں خون شریک بھائی خاموش ہو کر ماضی کا وہ خواب دیکھ رہے ہیں جب ان کی جوانی میں ملا ایک پیالہ لایا تھا، پھر اس نے ان دونوں کی کلائیوں میں شگاف دیے تھے اور اپنے ساتھ ساتھ ان دونوں سے عہد کے الفاظ کہلوائے تھے۔ مرغ کا ایک پٹھا پاس ہی حلقوم کی کھال سے بندھا ہوا ایک ساں شور ممچائے جا رہا تھا۔ ساتھ ساتھ خون شریک کرنے کی کارروائی بھی ہو رہی تھی اور خیمے کے باہر مرغ کی اس چیخ پکار کی طرف کسی کا دھیان بھی نہیں جاتا تھا۔ کیونکہ مرغ کے پٹھوں کی تو یہ عادت ہی ہوتی ہے کہ شور مچاتے رہیں۔ آخر میں دونوں خون شریک بھائیوں نے پیالے میں اپنے اپنے انگوٹھے ڈبوئے اور آپس میں گلے ملے، ان میں سے ایک نے مرغ کے پٹھے کو آزاد کر دیا اور خیمے کا پردہ اٹھتے ہی وہ پھڑ پھڑا کر بھاگ گیا۔ یہ دونوں آدمی اپنے اپنے کام پر اس طرح چلے گئے گویا کوئی غیر معمولی بات ہوئی ہی نہیں، لیکن اس عہد کے بعد ان دونوں میں سے ہر ایک کو حق حاصل ہو گیا تھا کہ اگر کبھی دشمنوں کے نرغے میں پھنس جائے تو اپنے خون شریک بھائی سے ایک رات کے لیے سر چھپانے کی جگہ طلب کرے اور اگلے دن صبح کو ایک
    -------------------------------------------------------

    عثمان بطور ر۔۔۔۔ ریختہ صفحہ 65

    صبا رفتار گھوڑا اسے تیار مل جائےاس کے علاوہ خطرات اور میدان جنگ میں ایک دوسرے کی مدد کرنا بھی جانبین پر فرض ہو جاتا تھا۔ پھر ان دونوں خون شریک بھائیوں میں کوئی راز نہیں رہتا تھا ایک کے دریافت کرنے پر دوسرے کو سب کچھ بے دریغ کہہ دینا پڑتا تھا۔ بشرطیکہ وہاں کوئی تیسرا موجود نہ ہو۔

    شاید یہ دونوں ایسے ہی خواب دیکھ رہے ہوں گے کہ عورتیں گرما گرم شوربے کے بھرے ہوئے پیالے اور بّرے کے پارچے لے کر آ گئیں اور پہلے بوکو بطور کو، پھر اسلام باعی کع یہ چیزیں پیش کرنے لگیں۔ کھانا شروع کرنے سے پہلے خیمے کے دروازے پر گرم پانی سے ان کے ہاتھ دھلوائے گئے، پھر اپنی اپنی جگہ واپس آ کر انہوں نے برکت کے لیے کوئی دعا پڑھی۔ سپاٹ روٹی کے بڑے بڑے ٹکڑے پیش کیے گئے۔ جس کے بعد بڑی سی گہری رکابی میں اپنے سیدھے ہاتھ ڈبو ڈبو کر انہوں نے گوشت کے پارچے نکالنے اور کھانے شروع کیے۔ گوشت چباتے جاتے اور شوربے کے پیالے منہ سے لگا کر شڑپے لگاتے جاتے تاکہ گوشت حلق سے نیچے آسانی سے اتر جائے۔ یہ بالکل وہی طریقہ تھا جو آتے ہی بوکو بطور نے چائے اور نان خوری میں اختیار کیا تھا۔ جب خو3ب پیٹ بھر کر کھایا جا چکا تو ملازم نے گرم پانی سے پھر ان کے ہاتھ دھلائے اور کھانے والوں کے زانوؤں پر جو لمبا سا تولیہ پڑا ہوا تھا، اس سے دونوں نے ہاتھ پونچھے۔ ملازمین نے باقی ماندہ کھانا اتھا کر جگہ صاف کر دی، اتنے میں عورتیں تازہ چائے کے پیالے لے آئیں، ان میں سے دار چینی کی خوشبو اڑ رہی تھی۔ ذائقہ کے لیے اس چائے میں شکر بھی ڈالی گئی تھی اور نمک بھی گرم چائے کو وہ
    -------------------------------------------------------

    عثمان بطور ر۔۔۔۔ ریختہ صفحہ 66

    زور زور سے شڑکتے رہے اور درمیانی وقفوں میں غیر مسلسل گلوئی صدائیں خارج کرتے رہے، جن کا مطلب قازقوں کے آدام اکل و شرب میں یہ لیا جاتا ہے کہ کھانا بہت تھا اور مزے دار بھی۔
    جب دونوں بزرت اپنی اپنی گدیوں پر سستانے کے لیے بیٹھ گئے تو اسلام باعی نے چیخ کر کہا۔ "ارے کاہل لڑکے ایندھن لا۔ جب ہوتا ہے جب مجھے تجھ سے کہنا پڑتا ہے کہ آگ جوڑ اور دھونکنی سے شعلے اٹھا۔ جانور تک جان گئے ہوں گے کہ رات ہو گئی اور چاروں طرف اندھیرا پھیل گیا ہے۔ "
    عثمان نے چپکے سے اپنے بھائیوں سے کہا اور وہ خیمے کے باہر جو لکڑیوں کا ڈھیر لگا تھا اس میں سے کولیاں بھر بھر کر لکڑیاں لانے لگے۔ جن اپلوں کے انگاروں پر ابھی بّرے کا گوشت چکا تھا ان پر ایک نے احتیاط سے لکڑیاں چنیں اور دوسرے نے دھونکنی سے ہوا دینی شروع کی۔ یہاں تک کہ خیمے میں شعلوں کی زبانیں لہرانے لگیں اور ان کے عجیب و غریب سائے خیمے میں اس طرح ناچنے لگے جیسے آسمان پر بجلی کے کالے کوڑے بن رہے ہوں اور یہ سائے خیمے کی نمدے دار دیواروں سے ٹکرا کر خاموشی سے پاش پاش ہونے لگے۔
    اسلام باعی نے جب دیکھا کہ شعلے خوب بھڑک اٹھے ہیں، تو اس نے عثمان بطور کو آواز دے کر منع کیا کہ اب اور آگ نہ بھڑکائی جائے۔ اب بوکو بطور نے عثمان کو بلایا۔ عثمان آگے آ کر نہایت ادب سے کھڑا ہو گیا۔

    بوکو بطور نے کہا۔ "یہاں بیٹھ جاؤ ، میرے پاس۔"
    -------------------------------------------------------

    عثمان بطور ر۔۔۔۔ ریختہ صفحہ 67

    چنانچہ عثمان بیٹھ گیا اور منتظر رہا۔ دیر تک خاموشی رہی، کچھ دیر بعد بوکو بطور نے لڑکے کے سر پر ہاتھ رکھا اور بولا:
    "کھانا کھانے سے پہلے ہم گفتگو کر رہے تھے کہ میرے سر کی قیمت لگا دی گئی ہے۔" پھر اسلام باعی کی طرف رخ کر کے کہا "کیوں بھائی، یہی بات ہو رہی تھی۔"
    اسلام باعی نے تصدیق کرتے ہوئے کہا۔ "جی ہاں، یہی بات ہو رہی تھی۔"
    "ہو جو خطرے میں پیدا ہوتے ہیں لمبی زندگی پاتے ہیں، یہ بات میں پہلے بھی کہہ چکا ہوں، کیونکہ خدا کی مرضی یہ ہوتی ہے کہ ایسے لوگ ہوشیار رہیں لیکن جب اللہ کا حکم ہوتا ہے تو موت سبھی کو آتی ہے۔"
    اسلام باعی نے کہا "خدا نہ کرے کہ موت ان کو آئے جو اس خیمے میں ہمارے ساتھ ہیں اور خدا کرنے ان میں کوئی عمر دراز پائے بغیر نہ مرے۔"
    اور اس کی بیویوں نے کہا۔ "آمین"
    بوکو بطور نے کہا۔ "اس کا اختیار اللہ کو ہے لیکن جو دانشمند ہوتے ہیں۔ خصوصاً ایسا شخص جو ہزاروں کی رہنمائی کرتا ہو، مثلاً میں ، ایسا شخص پیش بینی کرتا ہے اور اپنے منصوبے بناتا ہے تاکہ اچانک وہ روز بد نہ آ جائے کہ اس کے پیرو بغیر رہنما کے رہ جائیں۔ کیوں بھائی یہی بات ہے نا؟"
    "جی ہاں۔ یہی بات ہے۔"

    بوکو بطور نے کہا۔ "رہنمائی خدا کرتا ہے، انسان نہیں کرتا۔ یہ بھی ضروری نہیں ہے کہ رہنما کا لڑکا بھی باپ کی خوبیوں سے متصف ہو۔ یہ ہو سکتا
    -------------------------------------------------------

    عثمان بطور ر۔۔۔۔ ریختہ صفحہ 68

    ہے کہ کسی شخص کا لڑکا یا اس کی لڑکی باپ کے دستے یا پورے قبیلے کی رہنمائی امن کے زمانے میں کرے۔ مگر جنگ کے زمانے میں اپنی قسمتیں اسے سونپ دینا، جب تک وہ اس کا اہل نہ ہو، گناہ ہے۔ خدا کا گناہ۔"
    اسلام باعی بولا۔ "جیوٹ گھوڑے کو خدا ہی ہدایت کرتا ہے کہ پہاروں میں جب کوئی خطرہ قریب ہو تو اپنی گھوڑیوں اور بچھروں کی حفاظت کے لیے تیار ہو جائے۔ "
    بوکو بطور نے کہا۔ "تم نے اچھی مثال دی، اگر مجھے نکال لیا جائے تو میرے پاس اور کوئی گھوڑا نہیں ہے جو میرے گلے کی حفاظت کرے۔ "
    یہ کہہ کر اس نے عثمان کا چہرہ اپنی طرف پھیرتے ہوئے پوچھا۔ "یہ لڑکا ہے ایسے دم خم کا گھوڑا؟ کیا خیال ہے تمہارا ابو عثمان؟"
    اسلام باعی اچانک اور غیر متوقع طور پر مسکرانے لگا۔ اس کی مسکراہٹ میں کچھ شرارت بھی تھی۔ بولا:
    "اتنا تو میں جانتا ہوں کہ یہ آختہ گھوڑا ہے۔ اس سے زیادہ اور کچھ کہنا، میرا یعنی اس کے باپ کا کہنا مناسب نہیں ہے، پھر یہ کہ ابھی اس کی عمر مشکل سے بارہ سال کی ہو گی۔"
    بوکو بطور نے کہا۔ "مگر وہ اتنا بڑا ضرور ہے کہ میرے ساتھ چلے، تاکہ میں اس کے متعلق کچھ معلوم کر سکوں۔"
    باپ نے بیٹے سے پوچھا۔ "لڑکے تم کیا چاہتے ہو؟"
    "اگر میرے باپ کی مرضی ہو اور بوکو بطور کی بھی ، تو میں بہ خوشی جاؤں گا۔"

    بوکو بطور نے کہا۔ "مجھے جو کچھ تجھ سے کہنا ہے اسے غور سے سن۔
    -------------------------------------------------------

    عثمان بطور ر۔۔۔۔ ریختہ صفحہ 69

    کیونکہ ہم جس موضوع پر گفتگو کر رہے تھے، وہ کوئی معمولی بات نہیں ہے، تیرا باپ اچھی طرح جانتا ہے کہ چنگیز خاں کے زمانے سے نہیں بلکہ شروع سے ہی ہم قازق ان پہاڑوں پر گھومتے رہے ہیں، ہم نے کبھی کسی کو خراج نہیں دیا اور نہ کبھی کسی کی اطاعت قبول کی سوائے خدا کے اور اپنے منتخب سرداروں کے۔ پھر صحرائے گوبی کے پیچھے سے غیر ملکی کافر آئے اور ہمیں غلام بنانے کی تدبیریں کرنے لگے۔ تیرا باپ جانتا ہے اور اس سے زیادہ ہمارے دشمن جانتے ہیں کہ میں جہاد کرتا رہا ہوں۔ پچھلے بیس سال سے ان اہل خطا سے مقدس لڑائیاں لڑتا رہا ہوں اور اپنے لوگوں کو ابھارتا رہا ہوں کہ وہ بھی جہاد کریں۔ ایک نہ ایک دن ہم انہیں اسی صحرا میں واپس دھکیل دیں گے جہاں سے وہ آئے تھے اور ہم انہیں بربارد کر دیں گے، چاہے ان کی تعداد تکلا مکان کے ذروں کے برابر ہی کیوں نہ ہو۔"
    بوکو بطور ایک ذرا کی ذرا چپ ہوا اور بولا:

    "اے عثمان تیرا باپ امن پسند آدمی ہے اور میں ان میں سے ہوں جو لڑ کر زندہ رہتے ہیں اور جنہیں لڑائی سے محبت ہوتی ہے۔ لیکن ہم دونوں کو اپنی قوم سے محبت ہے، اس کا طور اور ہے اور میرا کچھ اور۔ جتنی محبت اسے امن سے اور مجھے جنگ سے ہے اس سے برھ کر ہم دونوں ایک دوسرے سے محبت کرتے ہیں، اس وقت سے جب ہم تیرے برابر کے لڑکے تھے۔ کل رات کو سوتے میں یہ بات میرے دل میں آئی کہ اس خیمے میں کوئی اور ایسا موجود ہے جو امن کے طریقوں میں اپنے باپ کی سلیقہ مندی رکھتا ہے تا ہم وہ اس لائق ہے کہ میں اسے اپنی جنگ کرنے کی ہنر مندی سکھا دوں۔ پھر جب میں رخصت ہو جاؤں تو ہمارے سدا کے
    -------------------------------------------------------

    عثمان بطور ر۔۔۔۔ ریختہ صفحہ 70

    دستور کے مطابق جنگ بجائے دو یا دو سےبھی زیادہ دماغوں کے ، صرف ایک دماغ کے تحت آئندہ جاری رہ سکتی ہے۔ اور جب میری آنکھ کھلی تو پو پھٹ رہی تھی اور میرے دل میں آئی کہ میں یہاں آؤں اور بہ چشم خود دیکھوں۔ چنانچہ میں یہاں آیا۔ "
    اب پھر ایک ذرا دیر کے لیے خاموشی ہو گئی اور اب اس کے اس سکوت کو عثمان کی ماں نے توڑا۔
    "آنے والے زمانے میں لوگ میرے بیٹے کو اس ی طرح بطور کہیں گے جیسے آج کسی اور کو کہتے ہیں، آپ اسے لے جائیے اور سکھائیے اور اگر یہ نا اہل ثابت ہو تو اسے اس کے باپ کے خیمے میں واپس بھیج دیجیے۔"
    عثمان بولا۔ " اگر میں نا اہل ثابت ہوا تو میں ہر گز واپس نہیں آؤں گا۔ مر جانا پسند کروں گا۔"
    یہ طے ہو گیا کہ بوکو بطور عثمان کو اپنے ساتھ لے جائے گا اور اسے چھاپہ مار سردار کی تربیت دے گا۔ رات گئے تک بزرگ بیٹھے باتیں کرتے رہے۔ اس دوران میں عثمان خاساری سے اپنے بھائیوں میں جا بیٹھا۔ اور جب ضرورت ہوتی تو آگ دہکا دیتا، مگر بڑوں کی باتوں میں پھر شریک نہیں ہوا۔ انہیں تمام پہلوؤں پر غور کرنا تھا، خصوصاً اس پر کہ اس شبہ سے اسلام باعی کو کیسے بچایا جائے کہ اس کا بیٹا چینیوں سے لڑ رہا ہے۔ چینیوں کو اس سے کیسے باز رکھا جائے کہ وہ اسلام باعی کو گرفتار کر کے طرح طرح کے عذاب دے کر یہ دریافت نہ کر لیں کہ بوکو بطور کہاں پوشیدہ ہے؟

    عثمان بڑے اشتیاق اور خاموشی سے باتیں سن رہا تھا۔ جن میں چینی
    -------------------------------------------------------
     
  6. اوشو

    اوشو لائبریرین

    مراسلے:
    2,427
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Drunk
    عثمان بطور ر۔۔۔۔ ریختہ صفحہ 71

    افسروں سے نفرت بھری ہوئی تھی۔ ان کے مظالم، قازق وطن کی سرزمین کے نیچے سونے اور دوسری معدنیات کی جو دولت دبی پڑی تھی اس کے لیے چینیوں کی حرص و انا ، چینیوں کے چنگل میں پھنس جانے والوں پر ان کی اذیتیں، اور ذی استطاعت قازقوں کا زر رستگاری ادا کر کے ان کے قبضے سے رہائی حاصل کرنا اور اس کے بعد بوکو بطور نے ان چینی سوداگروں کو برا بھلا کہا جو جابرانہ قیمتیں وصول کرتے، ان چڑھ آنے والے چینیوں کی برائی کی جو الطائی کی زمینوں کو دباتے چلے جا رہےتھے، یہاں تک کہ اس کے حقیقی آتا تنگ حدود میں گھر کر رہ گئے تھے اور اپنے آبا و اجداد کی طرح سب حسب مرضی آزادی سے گھوم پھر بھی نہیں سکتے تھے۔
    عثمان ان باتوں کو سنتا رہا اور سینے میں اس کا دل جلتا رہا بوکو بطور کے زیر اثر اسے چینیوں سے نفرت ہو گئی اور یہ نفرت زمانے کے ساتھ ساتھ بڑھتی گئی۔ جب چینی خطرہ 1930 ء کے لگ بھگ وسیع اشتراکیوں کے خلاف قومیت پسند چینیوں کا حلیف بن جائے۔ مگر پھر اس نے سوچا کہ قازق طرز زندگی کے دشمن تو دونوں ہی ہیں اس لیے ان سے بھی میل نہیں ہو سکتا۔

    عثمان پر اعتراض کرنا مشکل ہے۔ جو قومیں چینیوں کے ماتحت تھیں اپنا کوئی مستقبل سوائے اس کے نظر نہ آتا تھا کہ چینی بن جائیں۔ چالیس سال بعد جون 1952ء میں چین کے ایک سابق نائب صدر ڈاکٹر چو چیا ہوا اپنی فارموسا کی جلاوطنی سے استنبول میں مہاجر ترکی رہنما محمد امین بغرا
    -------------------------------------------------------

    عثمان بطور ر۔۔۔۔ ریختہ صفحہ 72

    کو لکھ رہا تھا :
    "نہ صرف سنکیانگ (مغربی ریاست) خود چین میں ہے بلکہ بہت سا وہ علاقہ بھی جو اس کے پیچھے ہے کبھی چینی سلطنت میں شامل تھا، یہی وجہ ہے کہ چین کے کل باشندے اسے ایک مقدس ورثہ سمجھتے ہیں۔۔۔۔ چینی خون کئی قوموں کے خون کا آمیزہ ہے۔۔۔۔۔ آسمان تلے صرف ایک خاندان کا نظریہ محض ایک شاعرانہ نمود نہیں ہے۔۔۔۔۔ بلکہ ہمارے روز مرہ کے طرز عمل کے لیے ایک معیار بھی ہے۔"
    " عظیم راہبوں کے سوانح میں ایک دلچسپ قصہ سنگیانگ کے ایک راہب جمولوش کا لکھا ہے کہ بربری حملہ آوروں کے زمانے میں وہ ایک عسیر المدت بادشاہت میں پہنچا، بادشاہ نے اسے دس حسین چینی دوشیزائیں دیں، تاکہ راہب کی اعلیٰ صفات ذہنی اور ہب* اور ان دوشیزاؤں سے جو اولاد پیدا ہو، ان میں منتقل ہو کر دائم و قائم ہو جائیں ۔
    ۔۔۔۔۔ اگر جمولوش کی کوئی اولاد ان حسین بیویوں سے ہوئی ہو گی تو چینیوں کے معاشرے ہی میں جذب ہو کر چینی باشندوں کا حصہ بن گئی ہو گی۔۔۔۔"

    جدید چینی نسل کئی نسلی عناصر سے مرتب ہوئی ہے۔ چینی ثقافت اور چینی عوام کی مسلسل قوت کا سبب یہی ہے۔۔۔۔۔"
    -------------------------------------------------------

    عثمان بطور ر۔۔۔۔ ریختہ صفحہ 73

    محمد امین بغرا نے جواب میں لکھا کہ "وہ ترکی، منگولی اور تبتی قومیں جو اب چینیوں کے زیر اقتدار رہیں، ان کی زبان، مذہب، رسم الخط اور دوسرے خصائص چینیوں سے کوئی مماثلت نہیں رکھتے۔ترکستان چین کی قدرتی حد کے پیچھے ایک علیحدہ جغرافیائی رقبے میں واقع ہے اور اس کی چھیانوے فی صدی آبادی ترکی ہے، لہذا اسے خود مختار ہونا چاہیے۔۔۔۔ وہاں اسی لاکھ سے زیادہ ترک ہیں جن میں ترکی بھی ہیں اور قازق وغیرہ بھی۔ دنیا میں دس سے زیادہ ایسی آزاد قومیں ہیں جن کے افراد کی تعداد ترکستان سے کم ہے۔"
    عثمان کا چینیوں سے نفرت کرنا اور ان سے لڑتے رہنا، مختصراً انہی وجوہ سے تھا۔ اور یہی سبب ہے کہ علی بیگ، حمزہ اور دوسرے قازق بعد میں بھی ان روسی اور چینی اشتراکیوں سے لڑتے رہے جو قازق انفرادیت کو مٹا دینے کے در پے تھے۔
    جس رات کو بوکو بطور نے عثمان کو جہاد کرنے میں اپنا جانشین بنانے کی تربیت دینے کی پیش کش کی، اس کے اگلے دن علی الصباح اسلام باعی، اس کے گھر والوں اور مہمان سب نے اٹھ کر نماز فجر ادا کی اور کوئی گھنٹہ بھر بعد عثمان نے اپنا ضروری سامان ایک بغچی میں باندھا اور اپنے نئے نگراں و استاد کے ساتھ گھوڑے پر سوار ہو کر پڑاؤ سے روانہ ہو گیا۔ عا اول سے وہ فارغ التحصیل ہو چکا تھا اوراب سے اسے عملی تجربے کے مکتب میں سبق حاصل کرنا تھا۔

    اس کے احساسات کا اندازہ کرنا مشکل نہیں ہے۔ جب سے وہ بڑوں کی باتیں سننے لگا تھا وہ بوکو بطور کے کارنامے سنتا چلا آ رہا تھا۔
    -------------------------------------------------------

    عثمان بطور ر۔۔۔۔ ریختہ صفحہ 74

    جب کبھی بھی اسلام باعی کے خیمے میں کوئی مہمان آتا تو ہر پھر کے تذکرہ اس چھاپہ مار سردار کا ہی ہوتا رہتا۔ گھومتے پھرتے بھاٹ اس کی شان میں اپنے لکھے ہوئے گیت گاتے اور طویل رزمیہ نظمیں سناتے اور عثمان کے مکتب کے ملا نے خود عثمان کو شعر لکھنے اور انہیں قدیم دھنوں میں گانے سکھائے تھے جو سب کومحبوب تھیں۔
    لہذا عثمان کی آنکھیں بوکو بطور کے سر کے گرد ضرور نور کا ایک دائرہ دیکھ رہی ہوں گی اور جب وہ دونوں ایک ساتھ اوپر الطائی کی وادیوں کی جانب سوار چلے جا رہےہوں گے تو عثمان کی ناک میں جہاد کے مقدس مقصد کی خوشبو آ رہی ہو گی۔ اگرچہ ہمیں یہ ٹھیک نہیں معلوم کہ یہ کب کا واقعہ ہے اور وہ کہاں گئے، تاہم ہمیں اس کا یقین ہے کہ خزاں کا آخر آ پہنچا تھا اور برف کی تہہ اس مقام کی جانب اترتی چلی تھی جہاں اسلام باعی کا پڑاؤ ہوتا تھا۔ بہر حال جب بھی یہ واقعہ ہوا ہو اور جہاں کہیں بھی یہ گئے ہوں، ان کا رخ برف کی تہہ کی طرف تھا۔ کیوں کہ بوکو بطور پہاڑوں کے اندر چھپنے کے ایسے مقام تلاش کرتا تھا جنہیں ڈھونڈھ نکالنا دشمن کے لیے مشکل ہو۔

    لہذا کچھ ہی عرصے بعد وہ برف کی تہہ کی جانب چلے جا رہے تھے۔ بوکو بطور آگے تھے۔ گھوڑوں کا رخ وہ ران کے دباؤ کے اشاروں سے ہی بدل لیتے۔ پتلی پتلی لگاموں کے کھنچاؤ سے گھوڑے کے سر اونچے ہو جاتے۔ ان ہی باتوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ قازق اپنے گھوڑوں کو کس قدر عزیز رکھتے ہیں۔ ان کے ہاں ایک کہاوت ہے کہ "بھلے گھوڑے کو چابک کی ضرورت نہیں ہوتی۔"
    -------------------------------------------------------

    عثمان بطور ر۔۔۔۔ ریختہ صفحہ 75

    ان کا راستہ بھوری خشک چراگاہوں اور ایسے گنجان درختوں سے ہو کر جا رہا تھا کہ کسی کو سان گمان بھی نہیں ہو سکتا تھا کہ ان میں سے کسی کا گزر ہو سکتا ہے۔ بوکو بطور نے پلٹ کر دیکھا کہ عثمان پر کیا گزر رہی ہے ۔ اور مسکرا کر کہا:
    "کیا یہاں سے اپنے گھر واپس پہنچ سکتے ہو؟"
    "نہیں صاحب۔ مگر میرا گھوڑا مجھے لے جا سکتا ہے۔"
    بوکو بطور نے کہا "ٹھیک" تھوڑی دیر بعد اس نے پھر پلٹ کر کہا:
    "گھوڑے پر اعتماد اسی وقت کرنا چاہیے جب وہ راستے سے واقف ہو۔ مگر ایک وقت ایسا آتا ہےجب کوئی نیا راستہ تلاش کرنا پڑتا ہے یا کوئی پرانا راستہ نئے گھوڑے کو دکھانا پڑتا ہے، جو شخص میرے نقش قدم پر چلے اسے یہ سیکھنا چاہیے کہ نئی راہ کیسے تلاش کی جاتی ہے۔ یہ بات اسے دوسروں کو بھی بتانی چاہیے اور اپنے گھوڑے کو بھی۔"

    عثمان نے یہ ڈھنگ بھی سیکھ لیا۔ جب وہ جوان ہو گیا اور بوکو بطور کا چغہ اسے مل گیا تو وہ فخریہ کہا کرتا کہ لڑائی کے بعد میں اپنی پوشیدہ کمیں گاہوں میں اس طرح چپکے سے پوشیدہ ہو سکتا ہوں کہ سنکیانگ، شنگھائی اور کن سو تینوں صوبوں کی چینی فوجیں میری ہوا بھی نہ پائیں۔ حالانکہ وہ اتنے قریب پہنچ جاتی ہیں کہ میرے کانوں میں ان کی آوازیں آنے لگتی ہیں۔ اور میں ان کی گولیوں کی زد میں ہوتا ہوں۔ لیکن رفتہ رفتہ زمانہ بدل گیا، اور اس کی زندگی کے اختتام سے پہلے اس کے دشمنوں نے
    -------------------------------------------------------

    عثمان بطور ر۔۔۔۔ ریختہ صفحہ 76

    ہوائی جہازوں سے اس کا پیچھا کرنا شروع کر دیا اور ان سے بچنا خاصا دشوار ثابت ہونے لگا تھا۔ مگر اکثر ایسا ہوتا کہ ہوائی جہاز بھی اس کا پتا چلانے میں ناکام رہتے۔ یوں بھی دوسری عالمی جنگ تک ہوائی جہازوں کی بہت کمی تھی۔
    عثمان اپنے گھوڑے پر سوار بوکو بطور کے پیچھے پیچھے چلا جا رہا تھا۔ کبھی کبھی اس کے پہلو بہ پہلو بھی ہو جاتا۔ عثمان کی تیز نگاہوں نے ان نظر نہ آنے والی علامتوں کو بھی دیکھ لیا جن سے ظاہر ہوتا تھا کہ پڑاؤ قریب آ رہا ہے۔ چٹانوں کے بعض حصے بہت سے جانوروں کے گزرنے کی وجہ سے گس کر چکنے ہو گئے تھے، کسی کسی خار دار جھاری میں بھیڑوں کے اون کے ریشے اٹکے رہ گئے تھے اور کہیں کہیں بھیڑوں کی مینگنیاں پڑی دکھائی دے رہی تھیں۔
    بوکو بطور نے پوچھا "تم پہلے کبھی یہاں آئے ہو؟"
    "کبھی نہیں"
    "تمہارا باپ آای ہے۔"

    اور عثمان کی سمجھ میں پہلی دفعہ یہ بات آئی کہ کبھی کبھی اس کا باپ صبح سویرے ہی اٹھ کر پڑاؤ سے کیوں چلا جاتا تھا اور اگلے دن یا اس سے بھی اگلے دن تک واپس کیوں نہ آتا تھا۔ اس انکشاف سے بھی اسے ایک سبق حاصل ہوا ۔ وہ یہ کہ اپنا راز اپنے تک رکھنا چاہیے، ورنہ دوست یا عزیز ذرا سی بے احتیاطی سے بھانڈا پھوڑ دیتا ہے۔ راز داری قازقوں کی ایک مخصوص صفت ہے، جو ان کے حالاتِ زندگی کی وجہ سے ناگزیر ہو گئی ہے۔ مگر اس کی وجہ سے دوسروں کے لیے دشوار ہوتا جاتا
    -------------------------------------------------------

    عثمان بطور ر۔۔۔۔ ریختہ صفحہ 77

    کہ ان کی رضا جوئی کریں، یا خود آپس ہی میں انہیں سلوک رکھنا مشکل ہو جا تا ہے۔ عثمان کے لیے یہ مشکل اور بھی سخت ہو گئی تھی۔ کیونکہ جھوٹ بولنے پر وہ خاموش رہنے کو ترجیح دیتا تھا۔ حالانکہ اسی کے ساتھ کے دوسرے جی دار قازق اس اصول پر کاربند نہیں تھے۔
    اس کے بعد جو اٹھارہ مہینے گزرے ان میں بوکو بطور بہت سے حملوں میں عثمان کو اپنے ساتھ لے گیا اور اسے بہت سی وہ باتیں سکھائیں جو کسی چھاپہ مار سردار کو معلوم ہونی چاہییں۔ گولی کا نشانہ کیسے بنایا جائے۔ پہلے جنگلی خرگوشوں اور پھر انسانوں کو اور اس وقت جب گھوڑا پوری رفتار سے دوڑ رہا ہو بندوق کو کمر تک اٹھا کر ہی گولی چلا دی جائے۔ مسلسل بیس گھنٹے تک گھوڑے پر ٹانگیں ڈھیلی چھوڑ کر آرام سے کیسے سوار رہا جائے، اور چار گھنٹے دم لینے کے بعد اسی گھوڑے پر پھر بیس گھنٹے کے لیے روانہ ہوا جائے۔ بعد کے حصہ عمر میں اپنے محافظوں کے ساتھ ایک ہفتہ میں تین سو میل گھوڑے پر طے کرنا عثمان کے لیے معمولی بات تھی۔

    عثمان میں ہمت و وقتِ برداشت بڑھاتے رہنے کے علاوہ بوکو بطور نے اسے یہ بھی بتایا کہ کامیاب حملوں کی رہنمائی کیسے کی جاتی ہے، کہ اپنے دستے کے افراد کے جوش و خروش کو شروع میں ٹھنڈا کیا جائے اور جببے فکر ہو کر دشمن کی زیادہ تعداد آگے نکل جائے تب ایک دم سے حملہ کر کے باقی ماندہ فوج کو کاٹ ڈالا جائے اور اس سے پہلے کہ اگلی فوج لوٹ کر آئے الطائی کی جانی پہچانی کمیں گاہوں میں بعجلت تمام روپوش ہو جانا چاہیے۔ پہاڑوں میں جب درے برف سے تنگ ہو جاتے تو بوکو بطور دشمن کے دستے یا کارواں کی راہ بند کر دیا کرتا اور
    -------------------------------------------------------

    عثمان بطور ر۔۔۔۔ ریختہ صفحہ 78

    اوپر سےبڑے بڑے پتھر لڑھکانا شروع کر دیتا۔ دشمن پلٹ کر بھاگتا، مگر آگے چل کر اسے معلوم ہوتا کہ ابھی جہاں سے وہ گزر کر آیا ہے وہ راہ بھی مسدود ہو چکی ہے۔
    بوکو بطور عثمان سے اکثر کہا کرتا، "یہ ایک اچھی زندگی ہے بیٹا عثمان۔" پھر اس زور سے قہقہ لگاتا کہ زین پر سے پھسلتا پھسلتا بچتا۔ "چپکے سے دشمن کے عقب میں پہنچ گئے اور اس سے وہ سامان جنگ چھین لیا جسے وہ تمہارے جسم میں داخل کرنا چاہتا تھا اتنے میں کہ وہ اپنی رائفل بھرے اور گلی چلائے تم اپنے گھوڑے اڑا کر اس کی آنکھوں سے اوجھل ہو گئے۔ تمہیں اس میں بڑا لطف آئے گا عثمان۔"

    چھاپہ اور شب خون مارنے کا بوکو بطور کو اس قدر شوق تھا اور اس کے حملے سے ایسی سنسنی پھیلتی تھی کہ اس کے متعلق سینکڑوں قصے اور داستانیں مشہور ہو گئی ہیں۔ جب اس نے عثمان کو اپنی شاگردی میں لیا تو وہ دور دور چینی ترکستان اور اس کے پیچھے تک تاخت کر رہا تھا۔ سالہا سال تک وہ مینچو حکومت والوں کی چوٹیاں مروڑنے اور ٹانگیں کھینچنے میں لگا رہا۔ کہا جاتا ہے کہ وہ بے حد قوی تھا اور اسے چینیوں نے اگرچہ کئی بار گرفتار کیا لیکن زیادہ عرصہ تک اسے اپنی قید و بند میں نہ رکھ سکے۔ بعض دفعہ وہ اس کے بیڑیاں ڈال دیتے اور ہتھکڑیاں لگا دیتے، لیکن وہ انہیں توڑ لیتا اور اس کے گرفتار کرنے والے یا قید خانے کے محافظ رائفلیں ہی اٹھاتے رہ جاتے اور بوکو بطور فرار ہو جاتا۔ کہتے ہیں کہ ایک دفعہ حسب دستور اسے بیڑیوں اور ہتھکڑیوں میں جکڑ کر تازہ اتری ہوئی کھال میں سی دیا۔ اتنی بڑی کھال کا جانور ہی تلاش کرنے میں خاصی دیر ہو گئی۔ بوکو بطور اس
    -------------------------------------------------------

    عثمان بطور ر۔۔۔۔ ریختہ صفحہ 79

    نفرت انگیز ماحول میں دنوں قید رہا۔ بعض کا بیان ہے کہ مہینوں سلا پڑا رہا۔ لیکن ایک دن صبح جب قید خانے کے محافظ اسے کھانا دینے گئے تو دیکھا کہ کھال خالی پڑی ہے۔
    ہم تصور میں دیکھ سکتے ہیں کہ عا اول میں آگے کے سامنے دونوں بیٹھے ہوئے ہیں اور سو رہنے سے پہلے بوکو بطور عثمان کو اپنے بچ نکلنے کے قصے سنا رہا ہے۔ عثمان دم بخود سن رہا ہے اور اس کے دل میں امنگیں اٹھ رہی ہیں۔ عثمان بھی اس کے نقش قدم پر چلنا چاہتا ہے لیکن وہ اس بات کو بھی سمجھ رہا ہے کہ بوکو بطور کی جرات مندی میں مآل اندیشی کی کمی ہے۔ آزادی کے لیے کشمکش کرنے میں حوصلے کی بھی ضرورت ہوتی ہے اور ہوشیاری کی بھی۔ عثمان نے اس اہم اصول کو گرہ میں باندھ لیا تھا کہ اپنا راز کسی سے کہہ کر غیر ضروری خطرہ مول نہیں لینا چاہیے۔ اور اس افسوسناک حقیقت کو بھی فراموش نہیں کرنا چاہیے۔ یہ واقعہ کہ بوکو بطور بیل کی کھال میں اسماعیل نامی ایک ترکی بدکردار کی دغا بازی کے باعث سیا گیا تھا۔ عثمان کی نظر میں زیادہ اہمیت رکھتا تھا۔ بہ نسبت اس واقعے کے کہ بوکو بطو رنے اپنی قوت کی وجہ سے دوبارہ آزادی حاصل کی۔ عثمان کے نزدیک قوت ایک عطیہ خدا وندی ہے، اسی طرح دانشمندی بھی، اور جس کے پاس یہ دونوں ہوں اسے اپنا اطمینان کر لینا چاہیے کہ وہ دونوں کو اچھی طرح استعمال کر رہا ہے یا نہیں اور جو ان کا صحیح استعمال کرتا ہے اس کی حفاظت اللہ کرتا ہے۔

    بوکو بطور کے جنگ کرنے کے طریقے سیکھنے کے علاوہ عثمان نے یہ بھی
    -------------------------------------------------------

    عثمان بطور ر۔۔۔۔ ریختہ صفحہ 80

    سیکھ لیا کہ چینی سرحد کے محافظوں کے بغیر روکے ٹوکے چینی سرحد کو کس طرح پار کیا جائے۔ ان دنوں سرحد پار کا علاقہ زاری روس کہلاتا تھا اور بوکو بطور اسے "رشّی" کہا کرتا تھا۔ اسے پار کر لینے کے بعد وہ بے خوب و خطر آگے سفر کر سکتے تھے۔ کیونکہ روسی افسروں میں بہت سے دوست تھے۔ بعض اوقات وہ شمال کی جانب بارہ سنگھے کے علاقے میں پہنچ جاتے جو جنوبی سائبیریا میں تھا، کم از کم ایک بار وہ آلما آتا تک بھی جا پہنچے جو آج کل کے سویت جمہوریہ قازقستان کا صدر مقام ہے،ک اور جہاں کے ثمرستان اور عمدہ موسم سارے ایشیا میں مشہور ہیں۔

    جب وہ الطائی واپس آئے تو اپنے ساتھ نئے حاسل کئے ہوئے اونٹوں کی ایک لمبی قطار بھی لائے۔ ان اونٹوں پر وہ ہتھیار اور گولہ بارود لدا ہوا تھا جو روسیوں نے انہیں دیا تھا۔ اس وقت اور بعد میں جب سرخوں نے سفیدوں سے اقتدار لے لیا، روسیوں کی حکمت عملی یہ تھی کہ سنکیانگ میں چینیوں کے لیے جتنی خرابیاں پیدا کی جا سکیں کی جائیں۔ کیونکہ اس صوبے پر روسیوں کی نظر تھی اور اب بھی ہے۔ اس سرحد کے ساتھ ساستھ دو سو میل چوڑی پٹی ہے جس کے مطالبے سے زاروں کے زمانے سے اب تک ماسکو نے دست برداری نہیں کی ہے۔ سوویت حکومت نے 1946-47ء میں اس پ ٹی کا ایک حصہ دبا لیا تھا اور ا ب تک اس پر انہی کا قبضہ ہے۔ سویت روس کا مطالبہ دوسرے حصوں کے لیے اب تک سرکاری طور پر واپس نہیں لیا گیا ہے۔ بلکہ اسے اب بھی التواء میں ڈال رکھا ہے۔ اس علاقے میں سونا ہے اور قیمتی خام دھاتیں ہیں، اور اگر ترکی کے قازق مہاجروں کا کہنا صحیح سمجھا جائے تو وہاں یورینیم
    -------------------------------------------------------

    عثمان بطور ر۔۔۔۔ ریختہ صفحہ 81

    بھی ہے، ان میں سے بعض کہتے ہیں کہ روسی وہاں ایٹمی کارخانہ بنانا چاہتے ہیں اور بعض کا بیان ہے کہ روسیوں نے کارخانہ کھول بھی لیا ہے۔
    روسیوں نے جو ہتھیار بوکو بطور کو دیے تھے، ان سے بوکو بطور نے بڑے پیمانے پر چینیوں پر حملہ کر دیا۔ اس نے سب سے پہلے "حرا لطائی" طلب کی۔ جنگی مشورتی مجلس کا یہ قازقی نام چنگیز خاں کے زمانے سے چلا آتا ہے۔ الطائی تئین شن، اور بارکل کیئری قازقوں کے جتنے ہزاری اور دہ ہزار سردار تھے ان سب کو اس نے بلا بھیجا۔ ان بلائے جانے والوں میں سے بہت سے رقابت یا بے تعلقی کی وجہ سے نہیں آئے، یہ لوگ وہ تھے جو خراج لینے والے چینیوں میں اب تک نہیں پھنسے تھے۔ اور انہیں ابھی اس کا خوف محسوس نہیں ہوا تھا کہ "آسمان کے نیچے ایک خاندان" میں وہ جذب ہو جائیں گے۔ تاہم دس ہزار کی جمعیت تیار کرنے میں بوکو بطور کامیاب ہو گیا۔
    اس جنگ میں اسے شکست اٹھانی پڑی اور سخت نقصان ہوا۔ تئین شان پہاڑوں کے جنوبی ڈھلانوں پر کیو کلوک کے قریب ایک لڑائی ہوئی جو پیش خیمہ تھی ایک اور ایسی ہی لڑائی کا۔ اس کا حال مناسب مقام پر بیان ہو گا۔ پھر کارا شہر میں تشنہ پہاڑوں کو عبور کرنے کا خطرہ مول لینے سے پہلے بوکو بطور نے اپنے چہار دہ سالہ شاگرد کو اپنے پاس بلا کر کہا:
    "میں تم سے استدعا کر تا ہوں کہ تم اب واپس چلے جاؤ۔ کیونکہ تمہارے قبیلے والوں کو اب تمہاری ضرورت ہے۔"

    اور عثمان نے ایک قدیم پیغمبر کی طرح کہا:
    -------------------------------------------------------

    عثمان بطور ر۔۔۔۔ ریختہ صفحہ 82

    میں خدا کو حاضر ناظر جان کر کہتا ہوں کہ جب تک اس دنیا میں میری روح میرے جسم میں رہے گی میں آپ کو ہر گز نہیں چھوڑوں گا۔"
    اور بوکو بطور نے محبت سے جواب دیا۔:
    "نہیں تمہارے قبیلے والوں کو تمہاری ضرورت ہے۔ اور جیسا کہ میں پیشین گوئی کر چکا ہوں: تمہارے بعد تم جیسا کوئی اور پیدا نہیں ہو گا۔ اگر تم مر گئے تو تمہارے قبیلے والے ان بھیڑوں کے گلے کی طرح رہ جائیں گے جن کا کوئی گلہ بان نہ ہو۔"
    عثمان نے التجا کرتے ہوئے کہا کہ "میرے ساتھ آپ بھی چلیے میرے باپ، کیونکہ میں آپ کا ساتھ کبھی نہیں چھوڑ سکتا۔"
    "نہیں میرے بیٹے۔ میرا کام ختم ہو گیا۔ اب میں اس سرزمین کا پتہ چلانے جاتا ہوں جہاں وقت پڑنے پر، جب تمہاری زمین تم پر تنگ ہونے لگے ، تم پناہ لے سکو۔ میں تمہیں اتنی دور اس لیے لایا تھا کہ تمہیں راستہ دکھا دوں۔"

    استاد اور شاگرد کے جدا ہو جانے کے بعد بوکو بطور خطرناک تشنہ پہاڑوں کو عبور کر کے غزکل کی جھیل پر پہنچا جو رول کی طرح سیدھی اور سکڑی ہے۔ اس کی آخری لڑائی ایک اور قریب کی جھیل کے کنارے ہوئی جس کا نام اجیک کل ہے۔ جب گھمسان کا رن پڑا تو اس کی بے قاعدہ فوج چینیوں کی باقاعدہ فوج کے آگے نہ ٹھہر سکی اور انجام کار وہ اس بری طرح منتشر ہوئے کہ پھر نہ سنبھل سکے۔ مارے جانے والوں میں بوکو بطور کی پہلی بیوی تھی اور بوکو بطور کا سب سے چھوٹا بھائی شوکو بطور۔ یہ دونوں میدانِ جنگ کے قریب ہی دفن کیے گئے۔ بوکو بطور اور
    -------------------------------------------------------

    عثمان بطور ر۔۔۔۔ ریختہ صفحہ 83

    ان کے دوستوں نے ان قبروں پر لوحیں نصب کیں جو 1950ء تک قائم تھیں۔ اگر اس کے بعد انہیں ہٹا نہ دیا گیا ہو تو خانہ بدوش قازقوں میں سے جو اب بھی وہیں قرب و جوار میں رہتے ہیں، ادھر جانے والوں کو یہ یادگاریں دکھا سکیں گے، کیوں کہ بوکو بطور اور اس کے خاندان والوں کی عزت و تکریم اب بھی ان کے دلوں میں جوں کی توں قائم ہے۔ لیکن اغلب یہ ہے کہ اشتراکیوں نے ان قبروں کو ضرور مٹا دیا ہو گا تاکہ ان کی یاد مٹ جائے جو ان میں آسودہ تھے۔
    جنگ کے بعد بوکو بطور نے اپنی قوم کے پانچ ہزار افراد، ان کے گلے اور ریوڑ اور خاندانوں کو جمع کیا اور انہیں غیر آباد علاقوں میں لے گیا، تاکہ ایسے نئے مسکن تلاش کریں جن تک چینی مرکزی حکومت کی رسائی نہ ہو سکے۔ بنی اسرائیل کی طرح یہ سب کے سب اکٹھے روانہ نہیں ہوئے بلکہ چھوٹی چھوٹی ٹکڑیوں میں ، لیکن ان میں وہی تنظیم کار فرما تھی جو حضرت موسیٰ نے بنی اسرائیل کو منظم کرنے میں اختیار کی تھی، یعنی گروہ بندی کر دی تھی۔ ہزار ہزار، سو سو، پچاس پچاس اور دس دس افراد کی۔

    استاد کے حکم کے مطابق عثمان نودنتی کنگھی کی وادی میں اپنے باپ کے خیمے میں پہنچ گیا۔ اور بوکو بطور اپنے ساتھیوں سمیت جنوب کی طرف چلتا رہا اور تکلا مکان صحرا اور پر خطر تشنہ پہاڑوں کو عبور کرتا رہا۔ اس سفر میں کتنے ہی مر گئے، لیکن بوکو بطور اور اس کے ساتھیوں کی ایک خاصی بڑی تعداد صحرا کی صعوبتیں جھیلتی، پہلے اچیک کل پہنچی اور پھر لڑائی کے بعد کنلون کے زبردست پہاڑوں کو پار کر کے تبت جا پہنچی۔ انہوں نے سب سے پہلے وہ طویل سفر طے کیا جس کے بعد کم سے کم تین مرتبہ قازقوں
    -------------------------------------------------------

    عثمان بطور ر۔۔۔۔ ریختہ صفحہ 84

    کو ہر بار اتنی ہی مصیبتیں جھیل کر طے کرنا پڑا۔
    بوکو بطور کا ارادہ ترکی جانے کا تھا لیکن جب وہ لاسا پہنچا تو چینی اژدہے نے اپنے پنجے بڑھا کر اسے دبوچ لیا۔ اس کا سر تن سے جدا کر کے کئی دن بعد سنکیانگ کے صدر مقام ارمچی کے دروازوں میں سے ایک پر لمبے سے بانس پر چڑھا کر لٹکا دیا گیا۔ جہاں سر کاٹا گیا تھا اس سے یہ مقام ایک ہزار میل کے فاصلے پر ہے۔ بوکو بطور کا سر وہاں لگا رہا۔ اور چیلیں جھپٹ جھپٹ کر اس کے گوشت کے آخری ریشے تک نوچتی رہیں اور دھوپ اور ہوا نے اسے خشک کر کے سکیڑ دیا۔ یہاں تک کہ صرف کھوپڑی ہی کھوپڑی رہ گئی۔ پھر ایک وقت آیا کہ اہل اختیار نے اسے بھی اتار کر پھینک دیا اور اس کے بدلے کسی اور کا سر اس بانس پر چڑھا دیا۔

    اور ان لوگوں میں سے جو بوکو بطور کے ساتھ تھے، کچھ تبت ہی میں رہ پڑے اور وہیں کے لوگوں میں انہوں نے شادیاں کر لیں اور ان کے خاندان بڑھ گئے اور اب بھی وہیں رہتے ہیں۔ کچھ نہ ہمالیہ عبور کیا اور ہندوستان میں پہنچ گئے۔ لیکن ان میں سے بیشتر تھوڑے تھورے کر کے اپنے وطن کو لوٹ گئے۔
    ------------------------------
     
  7. صابرہ امین

    صابرہ امین لائبریرین

    مراسلے:
    809
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Bookworm
    ص 10

    پیش لفظ
    افراد قصّہ

    بحرقطب شمالی اور بحرہند، بحرِمتوسط اور بحر جاپان کے درمیان پہاڑوں کا ایک سلسلہ چلا گیا ہے جو الطائی کہلاتا ہے ۔ اس کی ہری بھری وادیوں اور سرسبز بلندیوں سے وہ قومیں اور وہ راه نما اُبھرے جو ایشیا میں دور دور تک پھیل گئے۔ پیکنگ، دہلی ،سمرقند تک اور یورپ کے قلب تک بھی۔ ان میں بہت سے ایسے نام شامل ہیں جو نقطہ نظر کے اختلاف کے ساتھ دلوں میں خوف اور نفرت۔ تعظیم اور فخرکے جذبات پیدا کرتے ہیں، چنگیزخان، تیمورلنگ ، مغل شہنشاہ اور ایطلا تک ان میں شریک ہیں جنھیں الطائی کے قازق اورمنگول اپنے پرکھوں میں شمار کرتے ہیں۔
    ایسے رہنماوں کے نقش قدم پر جو چلے وہ خود بھی رہنماؤں کی طرح سخت کوش، پر اعتماد ، حوصلہ مند، نڈر اور مہماں نواز لوگ تھے اور آج بھی اُن کی آس اولاد میں یہی خصائص پائے جاتے ہیں. وہ ہروقت کمربستہ


    ص11

    رہتے ہیں کہ اپنے گھوڑوں پر سوار ہوکر دنیا کے دوسرے سرے پرپہنچ جائیں ۔ کسی جنگجو سردار کی رہنمائی میں ایسے کارنامے انجام دیں جن سے شہرت حاصل ہو۔ اپنی کلائیوں پرشکرے بٹھائے اپنے محبوب پہاڑوں میں بے دھڑک گھوڑ ے دوڑاتے پھریں۔ ہر بہار اور خزاں کے موسم میں اپنے نمده دار خیموں کوحسب ضرورت وا دیوں میں بلندی یا پستی میں نصب کریں اور بیرونی دنیا سے بےخبر رہ کر اپنے گلّوں کو چراتے رہیں اوریہ بے خبری اس حد تک ہو کہ اس عظیم "راہ ریشمی" کی بھی انہیں پرواہ نہ ہوجو چین اور یورپ کے درمیان پھیلی پڑی ہے اور جس پر سے پانچ سو سال پہلے مارکو پولو اپنے گھوڑے پر سواربالکل ان کے خیموں کے دروازوں کے سامنے سے گزرا تھا۔
    لیکن مارکوپولو کے زمانے کو صدیاں بیت گئیں اور جیسے جیسے یہ صدیاں الطائی کے قریب سے گزرتی گئیں دنیا چھوٹی ہوتی چلی گئی اور الطائی کے بسنے والوں کو دنیا کے سمٹنے کی اس وقت تک نہ تو اطلاع ہوئی اور نہ انھیں اس کی کوئی پروا ہوئی جب تک کہ انیسویں صدی کے آخر میں بیرونی دنیا نے رفتہ رفتہ انھیں اپنے گھیرے میں نہ لے لیا۔ اس اثنا میں خود ان کی آبادی بڑھتی چلی گئی اور وہ بجائے سمٹنے کے پھیلنے لگے۔ انہی کی طرح ان کے مویشی، دوکوہان والے اونٹ ،دنبے ، بھیڑ، بکریاں اور پسندیدہ گھوڑے بھی بڑھتے چلے گئے۔ منگول بیشتر مشرق کی طرف پھیلے ۔ قازقوں کی بڑی تعداد مغرب کی طرف چلی اور اس علاقہ میں پھیل گئی جوسویت قازقستان کہلاتا ہے۔ آہنی پردے کی سیدھی جانب یہ علاقہ تقریباً اتنا ہی بڑا ہے جتنا کہ پورا یورپ لیکن ان کی کچھ تعداد مشرق کی طرف زنگاریہ کے علاقہ میں اور ایک بڑے پہاڑی سلسلے میں پھیل گئی جو تئیں شان یا کوہ ملکوتی کہلا تا ہے۔

    ص 12



    یہ سچی کہانی قازقوں کے ایسے جنوبی گروہ سے متعلق ہے جس کا روایتی مسکن اسی علاقہ میں ہے جس پر روسی اورچینی شہنشاہیت میں صدیوں سے تنازعہ چلا آتا ہے۔ اسی صدی کے شروع میں ان دونوں کے درمیان جو خطِ تقسیم تھا وہ الطائی سلسلہ کوہ کے ساتھ ساتھ اور ملکوتی سلسلہ کوہ کے شمال میں تھا لیکن اس تقسیم پر نہ تو روسی قانع تھے نہ چینی - اس متنازعہ سرحد کے دونوں طرف مٹی میں سونا تھا ، خام دھاتیں تھیں، کوئلہ تانبا وغیرہ تھا اور یورنیم دهات بھی۔ یہ وہی علاقہ تھا جس پرکبھی قازق آزادی کے ساتھ گھومتے پھرتے تھے اور اس کے حقیقی مالک بھی تھے۔ بیش قیمت معدنیات کے علاوہ کوہِ الطائی اور کوہِ ملکوتی اور دوسرے زیریں سلسلہ ہاے کوہ مویشیوں اور بھیڑوں کے لیے عمدہ چراگاہیں بھی اپنےدامن میں رکھتے ہیں ۔
    زمانہ ماضی میں قازق یہ کرتے کہ ان دونوں لالچی شہنشاہیت پسندوں کوآپس میں لڑوا دیتے، یہ طریقہ ابتدا میں کامیابی سے چلتا رہا لیکن بالشویک چیرہ دستی نے زار کی بالا دستی کو غصب کر لیا تو یہ چال ناکا م ہوگی، روس میں اشتراکی حکومت کے قائم ہونے کے پندرہ سال کے اندرہی اشتراکیوں نے چین کے صوبہ سنکیانگ پر اقتصادی اور اس کے بعد سیاسی قبضہ کرلیا۔ اسی صوبے میں ہماری کہانی کے آٹھ لاکھ قازق آباد تھے، ایک ذرا سے وقفے کے علا وہ اسی زمانے سے اشتراکیوں کا قبضہ چلا آتا تھا۔
    گزشتہ ربع صدی سے الطائی اور کوہ ملکوتی کے قازق بڑی دلیری سے مگر نا کام لڑائی لڑ رہے ہیں۔ جب حملہ آور ان کے وطن میں گھس آئے تو بجائے نگوں ساری سے شکست قبول کرنے کے قازقوں نے انہیں لڑ کر نکال دینا چاہا ۔ جنگجوئی قازقوں کے خون میں رچی ہوئی ہے اور اس حقیقت سے انکار نہیں
     
    آخری تدوین: ‏ستمبر 19, 2020 8:44 شام
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1

اس صفحے کی تشہیر