صبر کا پھل (بچوں کے لیے نظم)

محمد اسامہ سَرسَری نے 'اِصلاحِ سخن' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏دسمبر 2, 2013

  1. محمد اسامہ سَرسَری

    محمد اسامہ سَرسَری لائبریرین

    مراسلے:
    6,457
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cheerful
    کتنا اچھا صبر کا پھل ہے
    کیسا پیارا صبر کا پھل ہے

    کیلا ، تربوز ، آم اور چیکو
    سب سے میٹھا صبر کا پھل ہے

    ہونے لگا ہے ہر پھل مہنگا
    ہر پل سستا صبر کا پھل ہے

    ملتا ہے پھر ہر پھل اس کو
    جس نے پایا صبر کا پھل ہے

    دَم ہے اگر تو صبر کیا کر
    یکدم ملتا صبر کا پھل ہے

    ان اللہ مع الصابریں پڑھ
    سب سے عمدہ صبر کا پھل ہے

    ”صاد“ سے صحت ، ”ب“ سے برکت
    ”ر“ سے رسیلا صبر کا پھل ہے

    بچے صابر ہوگئے سارے
    یہ بھی اسامہ صبر کا پھل ہے
     
    • زبردست زبردست × 6
  2. عمر سیف

    عمر سیف محفلین

    مراسلے:
    36,704
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Where
  3. محمد اسامہ سَرسَری

    محمد اسامہ سَرسَری لائبریرین

    مراسلے:
    6,457
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cheerful
    آپ شاید کچھ کہتے کہتے رہ گئے۔:)
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  4. عمر سیف

    عمر سیف محفلین

    مراسلے:
    36,704
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Where
    بہت خوب ۔۔
     
    • دوستانہ دوستانہ × 1
  5. ابن رضا

    ابن رضا لائبریرین

    مراسلے:
    4,255
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Brooding
    اب یہ واقعی کہہ دیا ہے یا :cautious: کہ یہ بتایا ہے کہ یہ کہتے کہتے رک گیا تھا۔:idontknow:

    بہت خوب اسامہ بھائی، بہت اچھی نظم ہے :)

    مذاق برطرف
    یہ نظم تو غزل کے قواعد کے موافق ہے۔ قافیہ۔ ردیف۔ مطلع۔ مقطع ۔ تو کیا ہم کسی بھی غزل کو نظم بھی کہہ سکتے ہیں؟؟یہ شاعر کی صوابدید پر منحصر ہے یا مروجہ قاعدوں پر؟

    ٹیگ: استادِ محترم توجہ فرمائیں
     
    آخری تدوین: ‏دسمبر 2, 2013
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
    • معلوماتی معلوماتی × 1
    • پر مزاح پر مزاح × 1
  6. عمر سیف

    عمر سیف محفلین

    مراسلے:
    36,704
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Where
    جیسا آپ بہترسمجھیں ۔۔
     
  7. ابن رضا

    ابن رضا لائبریرین

    مراسلے:
    4,255
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Brooding
    چلیں یہ اب اسامہ بھائی پہ چھوڑ دیتے ہیں کہ وہی طے کریں:)
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
    • دوستانہ دوستانہ × 1
  8. شیرازخان

    شیرازخان محفلین

    مراسلے:
    304
    جھنڈا:
    Italy
    موڈ:
    Cool
    واہ کیا شاندار نظم ہے ۔۔۔جناب آپ کی شاعری سے بہت متاثر ہوں آپ ہی جیسی چیزیں لکھنے کا شوق پیدا ہو جاتا ہے۔۔۔۔:)
     
    • دوستانہ دوستانہ × 1
  9. الف عین

    الف عین لائبریرین

    مراسلے:
    35,373
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Psychedelic
    مسلسل غزل یا نظم کہا جا سکتا ہے اسے۔
    بس ایک مصرع۔ ان اللہ مع الصابرین والا بحر سے خارج ہے۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
    • معلوماتی معلوماتی × 1
    • متفق متفق × 1
  10. محمد اسامہ سَرسَری

    محمد اسامہ سَرسَری لائبریرین

    مراسلے:
    6,457
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cheerful
    ان اللہ مع الصابریں پڑھ
    2 2۔۔ 2 11۔۔ 2 2۔۔ 11 2
    استاد جی! اگر صابریں کے نون کو نون غنے کے طور پر لے کر ”ی“ کا اسقاط کیا جائے تو ”بریں پڑھ‘‘ فَعِلُن کے وزن پر بن سکتا ہے۔
     
  11. محمد اسامہ سَرسَری

    محمد اسامہ سَرسَری لائبریرین

    مراسلے:
    6,457
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cheerful
    استاد جی نے رہنمائی فرمادی ہے۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  12. محمد اسامہ سَرسَری

    محمد اسامہ سَرسَری لائبریرین

    مراسلے:
    6,457
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cheerful
    جیسا آپ دونوں بہتر سمجھیں۔:)
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
  13. محمد اسامہ سَرسَری

    محمد اسامہ سَرسَری لائبریرین

    مراسلے:
    6,457
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cheerful
    شیراز بھائی! یہ سب آپ حضرات کی محبت ہے۔ میں خود آپ جیسے شعرا سے مستفید ہوکر اور اثر لے کر تک بندی کرلیا کرتا ہوں۔:)
     
  14. ابن رضا

    ابن رضا لائبریرین

    مراسلے:
    4,255
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Brooding
    استاد محترم الف عین و محمد یعقوب آسی صاحب میرے استفسارِ مذکور کی بابت کچھ مزید وضاحت فرمائیے گا ۔ مزید یہ بتائیے گا کہ مسلسل نظم یا غزل میں تو ہر مصرع ہم قافیہ ہوتا ہے (جبکہ مذکور نظم میں ایسا نہیں) یا مسلسل نظم کی کوئی اور تعریف ہے۔
    شکریہ
     
    آخری تدوین: ‏دسمبر 3, 2013
  15. محمد یعقوب آسی

    محمد یعقوب آسی محفلین

    مراسلے:
    6,852
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Buzzed
    جناب محمد اسامہ سَرسَری صاحب ۔
    پہلے مصرعے پر دو باتیں ہیں بھائی۔ اول تو یہ کہ یہ وزن میں زیادہ ہے۔ دوم یہ کہ پوری نظم میں کوئی اور لفظ اتنی ثقالت کا نہیں، خاص طور پر بچوں کے لئے مشکل بات ہو جاتی ہے۔
    آیاتِ قرآنی کو شاعری میں لانا بالکل بجا مگر آپ کے قاری کی سطح کیا ہے، یہ امر بھی بہت اہم ہے۔

    نظم پر مزید محنت کی ضرورت تھی۔ میرا خیال ہے کہ اگر ردیف ’’پھل ہے‘‘ رکھی جائے اور قافیہ میں ذرا سی تبدیلی کر کے الف کو پورا بولنے دیا جائے تو شاعر کے لئے بھی سہولت ہو گی اور قاری (بچے) کے لئے بھی۔
     
    آخری تدوین: ‏دسمبر 3, 2013
    • زبردست زبردست × 1
  16. محمد یعقوب آسی

    محمد یعقوب آسی محفلین

    مراسلے:
    6,852
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Buzzed
    غزل کی ہیئت میں نظم کہی جا سکتی ہے، اور پہلے بھی کہی گئی ہیں۔ مثلاً:
    ’’مکڑا اور مکھی‘‘، ’’بلبل اور جگنو‘‘ از: علامہ اقبال۔ (یاد داشت کی بنا پر لکھ رہا ہوں)۔

    جنابِ الف عین
    جنابِ @ابنِ رضا
    جنابِ محمد اسامہ سَرسَری
    جنابِ عمر سیف
     
    • معلوماتی معلوماتی × 2
  17. ابن رضا

    ابن رضا لائبریرین

    مراسلے:
    4,255
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Brooding
    اسامہ بھائی یہ بحر کونسی ہے ؟
     
    آخری تدوین: ‏دسمبر 3, 2013
  18. محمد یعقوب آسی

    محمد یعقوب آسی محفلین

    مراسلے:
    6,852
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Buzzed
    غزل کی حیثیں دو ہیں۔ ایک صنف یا ہیئت کے حوالے سے۔
    یہ ایسی نظم ہے جومندرجہ ذیل ہیئت کے حامل دو دو مصرعوں کے متعدد اشعار یا ابیات پر مشتمل ہوتی ہے۔
    الف : تمام مصرعوں کا عروضی وزن مشترک ہوتا ہے (مروجہ شرائط اور رعایات کے ساتھ)۔
    باء: تمام ابیات کے مصرع ہائے ثانی ہم قافیہ ہوتے ہیں۔ ردیف اختیاری ہے اور جب یہ اختیار کر لی جائے تو اس کو بھی نبھانا ہو گا جیسے قافیے کو نبھاتے ہیں۔
    شذرہ: وزن ردیف اور قافیے کے مجموعے کو عرفِ عام میں ’’زمین‘‘ کہتے ہیں۔
    جیم: غزل کا آخری شعر جس میں شاعر اپنا نام یا تخلص التزاماً لاتا ہے، مقطع کہتے ہیں۔
    دال: غزل کے پہلے شعر کو جس کے دونوں مصرعے ہم قافیہ ہوتے ہیں، مطلع کہتے ہیں۔

    دوسری حیثیت مضامین کے حوالے سے ۔
    غزل کے ہر شعر یا بیت میں ایک مضمون ، خیال، تاثر، پیغام، احساس، پورا پیش کرنا ہوتا ہے۔ غزل کے ہر شعر میں الگ الگ مضامین بھی لائے جا سکتے ہیں (ریزہ خیالی) اور ایک ہی مضمون یا موضوع بھی لایا جا سکتا ہے (غزل مسلسل)۔ بہ ایں ہمہ غزل مسلسل میں یہ اہتمام لازم ہے کہ ہر شعر اپنی جگہ پر (تخیل یا مضمون کے حوالے سے) ایک مکمل اکائی ہو اور اس کے مضمون کو پانے کے لئے کسی دوسرے شعر کی ضرورت نہ پڑے(تواتر نہ ہو)۔ نظم کی دیگر ہئیتوں میں ایک مضمون متواتر چلتا ہے اور اور شعر بہ شعر آگے بڑھتا ہے۔ اگر غزل کے اندر کہیں تواتر ناگزیر ہو جائے تو دو، تین چار پانچ اشعار نظم کے انداز میں ایک متواتر مضمون کے حامل ہو سکتے ہیں، ان کو ’’قطعہ‘‘ کہا جاتاہے۔ ایک اچھی غزل کی خاصیت یہ بھی ہے کہ ریزہ خیالی کے باوجود اس کی مجموعی فضا یا تاثر ایک جیسا رہے، اور یوں غزل کے اندر ایک زیریں رَو (مزاج کی وحدت) پائی جائے، جو اس کو وحدت بنائے۔ قوافی اور ردیف اس میں ممد و معاون ہوتے ہیں۔ غزل کی دیگر خوبیوں یا تقاضوں کا مذکور پھر کبھی سہی۔

    حاصل یہ ہے کہ غزل اپنی ہیئت کے اعتبار سے ’’نظم‘‘ ہے۔ اور اپنے مضامین کے اعتبار سے ایک خاص مزاج رکھتی ہے۔

    ۔۔۔ بہت آداب
    برائے توجہ جناب الف عین ۔
     
    آخری تدوین: ‏دسمبر 3, 2013
    • زبردست زبردست × 1
    • معلوماتی معلوماتی × 1
  19. محمد یعقوب آسی

    محمد یعقوب آسی محفلین

    مراسلے:
    6,852
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Buzzed
    شاید ’’مفعولات فعولن فعلن ‘‘ یا ’’فعلن فعل فعولن فعلن‘‘ ۔۔ مزمل شیخ بسمل صاحب سے اکتسابِ فیض کیا جائے۔
    ہم تو غیر مانوس بحروں سے بھاگتے ہیں۔
     
    • متفق متفق × 2
  20. ابن رضا

    ابن رضا لائبریرین

    مراسلے:
    4,255
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Brooding
    تشکر بسیار استادِ محترم۔

    ٹیگ درست فرما دیجیے ۔
     
    • دوستانہ دوستانہ × 1

اس صفحے کی تشہیر