شفیق خلش شفیق خلش ::::: مِری ہی زندگی لے کر بُھلا دِیا مجھ کو ::::: Shafiq Khalish

طارق شاہ

محفلین
غزلِ
شفیق خلش

مِری ہی زندگی لے کر بُھلا دِیا مجھ کو
یہ کیسے پیار کا تم نے صِلہ دِیا مجھ کو

لِیا ہے دِل ہی فقط، حافظہ بھی لے لیتے
تمھاری یاد نے پھر سے رُلا دِیا مجھ کو

نہ کوئی شوق، نہ ارمان کوئی سینے میں
یہ غم کی آگ نے، کیسا بُجھا دِیا مجھ کو

بہار نو میں نئے غم کی آمد آمد ہے
تمھارے پیار نے پھر سے سجا دِیا مجھ کو

خلِش پہ صبر کا عنصر تھا غالب آنے کو
کِھلے گُلاب نے چہرہ دِکھا دِیا مجھ کو

شفیق خلش
 

الف عین

لائبریرین
منتظمین سے درخواست ہے کہ ایک سابقہ شفیق خلش کے نام کا بنا دیں اور ان سب کو اس سابقے کے تحت کر دیں
 

طارق شاہ

محفلین
بہت نوازش وارث صاحب اور جناب اعجازعبید صاحب :):)
اعجاز عبید صاحب! جوش طلب اور چراغ دل تو ہو روشن
دو عدد برقی کتب کا بھی بہت شکریہ
ترتیب: میں اپ اپنا نام دیتے تو خوشی ہوتی کہ ترتیب آپ نے دی ہے
٢٣ ریکارڈ کی گئی غزلیں میں سے چند دونوں کتابوں میں ہیں
بہت بہت تشکّر ایک بار پھر سے
باقائدہ تشکر آپ کے ان باکس میں میسیج کرکے کردونگا انشااللہ
:):)
 
Top