شفیق خلش شفیق خلش ::::: جب تعلّق نہ آشیاں سے رہے ::::: Shafiq Khalish

طارق شاہ

محفلین

غزلِ

شفیق خلش

جب تعلّق نہ آشیاں سے رہے
کچھ نہ شِکوے بھی آسماں سے رہے

پَل کی فرقت نہ ہو گوارا جسے
دُور کیسے وہ دِل بُتاں سے رہے

سوچتے ہیں اب اُن حسینوں کو
جن کی قربت میں شادماں سے رہے

اُس کی یادوں نے کی پذیرائی
درد دِل میں جو بےکراں سے رہے

دُوریاں اُس پہ اِک قیامت ہیں
دِل جو خوش صُحبتِ بُتاں سے رہے

اب ہمیں سارے یاد بھی تو نہیں
سِلسِلے دل کے کب کہاں سے رہے

کیا نہ سوچا تھا اُن سے کہنے کو
سامنے اُن کے بے زباں سے رہے

خطرہ جس سے تھا پارسائی کو
باز ہم ایسے رازداں سے رہے

کیوں یہ حیرت، کہ دُکھ ، خلِش سارے
میرے ہی دل میں آ کہاں سے رہے

شفیق خلش
 
Top