شعیب ملک، کرکٹ، پاکستان اور مسلمان

کیا شعیب ملک کو ایسا کہنا چاہیئے تھا؟

  • ہاں شعیب نے ٹھیک کیا

    Votes: 2 18.2%
  • نہیں دنیا بھر کے مسلمانوں کا پاکیستانی کرکٹ سے کیا تعلق

    Votes: 9 81.8%

  • Total voters
    11
  • رائے شماری کا اختتام ہو چکا ہے۔ .

زیک

مسافر
پاکستانی ٹیم کے کپتان شعییب ملک کے ٹونٹی ٹونٹی کے فائنل کے بعد بیان پر ایک تنازعہ کھڑا ہو گیا ہے:

پاکستان کے کپتان شعیب ملک نے اپنے بیان میں کہا کہ ’میں پاکستان اور پوری دنیا میں رہنے والے مسلمانوں کا شکریہ ادا کرتا ہوں اور معافی مانگتا ہوں کہ ہم جیت نہیں سکے لیکن میں یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ ہم نے سو فی صد کوشش کی‘۔

شعیب ملک کے اس بیان نے کئی سوالات کھڑے کر دیے۔ پہلا یہ کہ کیا یہ کھیل دو مذاہب کے عقیدت مندوں کے درمیان کھیلا گیا تھا اور دوسرا کہ کیا پوری دنیا کےمسلمان پاکستان کی کرکٹ ٹیم کی حمایت کرتے ہیں؟ یا یہ کہ پاکستان پورے دنیا کے مسلمانوں کی نمائندگی کرتا ہے۔

ہندوستان کی کرکٹ ٹیم کے سابق کھلاڑی سید کرمانی کا کہنا ہے کہ شعیب کو ایسا نہیں کہنا چاہیے تھا۔ کھیل میں مذہب کی دخل اندازی نہیں ہونی چاہیے’ میرے خیال میں اگر کوئی مذہب کا سہارا لے کر کھیل میں آگے جانے کی سوچ رہا ہے تو وہ جاہل ہے‘۔

کرکٹ کے تجزیہ کار پردیپ میگزین نے کہا کہ بہتر یہی ہوگا کہ ہم اس بیان کو بھول جائیں۔ لیکن شاید وہ یہ بھول گئے کہ مین آف دا میچ کا اعزاز عرفان پٹھان کو ملا ہے جو کہ ایک مسلمان ہیں۔ انہیں ایسا نہیں کہنا چاہیے تھا۔

مسٹر میگزین کا کہنا ہے کہ پاکستان کی کرکٹ ٹیم میں تبلیغی جماعت کا اثر زيادہ ہے اس لیے ہو سکتا ہے کہ اس وجہ سے یہ بات ان کے دماغ میں آئی ہو’ میرا نہیں خیال ہے کہ یہ بیان انہوں نے کسی سیاست کو ذہن میں رکھ کر دیا ہے‘۔

وہیں ہاکی کے سابق کپتان اسلم شیر خان کا کہنا ہے کہ کھیل میں اس قسم کی باتوں کے لیے جگہ نہیں ہے۔ میرے خیال میں اس وقت شاید انہیں سمجھ میں نہیں آیا کہ وہ کیا کہیں ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’وہ انٹرویو انگریزی میں تھا اور شاید وہ اس بات کو پوری طرح واضح نہیں کر سکے‘۔
 

نبیل

تکنیکی معاون
میرے خیال میں آج کل کھلاڑیوں کو کچھ میڈیا کے سامنے بولنے کی ٹرینینگ بھی دینی چاہیے۔ میں نے ایک مرتبہ شعیب ملک کو ایک مبصر کے ساتھ باتیں کرتے دیکھا ہے اور وہ نہایت اٹک کر بول رہا تھا۔ جہاں تک مذکورہ متنازعہ بیان کا تعلق ہے تو یہ صرف میرا اندازہ ہے کہ شعیب ملک کے الفاظ inadvertent تھے۔ ہو سکتا ہے کہ وہ کچھ اور کہنا چاہ رہا ہو۔ لیکن جو ہونا تھا وہ اب ہو چکا ہے۔
 

ابوشامل

محفلین
جس طرح سے پاکستانی کھلاڑی انگریزی بولتے ہیں اس سے تو اندازہ یہی ہوتا ہے کہ شعیب سے غلطی ہوئی ہے۔ لیکن یہ بات تسلیم کرنا پڑتی ہے کہ غلطی ہوئی ہے۔ اسی لیے ورلڈ کپ 2007ء کے دوران پاکستانی ٹیم کو پریس کانفرنسز کے دوران اردو بولنے کی ہدایت کی گئی تھی اور پی جے میر بعد ازاں اس کا ترجمہ کیا کرتے تھے۔ اصل میں وہاں بھی کچھ ایسا ہی ہوا تھا، ورلڈ کپ کے دوران پاکستانی ٹیم کے ہوٹل میں شاید کوئی سلنڈر پھٹ گیا تھا جس پر ہوٹل خالی کرا لیا گیا تھا، اس موقع پر دانش کنیریا نے وہاں موجود ایک میڈیا کے نمائندے سے کہا تھا کہ ہمیں کوئی پریشانی نہیں ہمارے ہاں ایسے واقعات روزانہ ہوتے ہیں۔ اس کے بعد قومی ٹیم کی پکڑ شروع ہو گئی اور ان کی زباں بندی کر دی گئی۔ پی جے میر کو بھی یہی ٹاسک دیا گیا کہ اردو بولنے کے دوران اگر کوئی الٹی بات بولیں تو آپ انگریزی ترجمہ کرتے وقت اسے کھا جائیں۔ ویسے نبیل بھائی کی بات درست ہے کہ کھلاڑیوں کو میڈیا کے سامنے بولنے کی ٹریننگ دی جانی چاہیے۔ اب نامّ شعیب کو اس بیان پر بھی معافی تو نہیں مانگنی پڑے گی؟ ;)
 

محمد وارث

لائبریرین
شعیب ملک کے ساتھ چند ایک پرابلمز ہیں جسکی وجہ سے ایک "مسلمان" کا لفظ اس کے منہ سے نکل گیا اور پہاڑ بن گیا۔ مثلاً

آج سے دو تین سال پہلے جب پاکستان میں پہلی دفعہ 20-20 ٹورنامنٹ ہوا تھا تو شعیب سیالکوٹ کی ٹیم کا کپتان تھا، ایک میچ یہ جان بوجھ کر ہارے تھے، میچ کے بعد جب اس سے پوچھا گیا تو شعیب نے صاف کہہ دیا کہ ہم جان بوجھ کر ہارے ہیں، اس وقت بھی بڑا مسئلہ بن گیا تھا اور بعد میں اسے معافی مانگنی پڑی۔

پاکستانی کھلاڑیوں کے ساتھ انگلش کا بولنے کا بھی بہت مسئلہ ہے کہ کہنا کچھ چاہتے ہیں لیکن جو لفظ منہ میں آجاتا ہے اسی کو بول دیتے ہیں۔ اور یہاں بھی لگتا ہے ایسا ہی ہوا ہے۔

نبیل کی بات سو فیصدی درست ہے، کھلاڑیوں کو اور بالخصوص کپتان کو میڈیا کے سامنے بولنے کی ٹریننگ دینی چاہیئے۔ کہ آج کا میڈیا کوئی بات نہیں چھوڑتا۔

تبلیغی اثرات والی بات بھی درست لگتی ہے۔

سب سے بڑی بات کہ رمضان چل رہا ہے، اور یہاں پاکستان میں بہت سارے "خوش اعتقادوں" کو یہ گمان تھا کہ چونکہ پاکستان اپنا واحد ورلڈ کپ رمضان میں ہی جیتا تھا اور وہ بھی دعاؤں کے زور پر، اسلیے اس دفعہ بھی جیت جائیں گے۔ یہ بات مجھے لگتا ہے کہ ٹیم اور کپتان کے ذہن میں بھی ہوگے جو وہ ایسی بات کہہ گیا۔

بہرحال کچھ دن یہ بات میڈیا میں اچھلے گی اور بعد میں قصۂ پارینہ ہو جائے گی، لیکن سوچنے کی بات تو یہ ہے کہ ہم ایک عام سے میچ کو اور خاص طور پر انڈیا کے خلاف میچ کو "حق و باطل" کی جنگ کیوں تصور کرلیتے ہیں؟

۔
 

ساجد

محفلین
یہ کوئی اتنی بڑی بات نہیں کہ اس سے تہذیبوں اور مذاہب کی نمائندگی کا نام دیا جائے۔ بس ایک جملہ تھا جو شعیب کے منہ سے نکل گیا اور میڈیا نے آج کے مخصوص حالات میں اسے اچھال کر مذہب کا رنگ دینے میں بہت پھُرتی دکھا دی۔ کوئی ضروری نہیں ہے کہ پاکستان کا ہر کھلاڑی فر فر انگریزی بولتا نظر آئے۔ کھیل کے میدان میں انگریزی بول کر نہیں اپنے کھیل کے بل بوتے پر جیتنا ہوتا ہے۔ یہ لغزش زباں اور اس پر بیان بازی عارضی چیز ہوتی ہے اور جلد ہی دم توڑ دیتی ہے۔​
 
یہ کوئی اتنی بڑی بات نہیں تھی کہ جتنا بنایا گیا ۔ ۔ہو سکتا ہے کہ وہ کچھ اور کہنا چاہتے ہوں اور نادانستہ یہ الفاظ ادا ہو گئے ہوں -

یقنا ہمیں شیعب ملک کو وقت دینا چاہیے - کسی بڑے میچ میں شکست کا سامنا ہونا اور پھر میڈیا کو فیس کرنا - یہ تجربہ آتے آتے ہی آتا ہے
 
Top