شامی پناہ گزین اپنے ساتھ کیا لائے ؟

فارقلیط رحمانی

لائبریرین
حسینی صاحب ! آپ عصبیت سے کام لے رہے ہیں۔ آپ کی انسانیت کہاں چلی گئی؟
آپ کی غیر متفق کی ریٹنگ سے لے کر آپ کے دلائل تک ہر ہر جملے اور ہر ہر لفظ سے عصبیت عیاں ہے۔
خدارا انصاف سے کام لیجیے۔ انسا نی ہمدردی کو بالائے طاق مت رکھیے۔
 
دیکھ کے آنکھوں میں آنسو آ گئے ۔تصویریں کھینچنے اور بنانے کا شوق مجھے بھی ہے ۔لیکن میں ایسی تصویریں نہیں کھینچتا کہ اس درد کو محسوس کرنے کی میرے اندر ہمت نہیں ۔اللہ تمام مسلمانوں کی حفاظت فرمائے ۔بس یہی دعا ہے ۔خدا سے ۔
 

عسکری

معطل
کچھ لوگ ان معاملات میں بھی سیاست چمکانے سے باز نہیں آتے
مسئلہ ہی سیاسی ہے شروع سے جناب ۔ انکل جی ذرا سوچو ایک منٹ کے لیے پاکستان پر یک پارٹی بزور قوت ایک فوجی 12 مارچ 1971 کو صدارت پر قبضہ کرتا ہے اور 29 سال تک فل پاور کے ساتھ ڈکٹیٹر حکومت چلاتا اور سن 2000 میں وہ مرتا ہے تو اس کا بیٹا قابض ہو جاتا ہے اور پھر 12 سال بعد قریبی ممالک مین بغاوتیں ہوتی ہیں تو وہ عوام جو 1971 سے 2012 تک ایک باپ اور بیٹے کی محکوم رہی وہ کیا کرتی ؟
1971 جناب تب کی پاکستانی حکومت یحیی خان کی تھی اور اگر ہمارا صدر آج یحیی کا بیٹا ہوتا تو ہم کیا کرتے ذرا بتائیں ؟ ہم تو 5 سال بعد ہی حکومت پر نشتر برسا دیتے ہین وہ کیا کریں جو 42 سال سے پھنسے ہیں ؟یہ مسئلہ شعیہ سنی اور دنیا کا میدان بعد مین بنا پہلا مسئلہ یہ ہے کہ ملک پر حافظ اسد کی جابر حکومت 1971 میں بنی اور اب تک چل رہی ہے اور عوام کو 42 سال سے دبایا ہوا تھا یہ نتیجہ نکلنا ہی تھا اگر ہر 5 سال بعد ٹرانفر آف پاور ہو جاتی امن سکون سے تو یہ دن نا دیکھنا پڑتا شکر کریں ہم پاکستان مین بد ترین ہی سہی ایک ایسے سستم میں زندہ ہین جو بدلا جاتا ہے ورنہ صدام قذافی حسنی اور عبداللہ صالح اور زین العابدین کے بعد ملکوں کا حال دیکھ لیں سول وار چلا رکھی ہے عوام نے کیونکہ ان کو کبھی آزادی تبدیلی اور سیاست کی ٹھنڈی ہوا ملی نا تھی اب بے قابو ہو چکی ہے عوام ۔

اب سوچیں 1971 سے کتنے وزیر اعظم اور صدر ہمیں نصیب ہوئے
اور کتنے ان بے چاروں کو
 

حسینی

محفلین
حسینی صاحب ! آپ عصبیت سے کام لے رہے ہیں۔ آپ کی انسانیت کہاں چلی گئی؟
آپ کی غیر متفق کی ریٹنگ سے لے کر آپ کے دلائل تک ہر ہر جملے اور ہر ہر لفظ سے عصبیت عیاں ہے۔
خدارا انصاف سے کام لیجیے۔ انسا نی ہمدردی کو بالائے طاق مت رکھیے۔

محترم ومکرم!
اگر امریکہ اور اس کے پٹھووں کے خلاف بولنا عصبیت ہے تو یہ کام تو میں کام کرتا رہوں گا۔۔۔ چاہے آپ کو پسند نہ بھی ہو۔۔۔
اور معلوم نہیں آپ کو غیر متفق کی ریٹنگ کہاں سے نظر آئی۔ ۔ ۔ آپ کا تو نام بھی پہلی دفعہ یہاں دیکھ رہا ہوں۔
ہاں البتہ ان پناہ گزینوں کے لیے جس طرح آپ ک دل دھڑکتا ہے اسی طرح میری آنکھ سے بھی آنسو ٹپکتے ہیں۔۔۔۔
لیکن آپ شام کے اصل حالات سے شاید آگاہ نہیں ہے۔۔۔۔ میرا قصور یہ ہے کہ میں گزشتہ دو سال شام میں رہا ہوں اور ان تمام حالات کو قریب سے دیکھا ہے۔۔۔
آپ ان پناہ گزینوں کو ہجرت پر مجبور کرنے والوں کو بے نقاب کریں۔۔۔ اور ان کے خلاف بولیں۔۔۔
 

حسینی

محفلین
مسئلہ ہی سیاسی ہے شروع سے جناب ۔ انکل جی ذرا سوچو ایک منٹ کے لیے پاکستان پر یک پارٹی بزور قوت ایک فوجی 12 مارچ 1971 کو صدارت پر قبضہ کرتا ہے اور 29 سال تک فل پاور کے ساتھ ڈکٹیٹر حکومت چلاتا اور سن 2000 میں وہ مرتا ہے تو اس کا بیٹا قابض ہو جاتا ہے اور پھر 12 سال بعد قریبی ممالک مین بغاوتیں ہوتی ہیں تو وہ عوام جو 1971 سے 2012 تک ایک باپ اور بیٹے کی محکوم رہی وہ کیا کرتی ؟
1971 جناب تب کی پاکستانی حکومت یحیی خان کی تھی اور اگر ہمارا صدر آج یحیی کا بیٹا ہوتا تو ہم کیا کرتے ذرا بتائیں ؟ ہم تو 5 سال بعد ہی حکومت پر نشتر برسا دیتے ہین وہ کیا کریں جو 42 سال سے پھنسے ہیں ؟یہ مسئلہ شعیہ سنی اور دنیا کا میدان بعد مین بنا پہلا مسئلہ یہ ہے کہ ملک پر حافظ اسد کی جابر حکومت 1971 میں بنی اور اب تک چل رہی ہے اور عوام کو 42 سال سے دبایا ہوا تھا یہ نتیجہ نکلنا ہی تھا اگر ہر 5 سال بعد ٹرانفر آف پاور ہو جاتی امن سکون سے تو یہ دن نا دیکھنا پڑتا شکر کریں ہم پاکستان مین بد ترین ہی سہی ایک ایسے سستم میں زندہ ہین جو بدلا جاتا ہے ورنہ صدام قذافی حسنی اور عبداللہ صالح اور زین العابدین کے بعد ملکوں کا حال دیکھ لیں سول وار چلا رکھی ہے عوام نے کیونکہ ان کو کبھی آزادی تبدیلی اور سیاست کی ٹھنڈی ہوا ملی نا تھی اب بے قابو ہو چکی ہے عوام ۔

اب سوچیں 1971 سے کتنے وزیر اعظم اور صدر ہمیں نصیب ہوئے
اور کتنے ان بے چاروں کو

عسکری بھائی پاکستان اور شام کے حالات میں زمین آسمان کا فرق ہے۔۔۔۔
میں عرض کر چکا ہوں کہ پچھلے دو سال میں کے سوریہ میں ہی گزارے ہیں۔۔۔۔
وہاں کی اکثریتی عوام بشار الاسد سے والہانہ محبت کرتے ہیں۔۔۔ ہاں البتہ کوئی 20 ایک فی صد مخالف بھی ہوں گے۔۔۔
اور شاید آپ کو یہ بھی معلوم ہو کہ شام کے آئین کے تحت ہر 6 سال بعد صدارتی انتخابات بھی ہوتے ہیں۔۔۔۔ ابھی بشار کی یہ صدارتی مدت 2014 میں ختم ہو رہی ہے۔۔
شاید آپ تعجب کرے کہ اتنے عرصے سے حکومت کرنے والے سے عوام تنگ کیوں نہیں آئی؟؟
تو اس کا جواب یہ ہے کہ اس صدر نے عوام کو تمام ضروریات زندگی مہیا کی ہوئی تھی۔۔۔
شاید آپ کو معلوم نہ ہو کہ شام میں لائق اور ذہین اسٹوڈنٹس کے لیے پی ایچ ڈی تک کی تعلیم مفت ہے۔۔۔
حکومت پر اور خاص طور پر صدر پر ایک لیرہ بھی کرپشن کا الزام نہیں ہے۔۔۔۔
یہ وہ ملک تھا جس پر کسی ملک یا عالمی ادارہ کا ایک ڈالر کا بھی قرض نہیں ہے۔۔۔۔
دنیا میں امن کے حوالے سے شام بہترین ملکوں میں آتا تھا۔۔۔۔
لیکن اب دنیا والوں نے اس ملک کو تباہ کرنے کا پلان بنا لیا اور ملک کھنڈر بن گیا ہے۔۔۔ الامان من فتن الزمان!
 

عسکری

معطل
عسکری بھائی پاکستان اور شام کے حالات میں زمین آسمان کا فرق ہے۔۔۔ ۔

جی بالکل آج کل تو بہت ہی زبردست فرق ہے فرق پہلے بھی تھا اور بعد میں بھی رہے گا ہم آزاد معاشرے کے شہری ہیں اور وہ گھٹن ذدہ اور جبر مین 42 سال سے جی کر اب خانہ جنگی کا شکار ہو چکا ہے

میں عرض کر چکا ہوں کہ پچھلے دو سال میں کے سوریہ میں ہی گزارے ہیں۔۔۔ ۔
میں نے بھی ہزاروں نہین تو سینکڑوں شامی باشندوں سے مل کر آپ کو بتایا ہے کہ حافط بہت ہی جابر حکمران تھا لوگوں کو اس لیے بھی جیل ڈالا جاتا کہ ان کے کاروبار میں حافظ کی تصویر نہین لگی ہوتی تھی۔ اور بہت بہت سارے قصے ہیں ملٹری کے بھی پر یہ ہمارا عنوان نہیں ہے اور یہ وہی ملتری ہے جو بیکا وادی اور جولان میں مردانگی نہیں دکھا سکتی نا زمین پر نا ہوا مین پر عوام پر حافظ کے حکم پر بمباریاں 80 کی دھائی مین کر رہی تھی آج بھی کر رہی ہے ۔



وہاں کی اکثریتی عوام بشار الاسد سے والہانہ محبت کرتے ہیں۔۔۔ ہاں البتہ کوئی 20 ایک فی صد مخالف بھی ہوں گے۔۔۔
دنیا کا ایسا کوئی لیڈر نہیں اس زمانے مین جس کی مقبولیت کا یہ گراف ہو یہ سب باتیں ہین میرے بھائی


اور شاید آپ کو یہ بھی معلوم ہو کہ شام کے آئین کے تحت ہر 6 سال بعد صدارتی انتخابات بھی ہوتے ہیں۔۔۔ ۔ ابھی بشار کی یہ صدارتی مدت 2014 میں ختم ہو رہی ہے۔۔
کیا آپ نے شامی ہسٹری کبھی پڑھی ہے بھائی جان ؟ بعث پارٹیون کے فوجی انقلابوں میں سے ایک یہ بھی تھا جو افلاق اور صالح الدین لائے تھے اور پھر حافظ السد جو کہ وزیر دفاع تھا اس نے قبضہ کیا پاور پر اور خود کو صدر ڈکلئیر کر دیا تھا 1971 میں اور پھر وہ صفائی کرائی کہ ایک بھی مخالف نا چھوڑا ؟ آپ اس ڈیموکریسی کی بات کر رہے ہین ؟ اور آپ بات کر رہے ہین شام کی جناب من جہاں الیکشن نہین ریفرنڈم ہوتے رہے 2012 تک جبکہ پارٹی ایک سنگل بعث پارٹی تھی جو کہ اب اسد پارتی رہ گئی تھی کیونکہ پارتی کے اندر بھی جینا ہے تو صرف اسد کا ساتھ دو کا قانون لاگو تھا ۔
ایسے ہی انتخابات جیسے قذافی 42 سال صدام 30 سال حسنی مبارک 31 سال اور زین العابدین 27 سال تک کراتے رہے ہم کیا نہین جانتے کہ یہ جمہوریت کے نام پر ڈکٹیٹر شپیں معرعف ہیں عرب معاشرے میں ؟


شاید آپ تعجب کرے کہ اتنے عرصے سے حکومت کرنے والے سے عوام تنگ کیوں نہیں آئی؟؟
جبر ایک اہم ترین ہتھیار ہے ریاست ویسے بھی مفلوج ہو جاتی ہے اگر 15 سال یا 20 سال بھی اگر عوام کو ان کا حق جمہوریت نا ملے تبدیلی نا ہو تو عوام ڈیپینڈ بھی ہو جاتی ہین اب دیکھ لیجیے ساری انقلابی ریاستیں گتھم گھتا ہیں کیونکہ ایک بہت بڑا گیپ آ گیا ہے لوگوں مین اہلیت ہی نہین رہی معاملات کو کنٹرال کرنے کی

تو اس کا جواب یہ ہے کہ اس صدر نے عوام کو تمام ضروریات زندگی مہیا کی ہوئی تھی۔۔۔
اور پھر مین ان ہزاروں شامی باشندوں کو یاد کروں جن کو سعودی عرب میں ہر طرح کا کام کرتے دیکھا جیسے کہ ڈینٹر پینٹر ڈرائیور مزدور گلاس ورکر وغیرہ ؟ اگر ضرورتیں پوری تھیں تو لوگ کیوں دوسرے ملکوں مین ایسے کام کرنے پر مجبور تھے ؟
شاید آپ کو معلوم نہ ہو کہ شام میں لائق اور ذہین اسٹوڈنٹس کے لیے پی ایچ ڈی تک کی تعلیم مفت ہے۔۔۔
مجھے اس بارے مین معلومات نہیں ہیں


حکومت پر اور خاص طور پر صدر پر ایک لیرہ بھی کرپشن کا الزام نہیں ہے۔۔۔ ۔

یہ غلط بات ہے شام میں کرپشن ہے ہوتی رہی اور شام کو 2009 والا ہی دیکھ لیں تو شام میں حکومتی کرپشن پر واویلا مچا ہوا تھا۔ شام مڈل ایست کی دوسرا بڑا کرپٹ ملک تھا

Thus in 2008, Transparency International, the most respected index of perceived corruption, ranked Syria as second

worst in the Middle East and North Africa, after Iraq
http://www.meforum.org/2760/syria-corruption-reform

یہ وہ ملک تھا جس پر کسی ملک یا عالمی ادارہ کا ایک ڈالر کا بھی قرض نہیں ہے۔۔۔ ۔
آپ کیوں بھول جاتے ہین کہ آپ کسی ایرے غیرے بندے سے مخاطب نہیں ہیں بلکہ عسکریان سے بات کر رہے ہیں:grin: ؟ شام دنیا کے چند بر ترین مقروض ممالک میں سے ایک ہے ایز پر اٹس جی ڈی پی جو کہ اتنی چھوٹی ہے ۔شام نے 13 ارب ڈالر ادا کرنے ہیں اور 2005 میں اٹلی کے 261ملین ڈالر کی سود 56 ملین ڈالر بہت ہی مشکل سے ادا کی ۔ روس نے اس کے قرضے اڈاپٹ کرنے کی زمہ داری لی تب جا کر سانس ایا پر اس کے بدلے روس کو نیول بیس دیے شامی حکومت نے۔سلواکیا اور چیک ری پبلک کے 1 اشاریہ ارب ڈالر دینے ہیں شام نے تو وہ روسی قرضے سے دیے شام نے ایران اور ورلڈ بنک سے بھی ادھار اٹھا رکھی ہے ۔ شام مڈل ڈیبت والے ملکوں میں شامل ہے جس کے قرضے سیٹل ہو سکتے ہیں ۔



دنیا میں امن کے حوالے سے شام بہترین ملکوں میں آتا تھا۔۔۔ ۔
لیکن اب دنیا والوں نے اس ملک کو تباہ کرنے کا پلان بنا لیا اور ملک کھنڈر بن گیا ہے۔۔۔ الامان من فتن الزمان!
تو اس وقت دے دیتے حکومت اور دور نظر رکھتے نا اب کیا فائدہ اب تو لگ گئی آگ
 
جی بالکل آج کل تو بہت ہی زبردست فرق ہے فرق پہلے بھی تھا اور بعد میں بھی رہے گا ہم آزاد معاشرے کے شہری ہیں اور وہ گھٹن ذدہ اور جبر مین 42 سال سے جی کر اب خانہ جنگی کا شکار ہو چکا ہے


میں نے بھی ہزاروں نہین تو سینکڑوں شامی باشندوں سے مل کر آپ کو بتایا ہے کہ حافط بہت ہی جابر حکمران تھا لوگوں کو اس لیے بھی جیل ڈالا جاتا کہ ان کے کاروبار میں حافظ کی تصویر نہین لگی ہوتی تھی۔ اور بہت بہت سارے قصے ہیں ملٹری کے بھی پر یہ ہمارا عنوان نہیں ہے اور یہ وہی ملتری ہے جو بیکا وادی اور جولان میں مردانگی نہیں دکھا سکتی نا زمین پر نا ہوا مین پر عوام پر حافظ کے حکم پر بمباریاں 80 کی دھائی مین کر رہی تھی آج بھی کر رہی ہے ۔




دنیا کا ایسا کوئی لیڈر نہیں اس زمانے مین جس کی مقبولیت کا یہ گراف ہو یہ سب باتیں ہین میرے بھائی



کیا آپ نے شامی ہسٹری کبھی پڑھی ہے بھائی جان ؟ بعث پارٹیون کے فوجی انقلابوں میں سے ایک یہ بھی تھا جو افلاق اور صالح الدین لائے تھے اور پھر حافظ السد جو کہ وزیر دفاع تھا اس نے قبضہ کیا پاور پر اور خود کو صدر ڈکلئیر کر دیا تھا 1971 میں اور پھر وہ صفائی کرائی کہ ایک بھی مخالف نا چھوڑا ؟ آپ اس ڈیموکریسی کی بات کر رہے ہین ؟ اور آپ بات کر رہے ہین شام کی جناب من جہاں الیکشن نہین ریفرنڈم ہوتے رہے 2012 تک جبکہ پارٹی ایک سنگل بعث پارٹی تھی جو کہ اب اسد پارتی رہ گئی تھی کیونکہ پارتی کے اندر بھی جینا ہے تو صرف اسد کا ساتھ دو کا قانون لاگو تھا ۔
ایسے ہی انتخابات جیسے قذافی 42 سال صدام 30 سال حسنی مبارک 31 سال اور زین العابدین 27 سال تک کراتے رہے ہم کیا نہین جانتے کہ یہ جمہوریت کے نام پر ڈکٹیٹر شپیں معرعف ہیں عرب معاشرے میں ؟



جبر ایک اہم ترین ہتھیار ہے ریاست ویسے بھی مفلوج ہو جاتی ہے اگر 15 سال یا 20 سال بھی اگر عوام کو ان کا حق جمہوریت نا ملے تبدیلی نا ہو تو عوام ڈیپینڈ بھی ہو جاتی ہین اب دیکھ لیجیے ساری انقلابی ریاستیں گتھم گھتا ہیں کیونکہ ایک بہت بڑا گیپ آ گیا ہے لوگوں مین اہلیت ہی نہین رہی معاملات کو کنٹرال کرنے کی


اور پھر مین ان ہزاروں شامی باشندوں کو یاد کروں جن کو سعودی عرب میں ہر طرح کا کام کرتے دیکھا جیسے کہ ڈینٹر پینٹر ڈرائیور مزدور گلاس ورکر وغیرہ ؟ اگر ضرورتیں پوری تھیں تو لوگ کیوں دوسرے ملکوں مین ایسے کام کرنے پر مجبور تھے ؟

مجھے اس بارے مین معلومات نہیں ہیں




یہ غلط بات ہے شام میں کرپشن ہے ہوتی رہی اور شام کو 2009 والا ہی دیکھ لیں تو شام میں حکومتی کرپشن پر واویلا مچا ہوا تھا۔ شام مڈل ایست کی دوسرا بڑا کرپٹ ملک تھا

Thus in 2008, Transparency International, the most respected index of perceived corruption, ranked Syria as second

worst in the Middle East and North Africa, after Iraq
http://www.meforum.org/2760/syria-corruption-reform


آپ کیوں بھول جاتے ہین کہ آپ کسی ایرے غیرے بندے سے مخاطب نہیں ہیں بلکہ عسکریان سے بات کر رہے ہیں:grin: ؟ شام دنیا کے چند بر ترین مقروض ممالک میں سے ایک ہے ایز پر اٹس جی ڈی پی جو کہ اتنی چھوٹی ہے ۔شام نے 13 ارب ڈالر ادا کرنے ہیں اور 2005 میں اٹلی کے 261ملین ڈالر کی سود 56 ملین ڈالر بہت ہی مشکل سے ادا کی ۔ روس نے اس کے قرضے اڈاپٹ کرنے کی زمہ داری لی تب جا کر سانس ایا پر اس کے بدلے روس کو نیول بیس دیے شامی حکومت نے۔سلواکیا اور چیک ری پبلک کے 1 اشاریہ ارب ڈالر دینے ہیں شام نے تو وہ روسی قرضے سے دیے شام نے ایران اور ورلڈ بنک سے بھی ادھار اٹھا رکھی ہے ۔ شام مڈل ڈیبت والے ملکوں میں شامل ہے جس کے قرضے سیٹل ہو سکتے ہیں ۔




تو اس وقت دے دیتے حکومت اور دور نظر رکھتے نا اب کیا فائدہ اب تو لگ گئی آگ
چشم کشا حقائق بہت ہی مدلل اور بھرپور عسکری
شاد و آباد رہیں
 

شاہ بخاری

محفلین
حسینی عسکری سید شہزاد ناصر
آمریت اچھی ہو ہی نہیں سکتی ۔ نہ دین میں اسکی گنجائش ہے نہ ہی آج کی مہذب دنیا میں ۔ آمر کا دفاع بے سود ہے ۔ آمریت کا جواز محض معاشی اعداد و شمار سے نہیں تراشا جا سکتا کہ اخلاقی جواز زیادہ اہم ہوا کرتا ہے ۔ سوال مگر دوسرا ہے ۔ ہم اس آمریت کو کس شۂ سے بدلنے جا رہے ہیں ؟ حقیقی عوامی اقتدار یا بھاڑے کے باغیوں کا ٹولہ جس کی بھاگ دوڑ سرمایہ دارانہ نظام کے کرتا دھرتاؤں کے ہاتھ میں ہو۔ اور وہ گھٹن کی فضا کو اپنے حق میں استعمال کرنے اور میدان ہموار کرنے پر تلے ہوں۔ ظالم حکمرانوں سے حق چھیننے کی ہر عوامی تحریک سر آنکھوں پر مگر انہیں عالمی اوباشوں کا آشیرباد کیونکر حاصل ہونے لگا ؟ یہ کب سے ہمارے غم میں ہلکان ہونے لگے ؟ ماننا پڑتا ہے کہ دال میں کچھ کالا ہے ۔ ظاہر کچھ ، باطن کچھ ہے ۔ یہاں جمہوریت کے نام پر وہی کچھ ہونے لگا ہے جو اس سے پہلے عراق اور لیبیا میں ہو چکا۔ یعنی مکروہ عزائم کے حصول خاطر بِدکے ہوئے آمر کے مخالفوں کی پشت پناہی اور ملک کا تیا پانچہ۔ جس کے بعد من پسند اطاعت شعار حکومت اور اپنی حکمتِ عملیوں ( پالیسیوں) کا تسلسل ۔ اگر سچ یہی ہے تو پھر یہ حق کی جنگ نہیں فتنہ ہے ۔ مطالبۂ عقل ہے، بد کو بہتر سے بدلو بد تر سے نہیں ۔
 

عسکری

معطل
حسینی عسکری سید شہزاد ناصر
آمریت اچھی ہو ہی نہیں سکتی ۔ نہ دین میں اسکی گنجائش ہے نہ ہی آج کی مہذب دنیا میں ۔ آمر کا دفاع بے سود ہے ۔ آمریت کا جواز محض معاشی اعداد و شمار سے نہیں تراشا جا سکتا کہ اخلاقی جواز زیادہ اہم ہوا کرتا ہے ۔ سوال مگر دوسرا ہے ۔ ہم اس آمریت کو کس شۂ سے بدلنے جا رہے ہیں ؟ حقیقی عوامی اقتدار یا بھاڑے کے باغیوں کا ٹولہ جس کی بھاگ دوڑ سرمایہ دارانہ نظام کے کرتا دھرتاؤں کے ہاتھ میں ہو۔ اور وہ گھٹن کی فضا کو اپنے حق میں استعمال کرنے اور میدان ہموار کرنے پر تلے ہوں۔ ظالم حکمرانوں سے حق چھیننے کی ہر عوامی تحریک سر آنکھوں پر مگر انہیں عالمی اوباشوں کا آشیرباد کیونکر حاصل ہونے لگا ؟ یہ کب سے ہمارے غم میں ہلکان ہونے لگے ؟ ماننا پڑتا ہے کہ دال میں کچھ کالا ہے ۔ ظاہر کچھ ، باطن کچھ ہے ۔ یہاں جمہوریت کے نام پر وہی کچھ ہونے لگا ہے جو اس سے پہلے عراق اور لیبیا میں ہو چکا۔ یعنی مکروہ عزائم کے حصول خاطر بِدکے ہوئے آمر کے مخالفوں کی پشت پناہی اور ملک کا تیا پانچہ۔ جس کے بعد من پسند اطاعت شعار حکومت اور اپنی حکمتِ عملیوں ( پالیسیوں) کا تسلسل ۔ اگر سچ یہی ہے تو پھر یہ حق کی جنگ نہیں فتنہ ہے ۔ مطالبۂ عقل ہے، بد کو بہتر سے بدلو بد تر سے نہیں ۔
میں نے بھی تو یہی کہا ہے دوسرے الفاظ مین کہ اس کے چانس کس نے دیے ان کو ؟ ظاہر ہے اسد فیملی نے جو 42 سال سے اقتدار سے چمٹے ہیں ۔ اس تباہی میں وہ برابر کے ذمہ دار ہوئے نا بھائی جان ۔ وہ ایک طرح سے پٹرول چھڑک کر لائٹر ہاتھ میں پکڑ کر بیٹھے تھے مغربیوں نے تو بس بٹن دبایا لائٹر کا اور یہ خوفناک آگ بھڑک اٹھی ہے ۔
 
میں نے بھی تو یہی کہا ہے دوسرے الفاظ مین کہ اس کے چانس کس نے دیے ان کو ؟ ظاہر ہے اسد فیملی نے جو 42 سال سے اقتدار سے چمٹے ہیں ۔ اس تباہی میں وہ برابر کے ذمہ دار ہوئے نا بھائی جان ۔ وہ ایک طرح سے پٹرول چھڑک کر لائٹر ہاتھ میں پکڑ کر بیٹھے تھے مغربیوں نے تو بس بٹن دبایا لائٹر کا اور یہ خوفناک آگ بھڑک اٹھی ہے ۔
عسکری بھائی سیدھا سادھا مطلب یہ ہے کہ اسد فیملی اب کام کی نہیں رہی۔۔ صدام، زین العابدین، قذافی اور حسنی مبارک کی طرح ان سے بھی دل بھر گیا مگر باقی دوسرے ڈکٹییٹروں کے پاس فرقہ کی پناہ نہیں تھی ۔ ۔۔
 

عسکری

معطل
عسکری بھائی سیدھا سادھا مطلب یہ ہے کہ اسد فیملی اب کام کی نہیں رہی۔۔ صدام، زین العابدین، قذافی اور حسنی مبارک کی طرح ان سے بھی دل بھر گیا مگر باقی دوسرے ڈکٹییٹروں کے پاس فرقہ کی پناہ نہیں تھی ۔ ۔۔
میرے بھائی بات شروع سے ایسی تھی بعث پارٹیاں عرب ملکوں میں ایسے آئی تھیں جیسے اج ایک ساتھ جا رہی ہین ۔ کبھی آپ نے اسد کے بارے پڑھا ہے ؟ اس کے دور مین بھی بربریت کے طوفان اٹھائے گئے تھے تب جا کر 42 سال چلا یہ معاملہ ہمارا تو آرمی چیف وردی اتارتے ہی ہم نے اس کو گھر کی راہ دکھا دی تھی کہ نہین ؟ یہ جتنا معاملہ طول لے گا اتنا زیادہ خون بہے گا ۔
رہی فرقے کی بات تو اس کے تو کیا کہنے ۔ شکر ہے میرا کوئی فرقہ نہیں :grin:
 

حسینی

محفلین
جی بالکل آج کل تو بہت ہی زبردست فرق ہے فرق پہلے بھی تھا اور بعد میں بھی رہے گا ہم آزاد معاشرے کے شہری ہیں اور وہ گھٹن ذدہ اور جبر مین 42 سال سے جی کر اب خانہ جنگی کا شکار ہو چکا ہے


میں نے بھی ہزاروں نہین تو سینکڑوں شامی باشندوں سے مل کر آپ کو بتایا ہے کہ حافط بہت ہی جابر حکمران تھا لوگوں کو اس لیے بھی جیل ڈالا جاتا کہ ان کے کاروبار میں حافظ کی تصویر نہین لگی ہوتی تھی۔ اور بہت بہت سارے قصے ہیں ملٹری کے بھی پر یہ ہمارا عنوان نہیں ہے اور یہ وہی ملتری ہے جو بیکا وادی اور جولان میں مردانگی نہیں دکھا سکتی نا زمین پر نا ہوا مین پر عوام پر حافظ کے حکم پر بمباریاں 80 کی دھائی مین کر رہی تھی آج بھی کر رہی ہے ۔




دنیا کا ایسا کوئی لیڈر نہیں اس زمانے مین جس کی مقبولیت کا یہ گراف ہو یہ سب باتیں ہین میرے بھائی



کیا آپ نے شامی ہسٹری کبھی پڑھی ہے بھائی جان ؟ بعث پارٹیون کے فوجی انقلابوں میں سے ایک یہ بھی تھا جو افلاق اور صالح الدین لائے تھے اور پھر حافظ السد جو کہ وزیر دفاع تھا اس نے قبضہ کیا پاور پر اور خود کو صدر ڈکلئیر کر دیا تھا 1971 میں اور پھر وہ صفائی کرائی کہ ایک بھی مخالف نا چھوڑا ؟ آپ اس ڈیموکریسی کی بات کر رہے ہین ؟ اور آپ بات کر رہے ہین شام کی جناب من جہاں الیکشن نہین ریفرنڈم ہوتے رہے 2012 تک جبکہ پارٹی ایک سنگل بعث پارٹی تھی جو کہ اب اسد پارتی رہ گئی تھی کیونکہ پارتی کے اندر بھی جینا ہے تو صرف اسد کا ساتھ دو کا قانون لاگو تھا ۔
ایسے ہی انتخابات جیسے قذافی 42 سال صدام 30 سال حسنی مبارک 31 سال اور زین العابدین 27 سال تک کراتے رہے ہم کیا نہین جانتے کہ یہ جمہوریت کے نام پر ڈکٹیٹر شپیں معرعف ہیں عرب معاشرے میں ؟



جبر ایک اہم ترین ہتھیار ہے ریاست ویسے بھی مفلوج ہو جاتی ہے اگر 15 سال یا 20 سال بھی اگر عوام کو ان کا حق جمہوریت نا ملے تبدیلی نا ہو تو عوام ڈیپینڈ بھی ہو جاتی ہین اب دیکھ لیجیے ساری انقلابی ریاستیں گتھم گھتا ہیں کیونکہ ایک بہت بڑا گیپ آ گیا ہے لوگوں مین اہلیت ہی نہین رہی معاملات کو کنٹرال کرنے کی


اور پھر مین ان ہزاروں شامی باشندوں کو یاد کروں جن کو سعودی عرب میں ہر طرح کا کام کرتے دیکھا جیسے کہ ڈینٹر پینٹر ڈرائیور مزدور گلاس ورکر وغیرہ ؟ اگر ضرورتیں پوری تھیں تو لوگ کیوں دوسرے ملکوں مین ایسے کام کرنے پر مجبور تھے ؟

مجھے اس بارے مین معلومات نہیں ہیں




یہ غلط بات ہے شام میں کرپشن ہے ہوتی رہی اور شام کو 2009 والا ہی دیکھ لیں تو شام میں حکومتی کرپشن پر واویلا مچا ہوا تھا۔ شام مڈل ایست کی دوسرا بڑا کرپٹ ملک تھا

Thus in 2008, Transparency International, the most respected index of perceived corruption, ranked Syria as second

worst in the Middle East and North Africa, after Iraq
http://www.meforum.org/2760/syria-corruption-reform


آپ کیوں بھول جاتے ہین کہ آپ کسی ایرے غیرے بندے سے مخاطب نہیں ہیں بلکہ عسکریان سے بات کر رہے ہیں:grin: ؟ شام دنیا کے چند بر ترین مقروض ممالک میں سے ایک ہے ایز پر اٹس جی ڈی پی جو کہ اتنی چھوٹی ہے ۔شام نے 13 ارب ڈالر ادا کرنے ہیں اور 2005 میں اٹلی کے 261ملین ڈالر کی سود 56 ملین ڈالر بہت ہی مشکل سے ادا کی ۔ روس نے اس کے قرضے اڈاپٹ کرنے کی زمہ داری لی تب جا کر سانس ایا پر اس کے بدلے روس کو نیول بیس دیے شامی حکومت نے۔سلواکیا اور چیک ری پبلک کے 1 اشاریہ ارب ڈالر دینے ہیں شام نے تو وہ روسی قرضے سے دیے شام نے ایران اور ورلڈ بنک سے بھی ادھار اٹھا رکھی ہے ۔ شام مڈل ڈیبت والے ملکوں میں شامل ہے جس کے قرضے سیٹل ہو سکتے ہیں ۔




تو اس وقت دے دیتے حکومت اور دور نظر رکھتے نا اب کیا فائدہ اب تو لگ گئی آگ
پاکستان کے اس آزاد "معاشرے" سے شام کا وہ آزاد معاشرہ لاکھ درجہ بہتر تھا۔۔۔۔ جس میں ہر فرد کو ہر قسم کی آزادی حاصل تھی۔۔۔۔ امن تھا۔۔۔ امان تھا۔۔۔ لوگ خوش وخرم تھے۔۔۔
آپ یقینا پناہ گزینوں سے ملے ہوں گے۔۔۔ لیکن میں شام میں چنے نہیں بیچتا رہا۔۔۔۔ میں بھی لوگوں سے ملتا تھا۔۔۔۔ ان کی باتیں سنتا تھا۔۔۔ میرے بہت سے شامی دوست ہیں۔۔۔۔
جہاں تک شام کی فوج کا تعلق ہے وہ ابھی اس فتنے میں ثابت ہو چکا ہے کہ مڈل ایسٹ کی قوی ترین افواج میں سے ایک ہے۔۔۔ 2 سال سے زیادہ عرصہ گزرنے کے باوجود، دنیا بھر کی شریر طاقتوں کو ناکوں چنے چبوئے ہیں۔۔۔۔ جن میں افسوس کے ساتھ اپنے پاکستان سے جانے والے دہشت گرد بھی ہیں۔۔۔ آج بیشتر عرب ملکوں کو یہ خوف بھی لاحق ہے کہ شام اگر اس فتنے سے سالم نکلتا ہے تو ان کی خیانت کی سزا شروع ہو جائے گی۔۔۔ کچھ سال پہلے تک لبنان میں شامی فوج وہاں کی عوام کی حفاظت کے لیے مامور تھی۔۔۔ جو کہ اب وہاں سے نکل چکی ہے۔
باقی قذافی، صدام، حسنی مبارک، بن علی اور بشار الاسد میں بنیادی فرق یہ ہے۔۔۔ کہ یہ سارے امریکہ کے چاکر اور پٹھو تھے۔۔۔ امریکہ نے ہی ان کے صدر بنائے تھے۔۔۔ اور گیم سے ان کو نکال باہر بھی کیے۔۔۔ لیکن بشار اور اس سے پہلے اس کا والد امریکہ اور اسرائیل کے شدید ترین مخالفین میں شمار ہوتے ہیں۔۔۔۔

اور شام کے عوام کا اب بھی بشار کے ساتھ ہونے کی دلیل یہ ہے کہ 2 سال سے زائد عرصہ گزرنے کے باوجود حکومت ٹس سے مس نہیں ہوئی۔۔۔ خدا نخواستہ اگر عوام ہی حکومت کے مخالف ہو جائے تو حکومت برقرار نہیں رکھی جا سکتی۔۔۔۔۔ شاید آپ نے وہ مسیرے نہیں دیکھے جن میں لاکھوں شامی عوام بشار کے ساتھ تجدید عہد کرتے رہے ہیں۔۔۔
اور شاید یہ بھی آپ کو معلوم ہو کہ شام کے نئے آئین کے تحت ملک میں دسیوں سیاسی پارٹیاں سیاسی فعالیت انجام دے رہی ہیں اور کسی پر کسی قسم کی کوئی پابندی نہیں ہے۔۔

اور یہ بات بھی کہ مخالفین بھی مانتے ہیں کہ یہ حکومت کرپٹ نہیں ہے۔۔۔۔ آج تک حتی مخالفین کی طرف سے بھی کرپشن کا الزم نہیں لگا۔۔۔ نچلی سطح پر موجود کرپشن کو البتہ میں ضرور مانتا ہوں۔۔

اور ابھی جو کچھ ہو رہا ہے اس کا مقصد سب کے لیے واضح ہے۔۔ کہ بشار کو ہٹا کر وہاں امریکہ اور اسرئیل کے کسی غلام اور پٹھو کو بٹھانا چاہتے ہیں۔۔۔۔ تاکہ باقی عرب ملکوں کی طرح شام بھی امریکہ کی ایک کالونی بن جائے۔۔۔ حزب اللہ اور حماس جیسی تنظیموں کے گرد گیر تنگ کیا جائے۔۔۔۔ ایران کو پریشر کیا جائے۔۔۔
لیکن اب تک کی زمینی صورت حال نے بازی پلٹ لی ہے۔۔۔۔
بن علی چند دن میں گر گیا۔۔ چونکہ عوام ساتھ نہ تھی۔۔۔
حسنی مبارک چند ہفتوں میں گر گیا۔۔۔ چونکہ۔۔۔۔۔۔۔۔
قذافی بھی چند ماہ میں گر گیا چونکہ عوام ساتھ نہ تھی۔۔
لیکن بشار 2 سال کے بعد بھی توانا حالت میں باقی ہے۔۔۔ چونکہ عوام کی طاقت ساتھ ہے۔۔۔ اور جس کے ساتھ یہ طاقت ہو اس کو دنیا کی کوئی طاقت ہرا نہیں سکتی۔۔۔

ہاں البتہ قرضوں کے حوالے سے جو بات کی ہے میں اس حوالے سے تحقیق کروں گا۔
 

حسینی

محفلین
عسکری بھائی سیدھا سادھا مطلب یہ ہے کہ اسد فیملی اب کام کی نہیں رہی۔۔ صدام، زین العابدین، قذافی اور حسنی مبارک کی طرح ان سے بھی دل بھر گیا مگر باقی دوسرے ڈکٹییٹروں کے پاس فرقہ کی پناہ نہیں تھی ۔ ۔۔

بھائی جی۔۔ شام کی اکثریتی عوام معتدل سنی ہیں۔۔۔۔۔ اور یہ لوگ بشار کا شانے سے شانہ ملا کر ساتھ دے رہے ہیں۔۔
فرقہ کی بات کرنا ہرگز درست نہی۔۔۔
امریکہ، فرانس، بریطانیہ اور دوسرے یورپی ممالک جو اس جنگ کے سب سے بڑے کردار ہیں۔۔ ان کا کیا فرقہ ہیں؟؟
کچھ دن پہلے دہشت گردوں کے ہاتھوں شہید ہونے والے مفتی اور مسجد بنی امیہ کے امام جمعہ رمضان بوطی سنی تھا۔۔۔۔ انہیں اس جرم میں شہید کیا گیا کہ وہ کلمہ حق بلند کرتے تھے۔
مفتی جمہوریہ بدر الدین حسون بھی سنی ہیں۔۔۔۔ ان کے بیٹے کو بھی اسی جرم میں شہید کیا جا چکا ہے۔۔۔۔
اپنے ذہن کو کھولیے۔۔۔ اور حالات کو وسیع تر تناظر میں دیکھنے کو کوشش کریں۔۔۔۔۔ تعصب اور فرقہ بندی کی عینک اتار لیجیے!!!!

باقی دل بھرنے کی بات آپ کی دلی خواہش تو ہو سکتی ہے۔۔۔۔ لیکن شامی عوام کی اکثریت اب بھی بشار کے شیدائی ہیں۔۔۔۔
 
کیا اتنا کافی نہیں کہ 74٪ سنی مسلم آبادی اب اپنا حکمران بھی اکثریت سے ہی چاہتی ہے۔ صرف 16٪ عوام کا اقلیتی نمائندہ کیسی بیدردی سے کچل رہا ہے آوازِ حق کو طاقت سے۔
پٹھو کسے کہتے ہیں یہاں نہیں پتہ چل رہا سب کو کہ بظاہر ایک دوسرے کے دشمن امریکہ، ایران اور حزب اللہ اس معاملہ معائدہ کیے بیٹھے ہیں۔ حیرت تو مجھے ان لوگوں پر ہوتی ہے جو اس بات کو سچ سمجھتے ہیں کہ ایران اور امریکہ ایک دوسرے کے سخت دشمن ہیں۔
یہ عربوں کو ڈرا دھمکا کر ان سے اور ان کی دولت اور تیل سے اپنے اپنے مقاصد پورے کرنے کے علاوہ کچھ بھی نہیں۔ شوشا یہی ہے جو حقیقت سے قریب تر ہے کہ شیعہ قوم حرمین شریفین پہ اپنا تسلط چاہتی ہے اور اس ایک ڈراوے کو مل کر کیش کر رہے ہیں سب عربوں سے۔
جعلی پابندیاں، جعلی ڈراوے، گیدڑ بھبکیاں، صرف عربوں سے دولت اینٹھنے کے لیے اور ان کو بلیک میل کرنے کے لیے کہ اگر ہم نے ڈھیل دی تو ایران ایٹمی اسلحہ حاصل کر لے گا اور پھر گیا تم سے تمہارا کعبہ اور سب کچھ۔
کیا آپ پڑھنے والوں نے کبھی یہ نہیں پڑھا کہ عراق کی عظیم سلطنت اپنے عروج پہ کس کی سازش سے منگولوں کے ہاتھوں تار تار ہوئی؟
کیا آپ کو یہ نظر نہیں آیا کہ عراق کی موجودہ سلطنت کس کی مدد سے امریکہ کی گود میں گئی؟
کیا آنکھ والوں کو اور شعور والوں کو یہ نظر نہیں آتا کہ افغانستان کی تباہی میں امریکہ کا اصل خفیہ ہاتھ کون سا ملک تھا؟ جو اپنے پڑوسی سے سنی پاکستان کے تسلط کا پوری طرح سے خاتمہ چاہتا تھا؟
کیا آپ کو شام کے حالات نظر نہیں آ رہے کہ صرف 16 فیصد اقلیت کا صدر اور اس کے تمام حواری (حزب اللہ، ایران، امریکہ، اسرائیل) کسی طرح اسے سنی مسلمانوں کے قبضے میں نہیں دیکھنا چاہتے کیوں کہ انہیں اہلِ تشیع سے تو در حقیقت کوئی مسئلہ ہے ہی نہیں ان کے مقابل تو صرف اور صرف سنی مسلمان ہیں۔

لبنان میں کیا ہے وہ تو خیر ہے ہی بین المذاہب ملک لیکن وہاں بھی کسی اور کی حکومت نہ بن سکتی ہے نہ پنپ سکتی ہے صرف ایران، اسرائیل زورِ بازو سے جو حکومتیں بنیں تو بنیں۔

اسرائیل کے گرد اس کے تحفظ کے لیے ضروری ہے کہ زیادہ سے زیادہ شیعہ حکومتیں ہوں۔

کیا اس میں کچھ ابہام ہے کہ ایران اپنی تمام تر مشتہر اسرائیل امریکہ دشمنی کے باوجود کسی ایسے قدم میں پیچھےہٹا ہوا نظر نہیں آتا جہاں سنی ممالک اور حکومتوں یا عوام کی تباہی ہو۔
اور یہ ہمارے پاکستان والے آخر ایران کو اپنی دم کیوں سمجھتے ہیں کہ ذرا سی بات کوئی کر دے اس کے خلاف تو ایک دم ذاتی طور پر بھڑک جاتے ہیں۔
جہاں تک ہم مسلمانوں کی سعودی عرب سے وابستگی کی بات ہے تو وہ حرمین شریفین اور مدینہ منورہ کی وجہ سے ہے ورنہ کسی اور عرب ملک سے یہ وابستگی کیوں نہیں۔ لیکن ایران سے ایسی وابستگی چہ معنی دارد برادرم، کے آپ اس کے مفادات اور اس کے دنوں اور اس کی باقیات کا یہاں پرچار کریں؟ اور یہاں کے لوگوں کا جینا حرام کیا جائے۔
 
بھائی جی۔۔ شام کی اکثریتی عوام معتدل سنی ہیں۔۔۔ ۔۔ اور یہ لوگ بشار کا شانے سے شانہ ملا کر ساتھ دے رہے ہیں۔۔
فرقہ کی بات کرنا ہرگز درست نہی۔۔۔
امریکہ، فرانس، بریطانیہ اور دوسرے یورپی ممالک جو اس جنگ کے سب سے بڑے کردار ہیں۔۔ ان کا کیا فرقہ ہیں؟؟
کچھ دن پہلے دہشت گردوں کے ہاتھوں شہید ہونے والے مفتی اور مسجد بنی امیہ کے امام جمعہ رمضان بوطی سنی تھا۔۔۔ ۔ انہیں اس جرم میں شہید کیا گیا کہ وہ کلمہ حق بلند کرتے تھے۔
مفتی جمہوریہ بدر الدین حسون بھی سنی ہیں۔۔۔ ۔ ان کے بیٹے کو بھی اسی جرم میں شہید کیا جا چکا ہے۔۔۔ ۔
اپنے ذہن کو کھولیے۔۔۔ اور حالات کو وسیع تر تناظر میں دیکھنے کو کوشش کریں۔۔۔ ۔۔ تعصب اور فرقہ بندی کی عینک اتار لیجیے!!!!
باقی دل بھرنے کی بات آپ کی دلی خواہش تو ہو سکتی ہے۔۔۔ ۔ لیکن شامی عوام کی اکثریت اب بھی بشار کے شیدائی ہیں۔۔۔ ۔
تعصب اور فرقہ کی عینک تو حضرت آپ لگا کر بیٹھے ہیں۔۔۔ جب بات آتی ہے شام کی جہاں شنی اکثریت ہے تو سارے شامی شیعہ سنی بھائی بھائی ہیں اور آمر بشار کے شیدائی ہیں لیکن جب بات بحرین اور خلیج کی دیگر ریاستوں کی جہاں شیعہ اکثریت ہے تو آپ لوگوں کو جمہوریت ہی اچھی نظر آتی ہے۔ مغربی افواج صرف کیمیاوئی ہتھیاروں جھوٹی اطلاعت پر عراق کی اینٹ سے اینٹ بجا سکتی ہیں اور پھر حکومت پلیٹ میں سجا کر شیعوں کے حوالی کرسکتی ہیں لیکن انہیں بشار کھلے عام شہریوں پر کیمیاوئی ہتھیار استعمال کرتا نظر نہیں آ تا۔۔۔
 

عسکری

معطل
پاکستان کے اس آزاد "معاشرے" سے شام کا وہ آزاد معاشرہ لاکھ درجہ بہتر تھا۔۔۔ ۔ جس میں ہر فرد کو ہر قسم کی آزادی حاصل تھی۔۔۔ ۔ امن تھا۔۔۔ امان تھا۔۔۔ لوگ خوش وخرم تھے۔۔۔

ان کو ان کی خوشی مبارک ہو ہم جیسے ہیں ان سے ہزار گنا بہتر ہیں
آپ یقینا پناہ گزینوں سے ملے ہوں گے۔۔۔ لیکن میں شام میں چنے نہیں بیچتا رہا۔۔۔ ۔ میں بھی لوگوں سے ملتا تھا۔۔۔ ۔ ان کی باتیں سنتا تھا۔۔۔ میرے بہت سے شامی دوست ہیں۔۔۔ ۔

کون پناہ گزین آپکو شاید پتہ نا ہو پر میری آدھی زندگی عرب ملکوں میں گزری ہے

جہاں تک شام کی فوج کا تعلق ہے وہ ابھی اس فتنے میں ثابت ہو چکا ہے کہ مڈل ایسٹ کی قوی ترین افواج میں سے ایک ہے۔۔۔ 2 سال سے زیادہ عرصہ گزرنے کے باوجود، دنیا بھر کی شریر طاقتوں کو ناکوں چنے چبوئے ہیں۔۔۔ ۔ جن میں افسوس کے ساتھ اپنے پاکستان سے جانے والے دہشت گرد بھی ہیں۔۔۔ آج بیشتر عرب ملکوں کو یہ خوف بھی لاحق ہے کہ شام اگر اس فتنے سے سالم نکلتا ہے تو ان کی خیانت کی سزا شروع ہو جائے گی۔۔۔ کچھ سال پہلے تک لبنان میں شامی فوج وہاں کی عوام کی حفاظت کے لیے مامور تھی۔۔۔ جو کہ اب وہاں سے نکل چکی ہے۔

ملٹری ہسٹری میں اگر آپکی بات کوئی عسکری پڑھے تو سر دھنے گا اپنا اور یا پھر سروس گن سے خود کو گولی مار لے گا ۔ یہ شامی فوج جسے آپ القابات سے نواز رہے ہین فورس ٹو فورس وار میں ایسی مار کھاتی رہی ہے کہ ہم پاکستانی جا کر ان کو پچاتے رہے تھے اور جیسے ہی ہم نا تھے ان کو بیکا ویلی کی جنگ میں ایسی مار پڑی ہے جو ائیر وار کی ہسٹری ہے

آپریشن مول کرکٹ کا نام سنا ہے کبھی ؟
دنیا کی شرمناک ترین ائیر وار ہسٹری رقم کی ہے آپکی بہادر افواج نے شامی ائیر فورس کے 100 بمقابلہ اسرائیلی ائیر فورس کے 88 جہازوں کی جنگ مین شام کے 83 جنگی جہاز تباہ ہوئے تھے اور اسرائیل کا ایک بھی نہیں یہ تاریخ کی بد ترین پرفارمنس ہے ہوائی جنگ میں بد ترین مطلب اس سے بری ائیر فورس دنیا مین نہیں ہے اسرائیلیوں نے ایک طرح سے ریوڑ کا شکار کیا تھا شامی ائیر فورس کا اور ریکارڈ پر ریکارڈ بنا ڈالے تھے ۔ 30 بیٹریاں ائیر ڈیفنس کی تباہ کرا بیٹھی تھی یہ بہادر فوج جو کہ خؤد ایک ریکارڈ ہے آج تک کسی ملک کے ساتھ اتنا برا نہین ہوا ۔ جولان کا قصہ بھی سناؤں ؟
یہ ایک ایف سولہ ہی کافی ہے اس نے 7 شامی جہاز مارے تھے اور ایک کو نقصان پہنچایا تھا یہ شامی جھنڈے کسی وجہ سے بنے ہیں اسرائیلی ایف سولہ پر
800px-F-16netz002.jpg


اور لبنانیوں کی حفاظت کی خوب رہی 1981 کا سام کرائسس پڑھ لینا کبھی ٹائم نکال کر ۔ اسرائیلی لبنانیوں کو بھی مارتے اور شامیوں کو بھی ایک ہی ہلے میں کچھ یاد ہے وہ جب لبنان کے اوپر شامی ہیلی کاپٹروں کی شامت آئی تھی ؟
ابھی کی بات ہے جب اسرائیلی ائیر فورس شام کا ایٹمی پلانٹ تباہ کر گئی اور بشار کے گھر کے اوپر سے اے پی کر گئی ہے

باقی قذافی، صدام، حسنی مبارک، بن علی اور بشار الاسد میں بنیادی فرق یہ ہے۔۔۔ کہ یہ سارے امریکہ کے چاکر اور پٹھو تھے۔۔۔ امریکہ نے ہی ان کے صدر بنائے تھے۔۔۔ اور گیم سے ان کو نکال باہر بھی کیے۔۔۔ لیکن بشار اور اس سے پہلے اس کا والد امریکہ اور اسرائیل کے شدید ترین مخالفین میں شمار ہوتے ہیں۔۔۔ ۔

فرق کیا ہے امریکہ کی دوستی ہو یا دشمنی ہے تو ظلم کی حکومت نا ؟ کہ شامی اور مصری مین یہ فرق تھا یاک امریکی پٹھو ہے ایک روسی ۔ کیا امریکہ کو اڈے دینا پٹھو ہے اور روس کو طرطوس نیول بیس دینا بہادری ؟:laugh: ایک ادھر کا پٹھو ایک ادھر کا کیا فرق ہے ؟


اور شام کے عوام کا اب بھی بشار کے ساتھ ہونے کی دلیل یہ ہے کہ 2 سال سے زائد عرصہ گزرنے کے باوجود حکومت ٹس سے مس نہیں ہوئی۔۔۔ خدا نخواستہ اگر عوام ہی حکومت کے مخالف ہو جائے تو حکومت برقرار نہیں رکھی جا سکتی۔۔۔ ۔۔ شاید آپ نے وہ مسیرے نہیں دیکھے جن میں لاکھوں شامی عوام بشار کے ساتھ تجدید عہد کرتے رہے ہیں۔۔۔

ٹس سے مس ؟ یا ہل کر رہ گئی ہے کہ اب اپنے دار الخلافہ پر بمباری کر رہی سکود میزائیلوں سے ؟ حسنی مبارک اور بشار الاسد کا فرق یہ ہے کہ مصری فوج اپنی عوام سے محبت کرتے تھے اور انہوں نے گولی نہین چلائی عوام پر لیکن اسد فیملی نے فوج ہی ایسی بنائی تھی جو ان کی ہے ملک کی نہین۔ کیا اسلام آباد پر بمباری ہو رہی ہو اور ہم سمجھین گے ٹس سے مس نہین ہوا ابھی تک ؟ کیالوجک ہے یار :idontknow:
اور شاید یہ بھی آپ کو معلوم ہو کہ شام کے نئے آئین کے تحت ملک میں دسیوں سیاسی پارٹیاں سیاسی فعالیت انجام دے رہی ہیں اور کسی پر کسی قسم کی کوئی پابندی نہیں ہے۔۔

کونسا آئین ؟ یہ مشرف کا این آر او ضیا کا ریفرینڈم اور شامی ائین باتھ روم کے ٹشو پیپر جیسے ہوتے ہین۔ یہ ہے آئین جنرل کی وردی جس سے بڑا آئین کوئی مائی کا لال پیدا نہین کر سکتا جب تک یہ تن پر ہو
Bashar_Al-Assad_Army_Day_August_1_2009_1.jpg

اور یہ بات بھی کہ مخالفین بھی مانتے ہیں کہ یہ حکومت کرپٹ نہیں ہے۔۔۔ ۔ آج تک حتی مخالفین کی طرف سے بھی کرپشن کا الزم نہیں لگا۔۔۔ نچلی سطح پر موجود کرپشن کو البتہ میں ضرور مانتا ہوں۔۔
میں نے دنیا کے معتبر حؤالے کا لنک دیا تھا جناب کہ شام کتنا کرپٹ ہے

اور ابھی جو کچھ ہو رہا ہے اس کا مقصد سب کے لیے واضح ہے۔۔ کہ بشار کو ہٹا کر وہاں امریکہ اور اسرئیل کے کسی غلام اور پٹھو کو بٹھانا چاہتے ہیں۔۔۔ ۔ تاکہ باقی عرب ملکوں کی طرح شام بھی امریکہ کی ایک کالونی بن جائے۔۔۔ حزب اللہ اور حماس جیسی تنظیموں کے گرد گیر تنگ کیا جائے۔۔۔ ۔ ایران کو پریشر کیا جائے۔۔۔
لیکن اب تک کی زمینی صورت حال نے بازی پلٹ لی ہے۔۔۔ ۔

کچھ ہفتوں کی بات ہے بس آپ بھی ادھر ہیں میں بھی ادھر ہوں زمینی صورت حال نے بازی پلٹ رکھی ہے بالکل کچھ ایسے باقی 30 فیصد بازی بھی پلٹ جائے گی ابھی تک فری شامی فوج نے یہاں تک قبضہ کر لیا ہے
A_18h9eCQAAMXx1.jpg:large



بن علی چند دن میں گر گیا۔۔ چونکہ عوام ساتھ نہ تھی۔۔۔
حسنی مبارک چند ہفتوں میں گر گیا۔۔۔ چونکہ۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔
قذافی بھی چند ماہ میں گر گیا چونکہ عوام ساتھ نہ تھی۔۔
لیکن بشار 2 سال کے بعد بھی توانا حالت میں باقی ہے۔۔۔ چونکہ عوام کی طاقت ساتھ ہے۔۔۔ اور جس کے ساتھ یہ طاقت ہو اس کو دنیا کی کوئی طاقت ہرا نہیں سکتی۔۔۔
دنیا کی کسی حکومت کو دوام نہین ہر ایک کو جانا ہے کوئی مہاتیر محمد کی طرھ عوام کو روتا ہوا چھوڑ دیتا ہے کوئی ایسا چمٹا رہتا ہے کہ موت ہی چھڑاتی ہے دیکھتے ہین کیا ہوتا ہے آگے



ہاں البتہ قرضوں کے حوالے سے جو بات کی ہے میں اس حوالے سے تحقیق کروں گا۔
بغیر تحقیق کیے بار بار کیوں کہہ رہے تھے کہ شام پر ایک روپیہ قرض نہیں جیسے اب کہہ رہے ہوں دوسری باتیں؟ جب تمہیں پتا ہی نہیں ؟
 

عسکری

معطل
اور وقت ہو تو یہ آرتیکل بھی پڑھ لینا تاکہ اگلی پوسٹ لکھنے پر آپ کوئی اور غلط نا لکھ بیٹھیں جس سے مزید شرمندگی ہو آپکو
پاکستان ائیر فورس شام میں
شہباز اوور گولان
http://www.defencejournal.com/apr99/golan.htm

اور یہ بھی پڑھ لینا اگر 40 شامی جہاز ایف15 نے گرائے تھے اور 44 جہاز ایف سولہ نے بیکا وادی کی جنگ مین
http://www.rand.org/content/dam/rand/pubs/reports/2007/R3000.pdf
 

حسینی

محفلین
ان کو ان کی خوشی مبارک ہو ہم جیسے ہیں ان سے ہزار گنا بہتر ہیں

کون پناہ گزین آپکو شاید پتہ نا ہو پر میری آدھی زندگی عرب ملکوں میں گزری ہے

ملٹری ہسٹری میں اگر آپکی بات کوئی عسکری پڑھے تو سر دھنے گا اپنا اور یا پھر سروس گن سے خود کو گولی مار لے گا ۔ یہ شامی فوج جسے آپ القابات سے نواز رہے ہین فورس ٹو فورس وار میں ایسی مار کھاتی رہی ہے کہ ہم پاکستانی جا کر ان کو پچاتے رہے تھے اور جیسے ہی ہم نا تھے ان کو بیکا ویلی کی جنگ میں ایسی مار پڑی ہے جو ائیر وار کی ہسٹری ہے

آپریشن مول کرکٹ کا نام سنا ہے کبھی ؟
دنیا کی شرمناک ترین ائیر وار ہسٹری رقم کی ہے آپکی بہادر افواج نے شامی ائیر فورس کے 100 بمقابلہ اسرائیلی ائیر فورس کے 88 جہازوں کی جنگ مین شام کے 83 جنگی جہاز تباہ ہوئے تھے اور اسرائیل کا ایک بھی نہیں یہ تاریخ کی بد ترین پرفارمنس ہے ہوائی جنگ میں بد ترین مطلب اس سے بری ائیر فورس دنیا مین نہیں ہے اسرائیلیوں نے ایک طرح سے ریوڑ کا شکار کیا تھا شامی ائیر فورس کا اور ریکارڈ پر ریکارڈ بنا ڈالے تھے ۔ 30 بیٹریاں ائیر ڈیفنس کی تباہ کرا بیٹھی تھی یہ بہادر فوج جو کہ خؤد ایک ریکارڈ ہے آج تک کسی ملک کے ساتھ اتنا برا نہین ہوا ۔ جولان کا قصہ بھی سناؤں ؟
یہ ایک ایف سولہ ہی کافی ہے اس نے 7 شامی جہاز مارے تھے اور ایک کو نقصان پہنچایا تھا یہ شامی جھنڈے کسی وجہ سے بنے ہیں اسرائیلی ایف سولہ پر

اور لبنانیوں کی حفاظت کی خوب رہی 1981 کا سام کرائسس پڑھ لینا کبھی ٹائم نکال کر ۔ اسرائیلی لبنانیوں کو بھی مارتے اور شامیوں کو بھی ایک ہی ہلے میں کچھ یاد ہے وہ جب لبنان کے اوپر شامی ہیلی کاپٹروں کی شامت آئی تھی ؟
ابھی کی بات ہے جب اسرائیلی ائیر فورس شام کا ایٹمی پلانٹ تباہ کر گئی اور بشار کے گھر کے اوپر سے اے پی کر گئی ہے

فرق کیا ہے امریکہ کی دوستی ہو یا دشمنی ہے تو ظلم کی حکومت نا ؟ کہ شامی اور مصری مین یہ فرق تھا یاک امریکی پٹھو ہے ایک روسی ۔ کیا امریکہ کو اڈے دینا پٹھو ہے اور روس کو طرطوس نیول بیس دینا بہادری ؟:laugh: ایک ادھر کا پٹھو ایک ادھر کا کیا فرق ہے ؟


ٹس سے مس ؟ یا ہل کر رہ گئی ہے کہ اب اپنے دار الخلافہ پر بمباری کر رہی سکود میزائیلوں سے ؟ حسنی مبارک اور بشار الاسد کا فرق یہ ہے کہ مصری فوج اپنی عوام سے محبت کرتے تھے اور انہوں نے گولی نہین چلائی عوام پر لیکن اسد فیملی نے فوج ہی ایسی بنائی تھی جو ان کی ہے ملک کی نہین۔ کیا اسلام آباد پر بمباری ہو رہی ہو اور ہم سمجھین گے ٹس سے مس نہین ہوا ابھی تک ؟ کیالوجک ہے یار :idontknow:


کونسا آئین ؟ یہ مشرف کا این آر او ضیا کا ریفرینڈم اور شامی ائین باتھ روم کے ٹشو پیپر جیسے ہوتے ہین۔ یہ ہے آئین جنرل کی وردی جس سے بڑا آئین کوئی مائی کا لال پیدا نہین کر سکتا جب تک یہ تن پر ہو

میں نے دنیا کے معتبر حؤالے کا لنک دیا تھا جناب کہ شام کتنا کرپٹ ہے

کچھ ہفتوں کی بات ہے بس آپ بھی ادھر ہیں میں بھی ادھر ہوں زمینی صورت حال نے بازی پلٹ رکھی ہے بالکل کچھ ایسے باقی 30 فیصد بازی بھی پلٹ جائے گی ابھی تک فری شامی فوج نے یہاں تک قبضہ کر لیا ہے


دنیا کی کسی حکومت کو دوام نہین ہر ایک کو جانا ہے کوئی مہاتیر محمد کی طرھ عوام کو روتا ہوا چھوڑ دیتا ہے کوئی ایسا چمٹا رہتا ہے کہ موت ہی چھڑاتی ہے دیکھتے ہین کیا ہوتا ہے آگے

بغیر تحقیق کیے بار بار کیوں کہہ رہے تھے کہ شام پر ایک روپیہ قرض نہیں جیسے اب کہہ رہے ہوں دوسری باتیں؟ جب تمہیں پتا ہی نہیں ؟


محترم عسکری بھیا!
یقینا آپ عرب ملکوں میں رہے ہوں گے۔۔۔۔ لیکن شام میں شاید نہ رہے ہوں۔۔۔۔ شام تمام عرب ملکوں سے فرق کرتا ہے۔۔۔ یہ وہ عیاش قسم کے عرب نہیں ہیں۔۔۔ یہ محنتی لوگ ہیں۔۔۔ محبت وطن ہیں۔۔۔ اپنے دوست اور دشمن کو بخوبی جانتے ہیں۔۔۔ جعلی اسلام کے دھوکے میں نہیں آتے۔۔۔۔

باقی آپ کی عسکریت یہیں پر ڈھیر ہو جاتی ہے کہ مصر اور شام کے حالات کو ایک نگاہ سے دیکھ رہے ہو!
مصر میں عوام باہر نکلی تھی۔۔۔ اور آپ فوجی ہو تو معلوم ہوگا کہ کوئی بھی فوج عوام سے نہیں لڑ سکتی۔۔۔ عوام سب سے بڑی طاقت ہے۔۔۔۔ کتنوں کو مارے گی فوج؟؟
لیکن شام میں اس کے برعکس عوام نہیں نکلی۔۔۔ لذا دنیا بھر کے دہشت گردوں کو وہاں بھیجا گیا تاکہ طاقت اور اسلحہ کی زور پر حکومت کو گرایا جائے۔۔۔
لیکن چونکہ عوام ساتھ ہے لہذا حکومت قائم ہے۔۔۔۔ ابھی کل کی بات ہے طرطوس میں بشار کے حق میں بہت بڑا مسیرہ نکلا ہے۔۔۔ وہ بھی ان حالات میں۔
مصر میں کونسے غیر ملکی دہشت گرد آئے تھے جو وہاں کی حکومت پر قبضہ کرنا چاہتے تھے۔۔۔۔
جبکہ شام کی فوج دنیا بھر کے خطرناک ترین دہشت گردوں سے بر سرپیکار ہے۔۔۔ جن میں سے بہت سے جو واصل جھنم ہوئے ہیں ان کے نام آپ نے بھ پڑھ لیے ہوں گے۔۔۔۔
دہشت گردوں کا دفاع کیسا؟؟؟؟؟؟؟ جن میں القاعدہ اور جبھۃ النصرہ جیسی تنظیموں کے خطرناک لوگ ہیں۔
باقی امریکہ اور روس کا مقایسہ کرنا بھی فضول ہے۔۔۔۔ امریکہ شیطان بزرگ ہے۔۔۔۔ اس جیسا نحس وجود اس دنیا میں کوئی نہیں۔۔۔
اگرآپ پاکستانی فوجی لوگ دوسروں کو بچاتے رہے ہیں تو کبھی پاکستانی عوام کو بھی بچائیں۔۔۔۔ کبھی امریکن ڈرون کو بھی گرائیں۔۔۔ امریکہ بہادر آتا ہے ایبٹ جیسا علاقہ جو پاکستان کے بیج میں جا کر اسامہ کو لے جاتا ہے ۔۔۔ آپ سو رہے ہوتے ہیں۔۔۔ پاکستان سے دہشت گردوں کا صفایا کریں۔
گزارش یہ ہے کہ شام کے حالات کے حوالےسے صرف ایک طرف کا میڈیا دیکھ کر فیصلہ نہ کیا کریں۔۔۔ کبھی دوسروں کا بھی موقف سمجھنے کی کوشش کریں۔۔۔
 
Top