شامی پناہ گزین اپنے ساتھ کیا لائے ؟

عسکری

معطل
ایک اور جھوٹ!!!!
ماشاء اللہ۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔ ۔
بھائی جی اپنے مذہب او دین کو چھپانے سے چھپتا نہیں ہے۔
ہمیں تو دھوکہ دے سکتے ہو۔۔۔ ۔ لیکن اپنے آپ کو نہیں۔

یہ بھئی مستقل مزاج بندہ ہے یہ مجھے مسلمان کر کے چھوڑے گا :grin:

چل جا خوش ہو جا بھائی توں نے کافر کو مسلمان کیا
أشهد أن لا اله الا الله وأشهد ان محمد رسول الله
 

حسینی

محفلین
یہ بھئی مستقل مزاج بندہ ہے یہ مجھے مسلمان کر کے چھوڑے گا :grin:

چل جا خوش ہو جا بھائی توں نے کافر کو مسلمان کیا
أشهد أن لا اله الا الله وأشهد ان محمد رسول الله

مسلمان تو ہو گئے ہو۔۔۔ اب خوشی کی مٹھائی کب کھلاو گے؟؟؟؟
یاد رکھو مسلمان بننے میں اختیار حاصل ہے۔۔۔ بننے کے بعد مجبور ہو۔۔۔ آہو:applause:
 

عسکری

معطل

حسینی

محفلین
بس اب چھوڑ یار ہمارا کیا وہ جانیں ان کا ملک ہم کیوں اپنا خؤن خشک کریں اس سے اچھا ہے مین کوئی نیا موضوع ہی کھول دوں :cautious:

میرا خیال ہے کہ شام کے حالات اگر کچھ بہتر ہوتے ہیں تو ایسے ہوشربا انکشافات ہوں گے کہ ساری دنیا دنگ رہ جائے گی۔۔
اب سب کچھ ملبے کے نیچے دفن ہے۔۔۔۔ حقیقت بعد میں واضح ہوگی۔
 

عسکری

معطل
میرا خیال ہے کہ شام کے حالات اگر کچھ بہتر ہوتے ہیں تو ایسے ہوشربا انکشافات ہوں گے کہ ساری دنیا دنگ رہ جائے گی۔۔
اب سب کچھ ملبے کے نیچے دفن ہے۔۔۔ ۔ حقیقت بعد میں واضح ہوگی۔
ہاں پر پھر بھی ہمارے اپنے پاکستان کے مسائل ہی ہمیں بہت ہیں سوچنے کے لیے
 
کیونکہ شیعہ یا دیگر اقلیتی گروہوں کو پاکستان میں اپنے مذہبی عقیدے کے باعث نشانہ بنایا جاتا ہے۔ عیسائیوں کے گھر اُن کے عیسائی ہونے کی بنا پر جلے تھے تو 'عیسائیوں پر قہر' کی ہی خبر دنیا بھر میں چلے گی۔



یہ میڈیا احمدیوں پر جبر کو احمدیوں کا جبر کہہ کر ہی پکارتا ہے۔ میں جو ایک غیر احمدی ہوں، مجھے اس امر کو کھلے دل سے قبول کرنے میں کوئی پریشانی نہیں ہوتی کہ اس ملک میں احمدیوں کو جبر کا نشانہ بنایا جاتا رہا ہے۔ آپ اگر اکثریتی گروہ سے ہیں تو آپ بھی اس اعلیٰ ظرفی کی مظاہرہ کرتے ہوئے اقلیتوں پر ہونے والے جبر کو تسلیم کیجیے۔ کوئی خدانخواستہ اکثریتی گروہ کو تو تنقید کا نشانہ نہیں بنا رہا۔


پاکستان میں کوئی مہمان یا میزبان نہیں۔ پاکستان کوئی لسانی یا نسلی ریاست نہیں کہ وہاں کسی دوسرے گروہ کو مہمان کہہ کر اُسے یوں دوسرے درجے کا شہری بنانے کی اجازت مل جائے۔ ہزارہ 'مہمان' بھی اتنے ہی برابر کے حقوق رکھنے والی پاکستانی شہری ہیں جتنے غیر ہزارہ 'میزبان'۔


بھائی جان، ہزارہ افغان مہاجرین کی طرح غیر پاکستانی شہری نہیں، برابر کے شہری حقوق رکھنے والے پاکستانی شہری ہیں۔ اُن کے پاس پاکستان کی شہریت ہے، اور پاکستانی ریاست اُن کے جان و مال کے تحفظ کی ذمہ دار ہے۔ آپ یہاں کیوں مقامی اور غیر مقامی کی رٹ لگائے ہوئے ہیں؟



پھر وہی بے تکی بات۔ ہزارہ غیر پاکستانی نہیں ہیں بھائی۔ اگر کوئٹہ میں وہ سرکاری نوکریوں پر فائز ہیں تو اس سے مجھے اور آپ کو کیا تکلیف؟ کوئٹہ ان کا بھی اتنا ہی شہر ہے جتنا غیر ہزارہ باشندوں کا۔

حسان خان صاحب ہزارہ کی پاکستان سے وابستگی کب سے تھی اور کب ہوئی اور کیسے ہوئی اس پہ آپ کو کافی کچھ پڑھنے کی ضرورت ہے۔ اگر ایک آمر گورنر کسی دوسرے ملک کے لوگوں کا پاکستان میں شہر بنا کر ان کو پاکستانی بنا سکتا ہے اور یہی پاکستانیت کہلاتی ہے آپ کی نظر میں تو کیا کہنے آپ کے۔
 
شائد موصوف ہزارہ کی ہندوستان آمد کی تاریخ سے ناواقف ہیں اور ان کو بھی افغان مہاجرین کے کھاتے میں ڈال رہے ہیں۔
مجھے تو ایسا آپ کی جانب سے لگ رہا ہے ذرا اپنی علمیت جھاڑیے گا ہزاروں کی پاکستان آمد کے بارے میں تا کہ میں کچھ حقائق سے پیش کر سکوں۔
 

حسان خان

لائبریرین
حسان خان صاحب ہزارہ کی پاکستان سے وابستگی کب سے تھی اور کب ہوئی اور کیسے ہوئی اس پہ آپ کو کافی کچھ پڑھنے کی ضرورت ہے۔

اس مسئلے پر میں لوگوں کی مذہبی اور لسانی وابستگی کے بجائے اُن کی پاکستانی شہریت کے حوالے سے فیصلہ کرنا مناسب سمجھتا ہوں۔ میں پھر یاد دلا دوں کہ پاکستان کوئی لسانی، نسلی، یا مذہبی ریاست نہیں ہے، بلکہ 'پاکستانیوں' کی ریاست ہے۔ اگر کوئی گروہ پاکستانی شہریت رکھتا ہے، تو پھر وہ چاہے جب بھی پاکستان آیا ہو، کوئی بھی مذہب رکھتا ہو، کسی بھی نسل سے تعلق رکھتا ہو، کوئی بھی زبان بولتا ہو، میرے لیے وہ میرے جیسا پاکستانی ہے۔ ہزارہ شروع سے پاکستانی ہیں، لہذا میں اُنہیں کہیں سے بھی دوسرے درجے کا پاکستانی شہری نہیں مان سکتا۔ اور آپ بھی کون ہوتے ہیں کسی گروہ کی 'پاکستانیت' کو چیلنج کرنے والے؟

اگر ایک آمر گورنر کسی دوسرے ملک کے لوگوں کا پاکستان میں شہر بنا کر ان کو پاکستانی بنا سکتا ہے اور یہی پاکستانیت کہلاتی ہے آپ کی نظر میں تو کیا کہنے آپ کے۔

ویسے تو اس بات میں کوئی حقیقت نہیں، کیونکہ ہزارہ برادری جنرل موسیٰ خان سے بھی پہلے سے بلوچستان میں آباد ہے، لیکن اگر پھر بھی آپ کی بے تکی منطق مان لی جائے تو یونہی کراچی کے سارے 'مہاجر' شہریوں کو دوسرے درجے کا شہری ماننا پڑے گا، کیونکہ وہ لیاقت علی خان کے دور میں کراچی آئے تھے، اُس سے پہلے تک اُن کی کراچی یا پاکستان میں کوئی موجودگی نہیں تھی۔
 
اس مسئلے پر میں لوگوں کی مذہبی اور لسانی وابستگی کے بجائے اُن کی پاکستانی شہریت کے حوالے سے فیصلہ کرنا مناسب سمجھتا ہوں۔ میں پھر یاد دلا دوں کہ پاکستان کوئی لسانی، نسلی، یا مذہبی ریاست نہیں ہے، بلکہ 'پاکستانیوں' کی ریاست ہے۔ اگر کوئی گروہ پاکستانی شہریت رکھتا ہے، تو پھر وہ چاہے جب بھی پاکستان آیا ہو، کوئی بھی مذہب رکھتا ہو، کسی بھی نسل سے تعلق رکھتا ہو، کوئی بھی زبان بولتا ہو، میرے لیے وہ میرے جیسا پاکستانی ہے۔ ہزارہ شروع سے پاکستانی ہیں، لہذا میں اُنہیں کہیں سے بھی دوسرے درجے کا پاکستانی شہری نہیں مان سکتا۔ اور آپ بھی کون ہوتے ہیں کسی گروہ کی 'پاکستانیت' کو چیلنج کرنے والے؟



ویسے تو اس بات میں کوئی حقیقت نہیں، کیونکہ ہزارہ برادری جنرل موسیٰ خان سے بھی پہلے سے بلوچستان میں آباد ہے، لیکن اگر پھر بھی آپ کی بے تکی منطق مان لی جائے تو یونہی کراچی کے سارے 'مہاجر' شہریوں کو دوسرے درجے کا شہری ماننا پڑے گا، کیونکہ وہ لیاقت علی خان کے دور میں کراچی آئے تھے، اُس سے پہلے تک اُن کی کراچی یا پاکستان میں کوئی موجودگی نہیں تھی۔
کیا کہنے آپ کے جذبات کے،

بھائی جان پاکستان ہندوستان کے مسلمانوں کے لیے ایک الگ ملک کے طور پر وجود میں آیا، تو ظاہر ہے ہندوستان سے ہی لوگوں نے ہجرت کر کے آنا تھا اور اس ہجرت کا ایک دورانیہ تھا۔
ہزاروں کے اپنے آبائی مسلک کے ملک اور ہر طرح کی شہری سہولیات کو چھوڑ کر بقول آپ لوگوں کے کہ اگر اہلِ تشیع کے لیےایران بھی قبلہ برابر ہے تو اسے چھوڑ کر پاکستان آنے کی کیا ضرورت تھی جب کہ ایران میں تو ان کے لیے کوئی نسل کشی جیسا خطرہ بھی درپیش نہیں تھا۔

کل کو یہاں کسی بھی دوسرے تیسرے ملک سے کوئی بھی اٹھ کرآبادیوں کوپاکستان میں لا کر بسا دے اور مفاد پرست حکمران شہریت بھی عنایت کرتے جائیں۔
واہ صاحب واہ۔
پاکستان تو شورش زدہ ہے ایران کرے نا ظرافت کا مظاہرہ، اور سنیوں کو نا سہی ان مظلوم ہزاروں یا یہاں کی بربریت اور نسل کشی کا شکار اہلِ تشیع کے لیے ہی ایک شہر بسا دے وہاں ایران میں اور سرکاری اداروں میں عہدے بھی دلا دے۔

آپ لوگوں کے دلوں میں خناس بھرا ہوا ہے، کہیں سے بھی آپ لوگ پاکستان اور پاکستانیوں کے خلاف ہوئے اقدامات کو ماننے پر تیار نہیں۔ آپ کو ہر مسئلے میں پاکستان اور پاکستانی ہی قصور وار نظر آتے ہیں۔

نہیں مانتا میں چیچنیا، بوسنیا، ایران اور افغانستان سے بسائے گئے لوگوں کو پاکستانی۔ نہیں ہیں وہ پاکستانی۔
وہ تب پاکستانی ہوں گے جب ان کے آبائی ممالک پاکستانیوں کے بارے میں بھی اتنی اعلیٰ ظرافت کا مظاہرہ کرنے والے نظر آ رہے ہوں گے۔ ایسے معاملات دو طرفہ ہی بھلے لگتے ہیں۔ پاکستان نے ٹھیکہ نہیں اٹھا رکھا ہر ملک کے مفروروں کو پناہ دینے کا۔ اپنا پیٹ کاٹ کر ہم نے ان غداروں کو پالا ہے جو ایک لمحہ پلٹنے میں دیر نہیں کرتے۔
 

حسان خان

لائبریرین
ہزاروں کے اپنے آبائی مسلک کے ملک اور ہر طرح کی شہری سہولیات کو چھوڑ کر بقول آپ لوگوں کے کہ اگر اہلِ تشیع کے لیےایران بھی قبلہ برابر ہے تو اسے چھوڑ کر پاکستان آنے کی کیا ضرورت تھی

ہزارہ برادری کی مرضی تھی کہ وہ جدھر جانا چاہتے تھے جائیں۔ تاریخ میں یوں اجتماعی ہجرتیں ہوتی رہی ہیں، میں خود پختون مہاجروں کا 'ہندوستانی مہاجر' بیٹا ہوں اور میرے آباؤ اجداد تاریخ میں پتا نہیں کہاں کہاں کا چکر لگا کر کراچی آئے ہیں۔ اب یہ تو ہماری تقدیر تھی کہ کراچی آ گئے، آباؤاجداد فرنگستان کا چکر لگاتے تو آج ہم بھی فرنگی ہوتے۔

کل کو یہاں کسی بھی دوسرے تیسرے ملک سے کوئی بھی اٹھ کرآبادیوں کوپاکستان میں لا کر بسا دے اور مفاد پرست حکمران شہریت بھی عنایت کرتے جائیں۔

آپ کے پاس ویسے اس امر کا کیا ثبوت ہے کہ جنرل موسیٰ خان سے قبل ہزاروں کا بلوچستان میں کوئی وجود نہیں رہا؟ آپ کہیں افغان مہاجرین کے ساتھ ہزارہ قبیلے کو تو خلط ملط نہیں کر رہے؟

پاکستان تو شورش زدہ ہے ایران کرے نا ظرافت کا مظاہرہ، اور سنیوں کو نا سہی ان مظلوم ہزاروں یا یہاں کی بربریت اور نسل کشی کا شکار اہلِ تشیع کے لیے ہی ایک شہر بسا دے وہاں ایران میں اور سرکاری اداروں میں عہدے بھی دلا دے۔
ایران خودمختار ملک ہے۔ اب یہ ایران کی مرضی پر ہے، وہ شہریت دینا چاہتا ہے تو دے، نہیں دینا چاہتا تو نہ دے۔

آپ لوگوں کے دلوں میں خناس بھرا ہوا ہے، کہیں سے بھی آپ لوگ پاکستان اور پاکستانیوں کے خلاف ہوئے اقدامات کو ماننے پر تیار نہیں۔ آپ کو ہر مسئلے میں پاکستان اور پاکستانی ہی قصور وار نظر آتے ہیں۔

یہ 'آپ لوگ' کون ہیں؟ ذرا ان کے بارے میں بتائیے پھر جواب دینا گوارا کروں گا۔

نہیں مانتا میں چیچنیا، بوسنیا، ایران اور افغانستان سے بسائے گئے لوگوں کو پاکستانی۔ نہیں ہیں وہ پاکستانی۔

آپ نہیں مانتے تو نہ مانیں۔ آپ کی بات کی کیا حیثیت ہے؟ آئین اور قانون تو پاکستانی شہریت رکھنے والے کو برابر کا پاکستانی مانتا ہے۔ یہاں کراچی میں کافی پاکستانی شہریت رکھنے والے بنگالی موجود ہیں۔ میرے لیے تو وہ میرے جیسے ہی پاکستانی ہیں۔

وہ تب پاکستانی ہوں گے جب ان کے آبائی ممالک پاکستانیوں کے بارے میں بھی اتنی اعلیٰ ظرافت کا مظاہرہ کرنے والے نظر آ رہے ہوں گے۔
میرے دادا دادی ساٹھ سال قبل بھارت سے پاکستان آئے تھے، آپ اسی طرح اگر ہمارے 'آبائی' ملک بھارت سے اعلیٰ ظرفی کا مطالبہ کرنے لگے تو ہم تو اپنے ہی وطن میں بے وطن ہو کر رہ جائیں گے۔

ایسے معاملات دو طرفہ ہی بھلے لگتے ہیں۔ پاکستان نے ٹھیکہ نہیں اٹھا رکھا ہر ملک کے مفروروں کو پناہ دینے کا۔
پاکستان نے افغان مہاجرین کو پناہ دی تھی، ہزارہ پاکستان کے شہری ہیں۔ دونوں میں فرق ملحوظِ خاطر رکھیے۔ اب کسی پاکستانی شہری کے ماں باپ، دادا دادی، آباؤ اجداد جتنے بھی مفرور ہوں، وہ اب ہمارے ہم وطن ہیں۔

اپنا پیٹ کاٹ کر ہم نے ان غداروں کو پالا ہے جو ایک لمحہ پلٹنے میں دیر نہیں کرتے۔
کسی پاکستانی گروہ کو غدار کہتے ہوئے آپ کو شرم آنی چاہیے۔ آپ نے کیا وفاداری کے تصدیق نامے بانٹنے کا ٹھیکا لیا ہوا ہے؟
 

سید ذیشان

محفلین
مجھے تو ایسا آپ کی جانب سے لگ رہا ہے ذرا اپنی علمیت جھاڑیے گا ہزاروں کی پاکستان آمد کے بارے میں تا کہ میں کچھ حقائق سے پیش کر سکوں۔

صاحب یہ لوگ انیسوی صدی میں یہاں آ کر آباد ہونا شروع ہوئے ہیں جب پاکستان کی بنیاد بھی نہیں پڑی تھی۔ اور جنرل موسیٰ بھی انہی میں سے تھے جو برسہا برس سے پاکستان کے باشندے تھے۔ کچھ لوگ طالبان کے مظالم سے بھی یہاں ہجرت کر کے آئے ہیں، لیکن وہ لوگ مہاجر ہی کہلاتے ہیں اور ان کے پاس پاکستانی شناختی کارڈ نہیں ہیں۔

جہاں تک ایران کا تعلق ہے تو وہاں بھی 30 سے 40 لاکھ ہزارہ آباد ہیں جو کہ مہاجر ہیں، اور ایرانی حکومت کا ان کیساتھ اچھا رویہ نہیں ہے۔ اس پر ایرانی ڈائریکٹر مجید مجیدی کی ایک فلم "باران" بھی ہے۔ اور ایک اور ڈاکیومنٹری فلم "پابرہنہ تا ہرات" بنائی ہے۔

مجھے تو ایسا ہی لگتا ہے کہ آپ کی ہزارہ قوم سے نفرت کی بنیاد ان کا شیعہ ہونا ہے۔ کیونکہ ہزارہ قوم کم از کم پاکستان میں کافی پرامن طریقے سے رہ رہی ہے اور ان کے لوگ تعلیم سے کافی محبت رکھتے ہیں۔
 

حسان خان

لائبریرین
اس مضمون کے مطابق امیر عبدالرحمن خان (وفات ۱۹۰۱ عیسوی) نے جب ہزارہ جات (ہزارہ کا آبائی علاقہ) پر حملہ کیا تھا تو وہاں سے کافی لوگ بلوچستان منتقل ہو گئے تھے۔ یعنی یہ پاکستان بننے سے بھی پہلے سے بلوچستان میں آباد ہیں۔ پھر کیسے آپ ان پر غیر پاکستانی یا قابض مہاجر ہونے کا اتہام لگا سکتے ہیں؟

http://tribune.com.pk/story/267225/who-are-the-hazara/
 
ہزارہ برادری کی مرضی تھی کہ وہ جدھر جانا چاہتے تھے جائیں۔ تاریخ میں یوں اجتماعی ہجرتیں ہوتی رہی ہیں، میں خود پختون مہاجروں کا 'ہندوستانی مہاجر' بیٹا ہوں اور میرے آباؤ اجداد تاریخ میں پتا نہیں کہاں کہاں کا چکر لگا کر کراچی آئے ہیں۔ اب یہ تو ہماری تقدیر تھی کہ کراچی آ گئے، آباؤاجداد فرنگستان کا چکر لگاتے تو آج ہم بھی فرنگی ہوتے۔



آپ کے پاس ویسے اس امر کا کیا ثبوت ہے کہ جنرل موسیٰ خان سے قبل ہزاروں کا بلوچستان میں کوئی وجود نہیں رہا؟ آپ کہیں افغان مہاجرین کے ساتھ ہزارہ قبیلے کو تو خلط ملط نہیں کر رہے؟


ایران خودمختار ملک ہے۔ اب یہ ایران کی مرضی پر ہے، وہ شہریت دینا چاہتا ہے تو دے، نہیں دینا چاہتا تو نہ دے۔



یہ 'آپ لوگ' کون ہیں؟ ذرا ان کے بارے میں بتائیے پھر جواب دینا گوارا کروں گا۔



آپ نہیں مانتے تو نہ مانیں۔ آپ کی بات کی کیا حیثیت ہے؟ آئین اور قانون تو پاکستانی شہریت رکھنے والے کو برابر کا پاکستانی مانتا ہے۔ یہاں کراچی میں کافی پاکستانی شہریت رکھنے والے بنگالی موجود ہیں۔ میرے لیے تو وہ میرے جیسے ہی پاکستانی ہیں۔


میرے دادا دادی ساٹھ سال قبل بھارت سے پاکستان آئے تھے، آپ اسی طرح اگر ہمارے 'آبائی' ملک بھارت سے اعلیٰ ظرفی کا مطالبہ کرنے لگے تو ہم تو اپنے ہی وطن میں بے وطن ہو کر رہ جائیں گے۔


پاکستان نے افغان مہاجرین کو پناہ دی تھی، ہزارہ پاکستان کے شہری ہیں۔ دونوں میں فرق ملحوظِ خاطر رکھیے۔ اب کسی پاکستانی شہری کے ماں باپ، دادا دادی، آباؤ اجداد جتنے بھی مفرور ہوں، وہ اب ہمارے ہم وطن ہیں۔


کسی پاکستانی کو غدار کہتے ہوئے آپ کو شرم آنی چاہیے۔ آپ نے کیا وفاداری کے تصدیق نامے بانٹنے کا ٹھیکا لیا ہوا ہے؟

آپ کے لیے اقوام متحدہ کی کیس سٹڈی سے اقتباس

کوڈ:
Hazara Town
 
Hazara Town is a lower- to middle-income area on the outskirts of Quetta with a population of up to 70,000, of which an estimated one third are Hazara Afghans. The area was established in 1982 by Haji Ali Ahmed (an ethnic Hazara) who bought the land from a Kirani Baloch family and built housing there. Many ethnic Hazaras from Afghanistan who were living in different areas of Quetta moved to the settlement, attracted by cheaper land and the security of the scheme.
Hazara Town is divided into nine blocks, and almost all the houses are made of concrete. Afghan residents are Persian-speaking Shias, originally from various provinces in central Afghanistan – including Hazaras who migrated to Pakistan well before the war in Afghanistan as well as those who fled as refugees over the recent years of conflict. The community is a distinct minority in Quetta, which is dominated ethnically by Pashtuns and is predominantly Sunni Muslim.
Most of Hazara Town’s residents arrived as refugees in Quetta in 1996, when the Taliban regime in Afghanistan began to persecute Hazaras. They initially stayed in mosques in Quetta, then moved to homes with the help of local Hazaras who had arrived in Balochistan as early as the late nineteenth century. The refugees’ local networks allowed them to bypass refugee camps altogether. Hazara Town is used as a transit point by some Afghans who move on to Iran, assisted by local Hazaras.
Other Afghans are heavily involved in local trade and business within Hazara Town and beyond. It is common for families in Hazara Town to have relatives settled in Europe, Canada or the United States, and receive regular remittances from them.
The leading source of income for men is work in coalmines in Balochistan. While some of them are contractors in the mines, most work as labourers. The rest of the population is involved in small trade, shopkeeping and daily wage work.

آپ ہر بار ہزاروں کی آمد اور قیام پاکستان کی ہجرت کوکیوں مکس کر رہے ہیں دونوں کا الگ سین ہے اور الگ کہانی۔
ابھی بہت مصروف ہوں تھوڑا وقت ملے تو تفصیل سے لکھتا ہوں مزید موسیٰ خان کے دور کے حوالوں سے۔
 
صاحب یہ لوگ انیسوی صدی میں یہاں آ کر آباد ہونا شروع ہوئے ہیں جب پاکستان کی بنیاد بھی نہیں پڑی تھی۔ اور جنرل موسیٰ بھی انہی میں سے تھے جو برسہا برس سے پاکستان کے باشندے تھے۔ کچھ لوگ طالبان کے مظالم سے بھی یہاں ہجرت کر کے آئے ہیں، لیکن وہ لوگ مہاجر ہی کہلاتے ہیں اور ان کے پاس پاکستانی شناختی کارڈ نہیں ہیں۔

جہاں تک ایران کا تعلق ہے تو وہاں بھی 30 سے 40 لاکھ ہزارہ آباد ہیں جو کہ مہاجر ہیں، اور ایرانی حکومت کا ان کیساتھ اچھا رویہ نہیں ہے۔ اس پر ایرانی ڈائریکٹر مجید مجیدی کی ایک فلم "باران" بھی ہے۔ اور ایک اور ڈاکیومنٹری فلم "پابرہنہ تا ہرات" بنائی ہے۔

مجھے تو ایسا ہی لگتا ہے کہ آپ کی ہزارہ قوم سے نفرت کی بنیاد ان کا شیعہ ہونا ہے۔ کیونکہ ہزارہ قوم کم از کم پاکستان میں کافی پرامن طریقے سے رہ رہی ہے اور ان کے لوگ تعلیم سے کافی محبت رکھتے ہیں۔
اہلِ تشیع کی بات نہیں ہو رہی ہزارہ کی بات ہو رہی ہے آپ لوگ باہر سے ڈھول پیٹتے ہیں اور میں تمام باتوں کا چشم دید گواہ ہوں۔ یہ پرانوں کی مہربانی ہے کہ وہاں کچھ سال پہلے آنے والوں کے بھی شناختی کارڈز بن چکے ہیں اور بہت آسانی سے بنتے ہیں۔ میں بذات خود بیسیوں لوگوں کو جانتا ہوں جو اس دور میں آئے اور اب پاکستانی ہیں، پکے والے۔
مصروفیت آڑے آ رہی ہے اور جواب دیے بغیر رہا بھی نہیں جا رہا۔
 

حسان خان

لائبریرین
میں بذات خود بیسیوں لوگوں کو جانتا ہوں جو اس دور میں آئے اور اب پاکستانی ہیں، پکے والے۔

زمانۂ قریب میں افغانستان سے آئے ہزارہ کو اگر پاکستانی شہریت مل چکی ہے یا اب اگر وہ پاکستانی ہیں (پکے والے) تو پھر مجھے اور آپ کو اس پر اعتراض کا کوئی مطلب نہیں بنتا۔ اور اب چونکہ وہ مہاجر نہیں رہے ہیں تو اقوامِ متحدہ کی بنا ریاست والے مہاجر لوگوں کی فکر بھی ختم ہو جانی چاہیے۔
لیکن اگر آپ کو اس پر اب بھی اعتراض ہے تو ہزارہ برادری سے بغض نکالنے کے بجائے پاکستانی حکومت پر زور ڈالیے کہ وہ آئندہ باہر سے آئے کسی شخص کو شہریت نہ دے۔
 

سید ذیشان

محفلین
اہلِ تشیع کی بات نہیں ہو رہی ہزارہ کی بات ہو رہی ہے آپ لوگ باہر سے ڈھول پیٹتے ہیں اور میں تمام باتوں کا چشم دید گواہ ہوں۔ یہ پرانوں کی مہربانی ہے کہ وہاں کچھ سال پہلے آنے والوں کے بھی شناختی کارڈز بن چکے ہیں اور بہت آسانی سے بنتے ہیں۔ میں بذات خود بیسیوں لوگوں کو جانتا ہوں جو اس دور میں آئے اور اب پاکستانی ہیں، پکے والے۔
مصروفیت آڑے آ رہی ہے اور جواب دیے بغیر رہا بھی نہیں جا رہا۔

افغانستان سے ہجرت کرنے والے ہزارہ کل ہزارہ آبادی کا 10 فی صد بھی نہیں ہے۔ تو یہ کہاں کی عقل مندی ہے کہ 10 فی صد آبادی کے کرتوتوں (بقول آپ کے) کی وجہ سے 90 فی صد کو بھی مطعون ٹہرایا جائے؟ اس کو بغض کے علاوہ اور کیا کہا جا سکتا ہے؟

جہاں تک شناختی کارڈ والا مسئلہ ہے تو یہ تو حکومت کی ناکامی ہے کہ وہ افغان مہاجرین کو پاکستانی شناختی کارڈ حاصل کرنے سے نہیں روک سکے۔
ایران میں بھی 30 لاکھ سے زیادہ مہاجرین آباد ہیں جن کے پاس ایرانی شناختی کارڈ نہیں ہیں اور مہاجر کارڈ ہیں۔ یہ تو حکومت کی ناکامی ہے۔
 
Top