سکوت - نزھت عباسی

سیدہ شگفتہ نے 'اردو شاعری' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏دسمبر 24, 2007

  1. سیدہ شگفتہ

    سیدہ شگفتہ لائبریرین

    مراسلے:
    29,439
    میری نیندوں میں اُجالے ہیں ترے خوابوں کے
    دل میں گُلشن سے مہکتے ہیں تری باتوں کے

    سرمئی شام میں رونق سی ہوئی جاتی ہے
    قافلے گھر میں اُترتے ہیں تری یادوں کے

    میرے ہونٹوں پہ سہی جبر پر اتنا تو بتا
    باندھ کے رکھے بھلا کس نے یہ پر سوچوں کے

    جانے کس کس سے ہیں آسودہ نگاہیں تیری
    درمیاں میں تو نہیں شہر میں ان چہروں کے

    جن کے لہجے میں کئی رنگ بدلتے ہی رہے
    کیا رہیں گے وہی پابند کبھی وعدوں کے
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  2. سیدہ شگفتہ

    سیدہ شگفتہ لائبریرین

    مراسلے:
    29,439
    دل میں تمہارے عکس ہمارا نہیں رہا
    ہم کو بھی اب خیال تمہارا نہیں رہا

    سود و زیاں کا دونوں کو رہتا رہا خیال
    اپنی شکست میں بھی خسارا نہیں رہا

    اک بار دیکھنے سے ہی بینائی چھن گئی
    اچھا ہوا یہ جرم دوبارہ نہیں رہا

    کچھ پر خلوص لوگ بھی راہوں میں مل گئے
    رستہ تمہاری یاد میں سارا نہیں رہا

    اب زندگی کو تیری ضرورت نہیں رہی
    اچھا ہوا کسی کا سہارا نہیں رہا
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
  3. سیدہ شگفتہ

    سیدہ شگفتہ لائبریرین

    مراسلے:
    29,439
    پیروں میں ہیں زنجیریں ، ہیں لب پہ مرے پہرے
    اک خواب تمنا کے ہیں زخم بہت گہرے

    انجان نہیں لیکن یہ دوست نہیں میرے
    میں ان کو سمجھتی ہوں پڑھ رکھے ہیں سب چہرے

    طوفان سے کیا ڈرنا ، طوفاں ہی تو اپنا ہے
    ساحل سے کہیں بہتر دریا یہ مرے گہرے

    شاید کہ خریدے ہیں احباب نے سب میرے
    اک روز نمائش میں رکھے تھے کئی چہرے

    بینائی جو دی ہے تو کر چاک سبھی پردے
    اس ایک تماشے پر کیا میری نظر ٹھہرے
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  4. سیدہ شگفتہ

    سیدہ شگفتہ لائبریرین

    مراسلے:
    29,439
    آپ جب ہم کلام ہوتے ہیں
    حوصلے سب تمام ہوتے ہیں

    زندگی کے ہزار ہنگامے
    رات دن ، صبح و شام ہوتے ہیں

    سب کو ہم ایک جا نہیں رکھتے
    سب کے اپنے مقام ہوتے ہیں

    یاد آتے ہیں کچھ کے کوشش پہ
    کچھ کے ازبر بھی نام ہوتے ہیں

    خاص ہوتی ہیں بعض باتیں ہی
    ورنہ چہرے تو عام ہوتے ہیں

    وہی ہاتھوں میں بھی پہنچ پائیں
    گردشوں میں جو جام ہوتے ہیں
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  5. سیدہ شگفتہ

    سیدہ شگفتہ لائبریرین

    مراسلے:
    29,439
    اس کا چہرہ کس قدر غم دیدہ تھا
    دل تو اپنا بھی بہت رنجیدہ تھا

    مل نہ پایا ایک بھی جس کا گواہ
    جرم جو بھی ہو گیا پوشیدہ تھا

    کون سنتا رمزِ بیداری کی بات
    شہر کا ہر آدمی خوابیدہ تھا

    وقت سے بھی جو سلجھ پایا نہیں
    مسئلہ ایسا بھی کیا پیچیدہ تھا

    ایک ہم ہی تو فقط روئے نہ تھے
    جو بھی تھا اس شہر میں نم دیدہ تھا

    رات کی تنہائی میں تھا خوف کیا
    جسم کا اک اک رواں لرزیدہ تھا
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  6. سیدہ شگفتہ

    سیدہ شگفتہ لائبریرین

    مراسلے:
    29,439
    ہمارے واسطے گھر میں کہیں اماں بھی نہیں
    کہ آستاں بھی نہیں کوئی آشیاں بھی نہیں

    "کسے گواہ کروں کس سے منصفی چاہوں"
    بجُز خدا کے میرا کوئی رازداں بھی نہیں

    یہ میرے دردِ طلب کی ہے کون سی منزل
    کہ یہ جہاں بھی نہیں اور وہ جہاں بھی نہیں

    انہیں یہ شوق کہ ہر شے کو کر دیں خاکستر
    میں خوش ہوں آج میرا کوئی گلستاں بھی نہیں

    مقام وہ نہیں آیا کہ میں بھی سچ کہہ دوں
    میں بے زباں سہی اتنی تو بے زباں بھی نہیں

    تم اپنے قہر کو چاہے بڑھا بھی دو کتنا
    یہ وقت اتنا کسی پر تو مہرباں بھی نہیں

    روا ہے ظلم کی بستی میں زندگی کرنا
    یہ جبرِ صبر نیا کوئی امتحاں بھی نہیں
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  7. سیدہ شگفتہ

    سیدہ شگفتہ لائبریرین

    مراسلے:
    29,439
    ان کے تیور بدل گئے ہوں گے
    تیر و نشتر بدل گئے ہوں گے

    ان کی نظروں کے اک بدلنے سے
    کتنے منظر بدل گئے ہوں گے

    اتنی مدت کے بعد جانا کیا
    وہ گلی گھر بدل گئے ہوں گے

    گردشیں ایک سی نہیں رہتیں
    سارے محور بدل گئے ہوں گے

    جو اُٹھاتے صلیب کاندھوں پر
    ہاں وہی سر بدل گئے ہوں گے

    اس نگر میں عجیب وحشت ہے
    اب مرے ڈر بدل گئے ہوں گے

    کر رہے ہوں گے اب بھی وہ سجدے
    ہاں مگر در بدل گئے ہوں گے
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  8. سیدہ شگفتہ

    سیدہ شگفتہ لائبریرین

    مراسلے:
    29,439
    ظلمتوں سے نکالتے کیسے
    رنگِ ہستی اُجالتے کیسے

    یہ بھی اِک پتھروں کی دنیا ہے
    شیشہ دل سنبھالتے کیسے

    اتنے راہوں کے پیچ و خم اُلجھے
    ہم قدم کو سنبھالتے کیسے

    ہر خوشی کو سنبھال کر رکھا
    پھر اسے غم میں ڈھالتے کیسے

    درد کوئی نیا تو دے جاتے
    ایک ہی غم کو پالتے کیسے
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  9. سیدہ شگفتہ

    سیدہ شگفتہ لائبریرین

    مراسلے:
    29,439
    بات کھونی ہے تو لب پہ بات کا لانا بھی کیا
    تنگ جب گھر ہو گیا تو شہر میں رہنا بھی کیا

    اب چلو چلتے ہیں ایسے جنگلوں میں جس جگہ
    سوچتے رہ جائیں ایسی زیست کا کرنا بھی کیا

    وصل کی ہے اب خوشی باقی نہ صدمہ ہجر کا
    اب ترا آنا بھی کیا اور اب ترا جانا بھی کیا

    خود ہی اپنے آپ کو تنہا نہ کر لینا کہیں
    دل کی باتوں کو کسی کے سامنے کہنا بھی کیا

    جو کھلے تھے واسطے تیرے محبت کے وہ در
    ہو گئے ہیں بند ان پر دستکیں دینا بھی کیا
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  10. سیدہ شگفتہ

    سیدہ شگفتہ لائبریرین

    مراسلے:
    29,439
    حکایتیں نہ داستاں ، بچا نہیں کوئی نشاں
    انا کے کھیل میں دلوں کا ہو گیا بہت زیاں

    نہ جانے بات کیا ہوئی جو آ گئی یوں درمیاں
    کہ پھر کبھی نہ چُھٹ سکا غبارِ دل غبارِ جاں

    کمالِ درد ہے مگر یہ خامشی عذاب ہے
    ملا ہے ایسا غم جسے نہ کر سکیں کبھی بیاں

    مُکر گیا تھا وہ تو یوں کہ بن گئی تھی جان پر
    کہ مصلحت کے سامنے بدل گیا تھا وہ بیاں

    مجھے لہُو رُلائے گی تمام عمر اک خلش
    تجھے بھی یاد آئے گا رفاقتوں کا وہ سماں

    کبھی تو تم بھی دیکھتے کبھی تو تم بھی سوچتے
    یہ جان کیوں سُلگ اُٹھی یہ دل ہوا ہے کیوں دُھواں

    جسے کہا تھا زندگی ، جسے کہا تھا ہے خوشی
    وہ زندگی وہ اک خوشی نہ بن سکی قرارِ جاں
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  11. سیدہ شگفتہ

    سیدہ شگفتہ لائبریرین

    مراسلے:
    29,439
    اپنوں میں مجھے کوئی بھی اپنا نہیں ملتا
    اب درد تو ملتا ہے مسیحا نہیں ملتا

    دیکھا ہے بہت غور سے ہر شخص کو میں نے
    حیراں ہوں بھرے شہر میں تجھ سا نہیں ملتا

    قدموں تلے جلتی ہوئی ریتلی زمیں ہے
    تپتے ہوئے صحرا میں ہی سایا نہیں ملتا

    ملنے کو تو ملتے ہیں کئی لوگ جہاں میں
    دل جس سے ملے ایسا شناسا نہیں ملتا

    ڈُوبیں تو اُبھرنے کی تمنا نہ ہو پیدا
    ایسا بھی کسی ذات کا دریا نہیں ملتا
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
  12. سیدہ شگفتہ

    سیدہ شگفتہ لائبریرین

    مراسلے:
    29,439
    کیا حسین یادیں تھیں ، کیا حسین باتیں تھیں
    کیا عجیب سپنے تھے کیا عجیب راتیں تھیں

    کیسا اک تماشا تھا آنکھ نے جو دیکھا تھا
    جیت کس طرف کی تھی کس طرف کی ماتیں تھیں

    کیسے فاصلے سارے اس طرح سمٹ جاتے
    رنگ و نسل کی ساری درمیان ذاتیں تھیں

    کیسے ان کو کہہ دیتے ، کیسے ان کو لکھ پاتے
    جو چھپائی تھیں ہم نے راز کی وہ باتیں تھیں

    ہر محاذ پر تنہا خود کو ہم نے پایا تھا
    دشمنوں کی ہر جانب سو طرح کی گھاتیں تھیں
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  13. سیدہ شگفتہ

    سیدہ شگفتہ لائبریرین

    مراسلے:
    29,439
    شرار و برق سے ہم تو نئی بنیاد رکھیں گے
    کہ خار و خس یونہی ہم کو سدا برباد رکھیں گے

    نئی طرزِ ستم وہ بھی اگر ایجاد رکھیں گے
    تو ہم اب کے نئی لے نالہ و فریاد رکھیں گے

    ہمارے خوں سے لکھی جائے گی تاریخ گلشن کی
    ہمیشہ یاد ہم کو دیکھنا صیاد رکھیں گے

    رہے امید دل میں یہ بھی کیا ان کا کرم کم ہے
    کبھی وہ لطف ہم پر اور کبھی بے داد رکھیں گے

    قفس میں یہ نیا آئیں ہمارے بعد ہی ہوگا
    کہ بلبل کو اسیری میں بھی وہ آزاد رکھیں گے

    کہ سارے فیصلے اپنے انہیں کے ہاتھ میں ہوں گے
    کبھی وہ شاد رکھیں گے کبھی نا شاد رکھیں گے

    خزاں کا رنگ ہو گا کیوں بھلا فصلِ بہاراں میں
    کہ دل کو ہم تری یادوں سے جب آباد رکھیں گے
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  14. سیدہ شگفتہ

    سیدہ شگفتہ لائبریرین

    مراسلے:
    29,439
    وہ جو حادثوں سے سنور گیا
    مرا دل بھی کیسے نکھر گیا

    تری بات تھی تری یاد تھی
    مرا دل جہاں میں جدھر گیا

    کوئی خواب تھا کہ عذاب تھا
    مری چشمِ تر میں اتر گیا

    تری گفتگو میں وہ زہر تھا
    ترا لہجہ دل میں اتر گیا

    وہ جو ساتھ ہم بھی گذارتے
    وہی وقت سارا گذر گیا

    یونہی بے سبب تھیں مسافتیں
    یونہی رائیگاں وہ سفر گیا

    وہی لمحہ ایک جدائی کا
    وہی آنکھ میں جو ٹھہر گیا
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  15. سیدہ شگفتہ

    سیدہ شگفتہ لائبریرین

    مراسلے:
    29,439
    زیست سے ہم خفا نہ تھے ایسے
    کبھی محوِ دعا نہ تھے ایسے

    رو دیے کیسے بات بات پہ آج
    ہم تو بے حوصلہ نہ تھے ایسے

    دشت کی خامشی یہ کہتی ہے
    پہلے گھر بے صدا نہ تھے ایسے

    ڈوب جائیں ہماری سوچیں بھی
    سیل دریا نما نہ تھے ایسے

    خامشی مصلحت ہماری تھی
    ویسے ہم بے نوا نہ تھے ایسے
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  16. سیدہ شگفتہ

    سیدہ شگفتہ لائبریرین

    مراسلے:
    29,439
    کوئی خواہش کوئی حسرت بھی نہیں
    زندگی تیری ضرورت بھی نہیں

    بادباں کھول کے بیٹھے ہیں مگر
    پار اترنے کی اجازت بھی نہیں

    عشق کی آگ جلے بھی کیسے
    جب کہ جذبوں میں حرارت بھی نہیں

    لوگ ہنستے ہیں ہمارے غم پر
    آپ کی اتنی عنایت بھی نہیں

    درد اس درجے زیادہ کیوں ہے
    اتنی تو ان سے رفاقت بھی نہیں
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  17. سیدہ شگفتہ

    سیدہ شگفتہ لائبریرین

    مراسلے:
    29,439
    لکھتے ہوئے قلم بھی جو بے باک ہو گیا
    پردہ ہی ان کے چہرے کا سب چاک ہو گیا

    ہم حادثے کی زد سے تو محفوظ ہو گئے
    اچھا ہے وقت پہ ہمیں ادراک ہوگیا

    شیریں سخن کہا تھا جسے ہم نے بھی کبھی
    اس کا بھی طرزِ گفتگو سفاک ہوگیا

    آئی نہ راس اس کو نئی وضع بھی کوئی
    خاکی تھا جسم آج وہی خاک ہو گیا

    دل کو یہ آج کس کے دُکھوں نے رُلا دیا
    کیسی وہ یاد تھی کہ جو غم ناک ہو گیا
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  18. سیدہ شگفتہ

    سیدہ شگفتہ لائبریرین

    مراسلے:
    29,439
    وہ مجھ کو دھوپ میں اک سائبان گر دیتا
    اذیتوں کا نیا کوئی پھر سفر دیتا

    اُجالا جو مرے دل کی زمیں پہ کر دیتا
    اک ایسا مہر ، اک ایسی بھی وہ سحر دیتا

    نہ جانے کب سے یونہی پھر رہے ہیں رستے میں
    کہ رہ نما کو کوئی جا کے یہ خبر دیتا

    میں اس کو بھولنا چاہوں مگر بھلا نہ سکوں
    مری دعاؤں میں یارب تو یہ اثر دیتا

    یہ اک شجر جو مرے صبر کی علامت ہے
    کبھی تو اس پہ بھی یارب کوئی ثمر دیتا
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  19. سیدہ شگفتہ

    سیدہ شگفتہ لائبریرین

    مراسلے:
    29,439
    سارے چہرے سارے رشتے سارے در انجان ہوئے
    ہم تو جیسے اپنے گھر میں آپ ہی اب مہمان ہوئے

    سارے منظر چُپ چُپ ہیں اور ساری فضائیں ہیں خاموش
    شہر کی ساری گلیاں سونی رستے سب سنسان ہوئے

    ایک زمانے تک جو میرے زخموں کا ناسور بنے
    وہی حوالے کیا اب میری ذات کی سب پہچان ہوئے

    ریزہ ریزہ چُن چُن کر ہی جن کو ہم نے رکھا تھا
    خوابوں کے وہ آنکھ دریچے یکدم ہی ویران ہوئے

    زخم ہی مرہم بن جاتے ہیں جتنے زیادہ ہوتے ہیں
    درد لگا کر دل سے رکھے درد ہی سب درمان ہوئے
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
  20. سیدہ شگفتہ

    سیدہ شگفتہ لائبریرین

    مراسلے:
    29,439
    دل کے زخموں کی ہے صورت کیسی
    مل گئی ہے ہمیں دولت کیسی

    غم ہی اک زندہ حقیقت اے دل
    قصہ کیسا یہ حکایت کیسی

    ہم بچھڑ جائیں تو اچھا ہی ہے
    ساتھ رہنے سے محبت کیسی

    تو نے منہ پھیر کے دیکھا بھی نہیں
    آ گئی تجھ میں مروت کیسی

    سانس لیتے ہوئے ڈر لگتا ہے
    ہو گئی ہے مری حالت کیسی
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1

اس صفحے کی تشہیر