سکوت - نزھت عباسی

سیدہ شگفتہ نے 'اردو شاعری' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏دسمبر 24, 2007

  1. سیدہ شگفتہ

    سیدہ شگفتہ لائبریرین

    مراسلے:
    29,439
    سکوت




    نزھت عباسی
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
  2. سیدہ شگفتہ

    سیدہ شگفتہ لائبریرین

    مراسلے:
    29,439
  3. سیدہ شگفتہ

    سیدہ شگفتہ لائبریرین

    مراسلے:
    29,439


    انتساب


    والدین کے نام



     
  4. سیدہ شگفتہ

    سیدہ شگفتہ لائبریرین

    مراسلے:
    29,439



    چھایا ہے اک سکوت سا اس کائنات میں
    برپا ہے پھر بھی شور یہاں شش جہات میں


     
  5. سیدہ شگفتہ

    سیدہ شگفتہ لائبریرین

    مراسلے:
    29,439



    مجموعہ تخیل


     
  6. سیدہ شگفتہ

    سیدہ شگفتہ لائبریرین

    مراسلے:
    29,439


    تازہ بیانی

     
  7. سیدہ شگفتہ

    سیدہ شگفتہ لائبریرین

    مراسلے:
    29,439


    سکوتِ درد


     
  8. سیدہ شگفتہ

    سیدہ شگفتہ لائبریرین

    مراسلے:
    29,439
    ثناءے ربی


    چھایا ہے اِک سکوت سا اس کائنات میں
    برپا ہے پھر بھی شور یہاں شش جہات میں

    تیرا ہی ایک جلوہ نگاہوں میں ہے مری
    تیرا ہی ایک ذکر میری بات بات میں

    تجھ سے الگ تو میرا کوئی بھی نہیں وجود
    داخل ترا ہی نور ہے اس میری ذات میں

    اک رُخ تری خدائی کا شبنم کے اشک ہیں
    پھولوں کی آنکھ رہتی ہے نم خود بھی رات میں

    تیرے سوا کچھ اور تصور میں اب نہیں
    اک تیرا ہی خیال جو رہتا ہے ساتھ میں
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  9. سیدہ شگفتہ

    سیدہ شگفتہ لائبریرین

    مراسلے:
    29,439
    مدحتِ نبی

    میں مدح و ثنا نورِ لولاک کروں کیسے
    ذرہ ہوں میں سورج کا ادراک کروں کیسے

    جب آپ کے جبے میں پیوند ہوں اے آقا
    میں ریشم و اطلس کو پوشاک کروں کیسے

    پلکیں تو مری گردِ جادہ سے ہوئیں بوجھل
    نظروں کو اب میں سوءے افلاک کروں کیسے

    ہے آپ کی رحمت سے امید بہت مجھ کو
    عارض کو بھلا اپنے نمناک کروں کیسے

    حد درجہ سخاوت کا دریا ہے تری ہستی
    میں دامنِ عصیاں کو پیراک کروں کیسے
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  10. سیدہ شگفتہ

    سیدہ شگفتہ لائبریرین

    مراسلے:
    29,439
    ہزاروں راستوں میں بٹ گئی ہوں
    خود اپنے آپ ہی سے کٹ گئی ہوں

    ہوں گُم گشتہ خلا کی وسعتوں میں
    کہ میں محور سے اپنے آپ ہٹ گئی ہوں

    سفر میں موڑ جب کاٹا تھا تم نے
    وہیں دیکھو تو میں بھی کٹ گئی ہوں

    رکاوٹ ہے نہ سدّ راہ کوئی
    کہ تیرے راستوں سے ہٹ گئی ہوں

    فنا مجھ کو کرے گی کیا عداوت
    کہ تیرے پیار ہی میں لُٹ‌گئی ہوں

    خود اپنی بھی نہیں پہچان باقی
    غبارِ زیست میں یوں اَٹ گئی ہوں

    میں دریا تو نہیں جو پھیل جاؤں
    مثالِ آبِ جُو میں گھٹ گئی ہوں

    مٹانا چاہتے تھے سو وہ آخر
    انھی کے واسطے میں مٹ گئی ہوں
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  11. سیدہ شگفتہ

    سیدہ شگفتہ لائبریرین

    مراسلے:
    29,439
    وہ کون سی شے ہے جو تقسیم نہ ہو پائے
    اب کون سے جذبے میں ترمیم نہ ہوپائے

    مجرم بھی وہی ہیں جو منصف ہیں بنے بیٹھے
    ان جیسے خداؤں کی تعظیم نہ ہو پائے

    سوچوں میں تراشے ہیں لفظوں کے کئی پیکر
    کیوں جانے مگر ان کی تجسیم نہ ہو پائے

    مبہم سے ہوئے آخر رشتوں کے معانی بھی
    آسان سی باتوں کی تفہیم نہ ہو پائے

    بے سود نظریے ہیں ، بے سود نتیجے ہیں
    اغیار کے مکتب میں تعلیم نہ ہو پائے
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  12. سیدہ شگفتہ

    سیدہ شگفتہ لائبریرین

    مراسلے:
    29,439
    اس نے کیا احسان کیا
    ہم نے جیون دان کیا

    پہنی رشتوں کی زنجیر
    گھر ہی کو زندان کیا

    اتنا ہی ٹوٹا ہے من
    جس پہ جتنا مان کیا

    غم کا اتھاہ سمندر تھا
    خود کا بھی جب گیان کیا

    کوئی نہیں بس پُروا تھی
    آہٹ پہ جب دھیان کیا
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
  13. سیدہ شگفتہ

    سیدہ شگفتہ لائبریرین

    مراسلے:
    29,439
    "ہمارے عہد کی سچائیاں بھی جھوٹی ہیں"
    خیال و فکر کی دانائیاں بھی جھوٹی ہیں

    وجود و ذات کی بحثیں اُٹھا رکھیں اے دل
    ابھی تو وقت کی آگاہیاں بھی جھوٹی ہیں

    گلوں میں رنگ ، نہ ہے بادِ نو بہار کا رقص
    کہ اب چمن کی یہ رعنائیاں بھی جھوٹی ہیں

    اکیلے ہوکے بھی ہر دم ہجوم رہتا ہے
    تمہاری یاد کی تنہائیاں بھی جھوٹی ہیں

    مجھے بھی اپنی نگاہوں پہ کوئی شک سا ہے
    تمہارے درد کی پرچھائیاں بھی جھوٹی ہیں

    جہاں میں حُسن کی صورت نہیں رہی ویسی
    تمہارے عشق کی سچائیاں بھی جھوٹی ہیں

    ہے اب خیال کو کچھ اور وسعتوں کی طلب
    مرے شعور کی پہنائیاں بھی جھوٹی ہیں
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  14. سیدہ شگفتہ

    سیدہ شگفتہ لائبریرین

    مراسلے:
    29,439
    اپنی یادوں کی کہیں پر اک کڑی گُم ہو گئی
    شہر سب باقی رہا بس وہ گلی گم ہوگئی

    جانے کیوں پہچاننے میں ہو گئی تاخیر کچھ
    گھر کی جب آرائشوں میں سادگی گم ہو گئی

    جانے کتنے سائلوں نے اپنے دامن بھر لیے
    میری جانب آتے آتے ہر خوشی گم ہو گئی

    میری تنہائی نے میری ذات کو افشا کیا
    محفلوں کی رونقوں میں بے خودی گُم ہو گئی

    جب تلک تھے بے خبر یہ آرزو تھی جان لیں
    آنکھ جب روشن ہوئی تو روشنی گم ہو گئی

    موت ہاتھوں میں آُٹھائے رو رہے ہیں لوگ سب
    میرے شہروں میں کہاں پر زندگی گُم ہو گئی

    زندگی کے پیچ و خُم میں دل اُلجھ کر رہ گیا
    یاد بھی تیری نہ جانے کس گھڑی گُم ہو گئی
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
  15. سیدہ شگفتہ

    سیدہ شگفتہ لائبریرین

    مراسلے:
    29,439
    منزلیں کچھ اور تھیں اور راستے کچھ اور تھے
    قربتیں کچھ اور تھیں وہ فاصلے کچھ اور تھے

    یہ تو مانا زندگی کے کم نہیں آزار کچھ
    مسئلے کچھ اور تھے اور حوصلے کچھ اور تھے

    ختم ہی تو ہو گئے تھے چاہتوں کے وہ سفر
    یاد کے لیکن رہے جو سلسلے کچھ اور تھے

    منصف و مختار تم لیکن ہمارے واسطے
    قاعدے کچھ اور تھے اور ضابطے کچھ اور تھے

    ساتھ رہنے سے تو کچھ کم ہو نہ پائے فاصلے
    جو دلوں کو جوڑ دیں وہ رابطے کچھ اور تھے
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  16. سیدہ شگفتہ

    سیدہ شگفتہ لائبریرین

    مراسلے:
    29,439
    زمیں بھی گم ہے یہاں آسمان بھی گم ہے
    زماں بھی گم ہے اور اس میں مکان بھی گم ہے

    نہ راستے کی خبر ہے نہ منزلوں کا پتہ
    ستارہ گم ہے سفر کا نشان بھی گم ہے

    وہ سامنے جو کبھی ہم کو آ رہا تھا نظر
    وہ ایک شہر وہ اپنا مکان بھی گم ہے

    نہ جانے کیوں کوئی الہام اب نہیں ہوتا
    اثر وہ شعر کا ، لطفِ بیان بھی گم ہے

    اسی خیال میں سارے خیال پنہاں ہیں
    اسی یقین میں سارا گمان بھی گم ہے
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  17. سیدہ شگفتہ

    سیدہ شگفتہ لائبریرین

    مراسلے:
    29,439
    گو کہ اک عمر رائیگاں کی ہے
    یاد تیری تو جاوداں کی ہے

    دولتِ غم کہاں چھپا رکھتے
    صرف یہ بھی کہاں کہاں کی ہے

    دوسری بار مل بھی جائے تو کیا
    زندگی وقفِ دیگراں کی ہے

    حالتِ غم وہی ہے یا کہ نہیں
    اپنی آنکھوں سے جو عیاں کی ہے

    منزلیں اپنی دیکھ لیں ہم نے
    جب نظر سوئے آسماں کی ہے

    یہ جہاں تو نہیں ٹھکانہ مرا
    جستجو کون سے جہاں‌کی ہے

    یہ کوئی نقشِ آبِ جُو تو نہیں
    موج یہ بحرِ بیکراں کی ہے

    پھر نہ واپس پلٹ کے جائیں گے
    راہ ہر سمت بے نشاں کی ہے
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  18. سیدہ شگفتہ

    سیدہ شگفتہ لائبریرین

    مراسلے:
    29,439
    دشت میں کیوں دلِ بے تاب لیے پھرتا ہے
    کس لیے دیدہ بے خواب لیے پھرتا ہے

    آپ ہی اپنا وجود اس میں ڈبو کر جیسے
    اپنی ہستی ہی میں گرداب لیے پھرتا ہے

    بانٹتا جاتا ہے اشکوں کے خزانے ہر سُو
    آنکھ میں گوہرِ نایاب لیے پھرتا ہے

    زندگی جاگتے رہنے کی سزا ہو جیسے
    وہ سزاؤں کے بھی آداب لیے پھرتا ہے

    بیٹھنے دیتا نہیں مجھ کو کنارے پہ کبھی
    مجھ میں پوشیدہ یوں سیلاب لیے پھرتا ہے

    جس گھڑی قلب ہوا تھا میرا پارہ پارہ
    اسی پل کو دلِ سیماب لیے پھرتا ہے

    کون کرتا ہے رگِ جاں میں لہُو کو گردش
    کون سانسوں میں یہ زہراب لیے پھرتا ہے
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  19. سیدہ شگفتہ

    سیدہ شگفتہ لائبریرین

    مراسلے:
    29,439
    دل پہ کس طرح اعتبار کریں
    کیا جنوں ہی کو اختیار کریں

    تیرے غم سے ہو کیوں گریز ہمیں
    اک تعلق تو استوار کریں

    آُ پ کا وصفِ دوستی ہے عجب
    جس کو چاہیں اسی پہ وار کریں

    تجھ سے پہلے نہ بعد میں کوئی
    کون ہے جس کا انتظار کریں

    ہے ابھی ابتدا بہاروں کی
    دل کے زخموں کا کیا شمار کریں

    اپنی آنکھوں کے آنسوؤں کی چمک
    کیوں زمانے پہ آشکار کریں
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  20. سیدہ شگفتہ

    سیدہ شگفتہ لائبریرین

    مراسلے:
    29,439
    خود شناسی بھی اک ملال ہی تھی
    اپنی ہستی ابھی سوال ہی تھی

    یاد اچھا ہوا کہ بھول گئی
    جیتے جی جان کا وبال ہی تھی

    وہم تھی یا گماں تھی کیا تھی وہ
    تیری صورت بھی کیا خیال ہی تھی

    ان کے ترکش میں تیر تھے کتنے
    صبر کی میرے پاس ڈھال ہی تھی

    ان کی باتوں پہ روئے کیوں اتنا
    بات کیا کوئی حسبِ حال ہی تھی

    مجھ پہ احساں کا بوجھ ڈالا تھا
    یہ بھی اپنوں کی ایک چال ہی تھی
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2

اس صفحے کی تشہیر