سوچتے سوچتے خیال آیا

کسی دانا کا فرمان ہے:
بیکار مباش، کچھ کیا کر---
کپڑے ہی ادھیڑ کر سیا کر !​
تو صاحبو، کپڑے تو ہمارے پاس اتنے فالتو ہیں نہیں کہ ان سے بیکاری کا قتل کیا جائے۔ بقولِ سعدیؒ، جامہ ندارم دامن از کجا آرم۔ لے دے کے یہی ٹوٹے پھوٹے اشعار ہیں جن پر تکیہ کیا جا سکتا ہے۔
سو ملاحظہ فرمائیے ایک پرانی غزل۔

عشق کا حصہ ہیں کھلی آیات
وسوسوں تک ہیں عقل کی برکات

بھولتا جا رہا ہوں خود کو میں
کر رہا ہوں تلافئِ ما فات

سوچتے سوچتے خیال آیا
آپ تک سوچ کی کہاں اوقات

ہیں تمھارے فراق کے تحفے
عشق پر ہیں جنون کے اثرات

روز بنتی ہے کائنات نئی
روز اترتی ہیں نت نئی آیات

مسکرا کر شعور والوں پر
دل نے کر دی بڑے پتے کی بات

گئے کس بارگاہ میں راحیلؔ
تم نے خود کو بھی کر دیا خیرات​
1 مارچ، 2011ء
 

نور وجدان

لائبریرین
روز بنتی ہے کائنات نئی
روز اترتی ہیں نت نئی آیات

مسکرا کر شعور والوں پر
دل نے کر دی بڑے پتے کی بات

عشق کا حصہ ہیں کھلی آیات
وسوسوں تک ہیں عقل کی برکات

ماشاء اللہ ۔۔۔۔۔۔۔فاتح بھائی کی اردو اور شعر بنانے کی ساخت کمال کی ہے اور آپ کا تخییل۔۔۔۔۔۔۔۔۔شاید اگر مجھے کسی کی سوچ متاثر کرتی ہے وہ آپ کی یہ دوسری غزل ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اللہ اس سے بھی اچھا کہنے کی توفیق دے آمین
 
Top