تبسم سنے قہقہے تو سن لو یہ فغانِ چشمِ تر بھی ۔ صوفی تبسم

فرخ منظور

لائبریرین
سنے قہقہے تو سن لو یہ فغانِ چشمِ تر بھی
کہ ہے داستاں میں شامل یہ حدیثِ مختصر بھی

جو وہ دن گزر گیا تھا تو یہ رات بھی کٹے گی
کبھی شام آ گئی تھی کبھی آئے گی سحر بھی

یہ عجیب رہ روی ہے کہ الجھ گئی ہیں راہیں
مجھے ڈر ہے کھو نہ جائے کہیں تیری رہ گزر بھی

ترے حسن سے شگفتہ ہوئیں مضمحل نگاہیں
جو سنور گئے نظارے تو سنور گئی نظر بھی

اسی کائنات ہی میں ہے جہانِ درد منداں
مرے ناظرِ دو عالم کبھی اک نظر ادھر بھی

(صوفی تبسّم)

 
آخری تدوین:
واہ کیا شعار ہیں ۔ بہت خوب انتخاب۔ فرخ بھائی ۔ کمال !!!
دوسرے مصرع میں کہ کے بعد شاید "ہے" کتابت سے رہ گیا۔
اسی طرح جہاں درد منداں سے پہلے شاید "یہ" یا "وہ" ہوگا۔
ایسے کلام میں کتابت کا معمولی سقم بھی بہت گہرا محسوس ہوتا ہے۔
 

فرخ منظور

لائبریرین
واہ کیا شعار ہیں ۔ بہت خوب انتخاب۔ فرخ بھائی ۔ کمال !!!
دوسرے مصرع میں کہ کے بعد شاید "ہے" کتابت سے رہ گیا۔
اسی طرح جہاں درد منداں سے پہلے شاید "یہ" یا "وہ" ہوگا۔
ایسے کلام میں کتابت کا معمولی سقم بھی بہت گہرا محسوس ہوتا ہے۔

توجہ دلانے کے لیے شکریہ عاطف بھائی۔ دراصل یہ غزلیات کافی عرصہ قبل ٹائپ کی تھیں اور القلم فورم کے ساتھ ہی دریا برد ہو گئیں۔ کچھ غزلیات ملی ہیں اسی لیے یہاں پوسٹ کی ہیں۔ ویسے کلیاتِ صوفی تبسم میں بہت سی اغلاط ہیں۔ میرے خیال میں یہ اغلاط کلیات میں بھی ہوں گی لیکن پھر بھی شام کو گھر جا کر کلیات سے دیکھ کر بتاتا ہوں۔
 
Top