سنبھل کے

کچھ دیر گلا پھاڑ پھاڑ کے بولنے کے بعد ہم تینوں تھک گئے۔ ڈاکٹر نے موٹر سائیکل کی رفتار اور تیز کر دی اور شور مچاتی ہوئی ہوا نے مجھے خود اپنے اندر گم ہو جانے پر مجبور کر دیا۔ نہ جانے کیوں مجھے ایک عجیب خیال آیا۔ زندگی میں پہلی بار۔ میں نے سوچا کہ میری ماں ہے۔ اور میں کتنا بےفکر ہوں۔ کتنا سکون ہے مجھے ہر وقت۔ اللہ نہ کرے ماں جی نہ ہوں گی تو اس ان دیکھی چھاؤں کے بغیر زندگی کے صحرا میں جھلسنا کیسا ہو گا؟ مگر الحمدللہ، ثم الحمدللہ، میری ماں جی ہیں۔ اور مجھے پتا ہے کہ خدا کی یہ آنکھ ہر وقت مجھ پر نظر رکھے ہوئے ہے۔ دعاؤں کا اور حفاظت کا ایک نادیدہ حصار ہے میرے گرد جو اللہ نہ کرے میری زندگی میں کبھی ختم ہو۔ میرے اندر شکرگزاری کا ایک ایسا احساس پیدا ہوا جس کا تجربہ اس سے پہلے مجھے کبھی نہ ہوا تھا۔
منزل پر پہنچ کر دو دن پہلے بچھڑے ہوئے یاروں سے یوں ملاقاتیں ہوئیں گویا ہم یا وہ پیدل حج کر کے آئے ہیں۔ گپیں ہانکیں۔ قہقہے لگائے۔ شعر سنائے۔ فلسفے جھاڑے۔ غزلیں گائیں۔ کھانا کھایا۔ ایک دوست کا حال ہی میں Kaist میں داخلہ ہوا تھا۔ اس کے اعزاز اور لحاظ میں کچھ زیادہ ہی دیر کر بیٹھے۔ واپسی کو نکلے تو رات کے ساڑھے گیارہ ہو رہے تھے۔ ماں جی کال کر کے مجھ سے دیر کا سبب دریافت کر چکی تھیں۔ اب تک تو سو گئی ہوں گی۔ میں نے سوچا۔
میں ایک انتہائی مخبوط الحواس آدمی ہوں۔ کسی شے میں کھو جاؤں تو دنیا و مافیہا کی خبر نہیں رہتی۔ ڈاکٹر موٹر سائیکل اڑائے لیے جا رہا تھا۔ بحث جاری تھی۔ ہم ایک ذیلی سڑک سے نکل کر ہائی وے عبور کرتے ہوئے مخالف سڑک کی طرف بڑھ رہے تھے۔ اس وقت پتا نہیں کیا ہوا۔ شاید میں وہ غائب دماغ راحیل فاروق ہی نہیں رہا۔ کچھ اور بن گیا۔ میری نظر روشنیوں کی اس قطار پر جم گئی جو شاید روشنی ہی کی رفتار سے ہماری طرف بڑھ رہی تھیں۔ ہم سڑک کے عین درمیان تھے۔
میں نے چیخ کر کہا، "ڈاکٹر، آگے نہیں جاؤ۔" موٹر سائیکل تھرتھرایا۔ بجلی کی تیزی سے ہوتے ہوئے اس واقعے میں وقت کچھوے کی طرح رینگنے لگا۔ میں نے پورے ہوش میں خود سے چند فٹ پیچھے ایک فراٹے بھرتی ہوئی گاڑی کے بونٹ اور روشنی کو دیکھا اور سوچا، "بس؟"
شعور کی رو یہاں آ کر منقطع ہو گئی۔ میں اور میری دنیا گھپ اندھیرے میں ڈوب گئے۔
پھر گویا ایک اور راحیل فاروق پیدا ہوا۔ اس نے فراٹے بھرتی ہوئی گاڑی کو کئی گز آگے سڑک کی انتہائی دائیں جانب جھٹکے سے رکتے ہوئے دیکھا۔ موٹر سائیکل گزشتہ ہدایت کے ردِ عمل میں واپس بائیں جانب مڑ رہی تھی۔ تب میں نے ایک اور گاڑی دیکھی۔ وہ گاڑیوں کی اس قطار میں دوسری تھی اور پہلی کو عین اسی لمحے اوور ٹیک کرنا چاہ رہی ہو گی جب ہم سڑک کے بیچ میں تھے۔
میں پوری قوت سے چلایا، "واپس نہیں۔"
پھر اپنی بائیں جانب بھی میں نے وہی منظر دیکھا۔ ایک اور فراٹے بھرتی ہوئی گاڑی۔ تیز روشنی۔ مگر اب کے فاصلہ کم تھا اور گاڑی میرے بائیں ہاتھ پر چھچھل رہی تھی۔ میں اسے چھو سکتا تھا۔ وقت کی ایک بار پھر چھوٹتی ہوئی نبض۔ میں نے سوچا، "اب کے چوٹ لگے گی مگر شاید بچ جائیں۔"
میں پھر مرا اور پھر زندہ ہوا۔ میں نے دیکھا کہ وہ گاڑی سڑک کی انتہائی بائیں جانب کچی زمین پر رکی ہوئی ہے۔ پیچھے آنے والی گاڑیاں بھی گویا ایک ہیبت اور تحیر کے عالم میں ساکت ہو کر رہ گئی ہیں۔ ڈاکٹر تیزی سے واپس مڑا اور موٹر سائیکل دوڑاتا ہوا اسی ذیلی سڑک پر دوبارہ اتر گیا جس سے ہم ابھی نکلے تھے۔ کچھ دور جا کر وہ رک گیا۔ موٹر سائیکل سے اترا اور سر تھام کر زمین پہ بیٹھ گیا۔ میرا بدن لرز رہا تھا۔ ہمارے تیسرے ساتھی فاروق نے ہمیں تسلیاں دینی شروع کر دیں۔
ڈاکٹر نے موٹر سائیکل چلانے سے انکار کر دیا۔ وہ دونوں پیدل نکلے۔ میں نے موٹر سائیکل پکڑا۔ شاہراہ عبور کرنے کے بعد کچھ آگے جا کر وہ بھی سوار ہو گئے اور ہم گھر کو نکل پڑے۔ ڈاکٹر اور فاروق وقت کا اندازہ کرنے کی کوشش کر رہے تھے اور میں سوچ رہا تھا کہ ہم چند ثانیوں کے اندر اندر دو قضاؤں سے بچا لیے گئے تھے۔ موت چنگھاڑتی ہوئی ہمارے دائیں اور بائیں سے گزر گئی تھی۔ پہلی گاڑی سے تو خدا ہی جانتا تھا کہ اس نے کیسے بچایا۔ سڑک پر جہاں ہم تھے اس کے ساتھ اتنی جگہ شاید تھی نہیں کہ وہ ہمیں کچلے بغیر آگے نکل سکتی۔ دوسری گاڑی البتہ شاہراہ سے بالکل نیچے اتر گئی تھی۔
اپنے شہر پہنچ کر میں نے فون جیب سے نکالا اور دیکھا کہ گھر سے ایک منٹ کے فرق سے دو بار رابطہ کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ میں نے فاروق سے دوبارہ وہ وقت پوچھا جب اس نے گھڑی دیکھی تھی۔ اس سے تقریباً دس منٹ پہلے یہ واقعہ ہوا ہو گا۔ لگ بھگ اسی وقت گھر سے رابطہ کیا جا رہا تھا۔ میرے ذہن میں وہ حکایت گونجنے لگی جس کے مطابق جنابِ موسیٰ کی والدہ کی وفات کے بعد خدا نے ان سے کہا تھا کہ موسیؑ! ذرا سنبھل کے۔ اب تمھاری ماں اور اس کی دعائیں نہیں ہیں۔
میں نے پھر سوچا۔ میری ماں ہے۔ الحمدللہ!
گھر پہنچا۔ ماں جی کے پیر چومے۔ پوچھا کہ کال کس نے اور کیوں کی تھی۔ معلوم ہوا کہ اس وقت ماں جی نے سب سے بتکرار کہا تھا کہ راحیلؔ کی خبر لو۔
 

اے خان

محفلین
ایسا ہمارے ساتھ بھی ہوا تھا اگرچہ ہم موٹر سائیکل سے گرے گئے تھےاور وہ بھی سڑک کے بیچوں بیچ لیکن پھر بھی اللہ تعالٰی کے فضل و کرم سے بچ گئے تھے. ایک خراش تک نہیں آئی تھی. صرف دائیں ہاتھ کی کلائی میں ذرا سا فریکچر آیا تھا.
یہ اپنے پیاروں کی دعاؤں کی برکت ہوتی ہے.
 

ربیع م

محفلین
اللہ آپ کی حفاظت فرمائے!
ماں کی چھٹی حس بلاشبہ بہت تیز ہوتی ہے اگرچہ کم عمری میں ہی والدہ کی وفات ہو گئی لیکن خالہ نے ماں سے بڑھ کر پیار دیا اور اپنے بچوں سے زیادہ عزیز رکھا۔
جب بھی ان سے دور ہوں اور کوئی مسئلہ بن جائے تو وہ پریشان ہو جاتی ہیں۔
 
اللہ تعالیٰ اپنی حفظ و امان میں رکھے۔
میں نے عالمِ بالا میں آپ سے کچھ آگے کا سفر کیا تھا۔
اور اپنی کارووائی کی روداد دوسروں سے سنی تھی۔ کیونکہ وہ لمحات میری یادداشت میں محفوظ نہ رہ سکے۔
مجھے اتنا یاد ہے کہ صبح دیر سے دفتر کے لیے نکلا تھا اور پھر کوئی مجھ سے پوچھ رہا تھا کہ
بیٹا آپ کا نام کیا ہے؟
دایاں ہاتھ اٹھائیں۔ بایاں ہاتھ اٹھائیں۔ دائیں ٹانگ اٹھائیں۔ بائیں ٹانگ اٹھائیں۔
پھر کسی اور سے کہنے لگا، شکر ہے صحیح ریسپانس آ رہا ہے۔
بعد میں معلوم ہوا کہ دفتر سے نکلنے اور ڈاکٹر کے یہ سوالات پوچھنے کا درمیانی وقفہ 6 گھنٹے تھا۔ مکمل طور پر ہوش ڈیڑھ دن تک آیا تھا۔
بہت غور کرنے پر بھی مجھے حادثہ کی وجہ یاد نہیں آ رہی تھی۔
مجھ سے ٹکرانے والا بندہ ہی اپنی گاڑی پر ہسپتال لایا۔ اور اس کے اسی احسان پر ابو نے پولیس کے بے حد اصرار کے باوجود اس کو معاف کر دیا، کہ آج کے دور میں تو کوئی دوسرا ہاتھ نہیں لگاتا، یہ خود ایکسیڈنٹ کر کے لے آیا ہے۔
میں ہائی وے پر موٹر سائیکل چلا رہا تھا۔ وہ بندہ گاڑی اچانک ہائی وے پر لے آیا۔ اس کے فرنٹ ڈور سے ٹکرا کر موٹر سائیکل وہیں گرا۔ جبکہ میں گاڑی کے اوپر سے پرواز کرتا دوسری جانب سر کے بل جا کر گرا۔ ہیلمٹ نے اپنی جان پر کھیل کر میرا سر بچایا۔
وہ بندہ فیملی کے ساتھ تھا۔ فیملی کو ٹیکسی پر بھیج کر مجھے فوراً ہسپتال لے کر پہنچا۔ میرے موبائل سے والد صاحب کو فون کیا، اور جب تک مجھے ہوش نہ آیا، ہسپتال میں موجود رہا۔ میرا بائک اور دیگر اشیاء بھی اپنے بھائی کے ہاتھ اپنے گھر بھجوا دی تھیں۔ جب میں گھر آ گیا تو بائک اور چیزیں گھر چھوڑ گیا۔
ہیلمٹ کا شیشہ ٹوٹ کر میری پلکوں کے اندر کھُب گیا۔ وہیں سے خون بہا۔ ٹریٹمنٹ کے دوران ہوا داخل ہونے کے سبب معاملہ بگڑ گیا تھا، اور میرے گھر والوں سے دعاؤوں کا کہہ دیا گیا تھا۔
بہرحال اللہ تعالیٰ نے ابھی مزید مہلتِ عمل دے رکھی تھی، اور شادی کی صورت میں اصل آزمائش سے اس وقت تک نہیں گزرا تھا، اس لیے واپس بھیج دیا گیا۔
 
آخری تدوین:
اللہ تعالٰی آپ کو اپنے حفظ و امان میں رکھے راحیل بھائی۔

میرے ذہن میں وہ حکایت گونجنے لگی جس کے مطابق جنابِ موسیٰ کی والدہ کی وفات کے بعد خدا نے ان سے کہا تھا کہ موسیؑ! ذرا سنبھل کے۔ اب تمھاری ماں اور اس کی دعائیں نہیں ہیں۔
ماں کی دعائیں بے شک بہت اثر رکھتی ہیں۔علامہ اقبال نے اپنی والدہ کی رحلت پر جو مثنوی لکھی اس کا یہ شعر مجھ پر سحر طاری کر دیتا ہے۔

خاک مرقد پر تری لے کر یہ فریاد آؤں گا
اب دعائے نیم شب میں کس کو میں یاد آؤں گا!

اللہ تعالٰی ہم سب کی ماوءں کو سلامت رکھے۔
 

حماد علی

محفلین
کرمِ خداوندی ہے کہ اس قدر خوفناک حادثہ سے بحفاظت نکل آئے!
اللہ آپ کی اور ہم سب کی حفاظت فرمائے ہر آفت و بلا سے !
آپ کی والدہ اور جن کی والدہ حیات ہیں ان سب کی والدہ کو عمرِ خضر عطا فرمائے!
آمین!!!
 
کرمِ خداوندی ہے کہ اس قدر خوفناک حادثہ سے بحفاظت نکل آئے!
اللہ آپ کی اور ہم سب کی حفاظت فرمائے ہر آفت و بلا سے !
آپ کی والدہ اور جن کی والدہ حیات ہیں ان سب کی والدہ کو عمرِ خضر عطا فرمائے!
آمین!!!
آمین ثم آمین!
 
ایسا ہمارے ساتھ بھی ہوا تھا اگرچہ ہم موٹر سائیکل سے گرے گئے تھےاور وہ بھی سڑک کے بیچوں بیچ لیکن پھر بھی اللہ تعالٰی کے فضل و کرم سے بچ گئے تھے. ایک خراش تک نہیں آئی تھی. صرف دائیں ہاتھ کی کلائی میں ذرا سا فریکچر آیا تھا.
یہ اپنے پیاروں کی دعاؤں کی برکت ہوتی ہے.
بلاشبہ۔ اللہ محفوظ و مامون رکھے۔
اللہ آپ کی حفاظت فرمائے!
ماں کی چھٹی حس بلاشبہ بہت تیز ہوتی ہے اگرچہ کم عمری میں ہی والدہ کی وفات ہو گئی لیکن خالہ نے ماں سے بڑھ کر پیار دیا اور اپنے بچوں سے زیادہ عزیز رکھا۔
جب بھی ان سے دور ہوں اور کوئی مسئلہ بن جائے تو وہ پریشان ہو جاتی ہیں۔
آمین۔ اللہ آپ سب کو اپنی سلامتی کے سائے میں رکھے۔
اللہ تعالیٰ اپنی حفظ و امان میں رکھے۔
میں نے عالمِ بالا میں آپ سے کچھ آگے کا سفر کیا تھا۔
اور اپنی کارووائی کی روداد دوسروں سے سنی تھی۔ کیونکہ وہ لمحات میری یادداشت میں محفوظ نہ رہ سکے۔
مجھے اتنا یاد ہے کہ صبح دیر سے دفتر کے لیے نکلا تھا اور پھر کوئی مجھ سے پوچھ رہا تھا کہ
بیٹا آپ کا نام کیا ہے؟
دایاں ہاتھ اٹھائیں۔ بایاں ہاتھ اٹھائیں۔ دائیں ٹانگ اٹھائیں۔ بائیں ٹانگ اٹھائیں۔
پھر کسی اور سے کہنے لگا، شکر ہے صحیح ریسپانس آ رہا ہے۔
بعد میں معلوم ہوا کہ دفتر سے نکلنے اور ڈاکٹر کے یہ سوالات پوچھنے کا درمیانی وقفہ 6 گھنٹے تھا۔ مکمل طور پر ہوش ڈیڑھ دن تک آیا تھا۔
بہت غور کرنے پر بھی مجھے حادثہ کی وجہ یاد نہیں آ رہی تھی۔
مجھ سے ٹکرانے والا بندہ ہی اپنی گاڑی پر ہسپتال لایا۔ اور اس کے اسی احسان پر ابو نے پولیس کے بے حد اصرار کے باوجود اس کو معاف کر دیا، کہ آج کے دور میں تو کوئی دوسرا ہاتھ نہیں لگاتا، یہ خود ایکسیڈنٹ کر کے لے آیا ہے۔
میں ہائی وے پر موٹر سائیکل چلا رہا تھا۔ وہ بندہ گاڑی اچانک ہائی وے پر لے آیا۔ اس کے فرنٹ ڈور سے ٹکرا کر موٹر سائیکل وہیں گرا۔ جبکہ میں گاڑی کے اوپر سے پرواز کرتا دوسری جانب سر کے بل جا کر گرا۔ ہیلمٹ نے اپنی جان پر کھیل کر میرا سر بچایا۔
وہ بندہ فیملی کے ساتھ تھا۔ فیملی کو ٹیکسی پر بھیج کر مجھے فوراً ہسپتال لے کر پہنچا۔ میرے موبائل سے والد صاحب کو فون کیا، اور جب تک مجھے ہوش نہ آیا، ہسپتال میں موجود رہا۔ میرا بائک اور دیگر اشیاء بھی اپنے بھائی کے ہاتھ اپنے گھر بھجوا دی تھیں۔ جب میں گھر آ گیا تو بائک اور چیزیں گھر چھوڑ گیا۔
ہیلمٹ کا شیشہ ٹوٹ کر میری پلکوں کے اندر کھُب گیا۔ وہیں سے خون بہا۔ ٹریٹمنٹ کے دوران ہوا داخل ہونے کے سبب معاملہ بگڑ گیا تھا، اور میرے گھر والوں سے دعاؤوں کا کہہ دیا گیا تھا۔
بہرحال اللہ تعالیٰ نے ابھی مزید مہلتِ عمل دے رکھی تھی، اور شادی کی صورت میں اصل آزمائش سے اس وقت تک نہیں گزرا تھا، اس لیے واپس بھیج دیا گیا۔
بندہ زندگی میں کم از کم ایک آدھ بار موت کو نہ دیکھے تو سچی قدر نہیں ہوتی۔ اللہ آپ کو سلامت رکھے۔
آپ کے آخری جملے سے اندازہ ہوتا ہے کہ محمد وارث شادی شہدا کو بری طرح متاثر کر رہے ہیں ان دنوں۔ :laughing::laughing::laughing:
آئندہ محتاط رہئیے گا سب لوگ جی
اللہ رحم فرمائے، بھائی!
اللہ تعالٰی آپ کو اپنے حفظ و امان میں رکھے راحیل بھائی۔


ماں کی دعائیں بے شک بہت اثر رکھتی ہیں۔علامہ اقبال نے اپنی والدہ کی رحلت پر جو مثنوی لکھی اس کا یہ شعر مجھ پر سحر طاری کر دیتا ہے۔

خاک مرقد پر تری لے کر یہ فریاد آؤں گا
اب دعائے نیم شب میں کس کو میں یاد آؤں گا!

اللہ تعالٰی ہم سب کی ماوءں کو سلامت رکھے۔
آمین۔
آپ کی اس اقبالؒ پسندی نے ہمیں ظہیر پرست بنا دیا ہے۔ :flower::flower::flower:
کرمِ خداوندی ہے کہ اس قدر خوفناک حادثہ سے بحفاظت نکل آئے!
اللہ آپ کی اور ہم سب کی حفاظت فرمائے ہر آفت و بلا سے !
آپ کی والدہ اور جن کی والدہ حیات ہیں ان سب کی والدہ کو عمرِ خضر عطا فرمائے!
آمین!!!
ثم آمین۔
آپ کے اس واقعے پر اپنا تبصرہ محفوظ رکھتا ہوں۔
اللہ ہم سب کا حامی و ناصر ہو۔ آمین۔
ثم آمین۔
تبصروں کی اتنی حفاظت کا سبب بیان فرما دیا جائے تو شاید فقیر بھی آئندہ مرشد کی روش پر چل نکلے! ;););)
 

آصف اثر

معطل
ثم آمین۔
تبصروں کی اتنی حفاظت کا سبب بیان فرما دیا جائے تو شاید فقیر بھی آئندہ مرشد کی روش پر چل نکلے!
مراسلہ لکھتے وقت آپ پر گزرے لمحات وکیفیات کی لپیٹ میں تھا۔ اپنا وہ حادثہ یاد آیا جس کا نشان شائد کبھی مِٹ نہ پائے گا۔
ہوا یوں کہ جن دنوں موٹر سائکل چلانا اتنا سیکھا کہ مرکزی شاہراہ پر لے جانے کا خوف جاتارہا ۔ ایک دن بائک نکالی اور یہاں ایک بدنامِ زمانہ مرکزی سڑک کی جانب بائک دوڑاناشروع کیا۔ٹریفک قوانین کی شدبد نہ ہونے کے طفیل یو ٹرن لیتے وقت بجائے اپنے لین پر چلتے فوراتیز ترین لین پر آگیے۔ اسی اثنا میں پیچھے سے آتی فراٹے بھرتی کار نےبھر پور بریک لینے کے باوجود پھسلتے پھسلتے اس زور سے مارا کہ میں اور بائک دونوں سڑک پر جاڑو دیتے دور تک صفائی کرچکے تھے۔ خوش قسمتی تھی کہ ایک تو ہیلمٹ پہنا ہوا تھا۔دوسری اہم بات یہ تھی کہ اس وقت کوئی اور گاڑی وہاں سے نہیں گزررہی تھی۔وگرنہ ہماری داستاں تک نہ ہوتی داستانوں میں۔ اللہ تعالیٰ نےسرپر شدید چوٹ لگنے سےہیلمٹ کے سبب محفوظ رکھا۔
والدہ محترمہ کی عادت ہے ہر صبح نمازِ فجر کے بعد قرآنی آیات پانی پر دم کرتی ہے۔ اور دعاؤں کا حصار تو ہر لمحہ ساتھ ہوتاہے۔ایک ہی بیٹا ہونے کے سبب میری جدائی کا غم برداشت بھی کیسے کرسکتی ہے۔
ہم اپنے والدین کا حق ہر گز ادا نہیں کرسکتے۔ انہیں احساسات کے زیرِ اثر پشتو میں والدہ کو خراجِ تحسین پیش کرتاہوں۔
image.jpg
 
آخری تدوین:

الف عین

لائبریرین
جان بچی اور لاکھوں پائے۔ یہ پیغام میں بالکل نہیں پڑھتا شاید لیکن نہ جانے کیوں کلک کر دیا، شاید راحیل کے نام کی وجہ سے۔
خدا تم کو اور تابش کو بھی اور تمام محفلینس کو اپنی امان میں رکھے۔
(امیتابھ بچن کا ڈائلاگ کسی نے نہیں ارشاد فرمایا۔ ’میرے ساتھ ماں ہے‘ اگرچہ میں نے اس کا ذکر سنا ہے، معلوم نہیں کون سی فلم کا دائلاگ تھا!!)
 
والدہ محترمہ کی عادت ہے ہر صبح نمازِ فجر کے بعد قرآنی آیات پانی پر دم کرتی ہے

میری والدہ بھی ایسا کرتی ہے.
اور ہم سمجھتے تھے کہ یہ محض ہماری والدہ کا خاصہ ہے۔خیر سنا تو بہت تھا کہ مائیں سب کی ایک جیسی ہوتی ہیں آج ذاتی تجربات بھی پڑھ لیے۔
 
آخری تدوین:
Top