سفاک اسرائیلی شہریوں کیلئے فلسطینیوں کا قتل تماشا بن گیا

سفاک اسرائیلی شہریوں کیلئے فلسطینیوں کا قتل تماشا بن گیا
غزہ (نیوز ڈیسک) اسرائیلی قوم کی بے حسی اور سفاکت کی بہترین عکاس یہ تصویر ہے جو اس وقت سوشل میڈیا پر گردش کررہی ہے۔ یہ تصویر مشرق وسطیٰ میں کام کرنے والی ایک یورپی صحافی ایلن سورنسن کی جانب سے ٹوئیٹر پر اپ لوڈ کی گئی۔ ساتھ ہی بتایا گیا کہ ”سدیروٹ“ میں ایک چٹان کی چوٹی پر اسرائیلی کرسیاں لگا کر غزہ کے نہتے عوام پر بمباری کے مناظر کسی فلم کی طرح دیکھنے میں مشغول ہیں۔ جب دھماکوں کی آواز آتی ہے تو یہ ”تماشائی“ خوشی سے تالیاں بجاتے اور اچھلتے بھی ہیں۔ اس تصویر پر دنیا بھر سے تعلق رکھنے والے ٹوئیٹر صارفین نے انتہائی حیرت کا اظہار کیا۔ بہت سے لوگوں نے پیغامات دئیے کہ آج کل کے دور میں لوگوں کو مرتے دیکھ کر اس طرح کے ردعمل کا اظہار ناقابل یقین ہے۔ اسی طرح کئی صارفین نے اس عمل کو انتہائی گھٹیا اور انسانیت سے گری ہوئی حرکت قرار دیا۔ یورپی اخبار میں شائع ہونے والے مضمون کے مطابق تو کئی ”تماشائی“ ”پاپ کورن“ بھی لے کر آئے ہوئے تھے اور ان کے لئے یہ بمباری ایسے ہی تھی جیسے کہ الیکشن سے بھرپور فلم چل رہی ہو۔ ایک نے اخبار کے نمائندے سے گفتگو کرتے ہوئے یہ بھی کہا کہ ہم یہاں اسرائیل کے ہاتھوں حماس کو تباہ ہوتے دیکھنے آئے ہیں۔ افسوسناک بات یہ ہے کہ ظلم اور بربریت کی یہ بے مثال داستانیں پوری دنیا کے سامنے آنے کے باوجود سب خاموش ہیں اور کسی میں ہمت نہیں کہ اسرائیل کے ہاتھ روک دے۔
news-1405273046-1013.jpg
 

قیصرانی

لائبریرین
یہاں ایک کولیگ سے بات ہو رہی تھی جو ٹریول گائیڈ کورس کا انسٹرکٹر ہے۔ وہ بتا رہا تھا کہ اس کا بہت دل چاہتا ہے اسرائیل جانے کو، لیکن اسی وجہ سے نہیں جاتا کہ اس کے بہترین دوست جو اسرائیلی ہیں، اسرائیل کی سرزمین پر لینڈ کرتے ہی ایک دم تبدیل ہو جاتے ہیں۔ عربوں سے متعلق ان کا رویہ یکسر تبدیل ہو جاتا ہے اور وہ بتا رہا تھا کہ ان کے پاس اکثر بھرے ہوئے ہتھیار ہوتے ہیں کہ کسی بھی وقت ضرورت پڑے تو وہ گولی چلا سکیں۔ اسرائیل کے اندر اتنی خوف کی فضاء طاری ہے، سن کر عجیب لگا
 
میرا ایک ہندو کولیگ مجھ سے پوچھ رہا تھا کہ فلسطین کے آس پاس کے عرب ممالک فسلطینیوں کے قتل عام کو رکوانے کے لئے کچھ کرتے کیوں نہیں؟
 
میرا ایک ہندو کولیگ مجھ سے پوچھ رہا تھا کہ فلسطین کے آس پاس کے عرب ممالک فسلطینیوں کے قتل عام کو رکوانے کے لئے کچھ کرتے کیوں نہیں؟
اپنے دوست کوق بتائیے کہ یہی ممالک ہیں جنکی وجہ سے فلسطین کا مسئلہ حل نہیں ہورہا۔۔یہی وہ ممالک ہیں جو اسرائیل کیلئے سیکیورٹی گارڈ کا کام انجام دے رہے ہیں
 

قیصرانی

لائبریرین
کوئی بات نہیں وقت وقت کی بات ہے کبھی یہ تماشہ گر ہوں گے کبھی ان کا تماشہ لگا ہوگا
یہی تو افسوس ہے کہ کرتا کوئی ہے اور بھرتا کوئی۔ لاکھوں یہودی یورپ میں مارے گئے اور آج ان کی اولادیں فائدے اٹھا رہی ہیں اور کل کو ان کی اولادوں کو ان کے جرائم کی سزا بھگتنی ہوگی :(
 

قیصرانی

لائبریرین
میں نے ویڈیو نہیں دیکھی (اور نہ ارادہ ہے) مگر اگر نیتنیاہو کا ذکر ہے تو وہ بہترین انگریزی بولتا ہے۔
نیتین یاہو کا ہی ذکر ہے کہ وہ بتا رہا تھا کہ شہری آبادی، بچوں، مساجد اور ہسپتالوں پر حملے کر سویلین کیژوئلٹیز کو میکسیمائز کرنا ان کا ہدف ہے اور امید ہے کہ امریکی ان کا نکتہ نظر سمجھتے ہوں گے۔ اور اگر نہیں سمجھتے تو انہیں امریکہ کو یا براک اوبامہ کو کوئی وضاحت دینے کی ضرورت نہیں ہے۔ ویلکم ٹو یروشلم ۔۔۔
 
Top