سعودی عرب میں گاڑی چلاتی دو خواتین پکڑی گئیں

کاشفی

محفلین
سعودی عرب میں گاڑی چلاتی دو خواتین پکڑی گئیں
203034_85986850.jpg

سعودی عرب میں خواتین کے گاڑی چلانے کے حق کے لیے کوششیں کرنی والی خاتون کارکن کو دارالحکومت ریاض میں پولیس نے ڈرائیونگ کرنے سے روک دیا۔

ریاض: (آن لائن) عزیزہ یوسف نامی اس کارکن نے انٹرنیٹ پر کچھ تصاویر شائع کیں تھیں جن میں انہیں گاڑی چلاتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔ ان کی یہ تصاویر ان کی ساتھی کارکن انعام النفجاں نے لیں تھیں۔ انعام النفجاں نے اپنے ٹوئٹر صفحے پر ان دونوں کے اس سفر کا حال بیان کیا تھا جس کے مطابق کسی نے بھی ان کے گاڑی چلانے پر حیرانی نہیں ظاہر کی تھی اور ان دونوں نے جا کر خریدو فروخت کی تھی۔ انہوں نے ایک تصویر لگائی جس میں یہ دونوں خواتین پٹرول پمپ پر اپنی گاڑی میں تیل ڈال رہی ہیں جیسے یہ روز مرہ کی بات ہو تاہم تھوڑی دیر بعد انہیں پولیس نے روکا اور عزیزہ یوسف نے برطانوی نشریاتی ادارے کو بتایا کہ انہیں ایک پولیس سٹیشن لے جایا گیا ۔ ان دونوں خواتین سے کہا گیا کہ وہ ایک حلف نامے پر دستخط کریں جس میں لکھا تھا کہ وہ آئندہ کھبی گاڑی نہیں چلائیں گی۔ انعام النفجاں نے اس پر دستخط کرنے سے انکار کر دیا۔ ٹوئٹر پر انہوں نے لکھا تھا کہ اگر ان سے کہا گیا کہ وہ اپنے مرد سرپرست کو بلائیں تو وہ کہیں گی کہ وہ اپنی سرپرست خود ہیں۔ تاہم ان کے سرپرست جیسے محرم کہا جاتا ہے کو ان کی مرضی کے بغیر بلایا گیا۔ اس کے بعد دونوں خواتین کو رہا کر دیا گیا۔ انعام النفجاں نے اپنی ساتھی کو بہادر ترین اور جرات مند ترین ڈرائیور قرار دیا۔ اس واقعے سے دو روز قبل ہی عزیزہ یوسف اور ایک اور کارکن ہالہ الدوستری نے وزیر داخلہ شہزادہ محمد بن نائف سے ملاقات بھی کی تھی۔ شہزادہ محمد بن نائف کو ملک کے طاقتور ترین افراد میں گنا جاتا ہے اور انہیں مستقبل کا ممنکہ بادشاہ بھی تصور کیا جاتا ہے۔ کارکنوں کا کہنا تھا کہ شہزادہ نائف کے ساتھ ملاقات مثبت رہی۔ اس ملاقات سے سعودی عرب میں فوری طور پر بڑی تبدیلی کی امید نہیں کی جا رہی تھی۔ سعودی عرب میں اصلاحات ایک آہستہ ہونے والا عمل ہے اور بہت سے لوگ خواتین کے گاڑی چلانے پر پابندی کی ہٹانے کے حق میں نہیں ہیں۔ خواتین کے گاڑی چلانے کے حق کے لیے سعودی عرب میں چند ماہ پہلے ایک مہم شروع کی گئی تھی۔ اس سلسلے میں 26 اکتوبر کی تاریخ بطور خواتین کا دن رکھی گئی تھی جس روز سعودی مردوں کی مدد سے خواتین نے گاڑیاں لے کر سڑکوں پر آنا تھا۔ تاہم حکام نے واضح کیا تھا کہ وہ پابندی کی بڑے پیمانے پر خلاف ورزی کو برداشت نہیں کریں گے۔ اس دن سے مہم نے 31 نومبر کی فرضی تاریخ کو اپنی سرگرمیاں جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے جس کا مقصد یہ ظاہر کرنا ہے کہ یہ مہم اپنے مقصد کے مکمل ہونے تک جاری رہے گی۔
 

شمشاد

لائبریرین
اس دن سے مہم نے 31 نومبر کی فرضی تاریخ کو اپنی سرگرمیاں جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے جس کا مقصد یہ ظاہر کرنا ہے کہ یہ مہم اپنے مقصد کے مکمل ہونے تک جاری رہے گی۔

ظاہر ہے 31 نومبر نہ آج تک آئی ہے نہ آئے گی تو یہ فرضی ہی رہے گی۔

تاوقتیکہ کوئی نیا بادشاہ آئے جس کا نام نومبر سے ملتا جلتا ہو اور وہ اپنے مہینے کے دنوں میں ایک دن کا اضافہ کر دے۔
 

حسینی

محفلین
ویسے گاڑی چلانا کوئی "جرم" اور گناہ ہے؟؟ جس پر پکڑ دھکڑ ہو۔۔۔۔۔
اگر اسلامی احکام کی رعایت کرتے ہوئے خواتین ڈرائیونگ کرے تو کوئی اشکال نہیں ہونا چاہے۔
پھر ان خواتین ڈرائیورز کے بارے کیا حکم ہے جو خودکش حملے کے لیے گاڑی چلاتی ہیں۔
 

عمر سیف

محفلین
یہ بھی عام ہے سعودیہ میں کافی خواتین چلاتی ہیں گاڑیاں ۔۔ ایک دو پکڑی بھی جائیں تو کیا ہے ۔۔ کیا مردوں نے ہی ٹھیکہ لے رکھا ہے چلان یا پکڑے جانے کا ۔۔ ؟
 

عمر سیف

محفلین
ظاہر ہے 31 نومبر نہ آج تک آئی ہے نہ آئے گی تو یہ فرضی ہی رہے گی۔

تاوقتیکہ کوئی نیا بادشاہ آئے جس کا نام نومبر سے ملتا جلتا ہو اور وہ اپنے مہینے کے دنوں میں ایک دن کا اضافہ کر دے۔
پوائنٹ ۔۔۔ بڑا کیچ کیا آپ نے شمشاد بھائی ۔۔
 

شمشاد

لائبریرین
بہت ہیں عمر بھائی لیکن کچھ کو پولیس پکڑ لیتی ہے اور کچھ بچ بچا کر نکل جاتی ہیں۔
 

شمشاد

لائبریرین
یہاں پر یہی کام سعودی ڈرائیور کرتے ہیں۔ ان میں اکثر صرف گاڑی میں بیٹھ کر گاڑی چلانا جانتے ہیں۔ راستے کا یا سڑک کا جو حق ہوتا ہے اس کے متعلق بالکل صفر ہوتے ہیں۔
 

محب اردو

محفلین
ویسے گاڑی چلانا کوئی "جرم" اور گناہ ہے؟؟ جس پر پکڑ دھکڑ ہو۔۔۔ ۔۔
اگر اسلامی احکام کی رعایت کرتے ہوئے خواتین ڈرائیونگ کرے تو کوئی اشکال نہیں ہونا چاہے۔
پھر ان خواتین ڈرائیورز کے بارے کیا حکم ہے جو خودکش حملے کے لیے گاڑی چلاتی ہیں۔
اصل میں عورت کی ڈارئیونگ میں ایک بنیادی اشکال یہ ہے کہ
گاڑی کی ڈرائیونگ ہوتی ہے سفر کے لیے
جبکہ
شریعت کے مطابق عورت بغیر محرم سفر نہیں کرسکتی
اور اگر
محرم کو ساتھ لے کر ہی سفر کرنا ہے تو پھر عورت کو ڈرائیونگ کرنے کی ضرورت ہی کیا ہے ۔
سعودی عرب میں اس طرح کے احکامات علماء کی مشاورت سے صادر کیے جاتے ہیں اور علماء اس سلسلے میں کافی ’’ مصلحتیں ‘‘ اور ’’ خدشات ‘‘ ذکر کرنے کے بعد اسی نتیجے پر پہنچے ہیں کہ عورت کو اس کی اجازت نہیں ہونی چاہیے ۔ جیسا کہ قرآن مجید میں ہے و إثمہما أکبر من نفعہما ۔
 

زیک

مسافر
اصل میں عورت کی ڈارئیونگ میں ایک بنیادی اشکال یہ ہے کہ
گاڑی کی ڈرائیونگ ہوتی ہے سفر کے لیے
جبکہ
شریعت کے مطابق عورت بغیر محرم سفر نہیں کرسکتی
اور اگر
محرم کو ساتھ لے کر ہی سفر کرنا ہے تو پھر عورت کو ڈرائیونگ کرنے کی ضرورت ہی کیا ہے ۔
سعودی عرب میں اس طرح کے احکامات علماء کی مشاورت سے صادر کیے جاتے ہیں اور علماء اس سلسلے میں کافی ’’ مصلحتیں ‘‘ اور ’’ خدشات ‘‘ ذکر کرنے کے بعد اسی نتیجے پر پہنچے ہیں کہ عورت کو اس کی اجازت نہیں ہونی چاہیے ۔ جیسا کہ قرآن مجید میں ہے و إثمہما أکبر من نفعہما ۔
کیا گھر سے مارکیٹ یا سکول یا دفتر تک جانا سفر ہے؟ کیا سعودیہ نرالا اسلامی ملک ہے کہ صرف وہاں ہی خواتین کا گاڑی چلانا منع ہے؟
 
Top