سردار نقوی ::::: رنگ اِک آتا رہا چہرے پہ اِک جاتا رہا ::::: Sardar Naqvi

طارق شاہ نے 'پسندیدہ کلام' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏اکتوبر 23, 2015

  1. طارق شاہ

    طارق شاہ محفلین

    مراسلے:
    10,543
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Bookworm

    غزلِ
    سردار نقوی

    رنگ اِک آتا رہا چہرے پہ اِک جاتا رہا
    میں تو ماضی کو فقط آئینہ دِکھلاتا رہا

    دُھوم تھی جس کے تکّلم کی، وہی جانِ سُخن
    جب حدیثِ دِل کی بات آئی تو ہکلاتا رہا

    پیاس صحرا کے مُقدّر میں جو تھی، سو اب بھی ہے
    ابر برسا بھی تو، بس دریا کو چھلکاتا رہا

    بڑھ کے جو آغوش میں لے لے، کوئی ایسا بھی ہو
    جو شجر تھا راہ میں، بس ہاتھ پھیلاتا رہا

    رات پھر جلتا رہا تنہائیوں کی دُھوپ میں
    رات بھر زُلفوں کی چھاؤں کا خیال آتا رہا

    خلق پتّھرمارنے آئی تو وہ بھی ساتھ تھے
    میں خطائیں جن کی اپنے نام لِکھواتا رہا

    سردار نقوی
     
    آخری تدوین: ‏اکتوبر 23, 2015
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
    • زبردست زبردست × 1

اس صفحے کی تشہیر