سالانہ عالمی اردو مشاعرہ 2016 تبصرے

فاتح

لائبریرین
میرا اب درد کم نہیں ہوتا
پھر بھی چہرے پہ غم نہیں ہوتا
دل تو میرا اداس ہے لیکن
آنکھ میں میری نم نہیں ہوتا
درد سینے میں دفن رہتا ہے
ہاتھ میں جب قلم نہیں ہوتا
دل سے جو بات بھی نکلتی ہے
اثر اس کا عدم نہیں ہوتا
سلسلہ تیری آہ کا شاہین
اک ذرا بھی تو کم نہیں ہوتا
واہ واہ واہ بہت خوب عباس صوابین صاحب
 

ظہیراحمدظہیر

لائبریرین
واہ واہ خلیل بھائی ! کیا خوبصورت اشعار سے آغاز کیا ہے آ پ نے !!! جمعہ کے لئے نکل رہا تھا کلینک سے تو سوچا ایک نظر اور ڈالتا جاؤں ۔ بہت اچھی نعت اور کیا ہی اعلیٰ غزلیہ اشعار ہیں !!! تفصیلی داد ادھار رہی ۔ :) شام کو حاضری ہوگی ۔ اور گرہ آپ بہت ہی خوبصورت لگائی ہے ۔ مصرع طرح تقریباًً اُڑالیا آپ نے!!! بس اک ذرا شترگربہ کھٹک رہا ہے اس میں ۔ خیر مشاعرے کے انتظام کے ساتھ ساتھ آپ نے اتنے زبردوت اشعار بھی لکھ لئے یہ کمال ہے ۔ بہت داد وتحسین !!
 

فاتح

لائبریرین
منتظمین ذرا دھیرے دھیرے چلائیں مشاعرہ تا کہ لطف دیر پا ہو اور قارئین ہر شاعر کے کلام سے کما حقہ لطف اندوز ہوں۔
 
بہت خوب عباس بھائی۔ عمدہ کاوش ہے۔
میرا اب درد کم نہیں ہوتا
پھر بھی چہرے پہ غم نہیں ہوتا
دل تو میرا اداس ہے لیکن
آنکھ میں میری نم نہیں ہوتا
درد سینے میں دفن رہتا ہے
ہاتھ میں جب قلم نہیں ہوتا
دل سے جو بات بھی نکلتی ہے
اثر اس کا عدم نہیں ہوتا
سلسلہ تیری آہ کا شاہین
اک ذرا بھی تو کم نہیں ہوتا
 
جو کچھ بھی ملا ھے تیرے صدقے میں ملا ھے
کافی یهی نسبت ھے میرے پیارے محمد(ص)

احسنت، جزاک الله خیرالجزاء محترم محمد بلال اعظم صاحب۔۔۔۔۔داد ھی داد
 

نایاب

لائبریرین
جو کچھ بھی ملا ہے، ترےؐ صدقے میں ملا ہے
کافی یہی نسبت ہے میرے پیارے محمدﷺ

میری دریوزہ گری بھی مجھے اب راس نہیں
سو مرے کوزہ گرِ حرفِ دعا! جانے دے

یہ پارسا جو طریقت کی بات کرتے ہیں
یہ داغ داغ ہیں، اپنا بچاؤ چاہتے ہیں

یوں تو مسند پہ بھی اطوار نرالے تھے مگر
سرمدِ شعر کی سج دھج ہے سرِ دار جدا
واہہہہہہہہہہہہ
بہت خوب
بہت سی دعاؤں بھری داد
ڈھیروں دعائیں
 
میری دریوزہ گری بھی مجھے اب راس نہیں
سو مرے کوزہ گرِ حرفِ دعا! جانے دے
واہ ۔۔۔
لفظوں کا اجالا ہے جو تم دیکھ رہے ہو
خوشبو سی سماعت ہے، تمہیں کون بتائے
خوبصورت۔
کچھ مرے عہد کی قسمیں بھی جدا ٹھہری ہیں
کچھ مرے دوست، ترا وعدۂ ایثار جدا
کیا خوب ہے۔
تم نے اِس بار تخاطب ہی بدل ڈالا ہے
ورنہ یاروں سے ہوئے یار کئی بار جدا
آئے ہائے۔ زبردست
ایک حلقہ سا کھنچا ہے مرے چاروں جانب
پھر بھی دیوار سے ہے سایۂ دیوار جدا
خوب است۔
 
Top