زیرک کی پسندیدہ اردو نظمیں

زیرک نے 'پسندیدہ کلام' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏جنوری 26, 2019

  1. زیرک

    زیرک محفلین

    مراسلے:
    4,555
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Buzzed
    بہت گھٹن ہے

    بہت گھٹن ہے کوئی صورتِ بیاں نکلے
    اگر صدا نہ اٹھے، کم سے کم فغاں نکلے
    فقیرِ شہر کے تن پر لباس باقی ہے
    امیرِ شہر کے ارماں ابھی کہاں نکلے
    حقیقتیں ہیں سلامت تو خواب بہتیرے
    اداس کیوں ہو جو کچھ خواب رایگاں نکلے
    وہ فلسفے جو ہر اک آستاں کے دشمن تھے
    عمل میں آئے تو خود وقفِ آستاں نکلے
    ادھر بھی خاک اڑی ہے، ادھر بھی زخم پڑے
    جدھر سے ہو کے بہاروں کے کارواں نکلے
    ستم کے دور میں ہم اہلِ دل ہی کام آئے
    زباں پہ ناز تھا جن کو، وہ بے زباں نکلے

    ساحر لدھیانوی​
     
  2. زیرک

    زیرک محفلین

    مراسلے:
    4,555
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Buzzed
    ملبے پر لکھی گئی ایک نظم

    دیمک ہماری نیو میں اتر چکی تھی
    سو میں نے اسے بُلڈوزر چلانے کا اختیار دے دیا
    آج میں ملبے پر بیٹھی
    سوچ رہی ہوں
    ٹپکتی ہوئی چھت
    اور گرتی ہوئی دیواروں نے
    کتنے بھیڑیوں کو
    مجھ سے دور رکھا تھا

    پروین شاکر​
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  3. زیرک

    زیرک محفلین

    مراسلے:
    4,555
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Buzzed
    پیش کش

    اتنے اچھے موسم میں
    روٹھنا نہیں اچھا
    ہار جیت کی باتیں
    کل پہ ہم اٹھا رکھیں
    آج دوستی کر لیں

    پروین شاکر​
     
    آخری تدوین: ‏فروری 12, 2019
  4. زیرک

    زیرک محفلین

    مراسلے:
    4,555
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Buzzed
    مشورہ

    ہماری محبت کی کلینیکل موت واقع ہو چکی ہے
    معذرتوں اور عذر خواہیوں کا مصنوعی تنفس
    اسے کب تک زندہ رکھے گا
    بہتر یہی ہے
    کہ ہم منافقت کا پلگ نکال دیں
    اور ایک خوبصورت جذبے کو باوقار موت مرنے دیں

    پروین شاکر ​
     
  5. زیرک

    زیرک محفلین

    مراسلے:
    4,555
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Buzzed
    اے رنج بھری شام

    دہلیزِ سماعت پہ کسی وعدے کی آہٹ
    اترے کہ نہ اترے
    اے رنج بھری شام
    دُکھتے ہوئے دل پر
    کوئی آہستہ سے آ کر
    اِک حرفِ تسلی تو رکھے پھول کی مانند

    پروین شاکر​
     
  6. زیرک

    زیرک محفلین

    مراسلے:
    4,555
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Buzzed
    ترے پیار کا نام

    دل پہ جب ہوتی ہے یادوں کی سنہری بارش
    سارے بیتے ہوئے لمحوں کے کنول کھلتے ہیں
    پھیل جاتی ہے ترے حرفِ وفا کی خوشبو
    کوئی کہتا ہے مگر روح کی گہرائی سے
    "شدتِ تشنہ لبی بھی ہے ترے پیار کا نام"

    علی سردار جعفری​
     
  7. زیرک

    زیرک محفلین

    مراسلے:
    4,555
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Buzzed
    اقتباس از نظم "میرا سفر"

    اِک کالے سمندر کی تہ میں
    کلیوں کی طرح سے کھلتی ہوئی
    پھولوں کی طرح سے ہنستی ہوئی
    ساری شکلیں کھو جائیں گی
    خوں کی گردش، دل کی دھڑکن
    سب راگنیاں سو جائیں گی

    علی سردار جعفری ​
     
  8. زیرک

    زیرک محفلین

    مراسلے:
    4,555
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Buzzed
    میرے دروازے سے اب چاند کو رخصت کر دو
    ساتھ آیا ہے تمہارے جو تمہارے گھر سے
    اپنے ماتھے سے ہٹا دو یہ چمکتا ہوا تاج
    پھینک دو جسم سے کرنوں کا سنہرا زیور
    تم ہی تنہا مِرے غم خانے میں آ سکتی ہو
    ایک مدت سے تمہارے ہی لیے رکھا ہے
    میرے جلتے ہوئے سینے کا دہکتا ہوا چاند
    دلِ خوں گشتہ کا ہنستا ہوا خوش رنگ گلاب

    علی سردار جعفری​
     
  9. زیرک

    زیرک محفلین

    مراسلے:
    4,555
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Buzzed
    گفتگو بند نہ ہو
    بات سے بات چلے
    صبح تک شامِ ملاقات چلے
    وہ جو الفاظ کے ہاتھوں میں ہے سنگِ دشنام
    طنز چھلکائے تو چھلکایا کریں زہر کے جام
    تیکھی نظریں ہوں
    ترش ابروئے خمدار رہے
    بن پڑے جیسے بھی دل سینوں میں بیدار رہے
    بے بسی حرف کو زنجیرِ با پا کر نہ سکے
    کوئی قاتل ہو مگر قتلِ نوا کر نہ سکے
    صبح تک ڈھل کے کوئی حرفِ وفا آئے گا
    عشق آئے گا بصد لغزشِِ پا آئے گا
    نظریں جھک جائیں گی
    دل دھڑکیں گے
    لب کانپیں گے
    خاموشی بوسۂ لب بن کے بہک جائے گی
    صرف غنچوں کے چٹخنے کی صدا آئے گی
    اور پھر حرف و نوا کی نہ ضرورت ہو گی
    چشمِ ابرو کے اشاروں میں محبت ہو گی
    نفرت اٹھ جائے گی مہمان مروّت ہو گی
    ریزگاروں سے عداوت کے گزر جائیں گے
    خون کے دریا سے ہم پار نکل جائیں گے

    علی سردار جعفری ​
     
  10. زیرک

    زیرک محفلین

    مراسلے:
    4,555
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Buzzed
    خامشی
    دیر تک نہیں ٹوٹی
    جان لیوا بڑا تھا سناٹا
    میں نے گھبرا کے آئینہ دل کا
    ہاتھ سے پتھروں پہ پھینک دیا

    کنول حسین​
     
  11. زیرک

    زیرک محفلین

    مراسلے:
    4,555
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Buzzed
    تم

    بھوری آنکھوں میں دکھ نہیں سجتے
    یہ ستاروں کا استعارہ ہیں
    ان میں بس کہکشاں سجایا کرو
    تم، مِری جان! مسکرایا کرو

    کنول حسین​
     
  12. زیرک

    زیرک محفلین

    مراسلے:
    4,555
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Buzzed
    چار سُو ہیں سناٹے
    ہر طرف ہے ویرانی
    ذوقِ وصل کی اب تو
    خاک بھی نہیں باقی
    رہ گئی تھی اک خواہش
    میں نہ اس کو یاد آؤں
    ایک تھی خلش دل میں
    اس کو دُکھ نہ ہو کوئی
    اے عزیز اندیشے
    آ، گلے سے لپٹا لوں
    اس کے ساتھ تھا کوئی
    مسکرا رہا تھا وہ

    فہمیدہ ریاض​
     
  13. زیرک

    زیرک محفلین

    مراسلے:
    4,555
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Buzzed
    کب دور تلک دیکھا
    لرزاں تھی زمیں کس پل
    کب سُوئے فلک دیکھا
    کب دشت کی تنہائی
    آنکھوں میں اتر آئی
    کب وہم سماعت تھی
    کب کھو گئی گویائی
    کس موڑ پہ حیراں تھے
    کس راہ میں ویراں تھے
    اجمال حقیقت کے
    شاید نہ رقم ہوں گے
    اک دن جو بہم ہوں گے

    فہمیدہ ریاض​
     
  14. زیرک

    زیرک محفلین

    مراسلے:
    4,555
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Buzzed
    عام لڑکی

    وہ میرے ساتھ چلنا چاہتا تھا
    اسے منزل سے دلچسپی نہ تھی
    وہ میرے دل کے
    صحرائے محبت میں
    سیاح بن کر
    چاہتوں کی وصل راہوں پر
    گھڑی بھر چہل قدمی کرکے
    لوٹ جانا چاہتا تھا
    مگر میری یہ خواہش تھی
    وہ میرے دشتِ دل کے
    کسی ویران گوشے میں
    کوئی خیمہ لگا لے،اور
    کبھی نہ لوٹ کر جائے
    میری یہ بات سن کر
    وہ ہنس کے بولا تھا
    کہ”تم بھی عام لڑکی ہو“

    فرزانہ ناز​
     
  15. زیرک

    زیرک محفلین

    مراسلے:
    4,555
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Buzzed
    گریز

    کس قدر عجیب ہے
    دیکھتا نہیں مجھ کو
    بولتا نہیں مجھ سے
    میں جو بات کرتی ہوں
    ان سنی سی کرتا ہے
    دور دور رہتا ہے
    جانے کس سے ڈرتا ہے
    بے خبر ہے وہ لیکن
    یوں گریز کرنے سے
    راستے بدلنے سے
    کون دل سے نکلا ہے

    فرزانہ ناز​
     
  16. زیرک

    زیرک محفلین

    مراسلے:
    4,555
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Buzzed
    میں
    تمام نوعِ انسانی کو
    ایک خاندان سمجھتا ہوں
    اور دیکھنا چاہتا ہوں
    وطنیت کے اس ناپاک تخیل کو
    جو
    خود غرضی
    تنگ نظری
    منافرت
    اور ابنِ آدم کی تقسیم چاہتا ہے
    انتہائی حقارت کی نگاہ سے دیکھتا ہوں
    لیکن
    اس قدر وطنیت میرا ایماں ضرور ہے
    کہ
    اپنے گھر کو
    غاصبوں کی درندگی سے محفوظ رکھا جائے

    جوش ملیح آبادی​
     
  17. زیرک

    زیرک محفلین

    مراسلے:
    4,555
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Buzzed
    دستک

    دل اٹھو نا
    دیکھو نا
    عشق نے دستک دی ہے
    یا پھر
    موت کھڑی دروازے پر؟

    نوشی گیلانی​
     
  18. زیرک

    زیرک محفلین

    مراسلے:
    4,555
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Buzzed
    شکوہ

    عجیب ہے یہ کمالِ قدرت
    کہ عہدِ بے اختیار آیا
    کسی کے حصے میں رزق آیا
    کسی کے حصے میں
    رزق کا انتظار آیا

    نوشی گیلانی​
     
  19. زیرک

    زیرک محفلین

    مراسلے:
    4,555
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Buzzed
    محبت کا دن

    اسی ڈھلتے ہوئے دن کی منڈیروں پر
    چراغِ شام جلتا ہے
    تو دستِ مہرباں جیسے
    مِرے آنچل کے کونے سے، وفا کا
    ایک لمحہ باندھ دیتا ہے
    مِرے صحنِ ہنر میں حرف و معنی کی
    تلاوت سانس لیتی ہے
    کوئی روشن ستارہ آسماں پہ مسکراتا ہے
    سمندرگیت گاتا ہے
    کوئی چپکے سے کہتا ہے
    ''مجھےتم سے محبت ہے''

    نوشی گیلانی​
     
  20. زیرک

    زیرک محفلین

    مراسلے:
    4,555
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Buzzed
    سائیں

    سائیں تُو اپنی چِلم سے
    تھوڑی سی آگ دے دے
    میں تیری اگر بتی ہوں
    اور تیری درگاہ پر مجھے
    ایک گھڑی جلنا ہے

    امرتا پریتم​
     

اس صفحے کی تشہیر