1. احباب کو اردو ویب کے سالانہ اخراجات کی مد میں تعاون کی دعوت دی جاتی ہے۔ مزید تفصیلات ملاحظہ فرمائیں!

    ہدف: $500
    $453.00
    اعلان ختم کریں

زیرک کی پسندیدہ اردو نظمیں

زیرک نے 'پسندیدہ کلام' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏جنوری 26, 2019

  1. زیرک

    زیرک محفلین

    مراسلے:
    2,898
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Buzzed
    دوستو آج ایک نیا دھاگہ شروع کر رہا ہوں، کس میں اردو کے نئے اور قدیمم شعراء کی اردو نظمیں آپ سے بانٹنے کا دل کر رہا ہے، امید کرتا ہوں کہ آپ احباب کو یہ نیا سلسلہ پسند آئے گا۔
    گیت

    جلنے لگیں یادوں کی چتائیں
    آؤ کوئی بَیت بنائیں
    جن کی رہ تکتے تکتے جُگ بیِتے
    چاہے وہ آئیں یا نہیں آئیں
    آنکھیں مُوند کے نِت پل دیکھیں
    آنکھوں میں ان کی پرچھائیں
    اپنے دردوں کا مُکٹ پہن کر
    بے دردوں کے سامنے جائیں
    جب رونا آوے مسکائیں
    جب دل ٹوٹے دِیپ جلائیں
    پریم کتھا کا انت نہ کوئی
    کتنی بار اسے دھرائیں
    پرِیت کی رِیت انوکھی ساجن
    کچھ نہیں مانگیں، سب کچھ پائیں
    فیض ان سے کیا بات چھپی ہے
    ہم کچھ کہہ کر کیوں پچھتائیں

    فیض احمد فیض​
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
  2. زیرک

    زیرک محفلین

    مراسلے:
    2,898
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Buzzed
    یاد

    دشتِ تنہائی میں، اے جانِ جہاں، لرزاں ہیں
    تیری آواز کے سائے، ترے ہونٹوں کے سراب
    دشتِ تنہائی میں، دوری کے خس و خاک تلے
    کھل رہے ہیں، ترے پہلو کے سمن اور گلاب

    اٹھ رہی ہے کہیں قربت سے تری سانس کی آنچ
    اپنی خوشبو میں سلگتی ہوئی مدھم مدھم
    دورافق پار چمکتی ہوئی قطرہ قطرہ
    گر رہی ہے تری دلدار نظر کی شبنم

    اس قدر پیار سے، اے جانِ جہاں، رکھا ہے
    دل کے رخسار پہ اس وقت تری یاد نے ہات
    یوں گماں ہوتا ہے، گرچہ ہے ابھی صبحِ فراق
    ڈھل گیا ہجر کا دن آ بھی گئی وصل کی رات

    فیض احمد فیض​
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  3. زیرک

    زیرک محفلین

    مراسلے:
    2,898
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Buzzed
    بول

    بول، کہ لب آزاد ہیں تیرے
    بول، زباں اب تک تیری ہے
    تیرا ستواں جسم ہے تیرا
    بول کہ جاں اب تک تیری ہے
    دیکھ کہ آہن گر کی دکاں میں
    تند ہیں شعلے، سرخ ہے آہن
    کھلنے لگے قفلوں کے دہانے
    پھیلا ہر اک زنجیر کا دامن
    بول، یہ تھوڑا وقت بہت ہے
    جسم و زباں کی موت سےپہلے
    بول، کہ سچ زندہ ہے اب تک
    بول، جو کچھ کہنا ہے کہہ لے

    فیض احمد فیض​
     
  4. زیرک

    زیرک محفلین

    مراسلے:
    2,898
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Buzzed
    شامِ غربت

    دشت میں سوختہ سامانوں پہ رات آئی ہے
    غم کے سنسان بیابانوں پہ رات آئی ہے
    نورِ عرفان کے دیوانوں پہ رات آئی ہے
    شمعِ ایمان کے پروانوں پہ رات آئی ہے
    بیت شببر پہ ظلمت کی گھٹا چھائی ہے
    درد سا درد ہے تنہائی سی تنہائی ہے
    ایسی تنہائی کہ پیارے نہیں دیکھے جاتے
    آنکھ سے آنکھ کے تارے نہیں دیکھے جاتے
    درد سے درد کے مارے نہیں دیکھے جاتے
    ضعف سے چاند ستارے نہیں دیکھے جاتے
    ایسا سنّاٹا کہ شمشانوں کی یاد آتی ہے
    دل دھڑکنے کی بہت دور صدا جاتی ہے

    فیض احمد فیض​
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  5. زیرک

    زیرک محفلین

    مراسلے:
    2,898
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Buzzed
    شہرِ برباد میں

    شہرِ برباد میں
    ایک وحشت کھڑی ہے ہر اک موڑ پر
    گرد ناکامیِ عمر کی کوئی سوغات لے کر
    ہمارے دلوں کی اداسی
    یونہی بے سبب تو نہ تھی
    تم نے سمجھا جو ہوتا کسی آرزو کے شکستہ دریچے کی اجڑی ہوئی
    داستاں کو کبھی
    ہم کو مدت ہوئی
    راستہ راستہ
    خار و خس کی طرح
    گردشیں کاٹتے
    اس سے بڑھ کر بھی ہو گا کوئی خواب صد چاک
    ظلمت کا مارا ہوا
    کیا دکھوں کی یہ ساری کہانی بھلا خواب ہے؟
    ہم تو باز آئے
    ایسی کسی خوش گمانی
    یا امید سے
    خوش گمانی میں ہم تو
    اذیت کی ساری فصیلوں کو چھو آئے
    صدیوں کی ساری اداسی کو
    لمحوں میں ہم نے سمیٹا
    مگر
    اب بھی وحشت کھڑی ہے
    ہر اک موڑ پر
    گرد ناکامیِ عمر کی کوئی سوغات لے کر
    مسافت کے مارے دلوں کے لیے

    عدیم ہاشمی​
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  6. زیرک

    زیرک محفلین

    مراسلے:
    2,898
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Buzzed
    انجان پن

    لیے پھرو تم ہم کو جہاں بھی لیے پھرو
    ہم دکھیارے
    ہم بنجارے
    درد کے مارے
    گلی گلی کی خاک پہن کر
    صدا لگائیں
    لیے پھرو تم ہم کو جہاں بھی لیے پھرو
    بستی بستی کرب کے مارے موسم کا سندیس
    ہر بستی کی ایک کہانی
    ہر نگری کا اپنا روگ
    ہر اک روگ ،کہانی، موسم
    سب کا ایک وجود
    اس بستی سے اس بستی تک
    بچھی ہوئی ہے
    لمبی کالی رات
    کیسی کیسی گھات
    تنہا اپنی ذات
    جانے کس کے ہاتھ لکھی ہے
    جیون کی سوغات

    عدیم ہاشمی​
     
  7. زیرک

    زیرک محفلین

    مراسلے:
    2,898
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Buzzed
    بے کلی

    سمے کی بے کلی بڑھنے لگی ہے
    لہو میں درد پیچ و تاب کھاتا ہے
    کواڑوں پر اگی خاموشیوں کے لب کھلے ہیں
    اور درختوں پر جمی شاموں میں کوئی مضطرب کروٹ بدلتا ہے
    بڑی مدت سے بچھڑی آرزو
    پردیس سے واپس سیہ ملبوس اوڑھے لوٹ آئی ہے
    پرانے راستے پھر سے ہمارا دل مسلتے ہیں
    نگاہیں آس سے اکثر گلے لگ لگ کے روتی ہیں
    اور اب تو خواب بھی ہم سے گریزاں ہیں
    سمے کی بے کلی بڑھنے لگی ہے
    دل پریشاں ہے

    عدیم ہاشمی​
     
  8. زیرک

    زیرک محفلین

    مراسلے:
    2,898
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Buzzed
    پُتلی گھر

    وفا کی پُتلیو
    میں نارسائی کے کڑے رستوں میں ہوں
    جن پر روپہلی اور چمکتی دھوپ بھی تلوار لگتی ہے
    کبھی تم اُن ستاروں کی طرح آنکھوں میں چُبھتی ہو
    کہ جن کی روشنی میرے لیے اُس نارسائی کی عبادت ہے
    جسے شامِ ازل کی سرمئی کرنوں نے پہلی بار میرے
    زرد ماتھے پر لکھا تھا
    (اور میں آئینے میں اس نوحے کو اب تک پڑھ رہا ہوں)
    کہ میں یہ جانتا ہوں
    جو ستارے رات بھر میرے تصور کی سنہری وادیوں کو جگمگاتے ہیں
    وہ ہاتھوں میں اُتر آئیں تو آب و تاب کھو دیتے ہیں
    یا پھر ہاتھ ان کی نیلگوں حِدّت سے جل اُٹھتے ہیں
    اور میں جانتا ہوں
    اپنے ہاتھوں میں ابھی وہ انجذابی کیفیت مفقود ہے
    جس کو ستارے ڈھونڈتے ہیں

    وفا کی پُتلیو
    کبھی تم خار زاروں کی طرح دامن پکڑ لیتی ہو
    اور ہم سنگدل
    بیگانۂ مہر و وفا آوارگی کے آشنا
    روشن سرابوں کے گدا
    دل کے خدا بن کے تمہیں پامال کرتے ہیں
    کہ جب دامن میں کلیاں ہوں
    تو خوشبوؤں کی مقناطیسیت فطرت سے بے بہرہ بنانے کی
    سعی کرتی ہے
    اور کہتی ہے
    کلیاں بے ثباتی کی علامت ہیں
    جہانِ رنگ و بو میں رنگ فانی ہے
    فقط خوشبو ہے اور تم ہو

    وفا کی پُتلیو
    کبھی تم ادھ کھِلے جُوہی کے پھولوں کی طرح آنکھوں میں
    رنگِ رخ سمیٹے کانپتی ڈرتی لرزتی دل کے ایوانوں میں
    خوابوں کے مدھر رستوں سے در آتی ہو
    ہم درد آشنا (شاید وفا نا آشنا)
    اپنے سبھی جذبوں سبھی خوابوں کو اس اِک دھیمی دھیمی
    مسکراہٹ پر نچھاور کر دیا کرتے ہیں
    جو شاید تمہارے رنگِ رخ کا ایک حصہ ہو
    مگر اپنے لیے روشن سرابوں کا اجالا ہے

    خالد شریف​
     
  9. زیرک

    زیرک محفلین

    مراسلے:
    2,898
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Buzzed
    رابن ROBIN

    میں تم سے بیس برس پیچھے تھا رابن
    ورنہ ہم دونوں مِل جاتے
    سمجھ نہ پایا میں تم کیا ہو
    سُندر سُندر پنکھوں والی
    نیلی چڑیا
    آنکھوں میں اِک حیرت
    کہ یہ شخص مجھے کیوں سمجھ نہ پایا
    سمجھ نہ پائیں تم میں کیا ہوں
    اِک دیہات کا باسی
    جس نے پہلی بار قدم رکھا تھا
    ایسے شہر میں جو اس شخص سے بیس برس آگے چلتا تھا
    جِس نے پہلی بار لبرٹی کا رستہ دریافت کیا تھا
    صرف تمہارے گھر جانے کو
    (اس رستے سے روز نجانے کتنی بار گزرتا ہوں اب)
    کچھ دن حیرت کے عالم میں
    دیکھا اِک دُوجے کو ہم نے
    پھر میں نے سوچا میں میں ہوں
    پھر تم نے سوچا تم تم ہو
    حالانکہ دونوں ہی غلط تھے
    ورنہ ہم دونوں مِل جاتے

    خالد شریف​
     
  10. زیرک

    زیرک محفلین

    مراسلے:
    2,898
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Buzzed
    سردیوں کی دھوپ

    ابھی کچھ روز پہلے
    سردیوں کی دھوپ میں
    بیٹھے ہوئے اس نے کہا تھا
    زندگی کتنی حسیں ہے
    پھول کتنے خوبصورت ہیں
    پرندوں کی اڑانیں کتنی سُندر ہیں
    اور ساتھی من کو بھا جائے
    تو جینے کا بہانہ مل ہی جاتا ہے
    آج بھی ویسی سنہری دھوپ ہے
    لیکن پرندے سر بہ زانوں
    زندگی خاموش ہے
    اور پھول مرجھائے ہوئے ہیں

    خالد شریف​
     
  11. زیرک

    زیرک محفلین

    مراسلے:
    2,898
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Buzzed
    ٹیک اِٹ ایزی
    (TAKE IT EASY)

    تم نے ملنا ہے ملو
    ورنہ بچھڑ جاؤ اب
    یہ جو تلوار سی سر پر ہے ہٹا دو اس کو
    دکھ تو مجھ کو بھی بہت ہو گا کہ یکجان تھے ہم
    اور کچھ روز ذرا تم بھی افسردہ ہو گی
    پر یہ تلوار سی سر پر جو ہے ہٹ جائے گی
    زندگی پھر کسی پہلو سے پلٹ آئے گی
    جیتے جی ایسے تو مرنے کا نہ سامان کرو
    ایسی باتیں نہ مِری جان کرو
    زیست آسان کرو

    خالد شریف​
     
  12. زیرک

    زیرک محفلین

    مراسلے:
    2,898
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Buzzed
    اشارہ

    جب ملگجی شام ہو
    اور دھندلی دھندلی بوندوں کی چادر
    چاروں اور محیط ہو
    اور تم گاڑی کی اگلی سیٹ پر
    اپنے ساتھی کے قرب کی مہک
    اور شام کے دلکش منظر سے اس درجہ مسرور ہو
    کہ تمہارے پاس اظہار کے لیے لفظ باقی نہ رہیں
    جب زیرِ لب کوئی اچھا سا خوبصورت سا شعر پڑھنا
    اور خالی نگاہوں سے
    اپنے ساتھی کی طرف دیکھ کر
    مسکرا دینا
    فطرت کا یہ معصوم اشارہ
    خود بخود مجھ تک پہنچ جائے گا
    اور نہ پہنچے بھی تو کیا

    خالد شریف​
     
  13. زیرک

    زیرک محفلین

    مراسلے:
    2,898
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Buzzed
    تُو

    وہاں، جس جگہ پر صدا سو گئی ہے
    ہر اک سمت اونچے درختوں کے جھنڈ
    ان گنت سانس روکے ہوئے کھڑے ہیں
    جہاں ابر آلود شام اڑتے لمحوں کو روکے ابد بن گئی ہے
    وہاں عشق پیچاں کی بیلوں میں لِپٹا ہوا اک مکاں ہو
    اگر میں کبھی راہ چلتے ہوئے اس مکاں کے دریچوں کے
    نیچے سے گزروں
    تو اپنی نگاہوں میں اک آنے والے مسافر کی
    دھندلی تمنا لیے تُو کھڑی ہو

    منیر نیازی​
     
  14. زیرک

    زیرک محفلین

    مراسلے:
    2,898
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Buzzed
    حقیقت

    نہ تُو حقیقت ہے اور نہ میں ہوں
    نہ تیری مری وفا کے قصے
    نہ برکھا رُت کی سیاہ راتوں میں
    راستہ بھول کر بھٹکتی ہوئی سجل ناریوں کے جھرمٹ
    نہ اجڑے نگروں میں خاک اڑاتے
    فسردہ دل پریمیوں کے نوحے
    اگر حقیقت ہے کچھ تو یہ ایک ہوا کا جھونکا
    جو ابتدا سے سفر میں ہے
    اور جو انتہا تک سفر میں رہے گا

    منیر نیازی​
     
  15. زیرک

    زیرک محفلین

    مراسلے:
    2,898
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Buzzed
    آتما کا روگ

    شراپ دے کے جا چکے ہیں سخت دل مہاتما
    سمے کی قید گاہ میں بھٹک رہی ہے آتما
    کہیں سلونے شیام ہیں نہ گوپیوں کا پھاگ ہے
    نہ پائلوں کا شور ہے نہ بانسری کا راگ ہے
    بس ان اکیلی رادھِکا ہے اور دکھ کی آگ ہے

    ڈراؤنی صداؤں سے بھری ہیں رات کی گپھائیں
    اداس ہو کے سن رہی ہیں دیوتاؤں کی کتھائیں
    بہت پرانے مندروں میں رہنے والی اپسرائیں
    ہوئیں ہوائیں تیز تر بڑھی بنوں کی سائیں سائیں

    منیر نیازی
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  16. زیرک

    زیرک محفلین

    مراسلے:
    2,898
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Buzzed
    اپدیش

    جگمگ جگمگ کرتی آنکھیں ہیرے جیسے گال
    جادو ہے ہونٹوں میں اس کے بجلی جیسی چال
    اس کی حنائی مٹھی میں ہے عطر بھرا رومال
    جس کی مہک سے شہر بنا ہے خوشبوؤں کا جال
    جو اس سارے جگ میں نہیں ہے اس کی چاہ میں مرنا
    یہ تو پاگل پن ہے لوگو، ایسا کبھی نہ کرنا

    منیر نیازی​
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  17. زیرک

    زیرک محفلین

    مراسلے:
    2,898
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Buzzed
    پرِزم

    پانی کے اک قطرے میں
    جب سورج اترے
    رنگوں کی تصویر بنے
    دھنک کی ساتوں قوسیں
    اپنی بانہیں یوں پھیلائیں
    قطرے کے ننھے سے بدن میں
    رنگوں کی دنیا کھِنچ آئے
    میرا بھی اِک سورج ہے
    جو میرا تَن چھو کر مجھ میں
    قوسِ قزح کے پھول اگائے
    ذرا بھی اس نے زاویہ بدلا
    اور میں ہو گئی
    پانی کا اِک سادہ قطرہ
    بے منظر، بے رنگ

    پروین شاکر​
     
  18. زیرک

    زیرک محفلین

    مراسلے:
    2,898
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Buzzed
    نئی آنکھ کا پرانا خواب

    آتش دان کے پاس
    گلابی حِدت کے ہالے میں سمٹ کر
    تجھ سے باتیں کرتے ہوئے
    کبھی کبھی تو ایسا لگا ہے
    جیسے اوس میں بھیگی گھاس پہ
    اس کے بازو تھامے ہوئے
    میں پھر نیند میں چلنے لگی ہوں

    پروین شاکر​
     
  19. زیرک

    زیرک محفلین

    مراسلے:
    2,898
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Buzzed
    کنگن بیلے کا

    اس نے میرے ہاتھ میں باندھا
    اجلا کنگن بیلے کا
    پہلے پیار سے تھامی کلائی
    بعد اس کے ہولے ہولے پہنایا
    گہنا پھولوں کا
    پھر جھک کر ہاتھ کو چوم لیا
    پھول تو آخر پھول ہی تھے
    مرجھا ہی گئے
    لیکن میری راتیں ان کی خوشبو سے اب تک روشن ہیں
    بانہوں پر وہ لمس ابھی تک تازہ ہے
    (اک صنوبر پر اِک چاند دمکتا ہے)
    پھول کا کنگن
    پیار کا بندھن
    اب تک میری یاد کے ہاتھ سے لپٹا ہوا ہے

    پروین شاکر​
     
  20. زیرک

    زیرک محفلین

    مراسلے:
    2,898
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Buzzed
    بلاوا

    میں نے ساری عمر
    کسی مندر میں قدم نہیں رکھا
    لیکن جب سے
    تیری دعا میں
    میرا نام شریک ہوا ہے
    تیرے ہونٹوں کی جنبش پر
    میرے اندر کی اداسی کے اجلے تن میں
    گھنٹیاں بجتی رہتی ہیں

    پروین شاکر​
     

اس صفحے کی تشہیر