زیرک کی پسندیدہ اردو نظمیں

زیرک نے 'پسندیدہ کلام' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏جنوری 26, 2019

  1. زیرک

    زیرک محفلین

    مراسلے:
    4,555
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Buzzed
    وہم

    وہ نہیں ہے
    تو اس کی چاہت میں
    کس لیے
    رات دن سنورتے ہو
    خود سے بے ربط باتیں کرتے ہو
    اپنا ہی عکس نوچنے کے لیے
    خود الجھتے ہو، خود سے ڈرتے ہو
    ہم نہ کہتے تھے
    ہجر والوں سے، آئینہ گفتگو نہیں کرتا

    محسن نقوی​
     
  2. زیرک

    زیرک محفلین

    مراسلے:
    4,555
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Buzzed
    تھی سے ہے تک

    کہا میں نے
    مجھے تم سے محبت ہے
    مگر تم نے سہولت سے کہا ہنس کر
    ذرا تم "ہے" بدل ڈالو
    لکھو کہ"تھی"
    صحیح مصرع لکھو جاناں
    تمہیں مجھ سے محبت تھی، تمہیں مجھ سے محبت تھی
    ٭
    سنو ، جذبے کبھی بھی اس قدر مہمل نہیں ہوتے
    یہ جذبے گو کبھی ندی کی صورت میں
    کبھی دریا کی طغیانی سے ہوتے ہیں
    مگر یہ اس قدر ارزاں نہیں ہوتے
    ٭
    یہ "ہے" ہوتے ہیں جس لمحے، فقط اثبات ہوتے ہیں
    اگر یہ "تھا" کا معنی بن گئے تو پھر کبھی بھی حال کا صیغہ نہیں بنتے
    مگر تم کیسے سمجھو گے،مگر تم کیسے جانو گے؟
    یہ سب جذبوں کی باتیں ہیں
    عجب جذبوں کی باتیں ہیں

    محسن نقوی​
     
  3. زیرک

    زیرک محفلین

    مراسلے:
    4,555
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Buzzed
    الوداع

    الوداع
    شامِ غم کی دُکھن، الوداع
    موسمِ ہجر کی بے ارادہ چُبھن
    الوداع
    دل میں کھلتے ہوئے
    خواہشوں کے چمن
    لب جلاتے ہوئے
    ہجرتوں کے سخن
    نفرتوں کی گُھٹن
    الوداع
    ٭
    دل پہ چھائی ہوئی
    دُکھ کی سورج گرہن
    الوداع
    الوداع
    فکر گور و کفن
    الوداع
    دل نے مجھ سے کہا
    ساعت فرق ہے
    جانِ من الوداع

    محسن نقوی​
     
  4. زیرک

    زیرک محفلین

    مراسلے:
    4,555
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Buzzed
    اب سو جاؤ

    کیوں رات کی ریت پہ بکھرے ہوئے
    تاروں کے کنکر چنتی ہو
    کیوں سناٹے کی سلوٹ میں
    لپٹی آوازیں سنتی ہو
    کیوں اپنی پیاسی پلکوں کی جھالر میں
    خواب پروتی ہو
    ٭
    اب کون تمہاری آنکھوں میں
    صدیوں کی نیند انڈیلے گا؟
    اب کون تمہاری چاہت کی
    ہریالی میں کھل کھیلے گا؟
    اب کون تمہاری تنہائی کا
    اندیکھا دکھ جھیلے گا؟
    ٭
    اب ایسا ہے
    یہ رات مسلط ہے جب تک
    یہ شمعیں جب تک جلتیں ہیں
    یہ زخم جہاں تک چبھتے ہیں
    یہ سانسیں جب تک چلتی ہیں
    تم اپنی سوچ کے جنگل میں
    رَہ بھٹکو اور پھر کھو جاؤ
    اب سو جاؤ

    محسن نقوی​
     
  5. زیرک

    زیرک محفلین

    مراسلے:
    4,555
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Buzzed
    کاش اک بار

    رات چپ چاپ دبے پاؤں چلی جاتی ہے
    صرف خاموش ہے، روتی نہیں، ہنستی بھی نہیں
    کانچ کا نیلا سا گنبد بھی اڑا جاتا ہے
    خالی خالی کوئی بجرا سا بہا جاتا ہے
    چاند کی کرنوں میں وہ روز سا ریشم بھی نہیں
    چاند کی چکنی ڈلی ہے کہ گھلی جاتی ہے
    اور سناٹوں کی اِک دھول اڑی جاری ہے
    کاش اِک بار کبھی نیند سے اٹھ کر تم بھی
    ہجر کی راتوں میں یہ دیکھو تو کیا ہوتا ہے

    گلزار​
     
  6. زیرک

    زیرک محفلین

    مراسلے:
    4,555
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Buzzed
    کسی موسم کا جھونکا تھا
    جو اس دیوار پر لٹکی ہوئی تصویر تِرچھی کر گیا
    گئے ساون میں یہ دیواریں یوں سیلی نہیں تھیں
    نہ جانے اس دفعہ کیوں ان میں سیلن آگئی ہے
    دراڑ پڑ گئی ہے اور سیلن اس طرح بہتی ہے
    جسے خشک رخساروں پہ گیلے آنسو چلتے ہیں
    یہ بارش گنگناتی تھی
    اسی چھت کی منڈیروں پر یہ بارش
    گنگناتی تھی
    اسی چھت کی منڈیروں پر
    یہ گھر کی کھڑکیوں کے کانچ پر
    انگلی سے لکھ جاتی تھی
    سندیسے
    بلکتی رہتی ہے بیٹھی ہوئی اب بند
    روشندانوں کے پیچھے
    دوپہریں ایسی لگتی ہیں
    بِنا مہروں کے خالی خانے رکھے ہیں
    نہ کوئی کھیلنے والا ہے بازی
    نہ کوئی چال چلتا ہے
    دن ہوتا ہے نہ اب رات ہوتی ہے
    سبھی کچھ رک گیا ہے
    وہ کیا موسم کا جھونکا تھا
    جو اس دیوار پر لٹکی ہوئی تصویر تِرچھی کر گیا

    گلزار​
     
  7. زیرک

    زیرک محفلین

    مراسلے:
    4,555
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Buzzed
    بوچھاڑ

    میں کچھ کچھ بھولتا جاتا ہوں اب تجھ کو
    ترا چہرہ بھی دھندلانے لگا ہے اب تخیل میں
    بدلنے لگ گیا ہے اب وہ صبح و شام کا معمول جس میں
    تجھ سے ملنے کا بھی اک معمول شامل تھا
    تیرے خط آتے رہتے تھے تو مجھ کو یاد رہتے تھے تری آواز کے سُر بھی
    تری آواز کو کاغذ پہ رکھ کے، میں نے چاہا تھا کہ "پِن" کر لوں
    و ہ جیسے تتلیوں کے پر لگا لیتا ہے کوئی اپنی البم میں
    ترا "ب" کو دبا کر بات کرنا "واؤ" پر ہونٹوں کا چھلّا گول
    ہو کر گھوم جاتا تھا
    بہت دن ہو گئے دِکھا نہیں، نہ خط ملا کوئی
    بہت دن ہو گئے سچی
    تری آواز کی بوچھاڑ میں بھیگا نہیں ہوں میں

    گلزار​
     
  8. زیرک

    زیرک محفلین

    مراسلے:
    4,555
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Buzzed
    اب خانم کی فکر نہ کرنا ابو تم

    اب خانم کی فکر نہ کرنا ابو تم
    نیند کی گولیاں بند کر دی ہیں
    تلخ دوائیاں ختم ہوئیں
    ٭
    وہ جو رات کو ڈرتی تھی نا
    آسماں پر اڑتے تمبو دیکھتی تھی
    دیوار پکڑ کے کہتی تھی وہ
    ’روکو، روکو، گھر چلتا ہے‘
    ہول نہیں پڑتے اب اس کو
    ایک ٹینک اچانک گھر میں گھس آیا تھا
    جمعرات کے دن، تھوڑی سی، جو بھی ملی، دفنا آئے ہم
    ٭
    اب خانم کی فکر نہ کرنا ابو تم

    گلزار​
     
  9. زیرک

    زیرک محفلین

    مراسلے:
    4,555
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Buzzed
    رات

    مِری دہلیز پر بیٹھی ہوئی زانوں پہ سر رکھے
    یہ شب افسوس کرنے آئی ہے کہ میرے گھر پہ
    آج ہی جو مر گیا ہے دن
    وہ دن ہمزاد تھا اس کا
    وہ آئی ہے کہ میرے گھر میں اس کو دفن کر کے
    ایک دِیا دہلیز پر رکھ کر
    نشانی چھوڑ دے کہ محو ہے یہ قبر
    اس میں دوسرا آ کر نہیں لیٹے
    میں شب کو کیسے بتلاؤں
    بہت دن مرے آنگن میں یوں آدھے ادھورے سے
    کفن اوڑھے پڑے ہیں کتنے سالوں سے
    جنہیں میں آج تک دفنا نہیں پایا

    گلزار​
     
  10. زیرک

    زیرک محفلین

    مراسلے:
    4,555
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Buzzed
    اے صبح کے ستارے
    ڈوبیں گے ساتھ تیرے
    کچھ لوگ غم کے مارے
    اے صبح کے ستارے
    ٭
    بھولے ہوئے منظر، آنکھوں میں تیرتے ہیں
    کچھ عکس دوستی کے، سانسوں میں پھیلتے ہیں
    خوابوں میں ڈولتے ہیں
    کچھ نقش بے سہارے
    اے صبح کے ستارے
    ٭
    ہر راہ ڈھونڈتی ہے، گزرے مسافروں کو
    لمحے ترس رہے ہیں، مانوس آہٹوں کو
    ہم اور سجن ہیں جیسے
    دریا کے دو کنارے
    اے صبح کے ستارے
    ڈوبیں گے ساتھ تیرے
    کچھ لوگ غم کے مارے

    امجد اسلام امجد​
     
  11. زیرک

    زیرک محفلین

    مراسلے:
    4,555
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Buzzed
    گزرتے لمحوں

    مجھے بتاؤ زندگی کا اصول کیا ہے
    تمام ہاتھوں میں آئینے ہیں
    کون کس سے چھپتا ہے
    اگر صدا کا وجود کانوں سے منسلک ہے
    تو کون خوشبو بن کر بولتا ہے
    اگر سمندر کی حد ساحل ہے
    تو کون آنکھوں میں پھیلتا ہے
    تمام چیزیں اگر ملتی ہیں
    تو کون چیزوں سے ماورا ہے
    کِسے خبر ، بدلتی رت نے پرانے پتوں سے کیا کہا
    یہ کون بادل سے پوچھے کہ اتنے سال کہاں رہا
    یہ جو آج دیکھا ہے وہ کل نہ ہو گا
    کوئی لمحہ اٹل نہ ہو گا
    گزرتے ہوئے لمحو
    مجھے بتاؤ زندگی کا اصول کیا ہے

    امجد اسلام امجد
     
  12. زیرک

    زیرک محفلین

    مراسلے:
    4,555
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Buzzed
    چشمِ بے خواب کو سامان بہت

    رات بھر شہر کی گلیوں میں ہوا
    ہاتھ میں سنگ لیے
    خوف سے زرد مکانوں کے دھڑکتے دل پر
    دستکیں دیتی چلی جاتی ہے
    روشنی بند کواڑوں سے نکلتے ہوئے گھبراتی ہے
    ہر طرف چیخ سی لہراتی ہے
    ہیں مرے دل کے لیے درد کے عنوان بہت
    درد کا نام سماعت کے لیے راحتِ جاں
    دستِ بے مایہ کو زر
    نقطۂ خاموش کو لفظ
    خوابِ بیدار کو مکاں
    درد کا نام میرے شہرِ خواہش کا نشاں
    منزلِ رگِ رواں
    درد کی راہ پر تسکین کے امکان بہت
    چشمِ بے خواب کو سامان بہت

    امجد اسلام امجد​
     
  13. زیرک

    زیرک محفلین

    مراسلے:
    4,555
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Buzzed
    اکیسویں صدی کے لیے ایک نظم

    سمے کے رستے میں بیٹھنے سے
    تو صرف چہروں پہ گرد جمتی ہے
    اور آنکھوں میں خواب مرتے ہیں
    جن کی لاشیں اٹھانے والا کوئی نہیں ہے
    ٭
    ہماری قسمت کے زائچوں کو بنانے والا کوئی ہو شاید
    پر ان کا مطلب بتانے والا کوئی نہیں ہے
    وہ سارے رسے روایتوں کے جن کی گرہیں کسی ہوئی ہیں
    ہمارے ہاتھوں سر اور پاؤں سے لے کے خوابوں کی گردنوں تک
    ہماری روحوں میں کھُبتے جاتے ہیں
    اور ہم کو بچانے والا، چھڑانے والا کوئی نہیں ہے
    ٭
    زباں پہ زنجیر سی پڑی ہے
    دلوں میں پھندے ہیں
    اور آنکھوں میں شامِ زنداں کی بے کسی ہے
    چراغ سارے بجھے پڑے ہیں جلانے والا کوئی نہیں ہے
    ٭
    مرے عزیزو مجھے یہ غم ہے
    جو ہو چکا ہے بہت ہی کم ہے
    سمے کے رستے میں بیٹھے رہنے کے دن بھی اب ختم ہو رہے ہیں
    بچے کھچے یہ جو بال و پر ہیں
    جو راکھ داں میں سُلگنے والے یہ کچھ شرر ہیں
    ہمارے بچوں کے سر چھپانے کو جو یہ گھر ہیں
    اب ان کی باری بھی آ رہی ہے
    وہ ایک مہلت جو آخری تھی
    وہ جا رہی ہے
    تو اس سے پہلے زمین کھائے
    ہمارے جسموں کو اور خوابوں کو
    اور چہروں پہ اپنے دامن کی اوٹ کر دے
    یہ سرد مٹی جو بھُربھُری ہے
    ہماری آنکھوں کے زرد حلقے لہو سے بھر دے
    مرے عزیزو چلو کہ آنکھوں کو مل کے دیکھیں
    کہاں سے سورج نکل رہے ہیں
    سمے کے رستے پہ چل کے دیکھیں

    امجد اسلام امجد​
     
  14. زیرک

    زیرک محفلین

    مراسلے:
    4,555
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Buzzed
    دریچہ ہائے خیال

    چاہتا ہوں کہ بھول جاؤں تمہیں
    اور یہ سب دریچہ ہائے خیال
    جو تمہاری ہی سمت کھلتے ہیں
    بند کر دوں کہ کچھ اس طرح کہ یہاں
    یاد کی اک کرن بھی آ نہ سکے
    چاہتا ہوں کہ بھول جاؤں تمہیں
    اور خود بھی نہ یاد آؤں تمہیں
    جیسے تم صرف اک کہانی تھیں
    جیسے میں صرف اک فسانہ تھا

    جون ایلیا​
     
  15. زیرک

    زیرک محفلین

    مراسلے:
    4,555
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Buzzed
    اجنبی شام

    دُھند چھائی ہوئی ہے جھیلوں پر
    اڑ رہے ہیں پرندے ٹیلوں پر
    سب کا رخ ہے نشیمنوں کی طرف
    بستیوں کی طرف، بنوں کی طرف

    اپنے گَلوں کو لے کے چرواہے
    سرحدی بستیوں میں جا پہنچے
    دلِ ناکام میں کہاں جاؤں؟
    اجنبی شام، میں کہاں جاؤں؟

    جون ایلیا​
     
  16. زیرک

    زیرک محفلین

    مراسلے:
    4,555
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Buzzed
    جانکاری کے بھی کتنے دکھ ہوتے ہیں
    بِن کہے ہی تلخ بات سمجھ میں آ جاتی ہے
    اچھی بات کو دہرانے کی سعی
    اور بری بات کو بھلانے کی جدوجہد میں
    زندگی بیت جاتی ہے

    کشورناہید​
     
  17. زیرک

    زیرک محفلین

    مراسلے:
    4,555
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Buzzed
    اعتقاد

    جب تم میرے ساتھ ہوتے ہو
    تو ہوا میرا نام نہیں پوچھتی ہے
    بارش مجھ سے بغل گیر ہو جاتی ہے
    دریا مجھ سے لپٹنا چاہتا ہے
    چڑیاں مجھ میں بولنے لگتی ہیں
    سیپیاں میری کوکھ جیسی لگتی ہیں
    مجھے لگتا ہے
    میرے کمزور لمحوں میں
    خدا مجھ سے اور زیادہ پیار کرتا ہے

    کشور ناہید​
     
  18. زیرک

    زیرک محفلین

    مراسلے:
    4,555
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Buzzed
    زمانہ بازار بن گیا ہے

    حشیش و بارود کی کثافت
    لہو کی بدرَو میں بہہ رہی ہے
    ہوس کا لاکر اٹا ہوا ہے زرِ سیہ سے
    اسی کی آتش پہ پکنے والی ضیافتوں پر
    خدائے واحد کے ساتھ اس کے چنیدہ بندے
    ہجوم کرتے ہیں شام ہوتے ہی
    پانچ تارا عشائیوں میں
    کہار کاروں کی دوڑ عشرت سرائے یک شب
    کی منزلوں تک لگی ہوئی ہے
    یہ شہرِ سوداگراں ہے جس میں
    معاش کے لنگروں پہ پلتی ہوئی رعایا
    انا کی قلت سے اپنے باطن میں مر چکی ہے
    وگرنہ اٹھ کر
    دکانِ زرگر سے، قصرِ قیصر سے
    اپنے سرقہ شدہ لہو کا حساب لیتی
    یہی ہے موجود کی حقیقت
    نشیب ہے تو فراز ہو گا
    فراز جس پر
    تمام اخوان نعمتوں کے
    بدن کا خوانچہ فروش دن رات بیچتا ہے
    یہ جشنِ ہر روز و شب تو جیسے یہاں کا تہوار بن گیا ہے
    زمانہ بازار بن گیا ہے

    آفتاب اقبال شمیم​
     
  19. زیرک

    زیرک محفلین

    مراسلے:
    4,555
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Buzzed
    کایا کا کرب

    اُس نے دیکھا
    وہ اکیلا اپنی آنکھوں کی عدالت میں
    کھڑا تھا
    بے کشش اوقات میں بانٹی ہوئی صدیاں
    کسی جلاد کے قدموں کی آوازیں مسلسل
    سن رہی تھیں
    آنے والے موسموں کے نوحہ گر مدت سے
    اپنی بے بسی کا زہر پی کر
    مر چکے تھے
    اس نے چاہا
    بند کمرے کی سلاخیں توڑ کر باہر نکل جائے
    مگر شاخوں سے مرجھائے ہوئے پتوں کی صورت
    ہاتھ اس کے بازوؤں سے
    گر چکے تھے

    آفتاب اقبال شمیم​
     
  20. زیرک

    زیرک محفلین

    مراسلے:
    4,555
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Buzzed
    ریت پر سفر کا لمحہ
    کبھی ہم بھی خوبصورت تھے
    کتابوں میں بسی
    خوشبو کی صورت
    سانس ساکن تھی
    بہت سے ان کہے لفظوں سے
    تصویریں بناتے تھے
    پرندوں کے پروں پر نظم لکھ کر
    دور کی جھیلوں میں بسنے والے
    لوگوں کو سناتے تھے
    جو ہم سے دور تھے
    لیکن ہمارے پاس رہتے تھے
    نئے دن کی مسافت
    جب کرن کے ساتھ
    آنگن میں اترتی تھی
    تو ہم کہتے تھے
    امی تتلیوں کے پر
    بہت ہی خوبصورت ہیں
    ہمیں ماتھے پہ بوسا دو
    کہ ہم کو تتلیوں کے
    جگنوؤں کے دیس جانا ہے
    ہمیں رنگوں کے جگنو
    روشنی کی تتلیاں آواز دیتی ہیں
    نئے دن کی مسافت
    رنگ میں ڈوبی ہوا کے ساتھ
    کھڑکی سے بلاتی ہے
    ہمیں ماتھے پہ بوسا دو
    ہمیں ماتھے پہ بوسا دو

    احمد شمیم​
     

اس صفحے کی تشہیر