زندگی ایک اذیت ہے مجھے

ظفری

لائبریرین

زندگی ، ایک اذیت ہے مجھے
تجھ سے ملنے کی ، ضرورت ہے مجھے

دل میں ہر لحظہ ہے صرف ایک خیال
تجھ سے کس درجہ ، محبت ہے مجھے

تیز ہے ، وقت کی رفتار بہت
اور بہت تھوڑی سی ، فرصت ہے مجھے

سانس جو بیت گیا ، بیت گیا
بس اسی بات کی ، کلفت ہے مجھے

اب نہ وہ جوشِ تمنا باقی
اب نہ وہ عشق کی ، وحشت ہے مجھے

اب یونہی ، عمر گذر جائے گی
اب یہی بات ، غمنیت ہے مجھے

( میرا جی )
 
زندگی ، ایک اذیت ہے مجھے
تجھ سے ملنے کی ، ضرورت ہے مجھے

دل میں ہر لحظہ ہے صرف ایک خیال
تجھ سے کس درجہ ، محبت ہے مجھے

بہت خوب ۔ ۔بہت اچھی غزل ہے
 
غزل - زندگی اک اذیت ھے مجھے (میرا جی)

زندگی اک اذیت ھے مجھے
تجھ سے ملنے کی ضرورت ھے مجھے

دل میں ہر لحظہ ھے صرف ایک خیال
تجھ سے کس درجہ محبت ھے مجھے

تری صورت ، تری زلفیں ، ملبوس
بس انہی چیزوں سے رغبت ھے مجھے

مجھ پہ اب فاش ھوا راز حیات
زیست اب سے تری چاہت ھے مجھے

تیز ھے وقت کی رفتار بہت
اور بہت تھوڑی سی فرصت ھے مجھے

سانس جو بیت گیا ، بیت گیا
بس اسی بات کی کلفت ھے مجھے

اب نہیں دل میں مرے شوق وصال
اب ہر اک شے سے فراغت ھے مجھے

اب نہ وہ جوش تمنا باقی
اب نہ وہ عشق کی وحشت ھے مجھے

اب یونہی عمر گزر جائے گی
اب یہی بات غنیمت ھے مجھے


میرا جی
 

زونی

محفلین
تیز ہے ، وقت کی رفتار بہت
اور بہت تھوڑی سی ، فرصت ہے مجھے


بہت خوب غزل ھے ، بہت شکریہ شئیر کرنے کیلئے چاچو :)
 
Top