فارسی شاعری زحالِ مسکیں مکن تغافل دُرائے نیناں بنائے بتیاں ۔ امیر خسرو

فاتح نے 'پسندیدہ کلام' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏دسمبر 12, 2009

  1. فاتح

    فاتح لائبریرین

    مراسلے:
    15,751
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Hungover
    دو ماہ قبل امیر خسرو کی یہ غزل چھایا گنگولی کی آواز میں محفل میں ارسال کی تو ہمارے محترم جناب محسن حجازی صاحب کا جواب ملا:
    جواباً ہم نے ان الفاظ میں کوشش کرنے کا وعدہ کر لیا:
    لیجیے صاحب! وہی وعدہ "حتی الوسع" ایفا کرتے ہوئے ترجمے کے ساتھ حضرت امیر خسرو کی یہ مشہورِ زمانہ غزل پیش خدمت ہے۔
    غزل
    زحالِ مسکیں مکن تغافل دُرائے نیناں بنائے بتیاں
    کہ تابِ ہجراں ندارم اے جاں نہ لے ہو کاہے لگائے چھتیاں

    شبانِ ہجراں دراز چوں زلف و روزِ وصلت چوں عمرِ کوتاہ
    سکھی! پیا کو جو میں نہ دیکھوں تو کیسے کاٹوں اندھیری رتیاں

    یکایک از دل دو چشم جادو بصد فریبم ببردِ تسکیں
    کسے پڑی ہے جو جا سناوے پیارے پی کو ہماری بتیاں

    چوں شمعِ سوزاں، چوں ذرہ حیراں، ہمیشہ گریاں، بہ عشق آں ما
    نہ نیند نیناں، نہ انگ چیناں، نہ آپ آویں، نہ بھیجیں پتیاں

    بحقّ ِروزِ وصالِ دلبر کہ دادِ ما را غریب خسرو
    سپیت من کے ورائے راکھوں جو جائے پاؤں پیا کی کھتیاں
    (حضرت امیر خسرو)

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    امیر خسرو نے اس غزل کے تمام اشعار کے مصرعِ ہائے اولیٰ فارسی میں جب کہ مصرعِ ہائے ثانی اس دور کی مروجہ اردو یا ہندی میں لکھے تھے۔ میں نے حسبِ استطاعت ترجمے کی کوشش تو کی ہے مگر یقیناً اغلاط موجود ہوں گی جن کی اصلاح کی درخواست ہے۔

    زحالِ مسکیں مکن تغافل دُرائے نیناں بنائے بتیاں
    کہ تابِ ہجراں ندارم اے جان نہ لے ہو کاہے لگائے چھتیاں
    ترجمہ:
    اس غریب کے حال سے تغافل نہ برت، آنکھیں پھیر کر، باتیں بنا کر
    اب جدائی کی تاب نہیں مری جان، مجھے اپنے سینے سے کیوں نہیں لگا لیتے


    شبانِ ہجراں دراز چوں زلف و روزِ وصلت چوں عمرِ کوتاہ
    سکھی! پیا کو جو میں نہ دیکھوں تو کیسے کاٹوں اندھیری رتیاں
    ترجمہ:
    جدائی کی راتیں زلف کی مانند دراز اور وصال کے دن عمر کی مانند مختصر
    اے دوست! محبوب کو دیکھے بغیر یہ اندھیری راتیں کیوں کر کاٹوں


    یکایک از دل دو چشم جادو بصد فریبم ببردِ تسکیں
    کسے پڑی ہے جو جا سناوے پیارے پی کو ہماری بتیاں
    ترجمہ:
    پلک جھپکتے میں وہ دو ساحر آنکھیں میرے دل کا سکون لے اُڑیں
    اب کسے پڑی ہے کہ جا کر ہمارے محبوب کو ہمارا حالِ دل (باتیں) سنائے

    چوں شمعِ سوزاں، چوں ذرہ حیراں، ہمیشہ گریاں، بہ عشق آں ما
    نہ نیند نیناں، نہ انگ چیناں، نہ آپ آویں، نہ بھیجیں پتیاں
    ترجمہ:
    میں اس عشق میں جلتی ہوئی شمع کی اور ذرۂ حیراں کی طرح ہمشیہ فریاد کر رہا ہوں
    نہ آنکھوں میں نیند، نہ تن کو چین کہ نہ تو وہ خود آتے ہیں اور نہ ہی کوئی پیغام بھیجتے ہیں

    بحقّ ِروزِ وصالِ دلبر کہ دادِ ما را غریب خسرو
    سپیت من کے ورائے راکھوں جو جائے پاؤں پیا کی کھتیاں
    اس شعر کا ترجمہ نہیں کر پایا۔ فارسی و ہندی کے ماہرین کی توجہ درکار ہے۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 30
    • زبردست زبردست × 18
    • متفق متفق × 1
  2. عثمان رضا

    عثمان رضا محفلین

    مراسلے:
    4,594
    موڈ:
    Cool
    واہ واہ !!!
    بہت خوب جناب
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  3. شاہ حسین

    شاہ حسین محفلین

    مراسلے:
    2,901
    جزاک اللہ جناب فاتح صاحب ۔ بہت خوب ۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  4. فاتح

    فاتح لائبریرین

    مراسلے:
    15,751
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Hungover
    پسندیدگی کا بہت شکریہ جناب عثمان صاحب اور شاہ صاحب۔
    محمود صاحب! شکریے کا بٹن دبانے پر آپ کا بھی شکریہ!:)
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
  5. محسن حجازی

    محسن حجازی محفلین

    مراسلے:
    2,513
    موڈ:
    Breezy
    حضور آداب عرض ہے! بہت نوازش! یہ اساتذہ کی بھی اپنی من مانی ہے دو زبانیں ایک ہی مصرعے میں یک جا کردیں یہی غلطی ہم سے سرزد ہوتی تو ناقدین ہماری ناک میں دم کر دیتے۔ اب ہم سوچ رہے ہیں کہ انگریزی اور اردو کو باہم مدغم کر کے کوئی غزل تخلیق فرما کر ناقدین کی طعن و تشنیع کا سامان کریں۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 6
    • پر مزاح پر مزاح × 2
    • زبردست زبردست × 1
  6. محمود احمد غزنوی

    محمود احمد غزنوی محفلین

    مراسلے:
    6,435
    موڈ:
    Torn
    حجازی صاحب چار چار زبانوں کی بھی آزادی ہے۔ ۔ایک مشہور نعت کے ہر شعر میں چار چار زبانیں استعمال کی گئی ہیں۔ اردو، فارسی، ہندی اور عربی۔ ۔ ۔ ۔:)
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 3
    • معلوماتی معلوماتی × 1
  7. محسن حجازی

    محسن حجازی محفلین

    مراسلے:
    2,513
    موڈ:
    Breezy
    چار زبانوں تک آوادی سے ہم کیا مراد لیں؟ :grin:
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  8. جیہ

    جیہ لائبریرین

    مراسلے:
    15,047
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Blah
    آزادی یا آوادی؟:)
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  9. محمود احمد غزنوی

    محمود احمد غزنوی محفلین

    مراسلے:
    6,435
    موڈ:
    Torn
    آ تنک وادی؟
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
    • پر مزاح پر مزاح × 1
  10. ظفری

    ظفری محفلین

    مراسلے:
    11,535
    جھنڈا:
    UnitedStates
    موڈ:
    Question
    شکریہ فاتح ۔۔۔۔۔ پہلے فارسی میں سنی تھی تو سر سے گذر گئی ۔ اب مگر جب ترجمہ میسر آگیا ہے تو احساس ہوتا ہے کہ عاشقوں کا جینا بھی کوئی " جینا " ہوتا ہے ۔ ;)
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 5
    • پر مزاح پر مزاح × 1
  11. فاتح

    فاتح لائبریرین

    مراسلے:
    15,751
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Hungover
    بہت شکریہ محسن صاحب۔
    حضور! جس زمانے کی یہ غزل ہے اس زمانے میں اردو کا آغاز ہو رہا تھا اور لکھنے پڑھنے کی زبان زیادہ تر فارسی ہی تھی جب کہ اردو عام بول چال کے لیے رائج ہو رہی تھی۔ شاید یہی وجہ رہی ہو دو زبانوں میں غزل لکھی ہو امیر خسرو نے۔ یوں بھی محمود غزنوی صاحب نے تو چار کی بھی شرعی اجازت نکال کر دکھا دی ہے۔;)
    قبلہ! آپ اس آزادی میں سے ایک کا تو فائدہ اٹھائیے، اس کے بعد پوچھیں گے کہ باقی تین اجازتوں کو استعمال کرنے کا ارادہ ہے یا توبہ کر لی؟:laughing:
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
    • پر مزاح پر مزاح × 1
  12. فاتح

    فاتح لائبریرین

    مراسلے:
    15,751
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Hungover
    ہائے عشق وائے عشق:rollingonthefloor:
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  13. امیداورمحبت

    امیداورمحبت محفلین

    مراسلے:
    3,058
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Relaxed
    چوں شمعِ سوزاں، چوں ذرہ حیراں، ہمیشہ گریاں، بہ عشق آں ما
    نہ نیند نیناں، نہ انگ چیناں، نہ آپ آویں، نہ بھیجیں پتیاں
    ترجمہ:
    میں اس عشق میں جلتی ہوئی شمع کی اور ذرۂ حیراں کی طرح ہمشیہ فریاد کر رہا ہوں
    نہ آنکھوں میں نیند، نہ تن کو چین کہ نہ تو وہ خود آتے ہیں اور نہ ہی کوئی پیغام بھیجتے ہیں

    کیا بات ہے۔۔۔ بہت خوب کلام ہے ۔۔

    ہر بار کسی فارسی کلام کے ترجمے سےآشنائی پر خوائش جاگ جاتی ہے فارسی سے واقفیت حاصل کرنے کی
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 3
  14. سید محمد نقوی

    سید محمد نقوی محفلین

    مراسلے:
    692
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Amazed
    ماشاءاللہ بہت اچھا ترجمہ فرمایا ہے
    بہت خوب
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
  15. فاتح

    فاتح لائبریرین

    مراسلے:
    15,751
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Hungover
    امید اور محبت صاحبہ! بہت شکریہ!
    یہی خواہش ہمیں بھی اکثر ستاتی ہے اور ہم مارے طیش کے کبھی کبھار فارسی کی ٹانگیں بازو توڑ کر اس محرومی کا کسی قدر ازالہ کر لیتے ہیں۔:laughing:
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
  16. فاتح

    فاتح لائبریرین

    مراسلے:
    15,751
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Hungover
    بہت شکریہ جناب۔ آپ ایسے صاحب علم اور فارسی کے ماہر سے سندِ قبولیت پا کر واقعی احساسِ فخر ہونے لگا ہے۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 3
  17. زونی

    زونی محفلین

    مراسلے:
    4,186
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Amused
    بہت خوب فاتح‌، ترجمے کیلئے بہت شکریہ ،

    یہی غزل غلام علی کی آواز میں سنیئے !



    [ame="http://www.youtube.com/watch?v=gTN_RAdtK8U"]YouTube- Zihale Miskeen --- Ghulam Ali[/ame]
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
  18. فاتح

    فاتح لائبریرین

    مراسلے:
    15,751
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Hungover
    شکریہ زونی صاحبہ!
    میں نے بھی اب اسی کام کا بیڑا اٹھایا تھا کہ مختلف گلوکاروں کی آوازوں میں یہ غزل محفل پر ارسال کروں۔
    مجھے اب تک یہ غزل یو ٹیوب پر چھ گلوکاروں کی آواز میں ہی مل سکی ہے جن میں سے دو (چھایا گنگولی اور صابری برادران کی آوازوں میں) پہلے ہی ارسال کی جا چکی ہیں اور تیسری (غلام علی کی آواز میں) آپ نے اب شامل دی۔ باقی تین میں کیے دیتا ہوں۔:)
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  19. انتہا

    انتہا محفلین

    مراسلے:
    1,109
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Persnickety
    فاتح بھائی امیر خسرو رحمۃ اللہ علیہ کی مشہور غزل ’’چھاپ تلک سب چھین لی موں سے نیناں ملائی کے‘‘ کا ترجمہ بھی فرما دیں تو کیا کہنے۔۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
    • متفق متفق × 1
  20. مہ جبین

    مہ جبین محفلین

    مراسلے:
    6,246
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Relaxed
    سنا ہے کہ فارسی بہت میٹھی زبان ہے ، اس غزل کے ترجمے کو پڑھ کر یہ زبان سیکھنے کا دل چاہ رہا ہے
    بہت شکریہ فاتح بھائی کم علموں کی علم کی پیاس بجھانے کا ، امید ہے کہ انتہا کی بات پر غور فرمائیں گے
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2

اس صفحے کی تشہیر