روحانی اقوال

ایک بھنورا روزانہ باغ کی سیر کرنے جاتا تھا تو راستے میں ایک بھینسوں کے باڑے کے پاس اس کو اپنے سی شکل و صورت کا ایک کیڑا نظر آتا تھا ایک دن بھنورا کچھ دیر کے لیئے اس کے پاس رکا سلام دعا کی اور آگے نکل گیا پھر یہ روز کا معمول بن گیا یوں دونوں میں دوستی ہوگئی یہ کیڑا گوبریلا تھا جو کہ بھونرے کی شکل و صورت کا ہی ہوتا ہے۔ (ہماری پشتو زبان میں اس کو گونگٹ اور پشاور کی لوکل ہندکو میں اس کو ٹِٹن کہتے ہیں لیکن پڑھا ٹِٹَنڑ جاتا ہے)

ایک دن گوبریلے نے بھنورے سے کہا کہ تم روزانہ کہاں جاتے ہو تو بھونرے نے کہا کہ میں باغ کی سیر کو جاتا ہوں گوبریلے نے ضد کی مجھے بھی ساتھ لے جاؤ ۔ بھنورے کو بھلا کیا اعتراض ہوسکتا تھا سو دونوں دوست چل دیئے جب باغ پہنچے تو بھونرے نے کہا کہ دیکھ دوست یہ سرخ گلاب ہے اس کی خوشبو کو سونگھ کر محسوس کرو یہ کہہ کر بھونرا پھول سے لپٹ گیا سو اس کی دیکھا داکھی گوبریلے نے بھی یہی عمل کیا پھر یکے بعد دیگرے کالے گلاب، گل داؤدی، موتیا، چمبیلی، کرنے، مروۃ، گل بابونہ غرض ہر پھول کے ساتھ بغل گیر ہوئے۔ بھونرے نے گوبریلے سے پوچھا تونے کچھ الگ طرح سے محسوس کیا تجھے کس پھولوں کی لطافت کس طرح محسوس ہوئی۔ کس پھول کی مدھر اور مست خوشبو نے تیرے مشام جاں کو والہ و شیدا اور معطر و محظوظ کیا۔ گوبریلے نے کہا کہ مجھے تو ذرا سی خوشبوبھی نہیں محسوس ہوئی تو اس پر بھنورا بہت پریشان ہوا اس نے کہا آج رات ادھر ہی ڈیرا ڈالتے ہیں ابھی کچھ ہی دیر میں آفتاب عالمتاب غروب ہوجائے گا اور شام کے دھندلکے پھیل جائیں تو فورا ہی رات کی رانی کی مست خوشبو پورے باغ کو اپنے حصار میں لے لے گی سو دونوں دوست اس خوشبو کے مزے لوٹ لیں گے۔ شام سے رات ہوگئی لیکن گوبریلے کو کسی بھی قسم کی کوئی خوشبو نہ آئی اور بھنورا شرمندہ ہوتا رہا۔ صبح کو جب دونوں باغ سے روانہ ہونے لگے تو بھونرے نے گوبریلے کی تلاشی لی تو اس کی ناک سے ایٹم بم برآمد ہوا یعنی اس کے نتھنوں میں گوبر پھنسا ہوا تھا تو اس کو خوشبو کہاں سے آتی۔

پسِ نوشت: کچھ لوگ گوبریلے کی مانند ہوتے ہیں آپ ان کو لاکھ خوشبو سونگھائیں لیکن یہ خوشبو سونگھنے کی صلاحیت سے محروم ہوتے ہیں
 
دوبٹہ تین3/2کا روحانی فلسفہ

یہ تحریر ہر دوحضرات کی نظر ہےیعنی جو صاحب بصارت ہیں ان کی فکر سخن کی نظر کرتا ہوں اور جو صاحب بصیرت ہیں ان کی نظر بصیرت کی نذر کرتا ہوں۔۔۔۔۔۔۔۔
ذیل میں کچھ نکات کی طرف آپ حضرات کی توجہ دلاتا چلوں تاکہ مطالعہ کا حسن دوبالا ہوجائے اس میں جن الفاظ کو دوبٹہ تین(3/2 )سے تطبیق دی گیی ہے اس میں ہر لفظ صرف تین حروف پر مشتمل ہے جیسے راگ،زور،نڈر،100اورفخر تو ان حروف کو ان ہی معروضات میں دیکھیے گا جس کا میں نے تذکرہ کیا ہےوالسلام روحانی بابا
راگ میں آگ ہے پوشیدہ اگر دوبٹہ تین
نام ہے جس کا بشر اس میں ہے شردوبٹہ تین
منحصر قوت بازو پہ ہے دولت مندی
دیکھ لو زور میں موجود ہے زر دوبٹہ تین
ملک الموت سے دنیا میں ہراساں نہیں کون
جس کو کہتے ہیں نڈر اس میں ہے ڈر دوبٹہ تین
فیصدی زیادہ امیدوں کا نتیجہ ہے صفر
دیکھ لو سو کے عدد میں ہے صفر دوبٹہ تین
فخر کرتا ہے جو ،انسان نہیں خَر(گدھا) ہے وہ
جس طرح لفظ فخر میں ہے خَر دوبٹہ تین
صبر گرچہ ہے تلخ، ہے برِ شیریں دیتا۔ ۔ ۔
جس طرح لفظ صبر رکھتا ہے بَر دوبٹہ تین

مختصر تشریح
راگ میں ہے آگ پوشیدہ اگر دوبٹہ تین
نام ہے جس کا بشر اس میں ہے شردوبٹہ تین
فن موسیقی میں ایک راگ جس کا نام دیپک راگ ہے اس کو گانے سے آگ بھڑک اٹتھی ہے۔جیسا کہ تان سین نے اس فن کا مظاہرہ دربار اکبری میں کیا تھا اس حقیقت کی طرف حکیم مومن خان مومن نے اشارہ کرتے ہویے کہا ہے کہ
شعلہ سا چمک جایے ہے آواز تو دیکھو
اس غیرت ناہید کی ہر تان ہے دیپک

تو شاعر نے شعر تحریر کرتے ہویے اس امر کو ملحوظ رکھا ہے۔اسی طرح بشر یعنی انسان میں بھی شر کا تناسب دو بٹہ تین ہے۔
منحصر قوت بازو پہ ہے دولت مندی
دیکھ لو زور میں موجود ہے زر دوبٹہ تین
یعنی مسلسل محنت ایک عزم ایک لگن اولیاء کرام فرماتے ہیں الھمت اسم الاعظم اور ظاہری بات ہے کہ مسلسل کام ہاتھوں سے ہی ہوتا ہےاور قایداعظم کا فرمان بھی ہے کہ کام کام کام اور بس کام۔
اسی طرح لفظ زور میں زریعنی سونا جس کو عربی میں ذہب کہتے ہیں وہ دوبٹہ تین ہے
ملک الموت سے دنیا میں ہراساں نہیں کون
جس کو کہتے ہیں نڈر اس میں ہے ڈر دوبٹہ تین
ملک الموت یعنی عزرایل علیہ السلام سے کونسا ایسا جاندار ہے جو نہ ڈرتا ہو لیکن جو کہتا ہے کہ میں موت سے نہیں ڈرتا وہ اپنی بات کی گویا خود ہی نفی کرتا ہے کیونکہ نڈر میں ڈرکا تناسب دوبٹہ تین ہے۔
فیصدی زیادہ امیدوں کا نتیجہ ہے صفر
دیکھ لو سو کے عدد میں ہے صفر دوبٹہ تین
فیصدی یعنی ہنڈرڈ پرسینٹ پراُمید ہونا اکثر نا اُمیدی لاتا ہے جیسے سُو میں دو صفر ہوتے ہیں۔
فخر کرتا ہے جو ،انسان نہیں خَر(گدھا) ہے وہ
جس طرح لفظ فخر میں ہے خَر دوبٹہ تین
اسی طرح جو انسان اپنے اوپر بہت فخر کرتا ہے وہ گدھا ہے جیسے فخر کے لفظ میں خر یعنی گدھا دو بٹہ تین ہے۔
امید کرتا ہوں کہ دوستوں کو ٹوٹی پھوٹی تشریح پسند آیی ہوگی
[/size]
بہت خوب
 
ایک پینٹر کو ایک کشتی پر رنگ کرنے کا ٹھیکہ ملا۔
کام کے دوران اُسے کشتی میں ایک سوراخ نظر آیا اور اُس نے اِس سوراخ کو بھی مرمت کر دیا۔
پینٹنگ مکمل کر کے شام کو آس نے کشتی کے مالک سے اپنی اُجرت لی اور گھر چلا گیا۔
دو دن بعد کشتی والے نے اُسے پھر بلایا اور ایک خطیر رقم کا چیک دیا۔ پینٹر کے استفسار پر اُس نے بتا یا کہ اگلے دن آس کے بچّےبغیر اُس کے علم میں لائے کشتی لے کر سمندر کی طرف نکل گئے۔ اور پھر جب اُسے خیال آیا کہ کشتی میں تو ایک سُوراخ بھی تھا تو وہ بہت پریشان ہوگیا۔ ۔۔۔۔۔۔
لیکن شام بچّوں کوہنستے مسکراتے آتے دیکھا تو خوشگوار حیرت میں مبتلا ھو گیا۔ اُس نے پینٹر سے کہا کہ یہ رقم تمہارے احسان کا بدل تو نہیں مگر میری جانب سے تمہارے لیئے محبت کا ایک ادنیٰ اظھار ہے۔۔۔۔
آپ کی زندگی میں بھی بہت سےایسے چھوٹے چھوٹے کام آئیں گے جو آپ کے کام نہیں ۔۔۔۔
مگر وہ کام بھی کرتے جائیے۔۔۔۔۔۔
نیکی کبھی رائیگاں نہیں جاتی
کسی نہ کسی کی زندگی بچاتی ہے
کسی نہ کسی کی خوشیوں کا باعث بنتی ہے۔

مثبت سوچ اور مثبت کردار ہی کامیابی ہے
 
حرفِ معتبر

حرف گولی ہوتے ہیں
حرف گالی ہوتے ہیں
حرف جھوٹ ٹھہرے ہیں
حرف عیار حرف جعلی ہوتے ہیں
حرف نیزہ حرف تیر ہوتے ہیں
دل جگر حرف سے چیر ہوتے ہیں
حرف شکایت حرف بدعا ٹھہرے
حرف شکاری حرف دریدہ قبا ٹھہرے
حرف جرم حرف ستم ہوتے ہیں
حرف تازیانہ حرف ظلم ہوتے ہیں
حرف عریانی حرف بدزبانی جیسے
لٹتے عرشہ پے بے رحم طغیانی جیسے
حرف دشمن حرف رقابت ہوتے ہیں
حرف خوف جیسے حرف غلاظت ہوتے ہیں
حرف ہنر ہوتے ہیں حرف عمل ہوتے ہیں
حرف بیج ہوتے ہیں ہم حرف بوتے ہیں
حرف زندگی ہوتے ہیں حرف جاویداں ہوتے ہیں
حرف آیت ٹھہرے حرف ہی قرآں ہوتے ہیں
حرف ردا ہوتے ہیں حرف وفا ہوتے ہیں
حرف تحریر ہوتے ہیں حرف جزا ہوتے ہیں
حرف دوا ہوتے ہیں حرف تاثیر ہوتے ہیں
حرف حرزجاں ہیں حرف اکسیر ہوتے ہیں
حرف زخم سیتے ہیں حرف جیتے ہیں
ہم تم نہیں مگر حرف منکر نکیر ہوتے ہیں
حرف دعا میں ڈھل جاتے ہیں
حرف معنی بدل جاتے ہیں
حرف خواب ہوتے ہیں حرف تعبیر ہوتے ہیں
حرف محبت ہیں حرف جنتی جاگیر ہوتے ہیں
حرف قاعدہ حرف اصول ہوتے ہیں
سمجھو تو حرف رسول ہوتے ہیں
حرف بحر حرف سمندر ہوتے ہیں
حرف ہی باہر حرف اندر ہوتے ہیں
حرف کائنات کی تشکیل ہوتے ہیں
حرف جمال حرف جمیل ہوتے ہیں
حرف معتبر حرف راہبر ہوتے ہیں
حرف دلیل حرف پیعمبر ہوتے ہیں
حرف حرف سے زنجیر ہوتے ہیں
حرف محبت کے سفیر ہوتے ہیں
حرف تم بھی ہو حرف میں بھی ہوں
چاہو تو انہیں دل سے ازبر کرلو
تم ہنر ہو تم فن تم فنکار ٹھہرے
اک لمس سے میرے حرف معتبر کردو
شاعر ۔ پرویز اقبال
 
دنیا میں تین جگہیں ایسی ہیں جہاں آپ زندگی کی اصل حقیقت جان سکتے ہیں‘ ہم کیا ہیں‘ ہماری اوقات کیا ہے‘ ہماری حسرتوں‘ ہماری خواہشوں اور ہماری سماجی‘ معاشرتی اور معاشی ترقی کی حیثیت کیاہے اور ہماری نفرتوں‘ ہماری رقابتوں اور ہماری دشمنیوں کی اصل حقیقت کیا ہے؟ آپ مہینے میں ایک بار ان جگہوں کا وزٹ کر لیا کریں آپ کو اپنے ظاہر اور باطن دونوں کی اوقات سمجھ آ جائے گی۔

میں اکثر ان جگہوں پر جاتا ہوں اور کسی کونے میں چپ چاپ بیٹھ کر زندگی کی اصل حیثیت دیکھتا ہوں اور پھر پوری طرح چارج ہو کر واپس آ جاتا ہوں۔ یہ تین جگہیں قبرستان‘ اسپتال اور جیل ہیں۔ آپ کبھی اپنا سب سے قیمتی سوٹ پہنیں‘ شیو کریں‘ جسم پر خوشبو لگائیں‘ جوتے پالش سے چمکائیں‘ اپنی سب سے مہنگی گاڑی نکالیں اور شہر کے سب سے بڑے قبرستان میں چلے جائیں‘ آپ ایک کونے سے دوسرے کونے تک قبروں کے کتبے پڑھنا شروع کریں۔

آپ تمام قبروں کا اسٹیٹس دیکھیں‘ آپ کو محسوس ہوگا ان قبروں میں سوئے ہوئے زیادہ تر لوگ اسٹیٹس کے لحاظ سے آپ سے کہیں آگے تھے‘ یہ لوگ آپ سے زیادہ مہنگے سوٹ پہنتے تھے‘ دن میں دو‘ دو بار شیو کرتے تھے‘ ان کے پاس زیادہ مہنگی پروفیومز تھیں‘ یہ اطالوی جوتے خریدتے تھے اور ان کے پاس آپ سے زیادہ مہنگی اور لگژری گاڑیاں تھیں لیکن آج یہ مٹی میں مل کر مٹی ہو چکے ہیں اور قبر کا کتبہ ان کی واحد شناخت رہ گیا ہے۔
آپ کو محسوس ہوگا یہ لوگ رتبے‘ اختیار اور تکبر میں بھی آپ سے بہت آگے تھے‘ مکھیاں بھی ان کی ناک پر بیٹھنے سے پہلے سو سو بار سوچتی تھیں‘ ہوائیں بھی ان کے قریب پہنچ کر محتاط ہو جاتی تھیں اور یہ کبھی اس زمین‘ اس ملک اور اس سسٹم کے لیے ناگزیر سمجھے جاتے تھے لیکن پھر کیا ہوا‘ ایک سانس ان کے پھیپھڑوں سے باہر نکلی اور واپس جانے کا راستہ بھول گئی اور اس کے بعد یہ لوگ دوسروں کے کندھوں پر سفر کرتے ہوئے یہاں پہنچے اور زندگی انھیں فراموش کر کے واپس لوٹ گئی اور اب ان کا مرتبہ‘ ان کے اختیارات‘ ان کا تکبر اور ان کی ناگزیریت دو فٹ کے کتبے میں سمٹ کر رہ گئی۔

آپ قبرستان کی کسی شکستہ قبر کے سرہانے بیٹھ جائیں‘ اپنے ارد گرد پھیلی قبروں پر نظر ڈالیں اور اپنے آپ سے یہ سوال پوچھیں ’’میرے پاس کتنا وقت باقی ہے؟‘‘ آپ کو اس سوال کے جواب میں تاریکی‘ سناٹے اور بے بسی کے سوا کچھ نہیں ملے گا۔ آپ اسی طرح کبھی کبھی اسپتالوں کا چکر بھی لگا لیا کریں‘ آپ کو وہاں اپنے جیسے سیکڑوں ہزاروں لوگ ملیں گے‘ یہ لوگ بھی چند دن‘ چند گھنٹے پہلے تک آپ کی طرح دوڑتے‘ بھاگتے‘ لپکتے اور شور مچاتے انسان تھے‘ یہ بھی آپ کی طرح سوچتے تھے کہ یہ زمین پر ایڑی رگڑیں گے تو تیل کے چشمے پھوٹ پڑیں گے‘ ان کا بھی خیال تھا یہ پائوں مار کر زمین دہلا دیں گے اور ان کو بھی یہ گمان تھا کہ دنیا کا کوئی وائرس‘ کوئی جراثیم اور کوئی دھات انھیں نقصان نہیں پہنچا سکتی لیکن پھر ایک دن زندگی ان کے لیے عذاب بن گئی۔

ان کے پائوں‘ ان کے ہاتھ‘ ان کی آنکھیں‘ ان کے کان‘ ان کا جگر‘ ان کا دل‘ ان کا دماغ اور ان کے گردے ان کے ساتھ بے وفائی کر گئے اور یہ اپنے ٹھنڈے گرم محلوں سے نکل کر اسپتال کے بدبودار کوریڈورز کے مسافر بن گئے‘ آپ اسپتالوں کی پرائیویٹ وارڈز اور مہنگے پرائیوٹ اسپتالوں کا چکر ضرور لگایا کریں‘ آپ کو وہاں وہ لوگ ملیں گے جو مہنگے سے مہنگا ڈاکٹر اور قیمتی سے قیمتی ترین دوا خرید سکتے ہیں لیکن اس کے باوجود یہ بے بسی کے عالم میں اسپتالوں میں پڑے ہیں‘ کیوں؟ کیونکہ انسان ڈاکٹر اور دوا تو خرید سکتا ہے لیکن شفاء نہیں اور یہ لوگ قدرت کے اس قانون کے قیدی بن کر اسپتالوں میں پڑے ہیں‘ آپ مریضوں کو دیکھیں‘ پھر اپنے آپ کو دیکھیں‘ اللہ کا شکر ادا کریں اور صحت کی اس مہلت کو مثبت طریقے سے استعمال کریں۔

آپ جیلوں کا چکر بھی لگایا کریں‘ آپ کو وہاں ایسے سیکڑوں ہزاروں لوگ ملیں گے جو کبھی آپ کی طرح آزاد پھرتے تھے‘ یہ رات کے تین بجے کافی پینے نکل جاتے تھے‘ یہ سردیوں کی یخ ٹھنڈی راتیں اپنے نرم اور گرم بستر پر گزارتے تھے لیکن یہ کسی دن کسی اپنے حیوانی جذبے کے بہکاوے میں آ گئے‘ یہ کسی کمزور لمحے میں بہک گئے اور طیش میں‘ عیش میں یا پھر خوف میں ان سے کوئی ایسی غلطی سرزد ہو گئی جس کی پاداش میں یہ لوگ سلاخوں کے پیچھے پہنچ گئے اور یہ اب جیل کے معمول کے مطابق زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔

آپ سزائے موت کے قیدیوں سے بھی ضرور ملیں‘ آپ کو ان سے مل کر محسوس ہوگا ہم لوگ رقابت کے جذبے کو ایک لمحے کا سکھ دینے کے لیے‘ ہم اپنی انا کو گنے کے رس کا ایک گلاس پلانے کے لیے‘ ہم ایک منٹ کے لیے اپنی ناک کو دوسروں کی ناکوں سے بلند رکھنے کے لیے اور ہم دوسروں کی ضد کو کچلنے کے لیے بعض اوقات ایسی غلطی کر بیٹھتے ہیں کہ موت بھی ہم پر ترس کھانے سے انکار کر دیتی ہے اور ہم جیل کی سلاخیں پکڑ کر اور اللہ سے معافی مانگ مانگ کر دن کو رات اور رات کو دن میں ڈھلتا ہوا دیکھتے ہیں لیکن ہماری سزا پوری نہیں ہوتی۔ آپ جیل کے قیدیوں کو سلاخوں کے پیچھے کھڑے ہو کر اپنی بیویوں کو حسرتوں سے دیکھتے ہوئے دیکھئے۔

آپ ان کی کانپتی ہوئی ان انگلیوں کو دیکھئے جو اپنے بچوں کے لمس کو ترس گئی ہیں‘ آپ ان کے بے قرار پائوں دیکھئے جنھیں آزادی کا احساس چکھے ہوئے کئی برس بیت گئے ہیں اور آپ ان کی آنکھوں میں تیرتے ہوئے ان رت جگوں کی فصلیں بھی دیکھئے جو انھوں نے اپنی غلطی‘ اپنی کوتاہی اور اپنے جرم پر معافی مانگ مانگ کر اگائی ہیں لیکن قدرت یہ فصل کاٹنے پر راضی نہیں ہو رہی۔

آپ ان لوگوں کو دیکھئے‘ اپنے اوپر نگاہ ڈالیے اور پھر یہ سوچئے آپ پر بھی دن میں ایسے سیکڑوں ہزاروں کمزور لمحے آتے ہیں‘ آپ بھی لالچ کے بہکاوے میں آتے ہیں‘ آپ بھی غرور اور تکبر کے مائونٹ ایورسٹ پر چڑھ جاتے ہیں‘ آپ بھی رقابت کے نرغے میں آ کر دوسرے لوگوں کی زندگیوں کو کھیل بنا لیتے ہیں‘ آپ بھی غیرت کے سراب میں الجھ کر دوسروں کا خون پینے کا فیصلہ کرتے ہیں اور آپ بھی دوسروں کے مال کو اپنا بنانے کے منصوبے بناتے ہیں لیکن کوئی نادیدہ ہاتھ‘ کسی دوست کی کوئی نصیحت اور حالات کی کوئی مہربانی آپ کو روک لیتی ہے۔

آپ باز آ جاتے ہیں اور یہ بھی ہوتا ہے قدرت آپ پر خاص مہربانی کرتے ہوئے آپ کی خامیوں‘ آپ کی کوتاہیوں‘ آپ کی غلطیوں‘ آپ کے گناہوں اور آپ کے جرائم پر پردہ ڈال دیتی ہے‘ یہ آپ کو گواہیوں‘ ثبوتوں‘ قانون اور کچہریوں سے بچائے رکھتی ہے لیکن آپ قدرت کی اس مہربانی کو اپنی چالاکی‘ اپنا کمال سمجھ لیتے ہیں‘ آپ یہ سمجھ بیٹھتے ہیں آپ چارلس سوبھراج ہیں جسے اللہ تعالیٰ نے قانون کی آنکھوں میں خاک جھونکنے کے لیے دنیا میں بھیجا ہے اور دنیا کا کوئی قانون‘ کوئی ضابطہ آپ کو کبھی پکڑ نہیں سکے گا۔

آپ کو قبرستانوں‘ اسپتالوں اور جیلوں میں بیگناہ‘ معصوم اور انتہائی شریف لوگ بھی ملیں گے‘ یہ لوگ کبھی کوئی ضابطہ‘ کوئی اصول نہیں توڑتے تھے‘ یہ اس قدر محتاط لوگ تھے کہ یہ آب زم زم بھی ابال کر پیتے تھے‘ یہ دودھ‘ دہی اور مکھن کے لیے اپنی بھینسیں پالتے تھے اور دیسی مرغی کا شوربہ پیتے تھے‘ یہ ہمیشہ رات نو بجے سو جاتے تھے اور صبح پانچ بجے اٹھ جاتے تھے اور ان سے پوری زندگی کوئی بے اعتدالی‘ کوئی غفلت سرزد نہیں ہوئی‘ آپ ایسے لوگ بھی دیکھیں گے جو آرام سے اپنے گھر میں سوئے ہوئے تھے‘ جو اپنی لین میں گاڑی چلا رہے تھے یا فٹ پاتھ پر اپنی سمت میں جا رہے تھے اور آپ کو ایسے لوگ بھی ملیں گے جنہوں نے پوری زندگی قانون کا احترام کیا۔

یہ تھانے کے سامنے سے گزرتے ہوئے سر جھکا لیتے تھے اور نیلی پیلی ہر قسم کی یونیفارم کو سلام کر کے آگے جاتے تھے اور جو دوسری جنگ عظیم کے دوران بننے والے قوانین کا بھی احترام کرتے تھے اور جنہوں نے آج بھی سائیکل پر بتی لگوا رکھی تھی لیکن پھر یہ لوگ دوسرے کردہ جرائم میں محبوس ہو گئے‘ یہ بے گناہ ہونے کے باوجود قانون کے نہ کھلنے‘ نہ ٹوٹنے والے دانتوں میں پھنس گئے‘ آپ کو ایسے لوگ بھی ملیں گے جو کھیرا کاٹنے سے پہلے اسے ڈیٹول سے دھوتے تھے لیکن یہ لوگ بھی اسپتال کے مستقل مہمان بن گئے اور ایسے لوگ بھی جو فٹ پاتھ پر دوسروں کی موت کا نوالہ بن گئے‘ جو کسی آوارہ گولی کا نشانہ بن گئے یا پھر ان کے سر پر کوئی طیارہ آ کر گر گیا۔

آپ ان لوگوں کو دیکھئے اور اس کے بعد اپنے اوپر نگاہ ڈالیے اور پھر سوچئے یہ طیارہ آپ پر بھی گر سکتا ہے‘ دوسری لین سے کوئی گاڑی اڑ کر آپ کے موٹر سائیکل‘ آپ کی گاڑی پر بھی گر سکتی ہے اور ڈاکٹر اچانک آپ کو بھی کینسر کا مریض ڈکلیئر کر سکتے ہیں یا پھر آپ کے دل کے اندر بھی اچانک درد کی ایک لہر دوڑ سکتی ہے اور آپ کو کلمہ تک پڑھنے کی مہلت نہیں ملتی۔ یہ سب کچھ ہمارے ساتھ بھی ہو سکتا ہے‘ یہ ہم بھی ہو سکتے ہیں لہٰذا آئیے اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کریں اور اس مہلت‘ اللہ تعالیٰ کی اس مہربانی پر اس کا شکریہ ادا کریں اور کبھی کبھی جیلوں‘ اسپتالوں اور قبرستانوں میں بھی ایک گھنٹہ گزار لیا کریں کیونکہ یہ تین ایسی جگہیں ہیں جہاں گئے بغیر ہمیں زندگی کی اصل حقیقت‘ اپنی اوقات اور اللہ تعالیٰ کی مہربانیوں کا اندازا نہیں ہو سکتا.
الحمد للّہ رب العالمین __
الحمد للّہ علی کل حال __
____ یہ ہمارے ساتھ بھی ہو سکتا ہے ___
از جاوید چوہدری
 
وہ خدا سے بہت قریب ہے جو خوش خلق اور دوسروں کا بوجھ اٹھانے والا ہے۔
اگر آپ تیس برس میں طاقت ور اور چالیس بر س میں عقل مند نہیں بنے تو آپ کبھی طاقت ور اور عقل مند بننے کی امید نہ رکھیں۔
ہر بچے کی پیدائش اس بات کا پیغام ہے کہ خدا ابھی انسان سے مایوس نہیں ہوا
اس وقت تک اپنے آپ کو انسان نہ سمجھو جب تک تمہاری رائے غصے کے زیرِاثر ہو۔
ملک ایک کھیتی ہے اور عدل اس کا پاسبان نہ ہو تو کھیتی اجڑ جاتی ہے۔
 
امام رازی کا قول ہے کہ میں نے سورۃ العصر کا مطلب ایک برف فروش سے سمجھا جو بازارمیں آوازیں لگا رہا تھا کہ
"رحم کرو اس شخص پر جس کا سرمایہ گھلا جا رہا ہے، رحم کرو اس شخص پر جس کا سرمایہ گُھلا جا رہا ہے"
اس کی یہ بات سن کر مجھے خیال آیا یہ ہے ’’والعصر ان الانسان لفی خسر‘‘ کا مطلب ۔۔۔
عمر کی جو مدت انسانوں کو دی گئی ہے وہ برف کے گھلنے کی طرح تیزی سے گزر رہی ہے۔۔۔
اس کو اگر ضائع کیا جائے یا غلط کاموں مین صرف کر ڈالا جائے تو انسان کا خسارہ ہی خسارہ ہے۔۔۔!
 
مرید: سکون کیسے حاصل ہوگا
مرشد: خواہشات کو ختم کردیں۔
مرید: خواہشات کیسے ختم کروں
مرشد: خواہشات کا خاتمہ چاہنا بھی تو اک خواہش ہی ہے جب کہ میں کہہ رہا ہوں کہ خواہشات کو ختم کرنا ہوگا۔
 
روحانیت کیا ہے
کائنات کی ہر شئے ایک خاص آفاقی دھن پر محو رقص ہے، روحانیت دل و دماغ کی تال کو اس آفاقی تال سے ملانے کا نام ہے کہ جو نہ تو ریاضات کی محتاج ہے نا اشغال کی اور نہ ہی سلوک کی۔ یہ کرنے کی نھیں بلکہ نہ کرنے یا ڈوب جانے کی بات ہے۔

نہ کرنے کی اس لئے کہ ہمارا دل و دماغ وقت پیدائش سے سن بلوغت تک قدرتی طور پر اس تال پر محو رقص تھا، جسکو ہمارئے کرنے نے اُس تال سے ہٹا دیا، جب ہم نھیں کرتے تو یہ خود بخود اپنی اصل حالت کی طرف لوٹ جاتا ہے۔
 
ہ وہ کلام اور اسکا وہ شعر ہے کہ جسے سُنتے ہوئے حضور خواجہ قطب الدین بختیار کاکی (رح) کا وصال ہوا۔۔۔ آپ اس غزل کو سُنتے ہوئے تین دن تک رَقص کی کیفیت میں رہے اور تیسرے دن سَر سجدہ میں رکھا اور وصال فرمایا اسی وجہ سے آپ کو شہیدِ مُحبت کے لقب سے یاد کیا جاتا ہے۔۔۔۔۔ آپ حضرت بابا فریدالدین گنج شکر رح کے مرشد ھیں۔۔
سرکار واصف رح ۔۔آج بھی یہ قوالی میں کلام مزار کے باھر پڑھا جاتا ھے اندر نہیں ۔۔۔

منزلِ عِشق از مکانِ دیگر است
مردِ اِیں راہ را نِشانِ دیگر است

عِشق کی منزل اور جگہ سے ہے اِس راہ کے مرد کا نِشان اور ہے

عقل کے داند کہ ایں رمزِ کُجاست
کاں جماعت را نِشانِ دیگر است

عقل کو کیا معلوم کہ یہ راز کیا ہے ؟ اِس جماعت کا تو نِشان ہی اور ہے

عاشقانِ خواجگانِ چِشت را
از قدم تا سر نِشانِ دیگر است

خواجگانِ چِشت کے عُشاق سر تا پا اور نِشان رکھتے ہیں

کِشتگانِ خنجرِ تسلیم را
ہر زماں از غیب جانِ دیگر است

جو تسلیم و رضا کے خنجر سے قتل ہوتے ہوتے ہیں اُنہیں غیب سے ہر آن ایک نئی جان عطا ہوتی ہے

عِشق را در مدرسہ تعلیم نیست
ایں چُنیں عِلمت بیانِ دیگر است

عِشق کو مدرسوں میں نہیں پڑھایا جاتا،اِس قِسم کے عِلم کے لئے اور بیان درکار ہے

بر سَرِ بازار صرافان عِشق
زیر ہر دارِ جوانِ دیگر است

عِشق کا قیمتی سودا رکھنے والے بازار میں ہر سولی کے نیچے ایک جوان اور ہے

دِل خورد زخمے زدیدہ خوں چکد
ایں چُنیں تیر از کَمانِ دیگر است

دِل زَخمی ہے اور آنکھوں سے خوں ٹپکتا ہے،اِس قِسم کا تِیر اور قِسم کی کمان سے چلتا ہے

احمدا تا گُم نہ کر دی ہوش را
کایں جرس از کاروانِ دیگر است

احمد تا کہ تو اپنے ہوش نہ کھو بیٹھے یہ جرس ایک اور قافلے سے ہے

شیخ احمد جام چِشتی رحمتہ اللہ علیہ
خاکپائےوارث ابرارملک وارثی
آپ رح کا فرمان ھے کہ جب چراغ میں تیل اوپر تک آجائے تو دیا بجھ جاتا ھے۔
 

فلسفی

محفلین
کِشتگانِ خنجرِ تسلیم را
ہر زماں از غیب جانِ دیگر است

جو تسلیم و رضا کے خنجر سے قتل ہوتے ہوتے ہیں اُنہیں غیب سے ہر آن ایک نئی جان عطا ہوتی ہے
بے شک، بے شک
جب چراغ میں تیل اوپر تک آجائے تو دیا بجھ جاتا ھے۔
آہ ۔۔۔بڑے لوگوں کی بڑی باتیں۔ کیا جملہ شئیر کیا ہے آپ نے۔ اس کے سحر سے اب کوئی کیونکر نکلے۔
 
گئے وقتوں کی بات ہے کہ ایران کے ایک شہزادے نے اپنے دربار میں محفل مشاعرہ کروایا اس محفل میں ایک شاعر نے بعد از مشاعرہ جس کو صحافیانہ زبان میں آؤٹ آف ریکارڈ گفت و شنید کہتے ہیں ایک مصرعہ طَرح ترپ کے پتے (ٹرمپ کارڈ) کی طرح پھینکا
مصرع طرح کچھ یوں تھا
دُرِ اَبلق کسے کم دیدہ مؤجود

ہر ایک نے طبع آزمائی کی کوشش کی لیکن کوئی بھی مناسب گرہ نہ لگا سکا چونکہ ہمایوں کے دور سے ہی مغلیہ دربار میں ایرانی اثر و رسوخ اپنی جگہ بنا چکا تھا سو یہ مصرع طرح کچھ عرصے بعد ہندوستان بھی پہنچ گیا اس زمانے میں تختِ ہندوستان پر اورنگزیب عالمگیر جلوہ افروز تھا اس کی ایک بیٹی جس کا نام زیب النساء تھا جو کہ مخفی کے تخلص سے متخلص تھی اس کے کانوں میں جب یہ مصرع طرح پڑھا تو اس نے اس پرطبع آزمائی کرنے کی ٹھانی ایک دن وہ اپنے آنکھوں میں سرمہ لگا رہی تھی جیسا کہ انسانی حسیات میں سے ایک حس آنکھ ہے اور جب آنکھ میں سرمہ ڈالا جاتا ہے تو آنکھ میں آنسو آجاتا ہے جب شہزادی نے سرمہ لگا یاتو اس کی آنکھ سے آنسو ایک نکلا اور قطرے کی شکل میں نچلی پلک پر رونق افروز ہوا عین اس وقت سورج نے اپنی جگہ سے تھوڑا سا بلند ہوا اور اس کی ایک کرن آئینے پر پڑی تو قطرے مثل در ابلق(چمک دارموتی) جگمگا اٹھا تو فی البدیہہ شہزادی کے منہ سے نکلا
دُرِ اَبلق کسے کم دیدہ مؤجود
مگر عشق بتاں سرمہ آلود
جب اس شعر کی گونج شہزادے تک پہنچی تو اس نے ملنے کی خواہش ظاہر کی تو شہزادی نے جوابا یہ شعر لکھ کر بھیج دیئے
’درسخن مخفی منم چوں بوئے گل در برگِ گُل
ہرکہ دیدَن میل دارد دَر سخن بیند مرا‘‘
یعنی میں اپنے کلام میں اس طرح پوشیدہ ہوں جس طرح پھول کی خوشبو اس کے پنکھڑیوں میں پوشیدہ ہوتی ہے،
پس جو کوئی مجھ سے ملنا چاہتا ہے تو میرے کلام کو تلاوت کرے۔
مشکل الفاظ کی تشریح:
مصرع طَرح: وہ مصرع جو مشاعرے میں وزن اور قافیہ،ردیف مقررکرنے کے لیے نمونے کے طور پر دیا جاتا ہے سب شرکائے مشاعرہ اسی پر طبع آزمائی کرتے ہیں۔
دُر: موتی
اَبلَق: سفید اور سیاہ (عرف عام میں چَتکَبرا کہتے ہیں)
در ابلق: جوہریوں کی زبان میں ایسے موتی کو کہتے ہیں جس میں ہلکی سی سیاہ لکیر ہو
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہندوستان میں ایک جگہ مشاعرہ تھا۔
ردیف دیا گیا:
"دل بنا دیا"
اب شعراء کو اس پر شعر کہنا تھے۔
سب سے پہلے حیدر دہلوی نے اس ردیف کو یوں استعمال کیا:
اک دل پہ ختم قدرتِ تخلیق ہوگئی
سب کچھ بنا دیا جو مِرا دل بنا دیا
اس شعر پر ایسا شور مچا کہ بس ہوگئی ، لوگوں نے سوچا کہ اس سے بہتر کون گرہ لگا سکے گا؟
لیکن جگر مراد آبادی نے ایک گرہ ایسی لگائی کہ سب کے ذہن سے حیدر دہلوی کا شعر محو ہوگیا۔
انہوں نے کہا:
بے تابیاں سمیٹ کر سارے جہان کی
جب کچھ نہ بَن سکا تو مِرا دل بنا دیا۔
میں آپ کو بتاتا چلوں کہ حیدر دہلوی اپنے وقت کے استاد تھےاور خیام الہند کہلاتے تھے۔ جگر کے کلام کو سنتے ہی وہ سکتے کی کیفیت میں آگئے، جگر کو گلے سے لگایا،ان کے ہاتھ چومے اور وہ صفحات جن پر ان کی شاعری درج تھی جگر کے پاوں میں ڈال دیے۔
اس واقعے سے قبل دہلی کی لال قلعہ میں ایک طرحی مشاعرہ تھا۔ قافیہ " دل" رکھا گیا تھا۔ اُس وقت تقریبا سبھی استاد شعراء موجود تھے۔ان میں سیماب اکبرآبادی اور جگر مرادآبادی بھی تھے۔سیماب نے اس قافیہ کو یوں باندھا۔۔۔۔۔
خاکِ پروانہ،رگِ گل،عرقِ شبنم سے
اُس نے ترکیب تو سوچی تھی مگر دل نہ بنا
شعر ایسا ہوا کہ شور مچ گیا کہ اس سے بہتر کوئی کیا قافیہ باندھے گا؟۔ سب کی نظریں جگر پر جمی ہوئی تھیں۔
معاملہ دل کا ہو اور جگر چُوک جائیں۔۔وہ شعر پڑھا کہ سیماب کو شعر لوگوں کے دماغ سے محو ہوگیا۔
زندگانی کو مرے عقدہء مشکل نہ بنا
برق رکھ دے مرے سینے میں، مگر دل نہ بنا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلی میں ایک جگہ مشاعرہ تھا
مصرع طرح کچھ اسطرح تھا
رگِ گُل سے بلبل کے پَر باندھتے ہیں
کوئی بھی گرہ نہ لگا سکا
آخر ایک دل جلے نے اٹھ کر کہا
سنا ہے دلی میں کچھ الو کے پٹھے
رگ گل سے بلبل کے پر باندھتے ہیں
اور محفل کشت زعفران بن گئی
 
سکُوت لہجہ ، اَدُھوری آنکھیں ، جَمود سوچِیں تِیرا تَصّور ۔۔۔
اَلفاظ بِکھرے ، مِزاج مَدھّم ، ناراض مَوجِیں تِیرا تَصّور ۔۔۔

عَذاب لَمحے ، خِراج آھیں ، بَرات خوشیاں ، جِہات بَرہم ۔۔۔
تَمّنا رُخصَت ، دَفن اُمیدیں ، ب۔ے رَنگ سَوچِیں تِیرا تَصّور ۔۔۔

جَوان رَنجِش و دَرد تازہ ، اُدھار سانسِیں ، جُھلستا آنگن ۔۔۔
وِیران دَامن ، اُجاڑ پہلو ، وُہ تِیری کَھوجِیں تِیرا تَصّور ۔۔۔

سَوال عادت ، جَواب حِکمت ، عِلاج دَرشن ، مریض عُجلت ۔۔۔
جَمال مَقّصُود ، حسن مَفقُود ، نِگاھیں پُوچھیں تِیرا تَصّور ۔۔۔

اَنجان راھیں ، فَریب بانہیں ، نَقاب چِہرے ، سَرد نِگاھیں ۔۔۔
ہَمدرد بارش ، ھے دِلکی خواھش ، پلٹ کے لَوٹے تِیرا تصور ۔۔۔

اَصنام پَتھر ، قُلوب پَتھر ، اَنّائیں پَتھر ، اِنسان پَتھر ۔۔۔
سَکُون دِلبر ، نرم کلامی ، گَداز سوچِیں تِیرا تَصّور ۔۔۔

زوال دُوری ، کمال جِینا ، مُحال سہنا ، وَبال کہنا ۔۔۔
وُہ تلخ لمحے ، زہر لہو میں تریاق چاھیں تِیرا تَصّور ۔۔۔
 
بابا جانی کیسے بندے کو پتہ چلتا ہے کہ اللہ تعالٰی اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وبارک وسلم اولیا اللہ کی نظر کرم اس پر ہو گئی ہے ؟
پُتر جب بندے کی کیفیت بدلنی شروع ہو جائےخیالات بدل جائیں سوچ پہلی سی نا رہے دل میں ایک نا معلوم سی کسک محسوس ہو، نامعلوم سی پیاس بڑھ جائے سینے میں ہلکی ہلکی سی میٹھی درد رہنے لگے سب کے ساتھ رہتے ہوئے بهی سب سے الگ ہو کسی اللہ والے کو دیکھ کر پیاس میں شدت آ جائے حلال حرام کا پتہ چلنا شروع ہو جائے، حق و باطل کی سمجھ آنے لگے احساس زندہ ہولگے اللہ تعالیٰ اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وبارک وسلم کا ذکر اچھا لگنے لگے۔
آنکھیں بهیگی رہنے لگیں اپنے کیئے گناہوں کا احساس ہو جائے اللہ تعالیٰ اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وبارک وسلم کی طرف سوچ اور دهیان جانا شروع ہو جائے
ان ساری باتوں میں سے اگر ایک بات بهی تیرے اندر آ جائے تو سمجھ جاؤ کہ اللہ تعالیٰ اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وبارک وسلم کے دربار میں تمہیں نوٹ کیا جا رہا ہے، تمہاری نگرانی شروع ہو گئی ہے تمہارے بدلنے کا وقت شروع ہو چکا ہے تمہارے اندر حقیقی طلب کا بیج بو دیا گیا ہے اور تمہارا شدت سے واپس پلٹنے کا انتظار ہو رہا ہے تمہارے لئے عرش سجانے کی تیاریاں شروع ہو چکی ہیں.
اللہ کریم رحمت کے ساتھ انتظار کر رہا ہے اس موقع پر فرشتے بھی حیران ہوتے ہیں کہ اتنی تیاریاں کس لئے وہ اللہ سے سوال کرتے ہیں آج عرش پر اتنی سجاوٹ کس لئے تو اللہ مسکرا کر کہتا ہے آج میرا ایک بندہ مجھ سے صلح کرنے کےلئے واپس آ رہا ہے سوال کرنے والے کے چہرے پر سکون سا تها نجات کا سکون تها ملاقات کرنے کی خوشی سی تهی. مسکراہٹ سی تهی
دیکھ جب کوئی اللہ کی طرف پلٹتا ہے تو وہ یہ سمجھ جائے کہ اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وبارک وسلم کی نظر کرم ہو گئی ہے کیونکہ کوئی بھی جو اللہ تک پہنچا ہے وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وبارک وسلم کی نظر کرم ہونے کے بعد ہی پہنچا ہے دوسرے آسان لفظوں میں سمجھ لو کہ پس پردہ اس خوش قسمت بندے کا ہاتھ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وبارک وسلم تهام کر اللہ عزوجل کے سامنے پیش کر دیتے ہیں جہاں وہ کریم اللہ پہلے ہی سے اپنے بندے کی واپسی کا انتظار کر رہا ہوتا ہے. اسی طرح پهر اللہ تعالیٰ بهی اپنی نظر کرم فرما دیتا ہے۔
 
میں نے اپنے بابا جی کو بہت ہی فخر سے بتایا کہ میرے پاس دو گاڑیاں ہیں اور بہت اچھا بنک بیلنس ہے۔ اس کے علاوہ میرے بچے اچھے انگریزی سکول میں پڑھ رہے ہیں۔ عزت، شہرت سب کچھ ہے۔ دنیا کی ہر آسائش ہمیں میسر ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ذہنی سکون بھی ہے۔ میری یہ بات سننی تھی کہ انہوں نے جواب میں مجھے کہا کہ یہ کرم اس لئے ہوا کہ تونے اللّٰہ کے بندوں کو ٹھونگیں مارنا چھوڑ دیں۔ میں نے جب اس بات کی وضاحت چاہی ۔۔۔۔
تو بابا جی نے کہا: اشفاق احمد، میری اماں نے ایک اصیل ککڑ پال رکھا تھا۔ اماں کو اس مرغے سے خصوصی محبت تھی۔ اماں اپنی ایک بک(مٹھی) بھر کے، مرغے کی چونچ کے عین نیچے رکھ دیا کرتی تھیں اور ککڑ چونچ جھکاتا اور جھٹ پٹ دو منٹ میں پیٹ بھر کے مستیوں میں لگ جاتا۔ میں روز یہ ماجرا دیکھا کرتا تھا اور سوچتا یہ ککڑ کتنا خوش نصیب ہے۔ کتنے آرام سے بنا محنت کئے اماں اس کو دانے ڈال دیتی ہے۔ ایک روز میں صحن میں بیٹھا پڑھ رہا تھا۔ حسب معمول اماں آئی اور دانوں کی بک بھری کہ مرغے کو رزق دے۔ اماں نے جیسے ہی مٹھی آگے کی، مرغے نے اماں کے ھاتھ پہ ٹھونگ (چونچ) مار دی۔ اماں نے تکلیف سے ھاتھ کو جھٹکا تو دانے پورے صحن میں بکھر گئے۔ اماں ھاتھ سہلاتی اندر چلی گئی اور ککڑ(مرغا) جو ایک جگہ کھڑا ہو کے آرام سے پیٹ بھرا کرتا تھا، اب وہ پورے صحن میں بھاگتا پھر رہا تھا۔ کبھی دائیں جاتا، کبھی بائیں، کبھی شمال، کبھی جنوب، سارا دن مرغا بھاگ بھاگ کے دانے چگتا رہا۔ تھک بھی گیا اور اس کا پیٹ بھی نہیں بھرا۔ بابا دین محمد نے کچھ توقف کے بعد پوچھا:" بتاؤ مرغے کے ساتھ ایسا کیوں ہوا"؟ میں نے فٹ سے جواب دیا:" نہ مرغا اماں کے ھاتھ پہ چونچ مارتا نہ ذلیل ہوتا"۔
بابا بولا : بلکل ٹھیک، یاد رکھنا اگر اللّٰہ کے بندوں کو حسد، گمان، تکبر، تجس، غیبت، اور احساس برتری کی ٹھونگیں مارو گے، تو اللّٰہ تمہارا رزق مشکل کر دے گا اور پھر تم اس اصیل ککڑ کی طرح مارے مارے پھرو گے۔ تونے اللّٰہ کے بندوں کو ٹھونگیں مارنا چھوڑ دیں رب نے تیرا رزق آسان کر دیا"۔ بابا عجیب سی ترنگ میں بولا پیسہ، عزت، شہرت، آسودگی، اور دکھوں سے نجات کا آسان راستہ سن لو۔ اللّٰہ کے بندوں سے محبت کرنے والا ان کی تعریف کرنے والا ان سے مسکرا کے بات کرنے والا اور دوسروں کو معاف کرنے والا کبھی مفلس نہیں ہوتا۔ آزما کر دیکھ لو۔ اب بندوں کی محبت کے ساتھ ساتھ شکر کے آنسو بھی اپنی منزل میں شامل کر لو تو، امر ہو جائو گے۔ یہ کہہ کر بابا دین محمد تیزی سے مین گیٹ سے باہر نکل گیا اور میں سر جھکائے زار و قطار رو رہا تھا اور دل ہی دل میں رب کا شکر ادا کر رہا تھا۔ اللّٰہ ہمیں آسانیاں عطا فرمائے اور آسانیاں تقسیم کر نے کا شرف بخشے۔ آمین
 
جب مرشد نے وحدت کی شراب کا جام پلایا تو لطف آیا ایسے میں طبیعت لطیف نے ھَل من مزید کا نعرہ مستانہ لگایا تو مرشد نے پورا سبو آگے رکھ دیا پھر جام پر جام تو ایک طرف رہے ساغر وپیالے توڑ کر خُم کے خُم لنڈھائے گئے آخر کار سبو کو خالی کرکے توڑ دیا گیا بقول شاعر کے ترا نام لکھ کر میں نے قلم توڑ دیا ہے۔
شرابِ وحدت نے میری ذات کا نقطہ جو کہ ایک وہمی تعین تھا مکمل طور پر اٹھا دیا تو مجھ پر یہ حقیقت آشکار ہوئی بقول ساغر
دیار پیرِ مُغاں میں آکر یہ اک حقیقت کھلی ہے ساغر
خدا کی بستی کے رہنے والے تو لوٹ لیتے ہیں یار بن کر
کہ میری بُعد و دوئی کا زنگ جو کہ ذات پر حواس خمسہ اور ماحول کے اثر سے لگا تھا کلیتہ مٹ گیا تو مجھے ہر طور حقیقت واحدہ عیاں و ظاہر نظر آئی اور میرا دل شرک ظاہری و باطنی سے منزہ ہوگیا۔
بابا بلہے شاہ فرماتے ہیں توعلموں بس کر یار
العلم نقطہ کثرتھا للجھال سے یہی مراد ہے اور علم قیل و قال کچھ نہیں اور علم حقیقت ہی سب کچھ ہے اگر اس علم حقیقت کے حاصل ہونے سے مندرجہ ذیل عبارات کہہ دے تو تعجب کیسا
منصور انا الحق کہہ دے
بایزید سبحان ما اعظم شانی اور یہ کہہ دے کہ اللہ میرے جبے میں ہے
تعجب تو اس پر ہونا چاہیئے موسیٰ علیہ السلام کو ایک درخت سے انی انا اللہ سنوا دیا۔
 
جب قلب کو غیر سے پاک کردیا تو خود کو ہی اپنا دلربا دیکھا جب وحدتِ حق کا جام بھر کر پی کر اپنا قصہ تمام کرلیا
میں منتظر ہوں ساقی گردش میں جام کردے
ایسی پلا جو میرا قصہ تمام کردے
تو تمام اغیار اپنے خویش لگنے لگے۔ جو خوش نصیب وھو معکم این ما کنتم کا سِر سمجھتا ہے وہ کبھی بھی خود کو حق سے جدا نہیں دیکھتا ہے۔ کل شئی ھالک الا وجہہ جو اس رمز کو پاگیا اسے کوئی صورت غیر نظر نہیں آتی ہے
نام لیکر مرا تم اس کو پکارو تو سہی
اس بھرے شہر میں جس شخص کو تنہا دیکھو(احمد ندیم قاسمی)
کثرت کا بازار ذات نے بپا کرکے اور کھوے سے کھوا چلا کر خود اپنے آپ کو چھپا لیا ہے
بقول بیدم وارثی
کیوں آنکھ مِلائی تھی کیوں آگ لگائی تھی
اب رُخ کوچھپا بیٹھے کرکے مجھے دیوانہ
وھو معکم این ما کنتم(الحدید:4)
وہ تمہارے ساتھ ہے جہاں تم ہو
کل شئی ھالک الا وجہہ (القصص:88
ہر چیز ہلاک ہے سوائے اس کے چہرے کے
 
ازروئے تحقیق فی الوجود سے یہ ثابت ہوگیا کہ عدمِ مؤجود ہی نہیں تو پھر کون ان صورتوں میں ظاہر ہورہا ہے۔

جب ہر عینِ ثابتہ علمی صورت ہے اورعینِ ثابتہ ہے عالم مؤجود کا، یعنی اعیان خارجہ کا نور ہر صفت عینِ ذات ہے غیر ذات نہیں اور نہ ہی زائد برذات ہے تو اب میں تمہیں کیا کہوں کہ کھل کر کہنے کی مزید گجنائش نہیں ہے جو ذات باطن میں مضمر ہے جہاں عقل و ادراک عاجز ہے، وہی ظاہر عین ظاہر میں ہر طرف جلوہ گر ہے۔

جب ذاتِ واحد کے بھید سے بندہ محرم راز ہوجاتا ہے تو پھر نفی اثبات کی حاجت نہیں رہتی ہے۔

اے بندے تو خود ہی اپنا مطلوب ہے
تو خود حجاب خودی حافظ از میان برخیزد
خوش آن کسے کہ در ایں راہ بے حجاب رود
پس تفکراتِ ذاتِ خود کر، تیرا قلب ہر لمحے ایک نئی شان میں جلوہ گری کررہا ہے جس سے اسماء و صفات کے آثار ظاہر ہورہے ہیں۔
ڈھونڈتے آپ سے اُس کو پرے
شیخ صاحب چھوڑ گھر باہر چلے۔

مل گئے وہ تو پھر کس کو ڈھونڈتا ہوں میں
 
رات جب دوست کے ساتھ راز و نیاز ہوئے تو دوست نے کہا اپنے آپ میں جھانک ، تیرے اندر طلسم ذات مضمر ہے میں نے کہا وہ کیسے تو آواز آئی وَفِي أَنْفُسِكُمْ ۚ أَفَلَا تُبْصِرُونَ ۔
دوست نے کہا یاد کر جب میں نے فرشتوں کو مخاطب کرکے کہا تھا ونفخت فیہ من روحی تب میں نے غور سے اپنے اندر دیکھا اور تدبر کیا تو جسد خاکی میں جو کہ لطیفہ ذاتِ ترابی ہے اس میں حق ہی تو اپنی ہستی کو ظاہر کررہا ہے ایسے میں دور سے لحنِ داؤدی میں اِس صدا نے کانوں میں شہد گھولا نحن اقرب الیہ من حبل الورید تو میں مثل طاؤس وجد میں آکر رقصاں ہوا جب جوڑ جوڑ کھل گئے تو کشف ہوا کہ حق تو تم سے جدا ہی نہیں تو بھلے مانس تم ایسے ہی توہمات و اوہام کے تاریک جنگلوں میں بھٹک رہے ہو تو دفعتاً نروان حاصل ہوگیا اور قلب نے وھومعکم این ما کنتم کی شہادت دی اسی اثناء میں مطرب الست نےکل یوم ھوا فی الشان کا ساز چھیڑا تو میرے وجود عنصری میں عجیب و غریب کیفیات پیدا ہوتی چلی گئیں پس کیا بیان کروں کہ میرا وجود ہی صوت الرحمان بن گیا۔

وَفِي أَنْفُسِكُمْ ۚ أَفَلَا تُبْصِرُونَ میں تمہاری جان میں پوشیدہ ہوں

سورہ الذاریات :21

ونفخت فیہ من روحی:ص:72 جب میں اپنی روح میں سے اس میں کچھ پھونک دیا

نحن اقرب الیہ من حبل الورید :ق:16 میں تماری شاہ رگ سے بھی زیادہ قریب ہوں

وھو معکم این ما کنتم(الحدید:4)
وہ تمہارے ساتھ ہے جہاں تم ہو

کل یوم ھو فی الشان:الرحمن :29 ہرروز ایک نئی شان سے جلوہ گر ہوتا ہے
 

زیک

تکنیکی معاون
اس لڑی کا عنوان بھی بدل کر اب “عظیم اقوال” کر دینا چاہیئے
 
Top