روحانی اقوال

عظیم اللہ قریشی نے 'متفرقات' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏ستمبر 26, 2010

  1. ثمین زارا

    ثمین زارا محفلین

    مراسلے:
    74
    اللہ اللہ ۔ ۔
     
  2. ثمین زارا

    ثمین زارا محفلین

    مراسلے:
    74
    بالکل ٹھیک کہا ۔ ۔
     
  3. ثمین زارا

    ثمین زارا محفلین

    مراسلے:
    74
    بےشک
     
  4. ثمین زارا

    ثمین زارا محفلین

    مراسلے:
    74
    شیخ سعدی کی باتیں ۔ ۔
     
  5. ثمین زارا

    ثمین زارا محفلین

    مراسلے:
    74
    مثبت سوچ اور مثبت کردار ہی کامیابی ہے
    مثبت سوچ اور مثبت کردار ہی کامیابی ہے
     
  6. الف نظامی

    الف نظامی لائبریرین

    مراسلے:
    16,168
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Amused
    دانش مندوں کی صحبت صوفیوں کے لیے مناسب نہیں ہے۔ یہ لوگ ہر وقت تشویش اور تعلق میں رہتے ہیں اور یہ لوگ ناسودہ اور غیر مطمئن لوگ ہیں۔ جو ان کے ساتھ رہے گا وہ بھی ناسودہ رہے گا
    خواجہ فضیل عیاض نے ایک مرتبہ گھر کرایہ پر لینے کے لیے خادم کو بھیجا اس سے کہا کوشش کرنا ہمسایہ دانش مند اور اسکالر وغیرہ نہ ہوں
    (جوامع الکلم ملفوظات خواجہ سید محمد حسینی بندہ نواز گیسودراز ، صفحہ 142)
     
  7. الف نظامی

    الف نظامی لائبریرین

    مراسلے:
    16,168
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Amused
    میاں شیر محمد شرقپوری اور طاعون زدہ میت کا غسل اور کفن دفن
    ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ شرقپور شریف میں پہلی مرتبہ جب طاعون کی وبا پھیلی تھی ، ایک آدمی طاعون سے فوت ہو گیا۔ لوگ وحشت میں آئے۔ اس میت کو چھوڑ کر بھاگ گئے۔ حضرت میاں صاحب علیہ الرحمہ کو اس کی اطلاع ملی تو اپ اپنے ہمراہ میاں محمد الدین صاحب پیر بھائی کو لے کر وہاں تشریف لے گئے اور خود اس کی میت کی چارپائی اٹھائی۔ اگر مسجد میں برائے غسل داخل ہوتے تو مسجد والے اندر داخل نہ ہونے دیتے اور جب باہر کسی کنوئیں پر لے جاتے تو زمیندار لاٹھیاں اٹھا لیتے۔ چناچہ ایک کھیت میں چارپائی رکھ کر وہاں نہلانے والا تختہ منگوایا اور پانی کے مٹکے منگوائے۔ اس میت کی برادری کے لوگ اور رشتہ دار سب دور دور کھڑے تھے۔ قریب اس کے کوئی بھی نہیں آتا تھا۔ میاں محمد الدین پانی ڈالتا جاتا اور آپ میت کو غسل دے رہے تھے۔ بعد غسل اسے کفن دیا گیا۔ پھر تمام لوگوں کے روبرو اسے چارپائی پر رکھا اور میت کی پیشانی پر آپ نے بوسہ دیا اور فرمایا ، اب تو آ جاو۔ خیر پھر لوگ قریب آگئے۔ اس کا جنازہ وغیرہ کر کے لحد میں بھی آپ نے خود اتارا۔ دفن کر کے شرقپور شریف واپس تشریف لے آئے۔
    (کتاب خزینہ معرفت ، صفحہ 194 ، مولفہ صوفی محمد ابراہیم)
     
  8. الف نظامی

    الف نظامی لائبریرین

    مراسلے:
    16,168
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Amused
    صدر الدین ابوالفتح سید محمد حسینی گیسو دراز چشتی قدس اللہ سرہ العزیز فرماتے ہیں کہ
    میں نے اپنے پیرو مرشد کو یہ رباعی بار بار پڑھتے سنا ہے
    صوفی شوم و خرقہ کنم فیروزہ
    وردے سازم ز درد تو ہر روزہ
    زنبیل بدستِ دل دیوانہ دہم
    تا از درِ تو درد کند دریوزہ
    یعنی ماسوائے اللہ سے دل کو پاک و صاف کر کے اور ایک فیروزی رنگ کا خرقہ پہن کر فقیروں کی صورت بنا کر روز تیری عشق و محبت کا راگ گاتا رہوں اور اس دیوانے دل کے ہاتھ میں ایک جھولی دے دوں کہ تیرے دروازے پر ڈہئی دے کر عشق و محبت کی بھیک مانگتا رہے۔
    (فوائدِ حضرت بندہ نواز ؒ ماخوذ از مکتوباتِ حضرت خواجہ بندہ نواز گیسو دراز ، صفحہ 26 )
     

اس صفحے کی تشہیر