شفیق خلش :::::: رنجشوں کو دِل میں تم اپنے جگہ دینے لگے:::::: Shafiq Khalish

طارق شاہ

محفلین


proxy.php

غزل
شفیق خلؔش

رنجشوں کو دِل میں تم اپنے جگہ دینے لگے
غم ہی کیا کم تھے جو اَب یوں بھی سزا دینے لگے

خواہشیں دِل کی دبانےسے کہیں دبتی ہیں کیا
بُھول کرمیری وفاؤں کو جفا دینے لگے

یوں تمھاری یاد نے فُرقت کا عادی کردِیا
ہجرکےغم بھی بالآخر اب مزہ دینے لگے

کیا یہ تجدِیدِ محبّت ہی عِلاجِ دِل بھی ہے
آپ بیمارِ محبّت کو دَوا دینے لگے

باغ میں میرے سُلگتے آشیاں کو دیکھ کر
"جن پہ تکیہ تھا وہی پتے ہَوا دینے لگے"

کیوں ہُوئے مرنے پہ راضی، بات آخر کیا ہُوئی
کیا کفن کو وہ تمہیں اپنی قبا دینے لگے

زندگی بھر جن کو سُننے کی تڑپ دِل میں رہی
اُٹھ گئے جب ہم جہاں سے تب صدا دینے لگے

رزقِ غم کی یُوں ہُوئی دُنیا میں قِسمت سے تلاش
سب کے سب اُس کو ہمارا ہی پتہ دینے لگے

کیا نہ دعویٰ عِشق میں، حاصل سے پہلے تھا تمھیں
کیا طبیعت بھر گئی جو، یُوں سزا دینے لگے

مُنتظر جب ہم رہے، آیا نہ اُن کو کُچھ خیال !
بُجھ گئے جب دِل کے جذبے تب ہَوا دینے لگے

اِک اگر ہو، تو کریں شکوہ ہم اُس کی ذات سے
ہم کو سارے ہی خلش مِل کر سزا دینے لگے

شفیق خلؔش
 
Top