ابن انشا دیکھ ہمارے ماتھے پر یہ دشتِ طلب کی دھول میاں - ابن انشا

NAZRANA نے 'پسندیدہ کلام' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏جولائی 16, 2005

  1. NAZRANA

    NAZRANA محفلین

    مراسلے:
    36
    دیکھ ہمارے ماتھے پر یہ دشتِ طلب کی دھول میاں
    ہم سے عجب ترا درد کا ناتا، دیکھ ہمیں مت بھول میاں

    اہلِ وفا سے بات نہ کرنا، ہوگا ترا اصول میاں
    ہم کیوں چھوڑیں ان گلیوں کے پھیروں کا معمول میاں

    یونہی تو نہیں دشت میں پہنچے، یونہی تو نہیں جوگ لیا
    بستی بستی کانٹے دیکھے، جنگل جنگل پھول میاں

    یہ تو کہو کبھی عشق کیا ہے ؟ جگ میں ہوئے ہو رُسوا بھی؟
    اس کے سِوا ہم کُچھ بھی نہ پوچھیں، باقی بات فضول میاں

    نصب کریں محرابِ تمنّا، دیدہ و دل کو فرش کریں
    سُنتے ہیں وہ کُوئے وفا میں آج کریں گے نزول میاں

    سُن تو لیا کسی نار کی خاطر کاٹا کوہ، نکالی نہر
    ایک ذرا سے قصے کو اب دیتے ہو کیوں طُول میاں

    کھیلنے دیں انہیں عشق کی بازی، کھیلیں گے تو سیکھیں گے
    قیس کی یا فرہاد کی خاطر کھولیں کیا اسکول میاں

    اب تو ہمیں منظور ہے یہ بھی، شہر سے نکلیں، رُسوا ہوں
    تجھ کو دیکھا، باتیں کرلیں، محنت ہوئی وصول میاں

    انشاء جی کیا عذر ہے تم کو، نقدِ دل و جاں نذر کرو
    روپ نگر کے ناکے پر یہ لگتا ہے محصول میاں

    کلامِ ابنِ انشاء
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 9
  2. نبیل

    نبیل محفلین

    مراسلے:
    16,748
    جھنڈا:
    Germany
    موڈ:
    Depressed
    نذرانہ صاحب، اتنی خوبصورت شاعری پوسٹ کرنے پر ایک بار پھر میری جانب سے شکریہ۔ میں امید کرتا ہوں کہ کبھی نہ کبھی ایسی صورت نکل آئے گی کہ شاعری زیادہ بہتر طور پر فارمیٹ کی جا سکے گی۔ اگر کوئی صاحب اس ضمن میں ویب ڈیزائن کے کوئی ٹرکس جانتے ہیں تو براہ کرم ہمیں بھی اس سے آگاہ کریں۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  3. محمد وارث

    محمد وارث لائبریرین

    مراسلے:
    26,564
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Depressed
    واہ واہ کیا خوبصورت غزل، کیا لاجواب اشعار ہیں!

    (نبیل صاحب کی پوسٹ کی تاریخ دیکھ لیجیئے گا، پلیز) :)
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 3
  4. امیداورمحبت

    امیداورمحبت محفلین

    مراسلے:
    3,074
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Relaxed
    بہت اچھا کلام ہے ۔ ۔ ۔
     
  5. مرک

    مرک محفلین

    مراسلے:
    451
    واقعی بہت عمدہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
     
  6. زبیر مرزا

    زبیر مرزا محفلین

    مراسلے:
    5,997
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Shh
    دیکھ ہمارے ماتھے پر یہ دشتِ طلب کی دھول میاں​
    ہم سے عجب ترا درد کا ناتا، دیکھ ہمیں مت بھول میاں​
    اہلِ وفا سے بات نہ کرنا، ہوگا ترا اصول میاں​
    ہم کیوں چھوڑیں ان گلیوں کے پھیروں کا معمول میاں​
    یونہی تو نہیں دشت میں پہنچے، یونہی تو نہیں جوگ لیا​
    بستی بستی کانٹے دیکھے، جنگل جنگل پھول میاں​
    یہ تو کہو کبھی عشق کیا ہے ؟ جگ میں ہوئے ہو رُسوا بھی؟​
    اس کے سِوا ہم کُچھ بھی نہ پوچھیں، باقی بات فضول میاں​
    نصب کریں محرابِ تمنّا، دیدہ و دل کو فرش کریں​
    سُنتے ہیں وہ کُوئے وفا میں آج کریں گے نزول میاں​
    سُن تو لیا کسی نار کی خاطر کاٹا کوہ، نکالی نہر​
    ایک ذرا سے قصے کو اب دیتے ہو کیوں طُول میاں​
    کھیلنے دیں انہیں عشق کی بازی، کھیلیں گے تو سیکھیں گے​
    قیس کی یا فرہاد کی خاطر کھولیں کیا اسکول میاں​
    انشاء جی کیا عذر ہے تم کو، نقدِ دل و جاں نذر کرو​
    روپ نگر کے ناکے پر یہ لگتا ہے محصول میاں​
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  7. محمد وارث

    محمد وارث لائبریرین

    مراسلے:
    26,564
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Depressed
    شکریہ زحال مرزا صاحب یہ غزل پوسٹ کرنے کیلیے۔

    چونکہ یہ غزل پہلے پوسٹ ہو چکی تھی سو محفل پالیسی کے مطابق مجھے آپ کا موضوع ضم کرنا پڑا، افسوس۔۔۔

    خیر، امید ہے پوسٹ کرتے ہیں گے۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  8. زبیر مرزا

    زبیر مرزا محفلین

    مراسلے:
    5,997
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Shh
    بہت شکریہ جناب اور مکررپوسٹ کےلئیے معذرت
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  9. محمد وارث

    محمد وارث لائبریرین

    مراسلے:
    26,564
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Depressed
    معذرت کی بات نہیں ہے جناب، خوش رہیے۔
     
  10. فرحان محمد خان

    فرحان محمد خان محفلین

    مراسلے:
    2,144
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cheeky
    غزل
    دیکھ ہمارے ماتھے پر یہ دشتِ طلب کی دُھول میاں
    ہم سے عجب ترا درد کا ناطہ، دیکھ ہمیں مت بُھول میاں

    اہلِ وفا سے بات نہ کرنا، ہو گا ترا اصُول میاں
    ہم کیوں چھوڑیں ان گلیوں کے پھیروں کا معمُول میاں

    یُونہی تو نہیں دَشت میں پہنچے، یُونہی تو نہیں جوگ لیا
    بستی بستی کانٹے دیکھے، جنگل جنگل پُھول میاں

    یہ تو کہو کبھی عشق کیا ہے؟ جگ میں ہوئے ہو رُسوا بھی؟
    اس کے سوا ہم کچھ بھی نہ پُوچھیں، باقی بات فضُول میاں

    نصب کریں محرابِ تمنّا، دیدہ و دل کو فرش کریں
    سُنتے ہیں وہ کُوئے وفا میں آج کریں گے نزُول میاں

    سُن تو لیا کسی نار کی خاطر، کاٹا کوہ، نکالی نہر
    ایک ذرا سے قِصّے کو، اب دیتے کیوں ہو طُول میاں

    کھیلنے دو انہیں عشق کی بازی کھیلیں گے تو سیکھیں گے
    قیس کی یا فرہاد کی خاطر، کھولیں کیا اسکول میاں

    اب تو ہمیں منظُور ہے یہ بھی شہر سے نِکلیں، رُسوا ہوں
    تُجھ کو دیکھا، باتیں کر لیں، محنت ہوئی وصُول میاں

    اِنشاؔ جی کیا عُذر ہے تم کو نقد دل و جاں نذر کرو
    رُوپ نگر کے ناکے پر، یہ لگتا ہے محصُول میاں
    ابنِ انشا
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1

اس صفحے کی تشہیر