دیوانِ میر حسن

شمشاد

لائبریرین

ہے جاے حذر ڈریو ذرا چشم بتان سے
ہر پل مین نیا فتنہ اک فتنہ اک اُٹھتا ہے یہان سے

دل پاس نہین میرے نہ کچھ کہ مجھے ناصح
اسوقت تو بیزار ہون مین اپنی بھی جان سے

وان کی نہ سرائت نہ یہان آگ بجھائی
کچھ ہمکو تو حاصل نہوا اشک روان سے

اُٹھنا ترے کوچہ ہی سے دشوار ہے ورنہ
آسانی تو اُٹھنا ہے بہت ہمکو جہان سے

کسکا کرین ہم شکوہ کہ چون شمع یہان تو
جو سر پہ بلا آئی سو اپنی ہی زبان سے

آنا تو یہانکا کیا موقوف ہے تمنے
پر خیر و خبر اپنی تو بھیجا کرو وان سے

نہ رنگ ہی مُنھ پر ترے نہ دل ہے ترے پاس
سچ کہیو حسن آج تو آتا ہے کہان سے​
 

شمشاد

لائبریرین

کیونکربھلا لگے نہ وہ دلدار دور سے
دونی بہار دیوے ہے گلزار دور سے

نزدیک ہی سے شرم ہے اتنا تو ہو بھلا
دیکھا کرین کبھی کبھی دیدار دور سے

جی تو بھرا نہ اپنا کسی طرح کیا ہوا
دیکھا اگر اُسے سرِ بازار دور سے

بے اختیار اُٹھتی ہے بنیاد بیخودی
آتی ہے جب نظر تری دیوار دور سے

نردیک ٹُک بٹھا کے حسن کا تو حال دیکھ
آیا ہے قصد کر کے یہ بیمار دور سے​
 

شمشاد

لائبریرین

الٰہی یا تو یہ بیتاب دل سنبھل جاوے
نہین تو خون ہو آنکھون سے اب نکل جاوے

کٹی ہو جسکی سدا عمر وصل مین یارو
کہو تو ہجر مین کس طرح وہ بہل جاوے

یہ تو ہی ہے جو اثر تجھکو کچھ نہین ورنہ
ہمارے نالون سے تو سنگ بھی پگھل جاوے

مین اس خرابی سے مارا پڑا ہون رستے مین
جو تو بھی گذرے ادھر سے تو ہاتھ مل جاوے

نہ تڑپیو تو دمِ قتل اے حسن ہرگز
کہ دست یار مبادا کہین نہ چل جاوے​
 

شمشاد

لائبریرین

ہم باغبان کے ہاتھون یون اُجڑے اس چمن سے
آوارہ ہو کے نکلے جیسے کوئی وطن سے

ہے نقشِ پاےِ ناقہ نقشِ جبین سے باہم
محمل کے ساتھ شاید نکلا ہے قیس بن سے

سینے سے آہ دل سے نالے جگر سے افغان
نکلے یہ سب و لیکن نکلی نہ جان تن سے

پھر پھر کے مصر ہی مین پھرتی ہے کیا صبا تو
کنعان کو بھی تو مہکا ٹُک بوے پیرہن سے

تکرار ہر سخن پر جی چاہتا ہے کیجے
پائی ہے بسکہ لذت ہمنے ترے سخن سے

گل کا نہ رونہ اتنا غنچہ کا مُنھ مثل پھر
دین اُس رخ و دہن کو کس رو سے کس دہن سے

بیٹھی ہے کیا بنی یان خسرو کے ساتھ شیرین
بگڑی ہے بیطرح وان تیشہ سے کوہکن سے

ہرگز نہ ہوش آیا اُسکو کبھی عزیزان
بیہوش ہو کے نکلا جو اُسکی انجمن سے

ہنستے ہو بولتے ہو خوش پھرتے ہو سبھی سے
بیزار ہو رہے ہو کیون اسقدر حسن سے​
 

شمشاد

لائبریرین

تڑپنے کی نہین نکلی ہے حسرت تیرے بسمل سے
ٹک اک پھر دیکھ لے مڑ کر ذرا کہدیجیو قاتل سے

مین وہ غربت زدہ داماندہ رہ ہون کہ جون کوئی
وطن سے دور ہو ایدھر اُدھر ہو دور منزل سے

کیا ہے حسن کے پرتو نے کسکے بحر کو مضطر
یہ موجین اپنا سر پٹکے ہین کیون پھر پھر کے ساحل سے

زمین سے اب غبار اپنا بھی اُٹھ سکتا نہین یا رب
نہین معلوم ایسے گر گئے ہین کسکے ہم دل سے

کہون کیا ناتوانی کو کہ اُس سے دور رکھتی ہے
برنگِ نقش پا ہر ہر قدم پر اُسکے محمل سے

گئے وہ دن جو بالین سے اُتھا کر سر پٹکتے تھے
جو اب چاہین کہ کروٹ لین تو لیجاتی ہے مشکل سے

حسن کچھ فکر جلدیسے کرو وانکے بھی جانے کا
رہو گے کب تلک بیٹھے یہان تم آہ غافل سے​
 

شمشاد

لائبریرین

رہنے ندیگا اُس بن یہ دل تو ایکدم بھی
کیون روٹھکر ہم اپنا کھو دین عبث بھرم بھی

کیونکر تری گلی سے وہ ناتوان جاوے
طاقت نہووے جسکو چلنے کی اِک قدم بھی

کس بات مین ہو تسکین اُسکی وہ کیونکہ جیوے
شادی کے بدلے جسکو ہرگز ملے نہ غم بھی

اپنے تئین اُٹھائے بیٹھے ہین جو جہان سے
ہے اُنکے تئین برابر ہستی بھی اور عدم بھی

کھا تو قسم کہ پھر بھی آؤنگ گو نہ پھر آ
بخشے ہے دل کو تسکین جھوٹی تری قسم بھی

بلبل نے تو چمن مین نالے کیے ہزارون
اُس گل کے سامنے تو مارا نہ ہمنے دم بھی

اللہ رے حسن اُسکا اللہ رے اُسکی خوبی
ساری خدائی مین ہےہ بس ایک وہ صنم بھی

ہو مہربان جسپر دو حکم قتل اُسکو
دنیا سے ہے نرالا کچھ آپ کا کرم بھی

یہ حال وہ نہین ہے جو ایک دن مین لکھیے
مشکل ہے اِس بیان کا کرنا بہت رقم بھی

بس دل لکھون کہانتک احوال مختصر کو
ہاتھون سے میرے ابتو نالان ہوے قلم بھی

تو عشق مین پھرے ہے دیوانہ جون حسن اب
اک دن اسی طرح سے پھرتے تھے خوار ہم بھی​
 

شمشاد

لائبریرین

ترے بغیر تو نخل امیدِ بار ندے
جو تو نہووے چمن مین تو گُل بہار ندے

نپاوے بادیہ گر دیکا وہ مزہ جبتک
خراش آبلہ پا کو نوکِ خار ندے

بہارِ لالہ نہو گلشن گریبان مین
بجاے آب جو خون چشمِ اشکبار ندے

ذرا ٹھہر تو سہی دل ملیگا یار ترا
تو اپنے ہاتھ سے اپنا بھی اختیار ندے

خدنگِ غمزہ کے لگنے کی دلکو ہو نہ خبر
اگر یہ نالہ دل سینہ مین پُکار ندے

کہا نہین مین تجھے کُچھ سنیگا مجھسے بھی
مجھے تو گالیان غیرون مین بار بار ندے

حسن بساط مین دل ہے یہ تیری اے جانباز
تو من چلا ہے نہایت کہین یہ ہار ندے​
 

شمشاد

لائبریرین

ہزار حیف کچھ اپنی ہمین خبر نہوئی
تمام عمر تھکے پر مہم یہ سَر نہوئی

شب فراق مین رو رو کے مر گئے آخر
یہ رات جیسی تھی ویسی رہی سحر نہوئی

ترے خدنگ نگہ کے مقابل اے ظالم
سواے سینہ کے میرے کوئی سپر نہوئی

نہ پہونچی عرش کے نزدیک آہ گو لیکن
صبا کی طرح زمین پر تو دربدر نہوئی

وہ کونسی گئی شب ہجر کی کہ جسمین حسن
سرشک خون سے بالین تمام تر نہوئی

جو ہے وہ تیری چشم کا بادہ پرست ہے
القصہ اپنے حال مین ہر ایک مست ہے

مین اپنے دل مین کیونکہ تجھے عیش راہ دون
یانتو کسی کے درد و الم کی نشست ہے

دل سے کہ یا کسی کے نظر سے گرا کہین
کیون آہ میرے دیدہ دل پر شکست ہے

بیٹھے ہین جبتلک تبھی تک دور ہے عدم
چلنے کو جب ہوے تو پھر اک دم کی جست ہے

اُتھ جائین گر یہ بیچ سے اپنے نکات وہم
پھر ایک شکل دیکھنے مین نیست ہست ہے

اس ملک دل کا خانہ مشکین رقم کی طرح
تحریک زلف ہی سے ترے بندوبست ہے

ہے اسکی در نشینی مین رتبہ ترا حسن
ازبسکہ خاکساری مین تو سب سے پست ہے​
 

شمشاد

لائبریرین

نہ آہِ حزین ہے نہ دلِ غمزدہ یان ہے
جلتا ہے یہ اک سوختہ اور اُسمین دھوان ہے

پھر دل کی خبر پوچھیو ناصح ذرا چپ رہ
کیا جانئیے اسوقت مرا دھیان کہان ہے

سوزش کو مری پوچھیے آہون سے کہ چون شمع
جو سوز مرے دل مین ہےہ سو منھ پہ عیان ہے

محشر پہ بھی امید نہین وصل کی ہمکو
تیری تو ملاقات نہ یان ہے نہ وہان ہے

ابرو و مژہ غمزون کو اُسکے کہون کیا کیا
جس طرح کہ صحبت مجھے اب انسے یہان ہے

سینہ ہی اِدھر سر ہے کلیجہ ہے ہمارا
برچھی ہے اُدھرتیغ ہے اور تیر و کمان ہے

کیا جانیئے کیا گذری حسن پر نہین معلوم
کچھ کل سے وہ خاموش ہے اور اشک فشان ہے​
 

شمشاد

لائبریرین

کیا جانئیے کہ شمع سے کیا صبح کہ گئی
اک آہ کھینچ کر جو وہ خاموش رہگئی

یانتک تو ضعف تھا کہ جدھر کو نگہ گئی
مانند نقش پا کے وہین لگ کے رہگئی

تعمیر ہونے پائی نہ اس دل کے گھر کی آہ
بنتے ہی بنتے کچھ یہ عمارت تو ڈہگئی

لیجائے جیسے غنچہ پژمردہ کو صبا
یون آہ لیکے لختِ جگر تہ بتہ گئی

سینہ کے دل جگر کے دہکتے ہین سارے داغ
کیا جانے آہ آج یہ کیا باد بہ گئی

رنج و بلا و جور و ستم داغ و درد و غم
کیا کیا نہ دلکے ہاتھون مری جان سہگئی

بیٹھے تھے تھک کے چرخ کے ہاتھون سے ایک جا
افسوس اپنے ہاتھون سے وہ بھی جگہ گئی

ابتو کچھ اِن دنون مین وہ رہتا ہے مہربان
شاید کہ دن پھرے وہ شبِ روسیہ گئی

ناخن نہ پہونچا آبلہ دل تلک حسن
ہم مر گئے یہ ہمسے نہ آخر گرہ گئی​
 

شمشاد

لائبریرین

نہ ہم مین اب توان ہے نہ اس دل مین تاب ہے
اور عشق اب تلک وہی گرمِ عتاب ہے

بیتابی دل کی دیکھے کہ جلنا جگر کا ہاے
عاشق کی زندگی بھی سراسر عذاب ہے

کل تک تو آس بھی ترے بیمار عشق کی
پر آج بیطرح کا اُسے اضطراب ہے

مین نے کہا کہ داغ مرے دل کے ٹک تو گِن
تیوری چڑھا کے کہنے لگا بیحساب ہے

ہم سادہ لوحی اپنی سے یان منتظر ہین اور
مدت سے وان جواب کو خط کے جواب ہے

شیطان رقیب ڈریو پلٹنے سے اسکے تو
یہ آہ آتشین مری تیرِشہاب ہے

ملنا ہمین سے ایک فقط ہے گنہ تمھین
اورون کے ساتھ پھرنا تو روز اُٹھ ثواب ہے

اُلجھا ہے اُسکی زلف مین شانہ مگر کہین
جو اس طرح سے دل کو مرے پیچ و تاب ہے

کیا جی ہے ابر کا کہ جو یون روے متصل
شاید ترے حسن کا یہ چشم پر آب ہے​
 

شمشاد

لائبریرین

کوئی نہین کہ یار کی لاوے خبر مجھے
اے سیل اشک تو ہی بہا دے اُدھر مجھے

یا صبح ہو چکے کہین یا مین ہی مر چکون
رو بیٹھون اس سحر ہی کو مین یا سحر مجھے

نہ دیر ہی کو سمجھون ہون نہ کعبہ یہ ترا
پھرتا ہے اشتیاق لئے گھر بگھر مجھے

منت تو سر پہ تیشہ کی فرہاد تب مین لون
جب سر پٹکنے کو نہو دیوار و در مجھے

کیا جاؤن جاؤن کرتا ہے جانان تو بیٹھ جا
مین دیکھون تجھکو اور تو دیکھ اک نظر مجھے

پھر کوئی دم مین آہ خدا جانے یہ فلک
لیجاوے کس طرف کو تجھے اور کدھر مجھے

رونا کبھی جو آنکھون بھی دیکھا نہ تھا حسن
سو اب فلک نے دل کا کیا نوحہ گر مجھے​
 

شمشاد

لائبریرین

کل جو تم ایدھر سے گذرے ہم نظر کر رہگئے
جی مین تھا کچھ کہیے لیکن آہ ڈر کر رہگئے

جب نکچھ بس چل سکا اپنا تو پھر حسرت سے ہائے
دیکھکر مُنھ کو ترے اک آہ بھر کر رہگئے

سر بہت پٹکا قفس مین اپنا ہمنے ہمصفیر
کوئی نہ پہونچا داد کو فریاد کر کر رہگئے

نامہ بر کی یا کبوتر کی کہ دل کی رکھیے آس
اپنے تو یان سے گئے جو وان وہ مر کر رہگئے

کل کسی کا ذکر خیر آیا تھا مجلس مین حسن
اس دل بیتاب پر ہم ہاتھ دھر کر رہگئے​
 

شمشاد

لائبریرین

نالون سے کیا حسن کے تو اسقدر رُکے ہے
اک آدھ دم کو پیارے جھگڑا ہی یہ چکے ہے

غمزہ نگہ کرشمہ کس کس کو کہیے ہمدم
جو شے ہے لوٹنے کو دل ہی پہ آ جھکے ہے

کس کسکی مین خبر لون آتش سے غم کی یارب
ایدھر تو دل جلے ہے اودھر جگر پھکے ہے​
 

شمشاد

لائبریرین

صبا سے یہ کہا رو رو کے کل گلشن مین بلبل نے
کہ میرے آہ و نالے پر نرکھا گوش ٹک گُل نے

نکچھ شکوہ ہے دل ہی سے نکچھ جھگڑا ہے طالع سے
یہانتک کام پہونچایا مرا تیرے تغافل نے

صبا کوچے سے تیرے ہو کے آئی ہے ادھر شاید
کہ عقدے غنچہ دل کے لگے کچھ خود بخود کھلنے

کوئی روکے تمھین کس کس طرف ہم ہاے ششت رہین
برنگِ کعبتین ابتو لگے تم سب طرف ڈھلنے

پھنسایا ہم کو دل ہی نے غرض دامِ محبت مین
نہ تیرے جعد و گیسو نے نہ تیرے زلف و کاکل نے

لے آئے ناز پر تجھکو نیاز و عبز ہی میرے
جفا و جور سکھلایا تجھے میرے تحمل نے

حسن یانتک ہوا دیوانہ تیرے عشق مین آخر
کہ اس سے رفتہ رفتہ بات کرنی چھوڑ دی کُل نے​
 

شمشاد

لائبریرین

وصل کا عیش کہان پر غمِ ہجران تو ہے
لبِ خندان تو نہین دیدہ گریان تو ہے

آرزو اور تو کچھ ہمکو نہین دنیا مین
ہان مگر ایک ترے ملنے کا ارمان تو ہے

حال کیا پوچھے ہے حیرتکدہ دھر کا دیکھ
آئنہ یانکا ہر اک دیدہ حیران تو ہے

دام سے خط کے چھٹا دل تو نہین خاطر جمع
قید کرنے کو ابھی زلف پریشان تو ہے

لیچلا دل کو جو وہ شوخ تو ہمدم نہ بُلا
آ پھی آویگا وہ ہم پاس ابھی جان تو ہے

گو نہو عیش کا اسباب میسر تو نہو
واسطے دل کے غم و درد کا سامان تو ہے

ایک ہی دم مین کیا سر کو جُدا خوب کیا
تیغ کا تیری یہ سر پر مرے احسان تو ہے

گو ہوے جیب کے ٹکڑے تو نہین غم ہمکو
چاک کرنے کو ہمارا ابھی دامان تو ہے

جو پڑے عشق کی آفت مین وہی جانے حسن
خلق کے کہنے مین یون عاشقی آسان تو ہے​
 

شمشاد

لائبریرین

آنکھون سے خون اپنے یہ کہتا نہی ن نجائے
پر ساتھ اُسکے لپٹا ہوا دل کہین نجائے

اتنی تو چاہیےتجھے پاس شکستہ دل
جو آوے تیرے یان سو وہ اندوہگین نجائے

صبر و قرار و ہوش و خرد سب کے سب یہ جائین
پر داغ عشق سینہ سے اے ہمنشین نجائے

دیر و حرم مین جا کے جو چاہے پھر آ سکے
پر آوے جو گلی مین تری وہ کہین نجائے

ہم گریہ ناک ہین یہ سدا سے ہے عیب پوش
آنکھون سے دور اپنے کہین آستین نجائے

ہے پارہ عقیق جگر دیکھیو کہین
اے چشم تیرے ہاتھ سے ایسا نگین نجائے

نِکلے نہ جان تن سے حسن کی تو تب تلک
جب تک تو اُسکے سر پہ دم واپسین نجائے​
 

شمشاد

لائبریرین

مل گئے اپنے یار سے ابکی
حظ اُٹھایا بہار سے ابکی

لخت دل برگ دل کے طرز جھڑے
مژہ کی شاخسار سے ابکی

جس طرح آگے پھر گئے تھے کہین
پھر نہ پھریو قرار سے ابکی

دیکھین کیا کیا شگوفے پھولین گے
اس دلِ داغدار سے ابکی

گر وہ آوے تو اتنا کہیو حسن
مر گیا انتظار سے ابکی​
 

شمشاد

لائبریرین

کیا خاک صبر آوے گاور کیا قرار ہووے
آنکھون سے دور جسکے تجھسا نگار ہووے

وہ کم نما کہین جو اس سے دو چار ہووے
اس بیقرار دل کو کیون ہی قرار ہووے

گھر سے کہین نکل اب یا دے جواب ہمکو
در پر ترے کہانتک اب کوئی خوار ہووے

لوہو کے جائے حسرت آنکھون سے اُسکی ٹپکے
تیغِ نگہ سے تیری جو دلفگار ہووے

ہون کشتہِ مژہ مین تربت پہ میری جانان
لازم ہے گل کی جاگہ گر کوئی خار ہووے

زخمون سے تو جگر کے یہ کچھ بہار دیکھی
جب دل کے داغ پھولین تب کیا بہار ہووے

کیونکر نہ رحم آوے اسکو حسن پہ ہمدم
جب دوست اُسکا ایسا زار و نزار ہووے​
 

شمشاد

لائبریرین

جان مین میری جان آئی تھی
کل صبا کسکے پاس لائی تھی

پھر دہک اُٹھی آگ دل کی ہائے
ہمنے رو رو ابھی بجھائی تھی

کل بگولون سے بھر گیا تھا دشت
کسکی وحشت نے خاک اُڑائی تھی

ہند مین اپنے سچ اگر کہیے
کفر ہوتا ہے پر خدائی تھی

شانہ اترانہ تو ہے ہمکو بھی
کبھی اُس زلف تک رسائی تھی

شب سے دل آپ مین نہین ناصح
ایسی کیا بات اُسے سُنائی تھی

اب وہ دل ہی نہین رہا جسمین
درد و اندوہ کی سمائی تھی

پوچھیو شمع سے کہ کیونکہ کٹی
رات جو میرے سر پر آئی تھی

دل کو رؤون کہ یا جگر کو حسن
مجھکو دونون سے آشنائی تھی​
 
Top