دنیا کا سب سے پہلا پی سی وائرس بنانے والے ۔۔

وجی نے 'ویڈیوز (غیر سیاسی و غیر مذہبی)' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏مارچ 16, 2011

  1. وجی

    وجی لائبریرین

    مراسلے:
    25,852
    موڈ:
    Daring
    جی ہاں میں نے بھی یہی سنا ہے کہ پہلا اینٹی وائرس بھی پاکستان ہی میں بنا تھا اور وہ کراچی کی این ای ڈی یونیورسٹی کے طلبہ نے بنایا تھا
    اور اس برین وائرس کے ٹھیک 6 یا 7 ماہ بعد
     
  2. میم نون

    میم نون محفلین

    مراسلے:
    4,801
    جھنڈا:
    Italy
    موڈ:
    Daring
    اسکا تو پتہ نہیں لیکن چند ماہ پہلے یہ خبر پڑی تھی کہ Instant Virus Killer پاکستان کا پہلا اینٹی وائرس سافٹوئیر ہے۔
    http://www.instantviruskiller.com/
    اور یہ حال ہی میں بنایا گیا ہے۔
    شائد محفل پر بھی اسکے بارے میں کچھ لکھا گیا تھا۔
     
  3. میم نون

    میم نون محفلین

    مراسلے:
    4,801
    جھنڈا:
    Italy
    موڈ:
    Daring
  4. مکی

    مکی معطل

    مراسلے:
    939
    زبردست چیز بنائی ہے ان نوجوانوں نے، میں ونڈوز کا صارف ہوتا تو ایک کاپی ضرور خریدتا، دو ہزار روپے کوئی اتنی زیادہ رقم نہیں ہے..

    اوپر سے پاکستان کا پہلا آپریٹنگ سسٹم بنانے کا ارادہ بھی رکھتے ہیں.. بڑے بلند ہوصلے ہیں.. شاباش..!! :good:
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 3
  5. محمد سعد

    محمد سعد محفلین

    مراسلے:
    2,901
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Bored
    ایسی باتیں وہی کر سکتا ہے جس نے کبھی خود کوئی وائرس لکھنے کی کوشش نہیں کی۔ ;)
    ارے بھائی، کئی سالوں سے دنیا کے دو تہائی سے زائد سرورز پر لینکس چل رہا ہے۔ کیا اس کے باوجود لینکس کے لیے کوئی کامیاب وائرس نہ ملنا عجیب سا نہیں لگتا؟
    کسی نظام کے تحفظ کا انحصار دو چیزوں پر ہوتا ہے۔ اس نظام کی ساخت اور اس کا صارف۔ اگر نظام کی ساخت ہی مضبوط نہ ہو اور وہ حملہ آور کی راہ میں کوئی خاص روڑے نہ اٹکاتا ہو تو صارف چاہے جتنا بھی ماہر ہو، ہمیشہ سر درد کا شکار رہے گا۔ مضبوطی کے ساتھ تیار کیے گئے نظام کا صارف نسبتاً پرسکون زندگی گزارتا ہے۔
    ونڈوز میں حملہ آور کے راستے میں خاطر خواہ رکاوٹیں ہی نہیں ہوتیں۔ صرف ایک عدد فائروال (اگر آپ کو نیٹ ورک کے ذریعے کچھ کرنا ہے)، ونڈوز وسٹا یا سیون کی صورت میں UAC، اور ایک عدد اینٹی وائرس کو پار کرنا پڑتا ہے جو عموماً صرف ایک ڈیٹابیس میں موجود وائرسوں تک ہی محدود رہتا ہے۔ سائبر سیکیورٹی کے موضوع پر نظر رکھنے والے جانتے ہیں کہ پہلے دو کو پار کرنا آج کل کوئی مشکل کام نہیں۔صرف اینٹی وائرس ہی تھوڑی سی مزاحمت کر سکتا ہے لیکن اگر اس کی کوئی کمزوری حملہ آور جانتا ہو تو اس کے راستے میں کوئی رکاوٹ نہیں بچتی۔
    اس کے مقابلے میں لینکس پر ایک مضبوط فائروال، فائل سسٹم کے اختیارات، عام صارف کا نظام میں تبدیلی نہ کر پانا، اطلاقیوں کے ریم میں لوڈ ہونے والے حصوں تک کی کڑی نگرانی، گرافیکل انٹرفیس کا اصل آپریٹنگ سسٹم کا لازمی حصہ نہ ہونا، سینکڑوں مختلف ڈسٹربیوشنز کی بھرمار، سافٹ وئیر کے حصول کا کام پیکج منیجر کے ذریعے ہونا، کسی بھی اطلاقیے کا بغیر صارف کی مرضی کے چلنا ناممکن ہونا، ونڈوز کی طرز کے آٹورن اور انٹرنیٹ ایکسپلورر جیسی آسان سواری کی عدم دستیابی، SELinux اور AppArmor جیسے فوجی جوانوں کی موجودگی جن کی موجودگی میں کوئی اطلاقیہ مشکوک حرکات نہیں کر سکتا (آج کل ہر بڑی ڈسٹربیوشن میں ابتداء ہی سے ان دونوں میں سے کم از کم ایک ضرور پایا جاتا ہے)۔۔۔ اور ان کے علاوہ اور بھی بہت کچھ۔ ان تمام رکاوٹوں کی موجودگی میں کوئی کامیاب وائرس لکھنا خالہ جی کا گھر نہیں۔
    یہی وجہ ہے کہ اکثر حملہ آور ونڈوز اور ایپل جیسے نسبتاً آسان اہداف چنتے ہیں۔ اور یہاں یہ نکتہ بھی دلچسپ ہے کہ ایپل کا او ایس ایکس بھی انتہائی کم استعمال ہوتا ہے لیکن اس کے باوجود حملوں کی زد میں رہتا ہے۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 4
  6. محمد سعد

    محمد سعد محفلین

    مراسلے:
    2,901
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Bored
    ایک اہم نکتہ وائرس اور ٹروجن ہارس کے درمیان فرق ہے۔ وائرس اسے کہتے ہیں جسے نظام کو متاثر کرنے کے لیے صارف کی ضرورت نہ پڑے۔ جبکہ ٹروجن ایسا پروگرام ہوتا ہے جو نظام کو خود بہ خود متاثر نہ کر سکتا ہو چنانچہ صارف کو اپنے مفید ہونے کا دھوکہ دے۔ اس نکتۂ نگاہ سے دیکھیں تو لینکس پر وائرس کے کامیاب ہونے کا امکان صفر رہ جاتا ہے۔ جبکہ ٹروجن کی کامیابی کا انحصار اس بات پر ہے کہ وہاں کتنا بے وقوف صارف بیٹھا ہے۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  7. محمد سعد

    محمد سعد محفلین

    مراسلے:
    2,901
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Bored
    ایسا شخص جو نائجیریا کے کسی گمنام فوت شدہ آدمی سے لاکھوں ڈالر اپنے کھاتے میں منتقل ہونے کے چکر میں اپنے بینک کی پوری تفصیلات مہیا کر دے، اس کے لیے تو کسی ٹروجن کو روٹ کے اختیارات دے دینا بھی معمولی سی بات ہوگی۔ چنانچہ جیسے جیسے حملہ آوروں کے راستے میں رکاوٹیں بڑھتی جائیں گی، وہ زنجیر کی سب سے کمزور کڑی، یعنی صارف کو اپنا ہدف بنائیں گے۔ یعنی صارف کو بے وقوف بنانے کے نت نئے طریقے کھوجنا شروع کر دیں گے۔
     
  8. میم نون

    میم نون محفلین

    مراسلے:
    4,801
    جھنڈا:
    Italy
    موڈ:
    Daring
    بے وقوف بنانے والی بات تو اپنے خوب کہی اور ہے بھی ایسا ہی۔

    لیکن جہاں تک لینکس کی حفاظت کا تعلق ہے تو میں سمجھتا ہوں کہ دنیا میں ایسا کوئی دفاع نہیں ہے جسے توڑا نا جا سکے، باں اسکے لئیے درست بندے کی ضرورت ہوتی ہے۔
    خیر یہ تو بس میری (ایک نا تجربہ گار کی) چھوٹی سی رائے ہے :)
     
  9. مکی

    مکی معطل

    مراسلے:
    939
    آپ کی بات درست ہے، سو فیصد کچھ بھی نہیں ہوتا، لینکس ناقابلِ تسخیر نہیں ہے، ہاں مشکل ضرور ہے لیکن زیادہ تر حالات میں اس کا ذمہ دار صارف خود ہی ہوگا کیونکہ '' صارف حماقت '' کا کوئی علاج نہیں، اگر صارف کسی وائرس کو خود ہی چلا بیٹھے تو کوئی کیا کر سکتا ہے!!
     
  10. محمد سعد

    محمد سعد محفلین

    مراسلے:
    2,901
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Bored
    اسی لیے سیانے بابے کہتے ہیں کہ (لینکس پر) سافٹ وئیر کی تنصیب کے لیے پیکج منیجر کا استعمال کیا کریں۔ کیونکہ وہاں موجود سافٹ وئیر کو پوری تسلی کے بعد ہی رکھا جاتا ہے کہ یہ محفوظ ہیں۔
    بلا ضرورت ادھر ادھر ویب سائٹس پر تلاش کر کے وہاں سے سافٹ وئیر نصب کرنے میں خطرہ ہوتا ہے کہ صارف کوئی نقصان دہ سافٹ وئیر نصب نہ کر بیٹھے۔ جیسے کم علمی کی وجہ سے بعض اوقات لوگ ونڈوز کے مشہور سافٹ وئیر کے بھی ایسے جعلی نسخے ڈاؤن لوڈ کر لیتے ہیں جن میں کوئی سپائی وئیر وغیرہ ہوتا ہے۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  11. arifkarim

    arifkarim معطل

    مراسلے:
    29,828
    جھنڈا:
    Norway
    موڈ:
    Happy
    دوسرا لینکس کا سارا کوڈ اوپن سورس ہے، اور اگر کہیں وائرس ہوگاتو نظر آ ہی جائے گا۔ ونڈوز کی طرح لاک تو نہیں ہوگا!
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  12. میم نون

    میم نون محفلین

    مراسلے:
    4,801
    جھنڈا:
    Italy
    موڈ:
    Daring
    جی ہاں میں خود اوپن سورس نطام کا حامی ہوں، اور یہ بات درست ہے کہ اگر اسمیں کہیں کوئی بگ یا وائرس وغیرہ ہو گا تو اسے بنسبت کلوز سورس نظام کے جلد حل کر لیا جائے گا۔
    لیکن یہ کہنا کہ اسے ہیک کیا ہی نہیں جا سکتا تو یہ درست نہیں ہو گا، کیونکہ کوئی بھی نظام سو فیصد محفوظ نہیں ہو سکتا۔
    ایسا کرنا مشکل ضرور ہے ناممکن نہیں :)
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  13. زہیر

    زہیر محفلین

    مراسلے:
    83
    سب سے پہلے تو اس قیمتی ویڈیو کو شئر کرنے کا شکریہ۔۔۔۔ ویسے سڈے کولوں کوئی جنگے بھی کم ہوئین؟
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  14. ع رفیع

    ع رفیع محفلین

    مراسلے:
    35
    کمال ہے، مجھے بہت اچھا لگا۔
     
  15. ع رفیع

    ع رفیع محفلین

    مراسلے:
    35
    مجھے اس ویڈیو کا دوسرا حصہ نہیں ملا، کوئی دوست فراہم کردے۔
     
  16. فہد10

    فہد10 محفلین

    مراسلے:
    12
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Brooding
    ہوں۔۔۔۔۔پاکستانی کافی ٹلنٹڈ ہیں;)
     

اس صفحے کی تشہیر